آہ! الحاج سید سلمان گیلانیؒ

   
۲۲ فروری ۲۰۲۶ء

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

شاعرِ اسلام الحاج سید سلمان گیلانی بھی ہم سے رخصت ہو گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ اپنے والد محترم شاعرِ حریت و ختم نبوت الحاج سید امین گیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ کے ذوق و فن، مشن اور روایات کے امین تھے اور پوری عمر انہوں نے اسی ماحول میں بسر کی۔ وہ شعر و شاعری اور حق کے پرچار و خدمت کے ساتھ ساتھ مجلس آرائی کے ذوق و اسلوب سے بھی مالامال تھے اور بذلہ سنجی میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ دینی مجالس، ادبی محفلوں اور مشاعروں میں رونقِ محفل ہوا کرتے تھے اور ان صفات نے انہیں باذوق دینی حلقوں میں محبوبیت سے موصوف کر رکھا تھا۔ 

میری ان کے ساتھ زندگی بھر فکری، مسلکی اور تحریکی رفاقت رہی جس کی یادیں تادیر جذبات و احساسات کی تاروں کو حرکت دیتی رہیں گی۔ میرے دونوں بیٹوں ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر سلّمہ اور حافظ ناصر الدین خان عامر سلّمہ کا حفظِ قرآن مکمل ہونے کی تقریب میں وہ شریک ہوئے اور اپنے تازہ کلام سے دونوں محفلوں کو رونق بخشی۔

وہ کافی عرصہ سے علیل اور صاحبِ فراش تھے مگر ان کی محفلیں اِس دور میں بھی آباد رہیں اور دوستوں کو شادکام کرتی رہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات و مساعی کو قبولیت سے نوازیں، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے بہرہ ور فرمائیں اور ان کے خاندان اور سب دیگر متعلقین کو صبر و حوصلہ کے ساتھ اس صدمہ سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter