ہندو مذہب حقیقت کے آئینے میں

   
تاریخ : 
۲۶ نومبر ۲۰۰۵ء

جامعہ اسلامیہ ٹرسٹ کامونکی کے مہتمم مولانا عبد الرؤف فاروقی اور ان کے رفقاء ہدیہ تبریک و تشکر کے مستحق ہیں کہ دعوۃ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے تعاون سے ”مطالعہ مذاہب“ کے پروگرام کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں اور اس طرح ایک اہم ترین دینی ضرورت کسی حد تک پوری ہو رہی ہے۔ یہودیت اور عیسائیت کے بعد یہ تیسرا سیمینار ہے جو ”ہندو مذہب“ کے حوالے سے ہو رہا ہے اور اس کی آخری نشست میں مجھے اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی ہے۔

ہندو مذہب نہ صرف یہ کہ ہمارا قریب ترین پڑوسی مذہب ہے، بلکہ اس کے ساتھ ہمارے مختلف النوع تعلقات کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ اسلام کی تاریخ پرانی ہے۔ ہندوستان کی طرف اسلامی فوجوں کے رخ کے بارے میں امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہی سوچا جانے لگا تھا۔ چنانچہ حافظ ابن کثیرؒ نے ”شمائل الرسولؐ“ میں اس حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ نقل کیا ہے کہ عدوہ بن قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ شام میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں یہ کہا کہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے شام کی طرف بھیجا تھا اور اب شام کی زمین اپنی پیداوار اور شہد ان کے سامنے ڈالنے لگی ہے، تو وہ میری جگہ شام میں کسی اور کو بھیجنا چاہتے ہیں اور مجھے ہند کی طرف بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس پر حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے ایک ماتحت نے کہا کہ امیر محترم! صبر کیجئے، اس لیے کہ فتنوں کا ظہور ہونے لگا ہے (یعنی آپ کہیں انکار کر کے فتنے میں نہ پڑ جائیں)۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ”جب تک عمر بن الخطابؓ زندہ ہیں کوئی فتنہ نہیں کھڑا ہو گا۔ فتنے تو ان کے بعد ہی ہوں گے۔“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کی طرف رخ کرنے کی تیاری حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں شروع ہو گئی تھی، البتہ اس کا عملی موقع اس کے بعد آیا۔

ہندو مذہب کے پیروکاروں کے ساتھ ہماری کشمکش کی ایک طویل تاریخ ہے اور اکٹھے رہنے اور باہمی تعلقات کی تاریخ بھی خاصی طویل ہے۔ جنوبی ایشیا میں اسلام قبول کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد ان افراد اور خاندانوں کی ہے، جو پہلے ہندو مذہب کے پیروکار تھے اور انہوں نے اسے ترک کر کے اسلام قبول کیا۔ پھر اس خطے میں اسلام اور مسلمانوں کی آمد کے بعد بہت سے معاشرتی اثرات ہیں جو ہندوؤں نے اسلام سے قبول کیے اور بہت سے معاشرتی اثرات ایسے بھی ہیں جو مسلمانوں کی معاشرتی زندگی میں ہندو مذہب و کلچر سے اثرات کے طور پر در آئے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بات بھی میری گفتگو کا عنوان نہیں ہے اور مجھے آپ کے سامنے جو چند گزارشات پیش کرنا ہیں وہ اس سے مختلف ہیں۔

جہاں تک ہندو مذہب کی تعلیمات کا تعلق ہے ان کی بنیاد ”وید“ کے نام سے پائی جانے والی متعدد کتابوں پر ہے۔ وید کا لفظ علم اور دانش مندی کے لیے بولا جاتا ہے اور بہت سے ہندو دانش وروں کا کہنا ہے کہ یہ وہ الہامات اور وحی کی صورتیں ہیں جو ان کے رشیوں (پیغمبروں) کے دلوں پر القاء ہوئی تھیں اور ایسا کہنے والوں کے خیال میں یہ ”ویدیں“ آسمانی کتابیں ہیں، لیکن اس خیال کو بہت سے دوسرے ہندو علماء تسلیم نہیں کرتے۔ یہ ”ویدیں“ بہت سی ہیں، جن کے بارے میں ڈاکٹر سریندر ناتھ گپتا نے ”ہسٹری آف انڈین فلاسفی“ میں لکھا ہے کہ ”وید اپنے وسیع مفہوم کے اعتبار سے کسی خاص کتاب کا نام نہیں، بلکہ یہ نام ہے قریب دو ہزار سال کے طویل عرصے پر پھیلے ہوئے لٹریچر کا۔“

پھر وید کے بارے میں یہ روایت بھی ہندو لٹریچر میں عام ہے کہ ایک بار ساری کی ساری ویدیں گم ہو چکی ہیں، جس کے بعد صرف ایک صاحب نے اپنی یادداشت کی بنیاد پر انہیں دوبارہ مرتب کیا تھا۔ بہرحال ثقاہت و استناد کے حوالے سے ان ویدوں کی جو حیثیت بھی ہو، ہندو مذہب کے عقائد و اعمال اور احکام و قوانین کا ماخذ وہی ہیں اور ان کے حوالے سے ہندو مذہب کی جو تعلیمات نمایاں طور پر معلوم ہوتی ہیں، ان کا ایک ہلکا سا خاکہ پیش کر رہا ہوں۔

