غلبۂ اسلام کی جدوجہد اور اسوۂ ابراہیمیؑ

   
۲۴ مارچ ۱۹۹۹ء

سیدنا ابراہیمؑ کی یاد کا مہینہ شروع ہو گیا ہے، دنیا بھر میں کروڑوں مسلمان اپنی اپنی جگہ ابراہیم علیہ السلام کی سنت قربانی کو تازہ کرنے کے علاوہ عرفات کے میدان میں حج کے روز لاکھوں کی تعداد میں مسلمان جمع ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے مقدس گھر کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر کے حضرت ابراہیمؑ کی اہلیہ محترمہ حضرت ہاجرہؓ کی سنت کو زندہ کریں گے۔

حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر اسلام کی عمارت قائم ہے، اور اللہ تعالیٰ کے گھر کی یہ حاضری اگرچہ حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے جاری ہے جنہوں نے سب سے پہلے بیت اللہ کی تعمیر کی، لیکن کعبہ کی موجودہ تعمیر اور اس کے طواف کا تسلسل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور سے جاری ہے جنہوں نے اپنے عظیم المرتبت فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر بیت اللہ کو ازسرنو تعمیر کیا اور حج کا یہ سلسلہ نئے سرے سے شروع کیا جو کسی وقفے کے بغیر قیامت سے پہلے تک جاری رہے گا۔

حج کے موقع پر مسلمان جن اعمال کے ذریعے اپنے مالک و خالق کا تقرب حاصل کرتے ہیں، ان میں صفا اور مروہ کی سعی حضرت ہاجرہؓ کی یاد ہے جنہوں نے اپنے معصوم بچے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے پانی کی تلاش میں ان دو پہاڑیوں کے درمیان بے تابانہ سات چکر لگائے تھے۔ اور منیٰ اور اس کے علاوہ دنیا بھر میں کی جانے والی قربانی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی یاد ہے جنہیں ان کے والد محترم حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی طرف سے قربان کر دیا تھا۔ باپ بیٹا دونوں حکمِ خداوندی کے سامنے جھک گئے تھے، باپ ذبح کرنے کے لیے اور بیٹا اپنے باپ کے ہاتھوں ذبح ہونے کے لیے تیار ہو گیا تھا اور دونوں نے اس عمل کی تکمیل میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی قربانی کو قبول کرتے ہوئے اپنی قدرتِ کاملہ سے چھری کے نیچے سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بچا کر ان کی اس قربانی کو قیامت تک مسلمانوں میں ایک سنت کے طور پر قائم کر دیا۔ چنانچہ ہر سال کروڑوں مسلمان جانور ذبح کر کے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اس عظیم قربانی کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ حاجی حضرات اس موقع پر زم زم کے بابرکت پانی سے فیض یاب ہوتے ہیں اور ان کی برکت سے یہ مقدس پانی دنیا کے کونے کونے میں پہنچ کر اہلِ ایمان کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور قلب و جگر کے سکون کا سامان مہیا کرتا ہے۔ یہ مقدس پانی بھی اسی عظیم خاندان کی برکت سے ہمیں نصیب ہے جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کے پاؤں رگڑنے سے زمین سے اُبلا جب وہ معصوم بچپن میں پیاس کی شدت سے بے تاب ہو کر زمین پر ایڑیاں مار رہے تھے۔

اور پھر اس بابرکت خاندان کی سب سے بڑی برکت اور دنیا پر سب سے بڑا احسان خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجودِ گرامی ہے جن کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بیت اللہ کی تعمیر کے بعد بطور خاص دعا مانگی تھی کہ اے اللہ! ہماری اولاد میں ایک ایسا نبی مبعوث فرما جو نسلِ انسانی کی راہنمائی اور نجات کا علمبردار ہو۔ چنانچہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میں اپنے دادا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا ثمر ہوں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی آزمائشوں میں ڈالا اور ان آزمائشوں میں ثابت قدمی پر انعامات سے بھی بہت نوازا۔ انہی انعامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اقوامِ عالم میں انہیں متفقہ امام کی حیثیت حاصل ہے اور ہر آسمانی مذہب کے پیروکار خود کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کو قرآن کریم میں اس کی واضح طور پر تردید کرنا پڑی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نہ یہودی تھے اور نہ ہی عیسائی یا مشرک تھے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے علمبردار اور یکسوئی اختیار کرنے والے بزرگ تھے۔

قرآن کریم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بہت سی خوبیوں، آزمائشوں اور کامیابیوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ سب سے نمایاں ان کی اس استقامت کا ذکر کیا ہے کہ کفر و شرک اور گمراہی کا شکار سوسائٹی کے خلاف تنِ تنہا ڈٹ گئے، نہ خاندان کی روایات انہیں راہِ حق سے باز رکھ سکیں، نہ حکومت کا جاہ و جلال ان کی راہ میں رکاوٹ بنا، اور نہ ہی قوم کی اجتماعی روش انہیں مرعوب کر سکی۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحدت کا پرچم اس وقت بلند کیا جب ان کا ساتھ دینے والا کوئی نہ تھا، پوری قوم مخالف تھی، خاندان ان کی بجائے قوم کے ساتھ تھا، اور حکومتِ وقت بھی ظلم و کفر کی سرپرستی کر رہی تھی۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قوم کی اجتماعی گمراہی کے خلاف تنِ تنہا کلمۂ حق بلند کیا، بتوں کو توڑا، بادشاہِ وقت کے دربار میں کھڑے ہو کر اسے توحید کے مسئلہ پر بحث و مباحثہ میں لاجواب کیا اور قوم کے جرگے کو ان کے دلائل کے سامنے سر جھکانا پڑا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آگ کے شعلوں کی نذر ہونا قبول کیا مگر اپنی جدوجہد اور موقف میں کوئی لچک پیدا نہیں کی، اور اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ ادا اس قدر پسند آئی کہ ان کی استقامت اور ثابت قدمی کو قیامت تک کے اہلِ حق کے لیے اسوہ قرار دے دیا۔ چنانچہ سورۃ الممتحنۃ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ: تمہارے لیے ابراہیم علیہ السلام اور ان کے رفقاء کا یہ طرزِ عمل اسوہ حسنہ ہے کہ انہوں نے قوم کو دوٹوک طور پر کہہ دیا کہ ہم تم سے اور تمہارے جھوٹے معبودوں سے براءت کا اعلان کرتے ہیں اور تمہاری بات ماننے سے انکار کرتے ہیں، ہمارے اور تمہارے درمیان دشمنی اور بغض کی یہ فضا اس وقت تک قائم رہے گی جب تک کہ تم کفر و شرک کو چھوڑ کر ایک اللہ کی بندگی کو قبول نہیں کر لیتے۔

یہ اسلامی تحریکات کے نظریاتی کارکنوں کے لیے لائحہ عمل ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پیش کیا ہے اور جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مسلمانوں کے لیے اسوہ حسنہ قرار دیا ہے۔ کفر و ظلم کے نظام کے ساتھ مفاہمت اور ایڈجسٹمنٹ اسلام کے مزاج کے خلاف ہے اور کفر و استعمار سے رعایتیں حاصل کر کے کبھی اسلام کو غلبہ حاصل نہیں ہوا۔ کفر کفر ہے اور اسلام اسلام ہے، دونوں کے درمیان کوئی مفاہمت، کوئی مصالحت اور کوئی ایڈجسٹمنٹ نہیں ہو سکتی، یہی ابراہیمیؑ اسوہ ہے جو آج بھی غلبۂ اسلام کی جدوجہد کا واحد راستہ ہے اور اسلام کے غلبہ و نفاذ کے علمبردار اسی راستے پر چل کر اپنی منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter