(جون ۲۰۲۵ء کے دوران منعقدہ ’’ عظمتِ اہلِ بیتؓ کانفرنس‘‘ سے خطاب)
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرت مولانا علیم الدین شاکر کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس مبارک محفل میں حاضری، علماء کرام کی زیارت، آپ حضرات سے ملاقات اور کچھ عرض کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اللہ رب العزت ہمارا مل بیٹھنا قبول فرمائیں، کچھ مقصد کی باتیں کہننے سننے کی توفیق عطا فرمائیں، اور دینِ حق کی جو بات علم میں آئے، سمجھ میں آئے، اللہ پاک عمل کی توفیق سے بھی نوازیں۔ خطبائے کرام کی ایک لمبی فہرست ہے، اس لیے میں نے درخواست کی کہ میں ایک مدرس آدمی ہوں، صبح سبق پڑھانے ہیں، مجھے جلدی فارغ کر دیں، ان کی مہربانی ہے کہ انہوں نے درخواست قبول فرما لی۔ تقریریں تو ہوں گی بعد میں۔ میں حاضری کے لیے اور حضرت مولانا علیم الدین شاکر کے حکم کی تعمیل کے لیے دو تین گزارشات کرنا چاہوں گا، کسی تمہید کے بغیر۔
پہلی بات یہ کہ جب ہم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ذکر کرتے ہیں اور صحابہ کرامؓ کا لفظ بولتے ہیں، جملہ بولتے ہیں، تو اس میں ہر وہ شخصیت شامل ہوتی ہے جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایمان کی حالت میں زیارت کی اور حضورؐ کی محفل نصیب ہوئی، کلمہ پڑھا۔ ہر شخصیت اس میں شریک ہوتی ہے، کوئی مستثنیٰ نہیں۔ اس میں ازواجِ مطہراتؓ بھی ہیں، مہاجرین بھی ہیں، انصار بھی ہیں، اس میں اہلِ بیت عظامؓ بھی ہیں۔ ہر وہ شخصیت جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ایمان کی حالت میں کی، یا حضورؐ کی مجلس میں بیٹھا، وہ اس میں شامل ہے۔
لیکن خود قرآن پاک نے صحابہ کرامؓ کے مختلف طبقات کا مختلف حوالوں سے ذکر کیا ہے۔ ازواجِ مطہراتؓ کا مستقلاً ذکر ہے، رضوان اللہ علیہن۔ مہاجرین کا الگ عنوان کے ساتھ ذکر ہے۔ انصار کا ایک الگ عنوان کے ساتھ ذکر ہے۔ اہلِ بیت عظامؓ کا ایک الگ عنوان کے ساتھ ذکر ہے۔ ’’والذین اتبعوھم باحسان‘‘ کا ایک مستقل عنوان کے ساتھ ذکر ہے۔ یہ مختلف طبقات کا قرآن پاک نے خود بھی تذکرہ کیا ہے، تعارف کے لیے، امتیاز کے لیے۔ اس لیے صحابہ کرامؓ کے مجموعی دائرے میں، مین سٹریم میں شامل رہتے ہوئے بھی طبقات کا ذکر الگ الگ ہوتا ہے، قرآن پاک نے بھی کیا ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینکڑوں ارشادات میں یہ طبقات کا الگ الگ ذکر موجود ہے۔ ان سب عنوانات کے ساتھ موجود ہے۔ بلکہ احادیث میں تو ایک اور حوالے سے امتیاز بھی ذکر ہوتا ہے۔ بدریوں کا مستقل ذکر ہے ’’ممن شھد بدراً‘‘۔ بہت سے صحابہؓ کا بہت بڑا اعزاز ہے ’’ممن شھد بدراً‘‘ یہ بدری ہیں، بدر میں شریک ہوئے تھے۔ یہ ایک مستقل امتیاز ذکر ہوتا ہے۔ ’’ممن بايع تحت الشجرۃ‘‘ یہ ان صحابہؓ میں سے ہے جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی۔ ’’ممن بایع فی العقبۃ‘‘ یہ ان انصاری صحابہؓ میں سے ہے جنہوں نے عقبۂ ثانیہ یا عقبۂ اولیٰ میں بیعت کی تھی۔ یہ الگ الگ امتیازات قرآن پاک میں بھی ہیں، حدیث میں بھی ہیں۔ یہ امتیازات ہیں، اعزازات ہیں۔
درجہ بندی بھی ہے۔ ان طبقات اور درجات میں الگ الگ درجہ بندی بھی ہے۔ ایک روایت اتفاق سے کل پرسوں سبق میں آ گئی تھی، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک دور تھا جب لوگ جنگ کے لیے جاتے تھے، جہاد میں، تو کہتے تھے تم میں کوئی بزرگ موجود ہے جنہوں نے حضورؐ کی زیارت کی ہے؟ بس ان کی برکت سے دعا کر لیں۔ پھر اگلا زمانہ آیا تو، کیا کوئی بزرگ موجود ہے جنہوں نے کسی صحابیؓ کی زیارت کی ہو؟ ہاں۔ تسلی ہے۔ یہ طبقہ کونسا ہے؟ تابعین کا۔ ایک اور آیا کہ ’’ممن صحب من صحب من صحب رسول اللہ‘‘ جس نے صحابہؓ کی زیارت کرنے والوں میں سے کسی کی زیارت کی ہو۔ یہ درجہ بندی تھی، اور اس درجہ بندی کے مطابق ان کا احترام بھی ہوتا تھا۔
اس لیے پہلی بات تو میں نے عرض کی ہے کہ صحابہ کرامؓ کے اجتماعی دھارے میں، مین اسٹریم کہہ لیں، صحابہ کرامؓ کے مین اسٹریم میں تو سارے ہی شامل ہیں۔ الگ الگ تعارف بھی ہے، خود قرآن پاک میں ہے، حدیث میں ہے۔ اور درجہ بندی بھی ہے۔ مثلاً: عشرہ مبشرہ میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے زیادہ فضیلت کس کو دی ہے؟ خلفاء اربعہ کو۔ شیخین، ختنین(داماد)، عشرہ مبشرہ۔ ازواجِ مطہراتؓ ساری کی ساری مائیں ہیں۔ لیکن ان میں جناب نبی کریمؓ سے سب سے زیادہ تذکرہ کس کا ملتا ہے؟ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا اور ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا۔ اُن کا اس حوالے سے، اُن کا الگ حوالے سے۔ ایک دلچسپ روایت عرض کر دیتا ہوں۔ ام المومنین خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا حضورؐ اکثر تذکرہ فرما دیا کرتے تھے۔ ان کی کوئی سہیلی آتی تھی تو فرماتے تھے خدیجہ کی سہیلی ہے، کھلاؤ پلاؤ اس کو۔ خدیجہؓ نے فلاں کام کیا۔ یہ بات فطری طور پر محسوس ہوتی ہے۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو حضورؐ کی سب سے زیادہ محبت ملی ہے۔ ایک دن کہنے لگیں، یا رسول اللہ! بڑھیا کو فوت ہوئے عرصہ ہو گیا ہے، بڑھیا آپ کو بھولتی نہیں ہے؟ حضورؐ نے ایک جملہ کہا، عائشہ! تم میرے سکھ کے وقت کی ساتھی ہو، خدیجہؓ میرے دکھ کے وقت کی ساتھی تھی۔ یہ فرق تھا، درجہ بندی۔ ازواج مطہراتؓ میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے زیادہ پیار حضرت عائشہؓ کے ساتھ تھا، لیکن باقی ازواج مطہرات بھی مائیں ہیں۔
صحابہ کرامؓ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ قریبی تعلق کس کا تھا؟ شیخینؓ کا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ۔ گھر کے خاندان میں؟ ایک لطیفہ اور سنا دیتا ہوں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے عروہؓ۔ بھانجے بھی ہیں، شاگرد بھی ہیں، علمی جانشین بھی ہیں۔ خالہ جی سے کہنے لگے، خالہ جی! حضورؐ کو اپنے خاندان کے مردوں میں سے سب سے زیادہ کس سے زیادہ محبت تھی؟ فرمانے لگیں، علیؓ سے۔ فرمانے لگے، اماں جی! آپ کیوں سامنے جا کھڑی ہوئی تھیں؟ یہ بھانجے خالہ کی بات ہو رہی ہے۔ بخاری کی روایت ہے۔ جواب لمبا ہے، خلاصہ یہ ہے: فرمایا کہ یہ اللہ کی تقدیر تھی۔
لیکن ایک دوسرے کے مقام کا احترام تھا۔ یہ میں جو بات کہنا چاہ رہا ہوں، ساری فطری باتیں تھیں، لیکن ایک دوسرے کا احترام تھا۔ ایک حوالہ اور دے دیتا ہوں۔ ایک آدمی نے مسئلہ پوچھا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے۔ دور وہ آمنے سامنے والا ہے۔ انہوں نے کہا، یہ مسئلہ جو ہے نا، یہ علیؓ زیادہ بہتر بتائیں گے۔ علیؓ؟ ہاں، علیؓ۔ اس لیے کہ حضورؐ کے ساتھ وہ زیادہ رہے ہیں، مسئلہ ان سے پوچھو۔ میں کہنا یہ چاہ رہا ہوں کہ درجہ بندی تھی، امتیازات تھے، لیکن ایک دوسرے کا احترام بھی قائم تھا۔ ایک دوسرے کا احترام سارے کرتے تھے۔ حضرت علیؓ سے مسئلہ پوچھا کسی نے، گھر کا مسئلہ۔ فرمایا، یہ عائشہؓ سے پوچھو۔ حضرت عائشہؓ سے مسئلہ پوچھا کسی نے سفر میں موزوں کا۔ فرمایا، یہ علیؓ سے پوچھو، سفر میں علیؓ اکثر ساتھ ہوتے تھے۔ ایک دوسرے کا احترام، ایک دوسرے کا محبت سے تذکرہ۔
پہلی بات میں نے یہ عرض کی ہے کہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا جب ہم نام لیتے ہیں تو اجتماعی دھارے میں، مین اسٹریم میں سارے طبقے شامل ہوتے ہیں۔ ازواج مطہراتؓ بھی، مہاجرین بھی، انصار بھی، جن کو ’’والذین اتبعوھم باحسان‘‘ کے ساتھ ذکر کیا، بدری بھی، حدیبیہ والے بھی، اور عقبہ والے بھی، سارے شامل ہوتے تھے، لیکن ان کا الگ الگ تذکرہ بھی موجود ہے۔ الگ الگ فضائل بھی ذکر ہیں۔ آپ بخاری شریف دیکھ لیں، اہلِ بیت کے فضائل الگ ذکر ہیں، مہاجرین کے فضائل الگ ذکر ہیں، انصار کے فضائل الگ ذکر ہیں، عشرہ مبشرہ کے فضائل الگ ذکر ہیں۔ یہ امتیاز اور تفریق بھی تھی لیکن باہمی احترام کے ساتھ، باہمی محبت کے ساتھ۔
دوسری بات، اہلِ بیت عظامؓ کا جب ہم ذکر کرتے ہیں، اس میں بھی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رشتہ رکھنے والے سارے لوگ شریک ہوتے ہیں۔ جس کا حضورؐ کے ساتھ زوجیت کا رشتہ ہے، نسب کا رشتہ ہے، صہر (سسرال) کا رشتہ ہے، وہ سارے شریک ہیں۔ میں تفصیلات میں نہیں جاتا۔ قرآن کریم نے بھی جہاں اہلِ بیت کا ذکر کیا ہے، اس میں یہ مشہور جملہ ہم پڑھتے ہیں ’’انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اہل البیت ویطھرکم تطھیرا‘‘ (الاحزاب ۳۳) قرآن پاک کی آیت ہے، اللہ پاک ارادہ فرماتے ہیں، اے اہلِ بیت! اللہ پاک تمہاری تطہیر کا ارادہ رکھتا ہے اور تمہیں سب سے پاک دیکھنا چاہتا ہے، کرنا چاہتا ہے۔ پورا رکوع ازواج مطہرات کے بارے میں ہے۔ ’’یا ایھا النبی قل ازواجک‘‘ سے شروع ہوتا ہے اور ’’واذکرن ما یتلیٰ فی بیوتکن‘‘۔ درمیان میں وہ جملہ ہے۔ اہلِ بیت عظامؓ کا جب ہم ذکر کرتے ہیں تو اولین مصداق کون ہے قرآن پاک کے بقول؟ ازواج مطہراتؓ۔ اہل بیت میں سب کے ساتھ محبت ہمارا ایمان ہے۔ اہلِ بیت کے ساتھ محبت ایمان کی علامت ہے۔ اہلِ بیت کے ساتھ بغض منافقت کی علامت ہے۔ لیکن اہلِ بیت کے بھی درجات ہیں، طبقات ہیں۔
طبرانیؒ کی روایت ہے۔ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا گھر میں بیٹھی ہوئی ہیں۔ خود روایت کر رہی ہیں، رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔ ماں ہیں ہماری، سب کی ماں ہیں۔ تو امِ سلمہؓ سے کہا کہ دروازہ بند کر دو، میں کچھ آرام کرنا چاہتا ہوں، کسی کو آنے نہ دو۔ اماں جان دروازہ بند کرنے لگیں، حضرت حسینؓ آ گئے۔ انہوں نے کہا، باہر جاؤ۔ وہ چھلانگ لگا کے آ گئے۔ نواسہ ہے، چھوٹا بچہ ہے، اور حسینؓ ہے۔ ام سلمہؓ نے حضورؐ کی طرف دیکھا تو مسکرائے کہ آگیا ہے، بچہ ہے۔ اب حضورؐ لیٹے ہوئے ہیں۔ کبھی کندھے پہ بیٹھتا ہے، کبھی گھٹنے پہ بیٹھتا ہے، جیسے پوتے نواسے نانوں دادوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ اور یہ فطرت ہے کہ دادا نانا کی محبت اولاد سے زیادہ ہوتی ہے یا پھر نواسوں پوتوں سے ہوتی ہے۔ فطری بات ہے۔
ام المؤمنین حضرت ام سلمہؓ ہی روایت کرتی ہیں کہ میرے گھر میں حضورؐ تشریف فرما تھے، اتنے میں حضرت فاطمہ آ گئیں، رضی اللہ تعالیٰ عنہا، پوری امت کی باجی ہیں یہ۔ بڑی قابل احترام، بڑی لاڈلی باجی ہیں ہماری۔ حضرت فاطمہؓ آگئیں۔ حسنؓ اور حسینؓ ساتھ تھے۔ دونوں بیٹے تھے، بچے تھے۔ حضورؐ بیٹھے ہوئے ہیں، تو فاطمہؓ لاڈ سے آ کے گود میں بیٹھ گئیں۔ بیٹی باپ کی گود میں بیٹھ گئی۔ یہ بھی طبرانی کی روایت ہے۔ اور روایت صحیح ہے، سند حسن کے ساتھ ہے۔ حسن اور حسین کو بٹھا لیا دائیں طرف اور بائیں طرف، بیٹی گود میں بیٹھ گئی۔ تو حضورؐ فرماتے ہیں ’’السلام علیکم یا اہل بیتی‘‘، میرے اہلِ بیت! تمہیں سلام ہو۔ امِ سلمہؓ کہتی ہیں، یا رسول اللہ! ہم نہیں ہیں کیا؟ ام سلمہؓ بھی بیٹھی ہیں، بیٹی زینبؓ بھی۔ ابو سلمہؓ کی بیٹی ہے۔ حضورؐ کی ربیبہ ہے، گھر میں پلی ہے۔ فرمایا، ہاں ’’انت وابنتک من اہل بیتی‘‘ تم بھی اہلِ بیت میں سے ہو۔ یہ بھی اہلِ بیت ہیں۔ یہ میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ جب ہم اہلِ بیت کا ذکر کرتے ہیں تو حضورؐ کے ساتھ رشتہ رکھنے والا ہر شخص، ہر بچہ، ہر بچی، زوجہ محترمہ، حضورؐ کے نواسے، سب شامل ہوتے ہیں۔
ایک روایت اور عرض کر دیتا ہوں۔ یہ مسند احمد کی روایت ہے۔ حضورؐ تشریف فرما تھے۔ گھر کے افراد بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ فطری باتیں ہوتی ہیں۔ ایک ہار آیا کہیں سے ہدیہ، بڑا خوبصورت ہار تھا۔ قیمتی ہار تھا، خوبصورت ہار تھا، حضورؐ نے دیکھا۔ فرمایا، میں اپنے اہلِ بیت میں سب سے زیادہ محبوب کو پہناؤں گا۔ اپنے اہل بیت میں سب سے زیادہ جس کے ساتھ مجھے محبت ہو گی اس کو پہناؤں گا۔ یہ حدیث کا ترجمہ کر رہا ہوں۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں مجھے فکر لاحق ہو گئی کسی اور کو نہ پہنا دیں کہیں۔ فطری بات ہے یہ بھی، نیچر ہے۔ مجھے خدشہ پیدا ہو گیا پتہ نہیں کس کو پہناتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کی طرف دیکھا تو اپنی سب سے بڑی نواسی امامہ۔ حضورؐ کی سب سے بڑی نواسی کون تھی؟ امامہؓ۔ کس کی بیٹی ہیں؟ حضورؐ کی بڑی بیٹی حضرت زینبؓ کی۔ حضورؐ نے اس کے گلے میں ڈال دیا۔ یہ وہی امامہؓ ہیں، حضورؐ نماز میں جاتے تھے، گردن پہ بیٹھ جاتی تھیں، التحیات بیٹھے ہوئے گود میں آ کے بیٹھتی تھیں، ہٹتی نہیں تھیں، بڑی مشکل سے ہٹانا پڑتا تھا، آ کے لاڈ سے بیٹھ جاتی تھیں۔
