بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بیان اور گفتگو انسان کے ان امتیازات میں سے ہیں جن کا اللہ پاک نے قرآن کریم میں بطور خاص ذکر فرمایا ہے اور ’’خلق الانسان‘‘ کے ساتھ ہی ’’علمہ البیان‘‘ فرما کر اس کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ انسانی معاشرت میں گفتگو، مکالمہ اور بیان کی مختلف صورتیں ہر دور میں رائج رہی ہیں اور ان کے تنوع کے ساتھ ساتھ ان کی اہمیت بھی وسعت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ بیان کا بہتر معیار اور اس کے فنی اور اخلاقی تقاضوں کی طرف اہلِ علم و فضل نے ہمیشہ توجہ مرکوز رکھی ہے اور اس کے ارتقا میں کردار ادا کیا ہے۔
سیدنا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ نے کوہِ طور پر براہِ راست کلام سے نوازا اور فرعون کی طرف اللہ تعالیٰ کے دین اور بنی اسرائیل کی آزادی کا پیغام دے کر مبعوث فرمایا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کے بارے میں درخواست کی کہ انہیں بھی معاون اور شریکِ کار کے طور پر ان کے ساتھ کر دیا جائے اور اس کی وجہ یہ بیان کی کہ ’’ہو افصح منی لساناً‘‘ وہ مجھ سے زیادہ واضح گفتگو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس پر حضرت ہارون علیہ السلام کو بھی نبوت کے منصب سے نوازا گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ زبان کی فصاحت نبوت کی ضروریات میں بھی شامل ہے۔ اور پھر دونوں بھائیوں کو فرعون کے پاس بھیجتے ہوئے تلقین فرمائی کہ ’’قولا لہ قولًا لینا‘‘ اس کے ساتھ نرمی سے بات کرنا، ہو سکتا ہے وہ سمجھ جائے۔
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نسلِ انسانی کی فصیح ترین شخصیت ہیں اور انہوں نے زبان و بیان کا نہ صرف سب سے بہتر استعمال کیا ہے بلکہ امتِ مسلمہ کی راہنمائی کے لیے اس کے آداب اور معیار کی حدود بھی بیان فرمائی ہیں جو قرآن و سنت کی تعلیمات میں ایک کہکشاں کی طرح بکھری ہوئی ہیں۔ ہمارے فاضل دوست مولانا شیخ سیف اللہ نے ان ارشادات و ہدایات کا ایک خوبصورت گلدستہ زیر نظر کتاب کی صورت میں مرتب کیا ہے جو ان کے حسنِ ذوق کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ قبولیت و ثمرات سے نوازیں اور امت کے لیے راہ نمائی کا ذریعہ بناتے ہوئے ان کے لیے ذخیرۂ آخرت بنا دیں، آمین یا رب العالمین۔

