مولانا عبد المجید شاہ ندیمؒ

   
۱۰ دسمبر ۲۰۱۵ء

خطیب العصر حضرت مولانا سید عبد المجید شاہ ندیمؒ بھی ہم سے رخصت ہوگئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ وہ اپنے دور کے چند بڑے خطباء میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے کم و بیش نصف صدی تک پاکستان بلکہ دنیا بھر کے مختلف ملکوں کی فضاؤں میں اپنی خطابت کا جادو جگایا اور لاکھوں مسلمانوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح کا ذریعہ بنے۔ ان کی خطابت میں حسن قراءت، ترنم، معلومات، مشن اور جذبہ و جوش کا خوبصورت امتزاج پایا جاتا تھا ، اور وہ واضح فکری اہداف رکھتے تھے جن کے لیے وہ زندگی بھر سرگرم عمل رہے۔

ان کا نام عوامی خطیب کے طور پر ۱۹۷۰ء کی انتخابی مہم کے دوران سننے میں آیا اور رفتہ رفتہ وہ خطابت کے افق پر اپنا مقام بناتے چلے گئے۔ ان کا تعلق ڈیرہ غازی خان سے تھا لیکن ایک عرصہ تک ملتان ان کی سرگرمیوں کا مرکز رہا۔ جبکہ آخری عمر میں وہ راولپنڈی منتقل ہوگئے اور وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ گوجرانوالہ سے بھی ان کا تعلق تھا، انہوں نے جامعہ صدیقیہ مجاہد پورہ گوجرانوالہ میں کچھ عرصہ تعلیم پائی، محدث جلیل حضرت مولانا قاضی شمس الدین رحمہ اللہ تعالیٰ سے شرف تلمذ حاصل کیا اور پل لکڑ والا کی جامع مسجد میں کافی عرصہ باقاعدہ خطابت کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔

جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ ان کی ہمیشہ وابستگی رہی، البتہ خطابت کے عنفوان شباب میں تنظیم اہل سنت پاکستان کے پلیٹ فارم پر وہ اہل سنت کے عقائد و حقوق کے تحفظ و فروغ کے لیے کوشاں رہے۔ مگر جب اہل تشیع کی طرف سے قومی معاملات میں اپنے جداگانہ تشخص و امتیاز کی تحریک نے زور پکڑا تو ان کے مطالبات میں ایک بات یہ بھی تھی کہ سکولوں اور سرکاری تعلیمی اداروں میں ان کے لیے دینیات کا الگ نصاب رائج کیا جائے اور انہیں اہل سنت کے اکثریتی احکام و عقائد کی تعلیم حاصل کرنے سے مستثنیٰ رکھا جائے۔ یہ قصہ ۱۹۷۴ء کے لگ بھگ کا ہے، ملک میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور ذوالفقار علی بھٹو مرحوم وزیر اعظم تھے۔ اہل تشیع کے مطالبے پر ان کے لیے جداگانہ تعلیمی نصاب رائج کرنے کا حکومتی سطح پر فیصلہ ہوا تو اس حوالہ سے تنظیم اہل سنت پاکستان کے راہ نماؤں میں اختلاف رائے ہوگیا۔ حضرت مولانا سید نورالحسن شاہ بخاریؒ ، حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ اور ان کے رفقا کا موقف اس فیصلے کو قبول کر لینے کا تھا۔ جبکہ حضرت مولانا عبد الحئی جام پوریؒ اور دیگر حضرات نے اس سے اختلاف کیا اور تنظیم اہل سنت پاکستان دو حصوں میں بٹ گئی۔ قائد جمعیۃ حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی حمایت دوسرے فریق کو حاصل تھی، چنانچہ مارچ ۱۹۷۶ء کے دوران شیرانوالہ گیٹ لاہور میں منعقدہ کنونشن میں ’’مجلس تحفظ حقوق اہل سنت پاکستان‘‘ کے نام سے ایک الگ پلیٹ فارم قائم ہوگیا جس کی سرپرستی حضرت مولانا مفتی محمودؒ کر رہے تھے اور اس کے تاسیسی اجلاس میں شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ بھی شریک تھے۔ مولانا عبد الحئی جام پوریؒ کو نئی تنظیم کا سرپرست، مولانا عبد الشکور دین پوریؒ کو صدر اور مولانا سید عبد المجید ندیمؒ کو سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا۔ جبکہ دوسری طرف تنظیم اہل سنت پاکستان کے سربراہ حضرت مولانا سید نور الحسن بخاریؒ اور سیکرٹری جنرل مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ تھے۔ ایک عرصہ تک دونوں جماعتیں اہل سنت کے حقوق و مفادات کے تحفظ اور سنی عقائد و افکار کے فروغ کے لیے اپنے اپنے انداز میں ملک بھر میں متحرک رہیں۔ مگر رفتہ رفتہ بڑی شخصیات کے یکے بعد دیگرے رخصت ہو جانے کے بعد ان کی سرگرمیاں ماضی کا حصہ بن گئیں۔

میں ان کالموں میں متعدد بار عرض کر چکا ہوں کہ پاکستان میں اہل سنت کے عقائد کے فروغ اور حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے تنظیم اہل سنت، خدام اہل سنت اور مجلس تحفظ حقوق اہل سنت کی طرز پر جدوجہد کو از سر نو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ اور میرے خیال میں ان تینوں جماعتوں کی اصل قیادتوں کے پسماندگان کو مل جل کر اس کی کوشش کرنی چاہیے جس کے بظاہر کوئی امکانات دکھائی نہیں دے رہے۔ جبکہ ایک بڑا خلا یہ بھی ہے کہ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ ، حضرت مولانا مفتی محمودؒ ، اور حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ تینوں بزرگوں کا یہ ذوق تھا کہ وہ مسلکی ضروریات پر نظر رکھتے تھے، انہیں اپنی ضروریات سمجھتے تھے اور ان کے لیے کام کرنے والے حلقوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔اس کی ایک ہلکی سی جھلک یہ ہے کہ سنی محاذ پر مجلس تحفظ حقوق اہل سنت اور مسلکی محاذ پر سواد اعظم اہل سنت پاکستان کی تشکیل حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی تحریک پر ہوئی تھی۔ بلکہ سوادِ اعظم اہل سنت پاکستان کے صدر خود حضرت مولانا مفتی محمودؒ بنے تھے اور ناظم اعلیٰ شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ کو منتخب کیا گیا تھا۔ اب قیادت کا یہ ذوق کم ہوتے ہوتے مفقود ہو کر رہ گیا ہے جس کی وجہ سے مسلکی محاذ کے مختلف شعبے خودمختار ہو کر دینی جدوجہد میں پیش رفت کی بجائے باہمی خلفشار میں اضافے کا عنوان بن چکے ہیں۔ بہرحال مولانا سید عبد المجید ندیمؒ اور ان کے رفقاء نے ایک عرصہ تک مجلس تحفظ حقوق اہل سنت پاکستان کے محاذ کو گرم رکھا اور ملک میں سنی مفادات کے فروغ و تحفظ کے لیے کام کرتے رہے۔

شاہ صاحبؒ مرحوم کے ساتھ میرا ذاتی اور دوستانہ تعلق اسی دور سے چلا آرہا تھا جب وہ گوجرانوالہ میں خطیب تھے۔ اور یہ تعلق آخر دم تک قائم رہا۔ بے شمار جلسوں، میٹنگوں اور نجی مجالس میں ان کے ساتھ رفاقت رہی، تبادلہ افکار بھی ہوتا تھا، نوک جھونک بھی رہتی تھی اور مختلف مسائل و امور پر باہمی مشاورت کا ماحول بھی قائم تھا۔ گوجرانوالہ یا اردگرد کسی جگہ تشریف لاتے تو ان کا قیام عام طور پر میرے دوست اور ساتھی مولانا قاری حفظ الرحمن کے ہاں ہوتا تھا۔ جب بھی آتے یاد کرتے، میں حاضر ہوتا، گپ شپ ہوتی اور پرانی یادیں تازہ ہو جاتیں۔ آخری ملاقات کو زیادہ دیر نہیں ہوئی، گوجرانوالہ تشریف لائے تو وہیں ان کی قیام گاہ پر حاضری ہوئی، اکٹھے ناشتہ کیا، آپس میں دکھ درد بانٹے اور بعض مسائل پر مشاورت کے بعد ایک دوسرے سے رخصت ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا سید عبد المجید شاہ ندیمؒ کی حسنات قبول فرمائیں، سیئات پر عفو و درگزر سے کام لیں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter