قرآن کریم کی تفسیر ’’الفلاح‘‘ اور نصابِ تعلیم ’’صراطِ مستقیم‘‘

   
۱۷ مئی ۲۰۲۶ء

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الشمس ٹرسٹ گلیانہ ضلع گجرات کی طرف سے تعلیمی مقاصد کے لیے مرتب کردہ قرآن کریم کی تفسیر ’’الفلاح‘‘ نظر سے گزری اور اس کے ساتھ مختلف مراحل کے لیے ’’صراطِ مستقیم‘‘ کے عنوان سے مرتبہ نصابِ تعلیم کے کچھ حصے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ نظر کی مسلسل کمزوری کے باعث مطالعہ تو نہیں کر سکا مگر بعض مقامات سرسری دیکھنے سے اندازہ ہوا کہ اچھے ذوق اور اسلوب کے ساتھ نئی نسل کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے عمدہ مواد اچھی ترتیب کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے جو مرتبین اور منتظمین کے حسنِ ذوق کی علامت ہے۔

ہم جس دور سے گزر رہے ہیں اس میں ہمارے لیے سب سے بڑا مسئلہ اپنی نئی نسل کو دین کے ساتھ شعوری طور پر وابستہ رکھنا اور ان کے ذہنوں میں مختلف اطراف سے مسلسل ڈالے جانے والے شکوک و شبہات کو دور کر کے انہیں دینی تعلیمات سے بہرہ ور کرنا ہے۔ نئی نسل کے بچوں اور بچیوں کو بنیادی دینی تعلیمات فراہم کرنے کا کوئی منظم ماحول موجود نہیں ہے جبکہ شکوک و شبہات اور فکری مباحثوں کا بازار ہر طرف گرم ہے۔ اس فضا میں کسی بھی نوجوان کے لیے خود کو دین پر قائم رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور اس حوالہ سے نوجوان طلبہ اور طالبات کی مسلسل راہ نمائی ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر انہیں قرآن کریم کے ساتھ فہم و شعور کے دائرے میں لایا جا سکے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حالات و سوانح سے باخبر کرنے کا ماحول بنایا جا سکے تو یہ ان کی سب سے بہتر راہ نمائی ہو گی اور اس سلسلہ میں کام کرنے والے ادارے اور شخصیات ہم سب کے شکریہ کے مستحق ہیں۔

میں الشمس ٹرسٹ گلیانہ کو اس کاوش پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت ان کی محنت کو قبولیت و برکات سے نوازیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے ثمرآور بنائیں، آمین یا رب العالمین۔

(۱۷ مئی ۲۰۲۶ء)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دینی علوم کے فروغ اور تعلیم و تربیت کی ترویج میں مردوں کی طرح خواتین نے بھی ہر دور میں نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں جو اسلامی تاریخ کے ایک مستقل باب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرامؓ کی طرح صحابیاتؓ نے بھی علمی استفادہ کیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علوم و معارف کو امت تک منتقل کرنے کے لیے شب و روز محنت کی جس کے نتیجے میں آج امت کے علمی سرمایہ و ذخیرہ میں خواتین کا بہت بڑا حصہ امتِ مسلمہ کی راہ نمائی اور تعلیم و تربیت کا باعث ہے۔ قرآن کریم کی تفسیر و تشریح، احادیث نبویہؐ کی روایت و توضیح اور فقہی مسائل کے استنباط و استدلال میں بھی عورتوں کی مساعی کا بہت بڑا حصہ شامل ہے، اسی طرح قرآن و حدیث کی روایت و تشریح کے ساتھ ساتھ مسائلِ شرعیہ کی وضاحت اور فتویٰ میں بھی خواتین سینکڑوں کی تعداد میں تاریخ کا حصہ ہیں۔

ہمارے فاضل دوست ڈاکٹر محمد اکرم ندوی نے، جن کا تعلق لکھنؤ سے ہے اور وہ آکسفورڈ (برطانیہ) کے ایک علمی مرکز میں سالہا سال سے علمِ حدیث کی خدمت سرانجام دینے میں مصروف ہیں، حدیثِ نبویؐ روایت کرنے والی خواتین کی ضخیم تاریخ مرتب کی ہے اور ہزاروں ایسی محدثات کا تذکرہ مرتب کیا ہے جنہوں نے احادیث روایت کی ہیں اور ان کی تعلیم دی ہے۔ اسی طرح پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہ علومِ اسلامیہ کی سابق سربراہ محترمہ ڈاکٹر جمیلہ شوکت صاحبہ نے اندلس کی محدثہ خواتین پر ایک ضخیم کتاب شائع کی ہے جس میں وہاں کی بیسیوں محدثات کے حالات و خدمات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ہمارے قریبی دور کی ایک عظیم محدثہ خاتون الشیخہ امۃ اللہ دہلویہؒ بھی علمِ حدیث و روایت کا مرجع رہی ہیں، جو حضرت شاہ عبد الغنی محدث دہلویؒ کی دختر اور شاگرد و جانشین تھیں، انہوں نے مکہ مکرمہ میں نصف صدی سے زیادہ عرصہ علمِ حدیث کی تعلیم و تدریس کے فرائض سرانجام دیے ہیں اور پاکستان کے عظیم محدث حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ تعالیٰ نے بڑے فخر کے ساتھ ان کا تذکرہ اپنے اساتذہ میں کیا ہے۔ جبکہ مجھ فقیر کو بھی ایک واسطہ سے ان کی شاگردی کا شرف حاصل ہے اور وہ حدیث کی روایت میں میری دادی استاذ ہیں بحمد اللہ تعالیٰ۔

اس لیے جہاں بھی خواتین کا کوئی علمی حلقہ یا مشغلہ دیکھتا ہوں، مجھے اس پر بے حد خوشی ہوتی ہے اور ان کے لیے مسلسل دعاگو رہتا ہوں۔ اس پس منظر میں یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی ہے کہ میرے سسرالی قصبہ گلیانہ ضلع گجرات میں الشمس ٹرسٹ کے نام سے خواتین کا ایک ادارہ مصروفِ عمل ہے جس کا نظم و نسق ایک صاحبِ علم و دانش خاتون محترمہ فائزہ صاحبہ چلا رہی ہیں اور اس میں خواتین اور طالبات کی دینی تعلیم و تربیت کا ماحول قائم کیا گیا ہے۔ میں نے ان کا تعلیمی نصاب ایک نظر دیکھنے کے ساتھ ساتھ ان کی طرف سے قرآن کریم کے آسان ترجمہ و تفسیر کا شائع کردہ مجموعہ بھی بعض مقامات سے دیکھا ہے، باقاعدہ مطالعہ تو نظر کی کمزوری کے باعث اب میرے بس میں نہیں رہا مگر چند مقامات پر نظر ڈالنے سے یہ کاوش اچھی معلوم ہوئی ہے، البتہ تفسیر کے بعض مقامات میں بات سمجھانے کے لیے جاندار چیزوں کی تصاویر مناسب نہیں لگیں کہ جمہور فقہاء کے نزدیک یہ درست نہیں ہے۔ اس کے علاوہ یہ کوشش آج کے دور میں خوش آئند ہے اور اس سے نئی نسل تک قرآن و حدیث کی تعلیمات کو آسان لہجہ میں پہنچانے کی امید دکھائی دیتی ہے۔ میں انہیں اس پر مبارکباد دیتے ہوئے دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت قبولیت و ثمرات سے نوازیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے نفع بخش بنائیں، آمین یا رب العالمین۔

(۲۱ مئی ۲۰۲۶ء)
   
2016ء سے
Flag Counter