افغانستان کے سابق فرمانروا ظاہر شاہ ایک بار پھر منظر عام پر نمودار ہوئے ہیں اور ان کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ظاہر شاہ افغانستان میں امن کے قیام کے لیے طالبان اور ان کے مخالف شمالی اتحاد کے پاس الگ الگ وفود بھیجنے والے ہیں تاکہ ’’لوئی جرگہ‘‘ کے انعقاد کی راہ ہموار کی جا سکے جو اُن کے نزدیک افغانستان میں قیامِ امن کے لیے ضروری ہے۔
ادھر امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے ظاہر شاہ کی کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جبکہ امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد کے مشیر مولوی وکیل احمد متوکل نے ظاہر شاہ کی ان سرگرمیوں پر شک کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ افغانستان کے نازک اور حساس حالات میں ظاہر شاہ نے کوئی کردار ادا نہیں کیا اور اب وہ قیامِ امن کے نام سے اچانک ظاہر ہوئے ہیں تو اس کے پیچھے کوئی سازش کارفرما نظر آتی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ ظاہر شاہ سمیت کوئی بھی شخص نیک نیتی کے ساتھ مثبت تجاویز لائے گا تو طالبان کی اسلامی حکومت اس پر غور کرے گی۔
ظاہر شاہ طویل عرصہ تک افغانستان پر حکمران رہے ہیں، انہی کی مسلسل ناکام اور ڈھیلی پالیسیوں کی وجہ سے روس [سوویت یونین] کو افغانستان میں قدم جمانے کا موقع ملا تھا۔ اور اس خطہ میں روسی استعمار پسندی نے افغانستان میں مسلح افواج بھیج کر وسطی ایشیا کی دیگر ریاستوں کی طرح اسے بھی اپنے مخصوص دائرہ میں شامل کرنے کی جو کارروائی کی تھی، اس کی بنیادیں ظاہر شاہ کے دورِ حکومت میں ہی فراہم کی گئی تھیں۔ یہ تو افغانستان کے غیور علماء کو دعائیں دیں کہ انہوں نے روسی افواج کی آمد کو قبول نہ کیا اور ان کے خلاف جہاد کا اعلان کر کے مسلح جدوجہد کا آغاز کر دیا۔ جس میں لاکھوں غیور افغان مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے نہ صرف افغانستان سے روس کی مسلح افواج کو واپس جانے پر مجبور کر دیا بلکہ وسطی ایشیا اور مشرقی یورپ پر بھی روس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی اور درجنوں ممالک و اقوام کو جہادِ افغانستان کی برکت سے آزادی ملی۔ ورنہ جن پالیسیوں کا آغاز ظاہر شاہ نے کیا تھا وہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکی تھیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ظاہر شاہ سے ان کے حصے کا کام لے کر انہیں فارغ کر دیا گیا، وہ روم میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے لیے چلے گئے، ان کی جگہ اس منصوبے کو دیگر لوگ محمد داؤد، نور محمد ترہ کئی، حفیظ اللہ امین اور ببرک کارمل باری باری آگے بڑھتے رہے اور انہوں نے ماسکو کے پروگرام کو بتدریج مکمل کر دیا۔
اس لیے تاریخی تسلسل کو سامنے رکھیں تو افغانستان کو روس کی جھولی میں ڈالنے اور وسطی ایشیا کی ریاستوں کی صف میں شامل کرنے کی تاریخی پالیسی کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں ظاہر شاہ، محمد داؤد، نور محمد ترہ کئی، حفیظ اللہ امین اور ببرک کارمل ایک ہی زنجیر کی کڑیاں نظر آتے ہیں۔ مگر افغانستان کے غیور مسلمانوں کی روایتی حریت پسندی اور افغان علماء کا نعرہ مستانہ اس کی راہ میں رکاوٹ بن گیا۔ اور امریکی استعمار اس خیال سے میدان میں کود پڑا کہ وہ اپنے عالمی حریف روس سے ویتنام کی شکست کا بدلہ لے کر اسے زچ کرے گا اور افغانستان کو اپنے دائرہ اثر میں لا کر اپنے دوسرے حریف چین کے خلاف مضبوط حصار قائم کر لے گا۔
یقیناً ایسا ہی ہو جاتا اگر طالبان کی تیسری قوت درمیان سے نہ اٹھ کھڑی ہوتی اور ایک بے لچک اسلامی نظریاتی ریاست کی داغ بیل ڈال کر امریکہ کی امیدوں کو خاک میں نہ ملا دیتی۔ اب امریکہ کے لیے مشکل یہ پیدا ہو گئی ہے کہ طالبان کی اسلامی نظریاتی حکومت اسے کسی صورت ہضم نہیں ہو رہی اور چین کے خلاف حصار قائم کرنے کا خواب بھی پورا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ اس لیے امریکہ موجودہ صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے اور جنرل دوستم، حکمت یار، احمد شاہ مسعود اور برہان الدین ربانی کو طالبان کے مقابلہ میں پوری طرح مؤثر نہ دیکھتے ہوئے ظاہر شاہ کی ’’بوسیدہ ہڈیوں‘‘ کو اٹھا لایا ہے۔ اور وہ ظاہر شاہ جس نے اپنے ملک پر روسی افواج کو اترتے ہوئے دیکھا اور ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیا، جس کے دیکھتے دیکھتے پندرہ لاکھ افغان اپنی آزادی، خودمختاری اور اسلامی تشخص کے تحفظ کے لیے قربان ہو گئے، اور اس سے کئی گنا زیادہ جلاوطن ہوئے، مگر ظاہر شاہ کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی، اور آج جبکہ امریکہ اور روس دونوں افغانستان کے حوالہ سے ایک پالیسی پر متفق ہو گئے ہیں کہ طالبان کی اسلامی حکومت کو ہر قیمت پر ناکام کر دیا جائے لیکن اس میں کامیابی دکھائی نہیں دے رہی تو ظاہر شاہ کے سینے میں درد اٹھا ہے اور انہیں اچانک یاد آیا ہے کہ ان کا بھی افغانستان کے ساتھ کوئی تعلق ہے اور انہیں بھی اس مظلوم خطہ میں امن قائم کرنے کے لیے کوئی کردار ادا کرنا چاہیے۔
ہم امریکہ بہادر سے یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اس قسم کے روبوٹ کرداروں کے ڈرامے کا کوئی فائدہ نہیں، اب بات بہت آگے بڑھ چکی ہے اور ان پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے، اس لیے ان حقائق کو قبول کرنا چاہیے اور کھلے دل سے اعتراف کر لینا چاہیے کہ وہ افغانستان کی جنگ میں جس مقصد کے لیے شریک ہوا تھا وہ پورا نہیں ہوا، اور وہ ملاؤں کو استعمال کرنے کی بجائے ان کے ہاتھوں استعمال ہو گیا ہے، آخر اس اعتراف میں حرج ہی کیا ہے۔