میں نے دو باتیں کی ہیں: (۱) جب ہم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ذکر کرتے ہیں تو تمام طبقے شامل ہوتے ہیں، ازواج مطہرات، اہل بیت عظام، انصار، مہاجرین، ’’والذین اتبعوھم باحسان‘‘، بدری، بیعت حدیبیہ والے، بیعت عقبہ والے، سب طبقات شامل ہوتے ہیں، لیکن ان سب کا الگ الگ ذکر بھی قرآن پاک میں، حدیث میں، ان کے حوالے سے، تعارف موجود ہے۔ اس لیے ہر ایک کے ساتھ محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ (۲) دوسری بات میں نے یہ عرض کی ہے کہ اہلِ بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا جب ہم ذکر کرتے ہیں تو اس میں سارے ہی شامل ہوتے ہیں۔ ہاں، حضورؐ کی ترجیحات تھیں، اہلِ بیت عظامؓ میں بھی، یہ بات درست ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ حضورؐ کی ساری بیٹیاں اہلِ بیت کا حصہ ہیں، لیکن حضورؐ کی سب سے زیادہ محبت کس کے ساتھ تھی؟ فاطمہؓ کے ساتھ تھی، فطری بات ہے، ویسے بھی چھوٹے بچے سے محبت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اور چھوٹا بچہ پھر فاطمہؓ ہو تو۔ اولاد میں سے سب سے چھوٹے کے ساتھ محبت، فطری بات ہے، زیادہ ہوتی ہے۔ کوئی بات فطرت کے خلاف نہیں ہے۔ اور بیٹی بھی پھر فاطمہؓ جیسی ہو۔
وہ روایت آپ نے کئی بار سنی ہو گی۔ ایمان کی تازگی کے لیے میں بھی عرض کر دیتا ہوں، بخاری کی روایت ہے۔ اور راوی ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا۔ کہتی ہیں، آخری ایام تھے، فاطمہؓ آئیں۔ حضورؐ اٹھ کے بیٹھ گئے۔ اپنے ساتھ چارپائی پہ بٹھایا۔ جیسے بیٹیوں کے سر پر، پشت پر آدمی ہاتھ رکھتا ہے، بیٹیوں کا حق بھی ہوتا ہے۔ پشت پہ ہاتھ رکھا، سر پہ ہاتھ پھیرا، قریب کیا۔ کان میں ایک بات کہی۔ حضرت فاطمہؓ رونے لگیں۔ جب رونا زیادہ ہوا تو حضورؐ نے پھر سر پہ ہاتھ رکھا، پھر قریب کیا، پھر کان میں ایک اور بات کہی، خوش ہو گئیں۔ وہاں سے ہٹیں تو حضرت عائشہؓ نے پوچھا بیٹی، کیا بات ہوئی تھی؟ کہا، کان میں بات کی تھی، نہیں بتاؤں گی۔
اور یہ اصول ہے، آپ سے مسئلہ بھی عرض کر دیتا ہوں۔ کوئی آدمی آپ کے کان میں بات کرے، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ راز ہے، وہ موبائل پہ نہیں چڑھانی۔ کسی نے کان میں بات کی ہے نا، وہ کیا ہے؟ راز ہے۔ وہ سوشل میڈیا پہ نہیں چڑھانی۔ نہیں بلکہ فقہاء یہ بھی لکھتے ہیں، اگر کوئی آدمی آپ سے بات کرتے ہوئے اِدھر اُدھر دیکھ رہا ہے کہ کوئی اور تو نہیں سن رہا، یہ بھی راز ہے، آپ کو اجازت نہیں ہے کہ اس کو فاش کریں۔
خیر، حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں، بیٹا، بتا دو۔ کہا، نہیں، کان میں بات کی تھی، باپ بیٹی کا راز ہے۔ نہیں بتائی۔ وفات کے کچھ عرصے کے بعد حضرت عائشہؓ نے دوبارہ پوچھا، بیٹی اب تو بتا دو نا۔ کہا، ہاں، اب بتا دیتی ہوں۔ اُس وقت نہیں بتائی وہ بات، وفات کے بعد بتائی ہے کہ اب وہ راز نہیں رہی۔ کہا، ابا جی نے کہا تھا، بیٹا، میں جا رہا ہوں۔ پہلی دفعہ جب کان میں بات کی تو کیا کہا؟ میں اس بیماری میں جا رہا ہوں۔ بیٹی کو پتہ چلے کہ باپ دنیا سے جا رہا ہے تو بیٹی کیا کرے گی؟ اور بیٹی بھی فاطمہؓ ہو، تو کیا کرے گی؟ دوبارہ کان سے منہ لگایا، بات کی، بیٹا، تم بھی آ رہی ہو۔ خاندان میں سب سے پہلے تم آؤ گی میرے پاس۔
یہاں اب صوفیاء کرام کا موضوع شروع ہو جاتا ہے۔ عجیب بات ہے، اپنی وفات کی خبر دی ہے تو رونے لگ گئی ہے، اور اس کو اس کی وفات کی خبر دی ہے تو ہنسنے لگ گئی ہے۔ یہ محبت کی باتیں ہیں۔ صوفیاء کرام تو اپنے انداز سے بات کرتے ہیں۔ پہلی خبر کیا تھی کہ میں جا رہا ہوں۔ دوسری خبر کیا تھی کہ تم بھی جا رہی ہو، تیرا وقت بھی تھوڑا ہی ہے۔ اب کسی کو یہ کہا جائے کہ تیرا وقت تھوڑا ہے، تم بھی جا رہے ہو، یہ خوشی کی بات ہے یا پھر رونے کی بات ہے؟ وہ ہنس رہی ہیں۔ اس لیے کہ جدائی کا وقفہ بہت کم تھا۔ اور وقفہ بہت کم تھا، چھ مہینے کے بعد فوت ہو گئی تھیں۔
اس تناظر میں، آخری بات یہ عرض کرنا چاہوں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے نواسوں میں سب سے محبت تھی، ان کا بڑا نواسہ علیؓ تھا، حضرت زینبؓ کا بیٹا، علی ابن ابی العاصؓ، بڑی نواسی امامہؓ تھی، لیکن حضورؐ کو سب سے زیادہ محبت کس سے تھی؟ حسنؓ اور حسینؓ سے۔ فطری بات ہے، ہوتی ہے، چھوٹے بھی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسنین کریمین رضوان اللہ علیہما، ان دونوں کے ساتھ محبت کا اظہار بھی کیا ہے اور محبت کا حکم بھی دیا ہے۔ یہ جملہ کہ ’’یا اللہ، حسینؓ سے مجھے محبت ہے، جو اس سے محبت کرے، تو اس سے محبت کر۔‘‘ یہ حضرت حسینؓ کے بارے میں مستقلاً بھی ہے، حضرت حسنؓ کے بارے میں، دونوں کے بارے میں اکٹھا بھی ہے۔ آج ہی میں دیکھ رہا تھا قاضی شوکانی کی ’’در السحابۃ‘‘، پندرہ بیس روایتیں انہوں نے اکٹھی کی ہیں، حضرت حسنؓ کو الگ بھی کہا ہے، حضرت حسینؓ کو الگ کہا ہے، دونوں کو اکٹھا بھی کہا ہے کہ ’’جو اِن سے محبت کرے، یا اللہ، تو اُن سے محبت کر۔‘‘
ایک روایت ذکر کر دیتا ہوں۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، بخاری کی روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے، حضورؐ کا معمول تھا، جب باہر جاتے تھے تو ابو ہریرہؓ کا مزاج یہ تھا کہ حضورؐ جہاں جاتے، پیچھے پیچھے چل پڑتے، ذوق بھی تھا، مزاج بھی تھا۔ کہتے ہیں، مجھے حضورؐ کو یہ بتانے کے لیے کہ میں بھی پیچھے ہوں، کھنگارنا پڑتا تھا، تاکہ دیکھ لیں پیچھے ابوہریرہؓ بھی ہے۔ کئی واقعات ذکر کرتے ہیں کہ میں پیچھے ہوں، حضورؐ کو پتہ نہیں ہے، میں کھنگارتا، تو حضورؐ دیکھتے کہ ابوہریرہؓ بھی پیچھے ہے۔ کہتے ہیں، حضورؐ سوق بنو قینقاع میں جا رہے تھے، میں پیچھے پیچھے چل پڑا۔ راستے میں سیدہ فاطمہ کا گھر تھا، بیٹی کا، رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔ حضورؐ باہر کھڑے آواز دی ’’این لکع‘‘ لڑکا کدھر ہے؟ حضرت حسنؓ کے بارے میں۔ باہر سے آواز دی اور کھڑے ہو گئے۔ یہ معمول تھا، آواز دیتے تھے، تھوڑی دیر میں حسنؓ آجاتے تھے اور حضورؐ لے کر بازار میں چلے جاتے تھے۔
ابوہریرہؓ کہتے ہیں، حضورؐ آواز دے کے باہر کھڑے ہیں، بچہ نہیں آ رہا اندر سے، میں بھی کھڑا ہوں۔ میں سمجھ گیا کہ ماں نے بیٹے کو نانے کے پاس بھیجنا ہے، ویسے تو نہیں بھیج دے گی، ہاتھ منہ دھوئے گی، کپڑے بدلائے گی، ماں بچے کو ویسے تو نہیں بھیج دیتی، اور بھیجنا بھی کس کے پاس ہے، نانے کے پاس۔ تو تھوڑی دیر کے بعد حضرت حسنؓ آ گئے۔ اب حضورؐ نے یوں ہاتھ پھیلائے۔ حضورؐ بیٹھے ہیں یوں ہاتھ پھیلائے۔ حسنؓ بھی یونہی ہاتھ پھیلائے آئے اور دونوں نانا نواسہ گلے ملے۔ تو حضورؐ نے اس وقت ایک جملہ فرمایا، ’’اللھم احبہ واحب من یحبہ‘‘ یا اللہ، میرے اس بچے سے محبت فرما، اور جو اس سے محبت کرے، اس سے بھی محبت فرما۔ ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ اس کے بعد تو مجھے حسنؓ سے محبت ہی ہو گئی۔ اس لیے کہ حسنؓ سے محبت کرنے سے مجھے کس کی محبت حاصل ہو گی؟ اللہ کی۔
یہی جملہ مختلف روایات میں حضرت حسینؓ کے بارے میں الگ بھی ہے، میں تفصیلات میں نہیں جاتا، ’’اللھم احبہ واحب من یحبہ‘‘، ان کے لیے الگ بھی ہے، ان کے لیے الگ ہے، دونوں کے لیے اکٹھا بھی ہے۔ یا اللہ، میرے ان نواسوں سے محبت کرنے والے سے تو محبت فرما۔ اللہ پاک نے دونوں کو بڑی شان دی تھی، لیکن بزرگوں کے تذکرے میں، آخری بات عرض کرنے لگا ہوں، بزرگوں کا تذکرہ نسبت کا اظہار بھی ہوتا ہے، محبت کا اظہار بھی ہوتا ہے، برکت کا حصول بھی ہوتا ہے، ایمان میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔ بالخصوص صحابہ کرامؓ کے کسی بھی طبقے کا، کسی بھی شخصیت کا ذکر کریں گے، سب سے پہلے کیا ہوتا ہے؟ اپنی نسبت کا اظہار ہوتا ہے کہ میں اُن سے ہوں۔
یہ نسبت بڑی عجیب چیز ہے۔ ایک لطیفہ سنا دوں۔ یہ نسبت بھی بڑی عجیب چیز ہے، بڑے مزے کی بات ہوتی ہے۔ میں کہا کرتا ہوں، جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیتے ہیں تو حضورؐ کا ذکر بعد میں ہوتا ہے، پہلے ہم اپنا تعارف کراتے ہیں، ہم کس کے لوگ ہیں۔ جب ہم حضورؐ کا نام لیتے ہیں محبت سے تو یہ ہمارا شناختی کارڈ ہے۔ حضورؐ کے ساتھ محبت ہمارا شناختی کارڈ ہے، میں اس کا مشاہدہ کر چکا ہوں، کافی عرصہ امریکہ جاتا رہا ہوں، نسبت کی بات آتی ہے تو یہ واقعہ میں ضرور سنایا کرتا ہوں۔ میں نیویارک ایئرپورٹ پہ اترا، آج سے کوئی پندرہ سال پہلے کی بات ہے، نائن الیون کے کوئی پانچ چھ سال بعد۔ پاسپورٹ بہت چیک ہوتے ہیں۔ اب میرے نام میں محمد بھی لکھا ہوا ہے، خان بھی لکھا ہوا ہے۔ باقی پورا نام آپ کو نہیں بتاؤں گا میرا نام کیا ہے۔ لیکن پاسپورٹ میں میرے نام کے ساتھ محمد بھی لکھا ہوا ہے اور آگے خان بھی لکھا ہوا ہے۔ امیگریشن آفیسر کھڑا ہے، لمبا تڑنگا سیاہ فام امریکی ہے، پاسپورٹ دیکھا، مجھے دیکھا، مجھے اب تک وہ لمحہ نہیں بھولتا، محمد، آگے خان، ڈبل، چلو اِدھر۔ میں نے کہا، میرا تعارف ہو گیا ہے۔ چھ سات گھنٹے انہوں نے مجھے تنگ کیا، لیکن اس کی لذت میں آج تک نہیں بھولتا کہ میرا تعارف کس لفظ سے ہوا ہے۔ یہ نسبت ہے۔ سچی بات ہے، آج تک اس کا نام لے کر لذت اٹھاتا ہوں، محمد، خان، ڈبل، چلو ادھر۔ لے گیا مجھے کمرے میں۔ یہ تعارف ہے ہمارا۔
بزرگوں کا تذکرہ تو سب سے پہلے ہمارا تعارف ہے، ہم کن کے لوگ ہیں، محبت کا اظہار ہے، عقیدت کا اظہار ہے۔ لیکن صرف تذکرہ کرتے رہنا چاہیے یا ان کے مشن اور ان کے کام کو بھی دیکھنا چاہیے؟ ایک کام حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اور دوسرا حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر کر کے اجازت چاہوں گا۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی بڑی خدمات، بڑے کارنامے، تاریخ میں ان کا ایک بڑا مقام ہے، لیکن تاریخ ان کے سب سے بڑے کس کام کو یاد کرتی ہے کہ امت کو تین چار لڑائیوں کے بعد، تقسیم ہو جانے کے بعد اکٹھا کر دیا تھا۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا سب سے بڑا کارنامہ کیا گنا جاتا ہے؟ جس کی حضورؐ نے پیشگوئی بھی فرمائی ’’ان ابنی ھذا سید وسیصلح اللہ بہ بین فئتین عظیمتین من المسلمین‘‘۔ میرا یہ بیٹا سردار ہے۔ (میرا پتر چودھری اے، پنجابی ترجمہ)۔ میرے اس بیٹے کی وجہ سے اللہ پاک مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کو اکٹھا کر دے گا۔ کیا یا نہیں کیا؟ حضرت حسنؓ کے سب کارناموں میں سب سے بڑا کارنامہ کیا ہے؟ وحدتِ امت۔ امت کو اکٹھا کرنا۔
سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کس مسئلے پر ہوئی ہے؟ ذرا غور کریں، کس مسئلے پر ہوئی ہے، جھگڑا کیا تھا؟ میں یزید کی بیعت نہیں کرتا۔ وہ کہتا تھا، کرو۔ سارے جھگڑے کا خلاصہ یہی تھا نا۔ یزید کی بیوروکریسی کہتی تھی، کرو۔ یہ کہتے تھے، نہیں کرتا۔ وہ ساری بیوروکریسی تھی نا۔ اکٹھے ہو گئے کہ بیعت کرو۔ کہا، نہیں کرتا۔ کیوں نہیں کرتا؟ اس لیے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نزدیک یزید اس منصب کا اہل نہیں تھا جس پر حضرت معاویہؓ بیٹھے تھے۔ ان کے ساتھ تو چلتا رہا ہوں، اس کے ساتھ نہیں چلوں گا، یہ اہل نہیں ہے۔ اس کے سوا کوئی جھگڑا تھا؟ لڑائی کس بات پہ ہوئی ہے؟ وہ کہتے ہیں، بیعت کرو۔ وہ کہتے ہیں، نہیں کروں گا۔ میرے تحفظات ہیں، اس کے سامنے لے جاؤ، بیٹھ کے بات کروں گا، یا بیعت نہیں کروں گا۔
میرا سوال یہ ہے، آج امت کو وحدت کی ضرورت ہے یا نہیں؟ دنیا کیا کر رہی ہے امت کے ساتھ؟ بین الاقوامی طاقتیں امت کے ساتھ کیا کر رہی ہیں؟ آج ابھی ہمارے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ بیٹھے ہیں، یہ سارے ملک میں ختم نبوت کا مسئلہ لے کر چل رہے ہیں کہ بین الاقوامی ادارے، بین الاقوامی طاقتیں، یورپی یونین والے کہتے ہیں کہ یہ کام ختم کر دو ۔ یہ کمپین ہے یا نہیں؟ آج یورپی یونین کا کیا مطالبہ ہے ہم سے؟ قادیانیت کے خلاف قانون ختم کرو۔ ناموسِ رسالتؐ کا قانون ختم کرو۔ خاندانی احکام قوانین ختم کرو، فیٹف یہ کہتا ہے۔ اور مدرسے سرکاری قبضے میں دو۔ یہی لڑائی ہے نا ہماری ملک میں؟ ان ساری لڑائیوں کے لیے وحدتِ امت کی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟ امریکہ، اقوام متحدہ، یورپی یونین، سامنے کھڑے ہیں۔ اس کا مقابلہ اکیلے اکیلے کریں گے یا مل کر کرنا پڑے گا؟
دوسری بات، حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا مشن کیا تھا کہ یہ بندہ جو بیٹھ گیا ہے، یہ اہل نہیں ہے۔ یہاں سے لڑائی شروع ہوئی۔ آج تو سارے ہی ’’اہل‘‘ بیٹھے ہوئے ہیں نا؟ چاروں طرف اہل ہی اہل بیٹھے ہوئے ہیں، ہر شعبے میں، ہر طبقے میں، سارے اہل ہی بیٹھے ہوئے ہیں، کہ جی ہم مطمئن ہیں، ٹھیک ہے چل رہا ہے کام۔ امت کی وحدت کے لیے قربانی دینا کام کرنا حضرت حسنؓ کا اسوہ ہے، اور نا اہلی کے خلاف جدوجہد حضرت حسینؓ کا اسوہ ہے۔ اللہ پاک ان دونوں بھائیوں کے درجات بلند سے بلند تر فرمائے، ہمیں ان کا تذکرہ کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے، ان کی برکات حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، لیکن ساتھ ساتھ ان کے مشن میں بھی کچھ حصہ ڈالنے کی توفیق عطا فرما دے، وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