  • اگرچہ البیرونی نے اپنے دور کے حوالے سے ہندوؤں کے عقیدۂ توحید کا جس انداز میں ذکر کیا ہے وہ کم و بیش وہی ہے جو مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔ چنانچہ البیرونی نے لکھا ہے کہ

    ”ہندوؤں کا عقیدہ یہ ہے کہ خدا واحد ہے، غیر فانی ہے، نہ اس کا کوئی آغاز ہے نہ انجام، وہ مختار مطلق، قادر مطلق اور حکیم مطلق ہے، حی و قیوم اور احکم الحاکمین ہے، وہ رب ہے اور اپنی سلطانی میں لاثانی ہے، وہ نہ کسی کے مشابہ ہے اور نہ کوئی چیز اس کے مشابہ ہے۔“

    لیکن اس کے باوجود ہندوؤں میں بت پرستی نہ صرف یہ کہ عام ہے، بلکہ یہ عقیدہ بھی ان کے ہاں معروف ہے کہ قدیم صرف خدا کی ذات نہیں، بلکہ روح اور مادہ بھی اسی کی طرح قدیم ہیں اور اس طرح تین قدماء کو ماننے کے بعد ہندو بھی مسیحیوں کی طرح تثلیث کے علمبردار قرار پاتے ہیں۔

  • ہندوؤں میں تناسخ کا عقیدہ معروف ہے کہ ایک روح اس دنیا میں کئی قالبوں میں باری باری آتی ہے، جس کا تعلق اس کی سزا و جزا سے ہے۔ اگر ایک شخص نے اچھے اعمال کیے ہیں تو اس کی روح جسم کے مرنے کے بعد اس سے بہتر جسم اور جنم میں ظاہر ہو گی اور اگر اس نے گناہوں اور نافرمانی کی زندگی گزاری ہے تو اگلے جنم میں اسے پہلے سے بدتر جسم اور قالب دے دیا جائے گا اور یہی اس کی سابقہ بداعمالیوں کی سزا ہو گی۔
  • اوتار کا عقیدہ بھی ہندو مذہب کا حصہ ہے کہ خدا کسی انسانی شکل میں کبھی کبھی ظاہر ہوتا ہے اور اس عقیدہ کے مطابق خدا کئی اوتاروں کی شکل میں دنیا میں جلوہ گر ہو چکا ہے۔
  • گائے کی عقیدت اور پرستش ہندو مذہب میں موجود ہے اور اسے تقدس کا یہ درجہ حاصل ہے کہ کسی مسلمان کو اس کے مذہب سے منحرف کر کے ہندو مذہب میں شامل کیا جائے تو اسے شدھی یعنی پاک کرنے کے لیے گائے کے جسم سے نکلنے والی پانچ غلاظتوں ناک کی میل، کان کی میل، آنکھ کی میل، پیشاب اور گوبر کا مجموعہ ”پنجے گئو“ کے نام سے تبرک کے طور پر کھلایا جاتا ہے۔
  • ہندو سوسائٹی کی بنیاد ذات پات کی تفریق پر ہے اور ویدوں کی تعلیمات کے مطابق یہ تفریق خود خدا نے کی ہے۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ
    1. سب سے اونچی ذات برہمن کی ہے، جس کا کام لوگوں کی مذہبی رہنمائی کرنا ہے۔ انہیں مذہبی طور پر یہ معاشرتی تحفظ حاصل ہے کہ کسی جرم میں انہیں جسمانی سزا نہیں دی جا سکتی، ان پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوتا اور ان کی خدمت و احترام باقی تمام طبقات کے لیے لازمی ہے۔
    2. دوسرے نمبر پر کھتری ہیں، جن کا کام لوگوں کی حفاظت کرنا اور حکومت کرنا ہے۔
    3. تیسرے درجہ پر ویش ہیں، جن کی ذمہ داری میں تجارت، کھیتی باڑی اور مویشی پالنا ہے۔ اور
    4. چوتھا اور آخری درجہ شودر کا ہے، جو ان تینوں طبقوں کے خدمت گزار کے طور پر پیدا کیا گیا ہے۔
  • ہندو معاشرہ میں وید کی تعلیم اور مذہبی رسومات کی قیادت صرف برہمن ذات تک محدود ہے، کسی دوسری ذات کا شخص اس کی جرأت نہیں کر سکتا۔ حتیٰ کہ کسی شودر نے اگر وید کو ہاتھ لگا دیا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دینے کے احکام بھی موجود ہیں۔
  • عورت کے بارے میں ہندو تعلیمات میں بتایا گیا ہے کہ اس کے وجود کا مقصد صرف بچے پیدا کرنا، ان کی پرورش کرنا اور امور خانہ داری انجام دینا ہے۔ وہ باپ کی وراثت کی حقدار نہیں ہے، شوہر کی وراثت اگر اسے مل جائے تو اسے فروخت کرنے کی مجاز نہیں ہے۔
  • عورت اگر بیوہ ہو جائے تو اس کے لیے عزت کا راستہ یہی ہے کہ وہ خاوند کی لاش کے ساتھ اسی کی چتا کی آگ میں جل مرے۔ اسے دوسرے نکاح کا حق نہیں ہے اور بقیہ زندگی میں وہ دیگر بہت سی سہولتوں سے بھی محروم ہو جاتی ہے۔
  • ہندو مذہب میں ”نیوگ“ کا تصور بھی موجود ہے کہ اگر کسی عورت کی اپنے خاوند سے اولاد نہ ہوتی ہو تو وہ خاوند کی مرضی سے کسی اور مرد کے ساتھ جنسی تعلق استوار کر کے اولاد پیدا کر سکتی ہے اور یہی حق مرد کو بھی حاصل ہے۔

وہ چند باتیں ہیں جو ہندو مذہب کے تعارف میں خود اس مذہب کے لٹریچر میں بھی پائی جاتی ہیں اور ان میں سب سے نمایاں بت پرستی اور ذات پات کا فرق ہے، جس نے مختلف ادوار میں خود ہندو دانشوروں کو بھی سوچنے پر مجبور کیا۔ بہت سے مصلحین نے بت پرستی اور ذات پات کے فرق کے خلاف آواز بلند کی اور ہندو مذہب میں اصلاحات کی تحریک کی۔

  • سکھ مذہب کے بانی بابا گورونانک کی تحریک دراصل ہندو مذہب کی انہی باتوں کے خلاف بغاوت تھی اور حضرت خواجہ فرید الدین گنج شکرؒ اور دیگر مسلم صوفیاء کے زیر اثر انہوں نے بت پرستی کو مسترد کرتے ہوئے توحید کے عقیدہ کی طرف واپسی کی دعوت پیش کی، لیکن مسلم صوفیاء سے متاثر ہونے کے باوجود زبردست معاشرتی دباؤ کے باعث اسلام کی طرف آنے کی بجائے ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھ دی۔
  • سولہویں صدی عیسوی میں مشرقی پنجاب کے بیربھان نے بھی توحید کے تصور کو اجاگر کرنے کی کوشش کی اور مورتیوں اور انسانوں کے سامنے سر جھکانے اور ہاتھ پھیلانے کی نفی کرتے ہوئے جو تعلیمات پیش کیں وہ اکثر و بیشتر اسلامی تعلیمات کا پرتو دکھائی دیتی ہیں۔
  • اٹھارہویں صدی عیسوی میں بنگال کے راجہ موہن رائے نے صرف ایک خدا کی عبادت کا تصور پیش کیا، بیوہ عورت کے ستی ہونے یعنی اپنے خاوند کی لاش کے ساتھ جل مرنے کے خلاف آواز اٹھائی اور بیوہ عورت کی دوبارہ شادی کو رواج دینے کی کوشش کی۔ معروف بنگلہ شاعر اور دانشور راندر ناتھ ٹیگور کے والد دیوندر ناتھ ٹیگور کو بھی راجہ موہن رائے کی اس تحریک کے ایک راہنما کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور یہ تحریک تاریخ میں ”برہمو سماج“ کے نام سے موسوم ہے۔
  • انیسویں صدی میں پنڈت دیانند سرسوتی نے ”آریہ سماج“ کے نام سے ایک اور اصلاحی تحریک کا آغاز کیا، بت پرستی کو مسترد کرتے ہوئے ویدوں کی نئی تشریح کی اور ذات پات کے فرق کو بھی رد کر دیا، لیکن خدا کے ساتھ روح اور مادہ کے ازلی ہونے اور دیگر بہت سی روایات سے پیچھا نہ چھڑا سکے۔

ہندو مذہب کو اپنی طویل تاریخ میں ایسی بہت سی اصلاحی تحریکات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان اصلاحی تحریکات نے ہر دور میں اپنا اپنا حلقہ ضرور قائم کیا ہے، لیکن ہندو مذہب کو مجموعی طور پر یہ تحریکات متاثر نہیں کر سکیں۔ البتہ مغرب کے سیکولر فلسفہ نے مسیحیت اور بدھ ازم کی طرح ہندومت کو بھی عملی معاشرتی زندگی سے بے دخل کر کے مندر کی حدود میں محصور کر دیا ہے اور ہندو مذہب کی جن تعلیمات کا تعلق معاشرتی زندگی سے ہے، وہ رفتہ رفتہ قصہ پارینہ بنتی جا رہی ہیں۔ مغرب کے اس سیکولر فلسفہ کو جاندار مزاحمت کا سامنا صرف اسلام کی طرف سے کرنا پڑ رہا ہے اور یہ حق بھی اسی کا ہے کہ اس وقت روئے زمین پر فطری اور زندہ مذہب کا ٹائٹل صرف اسی کے پاس ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter