بعد الحمد والصلوٰۃ۔ جامعۃ الرشیدیۃ، چوک فاروق اعظم، لودھراں میں ۲۶ مارچ سے خطابت کورس طلبہ اور علماء کے لیے شروع ہے جو ۳ اپریل تک جاری رہے گا۔ میں اس کورس کے اہتمام پر مولانا سعید احمد شاہ کاظمی کو مبارکباد دیتا ہوں۔ یہ اچھی کاوش ہے، اس قسم کے کورس وقتاً فوقتاً ہوتے رہنے چاہئیں جو ہمارے نوجوان علماء اور فضلاء کو آج کے تقاضوں، اسلوب اور طریقِ دعوت و تبلیغ سے آگاہ کرتے رہیں۔ مولانا سعید احمد شاہ کاظمی نے مجھ سے بھی فرمائش کی ہے کہ چند باتیں عرض کروں، ان کے ارشاد کی تعمیل میں کچھ باتیں میں بھی عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔
پہلی بات تو خطابت کی ہے۔ خطابت ہمیشہ سے ابلاغ کے ذرائع میں ایک مؤثر ذریعہ رہا ہے۔ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات بھی خطابت میں صفِ اول کے بزرگ تھے۔ ان کی خطابت کا جو لوگ مقابلہ نہ کر سکے انہوں اسے جادو سے تعبیر کیا، لیکن بہرحال وہ جادو تو نہیں تھا۔ میں ایک بات کہا کرتا ہوں کہ قرآن پاک کے بارے میں اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اندازِ خطاب کے حوالے سے مشرکین نے یہ کہا تھا کہ جادو ہے۔ قرآن پاک نے اس کی تردید کی ’’وما ھو بقول شاعر‘‘ (الحاقۃ ۴۱) اور ’’ ولا بقول کاھن‘‘ (الحاقۃ ۴۲) یہ جادو تو نہیں تھا لیکن محاورے کی زبان میں ’’ان کا جادو سر چڑھ کر بولتا تھا‘‘ کہ اس کا کسی کے پاس مقابلہ نہیں ہوتا تھا، کسی کے پاس جواب نہیں ہوتا تھا، اور وہ اپنی خفت مٹانے کے لیے اس کو جادو سے تعبیر کیا کرتے تھے۔
خطابت و شاعری کے بعد قلم آیا ہے، قلم کے بعد آج کا میڈیا، جو نیٹ میڈیا ہے اور آن لائن میڈیا ہے، یہ ابلاغ کے ذرائع میں مؤثر ترین ذرائع ہیں۔ ان میں مہارت حاصل کرنا، ان کا اسلوب سیکھنا، اور ان کی تکنیک کو معلوم کر کے اپنے دین کی دعوت دینا۔ دعوت کا میدان بھی، اصلاح کا میدان بھی، دفاع کا میدان بھی:
- دعوت کی ضرورت بھی ہے کہ قرآن پاک، سنتِ رسول، سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم دنیا تک پہنچائیں۔
- امت کی اصلاح کا دائرہ بھی ہے کہ امت میں پیدا ہونے والی خرابیوں کی نشاندہی کریں اور ان کا حل تجویز کریں۔
- اور دین کا دفاع بھی ہے کہ دین پر، عقائد پر، عبادات پر، اسلامی قوانین پر، اخلاقیات پر ہر طرف سے حملے ہو رہے ہیں اور ہوتے آ رہے ہیں، ان کا دفاع کرنا۔ دلیل کے ساتھ، منطق کے ساتھ، یہ بھی ضروریات میں سے ہے۔
قرآن پاک نے جہاں دعوت کی بات کی ہے وہاں مکالمہ و مجادلہ کی بات بھی کی ہے: ’’ادع الیٰ سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلھم بالتی ھی احسن‘‘ (النحل ۱۲۵)۔ قرآن پاک کا ارشاد ہے کہ لوگوں کو دین کی طرف دعوت دو حکمت کے ساتھ اور نصیحت کے انداز میں۔ ’’وجادلھم بالتی ھی احسن‘‘۔ مجادلہ یعنی گفتگو اور مکالمہ، جس کا آخری سٹیج مناظرہ ہوتا ہے۔ مجادلہ اچھے طریقے سے، حسن نہیں احسن طریقے سے۔ اس دور کا جو سب سے بہترین اسلوب ہو اُس اسلوب میں مجادلہ کرو، دلائل دو، دلائل کا جواب دو، مباحثہ کرو۔ یہ بھی قرآن پاک کا دعوت کے ساتھ دعوت کا تقاضہ ہے۔ دعوت جب دیں گے تو کسی بات پہ بحث بھی ہو گی۔ قرآن پاک نے دعوت کی بات بھی کی ہے اور مجادلہ کی بات بھی کی ہے۔ اور ’’بالتی ھی احسن‘‘ احسن طریقے سے۔ قرآن پاک نے اچھے اسلوب میں اچھے سلیقے کے ساتھ مباحثے کا ماحول قائم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ایک بات تو میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ جو بھی ہمارے دور کا ابلاغ کا ذریعہ ہے، اسے حلال حرام کا فرق رکھتے ہوئے اختیار کیا جائے۔ یہ میں ضرور عرض کروں گا کہ حلال حرام کا فرق قائم رکھتے ہوئے ہم آج کے جدید ذرائع کو جتنا بھی اچھے طریقے سے بہتر اسلوب سے استعمال کر سکتے ہیں وہ ہمیں کرنا چاہیے۔
اس سلسلہ میں اپنے والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمۃ اللہ علیہ کا ایک ارشاد نقل کرنا چاہوں گا جو اکثر ہمیں وہ فرمایا کرتے تھے۔ فرماتے تھے کہ دعوت ہو یا مباحثہ، اپنا موقف مضبوط رکھو اور زبان و لہجہ جتنا بھی لچکدار رکھ سکو۔ موقف میں لچک نہ ہو لیکن زبان اور لہجہ جتنا لچکدار رکھ سکو۔ وہ ایک بات فرمایا کرتے تھے کہ جس سے آپ بات کر رہے ہیں اگر وہ یہ محسوس کرے کہ آپ اس کی ہمدردی میں بات کر رہے ہیں، خیر خواہی میں بات کر رہے ہیں، تو وہ آپ کی سخت بات بھی سن لے گا۔ لیکن اگر اس کو یہ اندازہ ہو جائے گفتگو میں کہ آپ اس کی ہمدردی میں نہیں بلکہ اس کو ہدف بنانے کے لیے، لاجواب کرنے کے لیے بات کر رہے ہیں، تو وہ آپ کی اچھی باتیں بھی نہیں سنے گا۔ موعظہ کا مطلب یہی ہے کہ نصیحت کے ساتھ، سننے والے کو یہ محسوس ہو کہ یہ صاحب میرے ساتھ میری خیرخواہی میں بات کر رہے ہیں، میرے بھلے میں کر رہے ہیں، مجھے سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
والد صاحبؒ ایک مثال بھی دیا کرتے تھے۔ فرماتے تھے، دیکھو، بات کرنے میں، گفتگو کرنے میں، دعوت دینے میں، مباحثہ کرنے میں، قرآن پاک نے کونسا اسلوب بتایا ہے؟ فرماتے تھے، اللہ رب العزت نے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو فرعون کے پاس بھیجا۔ جانے والے داعی موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام ہیں۔ اور جس سے بات کرنی ہے وہ فرعون ہے، وقت کا سب سے بڑا متکبر آدمی، جو اپنے بارے میں کہتا تھا: ’’ما علمت لکم من الٰہ غیری‘‘ (القصص ۳۸)، ’’انا ربکم الاعلیٰ‘‘ (النازعات ۲۴)۔ دونوں بھائیوں کو اللہ پاک نے بھیجا: ’’اذھبا الیٰ فرعون انہ طغیٰ‘‘ (طہ ۴۳) فرعون سرکش ہو گیا ہے، آپ دونوں بھائی اس کے پاس جائیں، اس کو تبلیغ کریں، لیکن ’’قولا لہ قولا لینا‘‘ بات نرمی سے کرنا۔ یہ کس کو تلقین ہو رہی ہے؟ موسیٰ علیہ السلام کو اور ہارون علیہ السلام کو۔ اور کس سے بات کرنے کی؟ فرعون سے بات کرنے کی۔ ’’لعلہ یتذکر او یخشیٰ‘‘ شاید مان جائے، شاید سمجھ جائے، شاید اللہ سے ڈر جائے۔ اللہ کو تو پتہ تھا کہ نہیں مانے گا، اللہ سے زیادہ فرعون کو کون جانتا تھا؟ لیکن داعی کو یہ بات کہی جا رہی ہے کہ بھئی آپ نے بات اس نیت سے کرنی ہے کہ شاید مان جائے، شاید سمجھ جائے۔ یہ اللہ رب العزت نے موسیٰ علیہ السلام کو اور ہارون علیہ السلام کو فرعون کے پاس بھیجا۔ اُس وقت کی سب سے بہترین دو شخصیتوں کو اُس وقت کے متکبر ترین شخص کے پاس بھیجا اور ہدایت یہ دی ’’قولا لہ قولا لینا لعلہ یتذکر او یخشیٰ‘‘ (طہ ۴۴)۔
اس لیے میں یہ عرض کروں گا کہ لہجہ نرم ہو، الفاظ نرم ہوں، موقف مضبوط ہو۔ اس پر ایک بزرگ مجھے یاد آگئے۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ ہمارے اکابر میں سے تھے، اور میں نے جن بزرگوں سے تربیت حاصل کی ہے، ان میں سے ایک بزرگ وہ بھی ہیں، ان سے استفادہ کرنے کا موقع ملا ہے۔ وہ مثال دے کر بات کیا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ایک ہی بات مختلف لہجے میں کی جائے تو نتیجہ مختلف ہوتا ہے۔ انہوں نے مثال دی، فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی سے کہے کہ تمہارے والد صاحب میرے پاس تشریف لائے تھے، اس پر اس کا تاثر مختلف ہو گا۔ یہی بات اگر وہ اس لہجے میں کرے کہ تیرا باپ میرے پاس آیا تھا، اس کا تاثر مختلف ہو گا۔ اور یہی بات تیسرے لہجے میں کرے کہ تیری ماں کا خصم میرے پاس آیا تھا، تو وہ گریبان سے پکڑے گا اور الٹے ہاتھ کی منہ پہ مارے گا کہ کیا بکواس کر رہے ہو۔ جملے کا مطلب ایک ہی ہے، الفاظ مختلف ہیں۔ تو میں یہ بات عرض کر رہا ہوں کہ خطابت ہو یا مباحثہ ہو، گفتگو، لہجہ، زبان، اسلوب عمدہ ہو، اتنا عمدہ کہ قرآن پاک اسے ’’بالتی ھی احسن‘‘ کہہ رہا ہے۔ وقت کے بہترین اسلوب میں بات کرو تاکہ آپ اپنی بات سمجھا سکیں اور اپنی بات کا قائل کر سکیں۔ وہ قائل ہو یا نہ ہو، آپ کی نیت یہ ہو کہ یہ قائل ہو جائے۔
اس کے ساتھ مولانا سعید احمد شاہ کاظمی نے مجھے فرمایا ہے کہ اسلام کا نظام، اسلامی نظام کے معاشرے پہ اثرات، اور مختلف طبقات کے حوالے سے اسلام کیا سہولتیں دیتا ہے، اس پر بھی کچھ عرض کروں۔ یہ بہت لمبا موضوع ہے لیکن میں صرف آج کے حالات کے تناظر میں ایک دو باتیں عرض کروں گا۔
قرآن پاک میں اللہ رب العزت نے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اہلِ کتاب کے ساتھ مکالمے کی بات کی: ’’یا اھل الکتاب تعالوا الیٰ کلمۃ سوآء بیننا وبینکم الا نعبد الا اللہ ولا نشرک بہ شیئا ولا یتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللہ‘‘ (اٰل عمران ۶۴)۔ اہل کتاب کو، یہود و نصاریٰ کو دعوت دی تو اس کے اصول بتائے کہ ان کو دعوت دو ’’الیٰ کلمۃ سوآء بیننا وبینکم‘‘ پر۔ آج کی زبان میں اسے قدرِ مشترک کہتے ہیں۔ جو چیزیں ان کے اور ہمارے درمیان مشترک ہیں، ان پہ پہلے دعوت دو۔ اور قدرِ مشترک کی دو باتیں بیان کیں:
- ’’الا نشرک بہ شیئا‘‘ اللہ کے ساتھ شریک نہ کریں۔ آسمانی مذاہب، جن کی بنیاد کسی نہ کسی وحی پر ہے، توحید ان کے درمیان قدرِ مشترک ہے۔
- اور دوسری بات ’’ولا یتخذ بعضنا بعضاً اربابا من دون اللہ‘‘۔ انسان پر انسان کی خدائی نہیں، لوگوں پر لوگوں کی خدائی نہیں، اللہ کی خدائی پر۔ اسلام کے نظام کی بنیاد ہی یہ ہے۔ اللہ کے احکام جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے آئے ہیں، ان کو نافذ کرنا۔ اسلام میں حکمران حاکم نہیں کہلاتا، خلیفہ کہلاتا ہے۔ اور وہ خلیفہ ہے پیغمبر کا۔ پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو ہدایات دی ہیں ان کو نافذ کرنا، ان کا ماحول قائم کرنا، یہ خلافت کا موضوع ہے۔
اس پر بخاری شریف کی ایک روایت بھی عرض کرنا چاہوں گا۔ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ حاتم طائی کے بیٹے ہیں۔ حاتم طائی اپنے قبیلے سمیت عیسائی ہو گئے تھے۔ اس زمانے میں رائج الوقت مذہب عیسائیت تھا، کوئی حق قبول کرتا تو عیسائیت قبول کرتا تھا۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلانِ نبوت سے پہلے حق قبول کرنے کا مطلب عیسائیت قبول کرنا ہوتا تھا۔ حاتم طائی کا پورا قبیلہ عیسائی ہو گیا۔ حاتم طائی تو فوت ہو گئے تھے۔ عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کی بہن حضرت سفانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔ یہ وہی خاتون ہیں جن کے بارے میں ہمارے خطباء کرام ایک واقعہ بڑے تسلسل سے بیان کرتے ہیں کہ حضورؐ تشریف فرما تھے، ایک خاتون آئی، معزز خاتون تھی، ننگے سر تھی، حضورؐ نے اپنی چادر ان کے سر پہ دی۔ کسی نے پوچھا، یا رسول اللہ، یہ تو کافر کی بیٹی ہے۔ تو فرمایا بیٹی بیٹی ہوتی ہے خواہ کافر کی ہو۔ یہ سفانہؓ ہیں۔ جب یہ قیدی بن کے آئی تھیں بنو طے کے فتح ہونے کے بعد، عدیؓ اور سفانہؓ دونوں آئے تھے، تو سفانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سر پر حضورؐ نے چادر دی تھی۔
عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ عیسائی سے مسلمان ہوئے ، اور مسلمان ہو کر جب قرآن پاک پڑھا تو ایک آیت پر ان کا ذہن الجھ گیا۔ ’’اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ والمسیح ابن مریم‘‘ (التوبۃ ۳۱) کہ احبار اور رہبان کو انہوں نے خدا بنا لیا تھا۔ مسیح ابن مریم علیہا السلام کو تو بنایا ہی تھا، احبار اور رہبان یعنی علماء اور مشائخ کو بھی انہوں نے ارباب بنا لیا تھا، رب بنا لیا تھا۔ عدی بن حاتمؓ سوچ میں پڑ گئے کہ ہم تو اپنے احبار اور رہبان کو ارباب کا درجہ نہیں دیتے تھے۔ تو وہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے۔ بخاری کی روایت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنا اشکال پیش کیا کہ یا رسول اللہ قرآن پاک ہمارے بارے میں یہ کہتا ہے: ’’اتخذوا احبارھم و رھبانھم اربابا من دون اللہ والمسیح ابن مریم‘‘۔ ہم نے تو اپنے احبار اور رہبان کو کبھی ارباب کا درجہ نہیں دیا۔ تو یہ قرآن پاک نے ہمارے بارے میں کیا ارشاد فرما دیا ہے؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، کیا تمہارے ہاں احبار اور رہبان کو حلال حرام میں فیصلہ دینے کا حق تھا کہ حلال کو حرام قرار دے دیں اور حرام کو حلال قرار دے دیں؟ انہوں نے کہا، یا رسول اللہ، یہ تو تھا۔ فرمایا، یہی معنی ہے ’’اربابا من دون اللہ‘‘ کا۔ حلال حرام کی اتھارٹی اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں ہے۔ کسی اور کو اتھارٹی ماننا اُس کو رب ماننا ہے۔
جب قرآن پاک نے یہ کہا ’’ولا یتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللہ‘‘۔ قدرِ مشترک کیا ہے مسلمانوں اور اہلِ کتاب میں؟ پہلی بات کہ ’’الا نشرک بہ شیئا‘‘۔ دوسری بات ’’ولا یتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللہ‘‘۔ ایک دوسرے کو خدائی اختیارات یا حکمرانی کے اختیارات نہ دیے جائیں۔ یہ ہمارے درمیان قدرِ مشترک ہے۔
اور اسی وجہ سے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کا سیاسی نظام ایک حدیث میں دو جملوں میں ارشاد فرمایا ہے۔ بخاری کی روایت ہے۔ فرمایا ’’کانت بنو اسرائیل تسوسھم الانبیاء‘‘ بنی اسرائیل میں سیاسی قیادت انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کرتے تھے۔ ’’کلما ھلک نبی خلفہ نبی‘‘ ایک نبی فوت ہو جاتا تو دوسرا نبی آجاتا۔ نبوت جاری تھی، بھائی پیغمبر، باپ پیغمبر، بیٹا پیغمبر، بھتیجا پیغمبر، خسر پیغمبر، داماد پیغمبر، تسلسل جاری تھا، ایک پیغمبر جاتا تو دوسرا آجاتا۔ تو سیاست کی بنیاد پیغمبر کی وحی ہوتی تھی، پیغمبر کی تعلیمات ہوتی تھیں۔ ساتھ ہی فرمایا کہ ’’انہ لا نبی بعدی‘‘ میرے بعد نبی کوئی نہیں آئے گا۔ تو سوال یہ پیدا ہو گیا کہ سیاست کا نظام کیسے چلے گا؟ فرمایا ’’فسیکون بعدی خلفاء‘‘ میرے بعد خلفاء ہوں گے۔ یعنی حضورؐ اصول کا اعلان کر رہے ہیں کہ پہلے سیاست، حکمرانی، اجتماعی نظام نبوت کی بنیاد پہ چلا کرتا تھا، اب خلافت پر چلے گا۔
یہ خلافت کیا ہے؟ میں ایک بات کی وضاحت کرنا چاہوں گا کہ جو خلیفۃ المسلمین ہے وہ کس کا خلیفہ ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اللہ کا خلیفہ ہے۔ اللہ کا خلیفہ نہیں ہے، وہ رسول اللہ کا خلیفہ ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے، جہاں سے خلافت کا آغاز ہوا، اس سے پہلے تو نبوت کا سلسلہ تھا۔ خلافت کا آغاز یہاں سے ہوا تو ان کا ٹائٹل کیا تھا؟ ’’خلیفۃ رسول اللہ‘‘۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک موقع پر کہا گیا، قاضی ابویعلیٰ نے الاحکام السلطانیۃ میں یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک شخص آیا: ’’السلام علیک یا خلیفۃ اللہ‘‘۔ حضرت صدیق اکبرؓ سے کہا کہ اللہ کے خلیفہ، آپ کو سلام ہو۔ فرمایا، ’’لست بخلیفۃ اللہ، انا خلیفۃ رسول اللہ‘‘ میں اللہ کا خلیفہ نہیں ہوں بھئی، اللہ کے رسول کا خلیفہ ہوں۔ بہت بڑی بات فرمائی۔
اللہ کا خلیفہ پوپ تھا، پوپ کے پاس اسی لیے اختیارات بھی تھے۔ یا اگر ’’اللہ کا خلیفہ‘‘ کی اصطلاح پر کوئی پورا اترتا ہے تو وہ اہلِ تشیع کے امام ہیں، وہ چونکہ معصوم ہیں، اللہ کے نائب ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں جو خلافت کا تصور ہے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے شروع ہونے والی خلافت، وہ خلیفۃ اللہ نہیں ہے، وہ خلیفۃ رسول اللہ ہے۔ آپ خط و کتابت پڑھ لیں۔ وہ جب بھی اپنی طرف سے خط لکھتے تھے: ’’من خلیفۃ رسول اللہ‘‘۔ ان کو جو خطوط آتے تھے: ’’الیٰ خلیفۃ رسول اللہ‘‘۔
اس میں دلچسپ بات یہ ہوئی کہ ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ بنے تو ان کو لوگوں نے خطاب کرنا شروع کیا: ’’یا خلیفۃ خلیفۃ رسول اللہ‘‘۔ بعض خطوط بھی موجود ہیں اس پر، مکاتیب بھی۔ حضرت عمرؓ کو الجھن ہوتی تھی اس پر کہ تیسرے خلیفہ کا کیا بنے گا جو ’’خلیفۃ خلیفۃ خلیفۃ رسول اللہ‘‘ کہلائے گا اور آگے کیا سلسلہ چلے گا۔ تو ’’امیرالمؤمنین‘‘ کا لفظ سب سے پہلے بولا گیا ہے جب خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ مصر سے واپس آئے، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ہوئی تو ان میں سے کسی نے کہا، عمرو بن العاص یا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے: ’’السلام علیک یا امیر المؤمنین‘‘۔ حضرت عمرؓ چونکے۔ پہلی دفعہ کہا گیا تھا۔ پوچھا، کہا کہا؟ وہ پریشان ہو گئے۔ کہا، گھبراؤ نہیں، ٹھیک کہا تم نے۔ ’’یا امیر المؤمنین‘‘۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ہم مومنین ہیں، آپ ہمارے امیر ہیں۔ فرمایا، بس یہی کہا کرو آج کے بعد۔ چنانچہ اس وقت سے امیر المؤمنین کی اصطلاح چلی آ رہی ہے۔
تو میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ خلافت کا نظام اللہ کی خلافت یا حکمرانی کے اختیارات کے ساتھ نہیں، بلکہ رسول اللہ کی نیابت کے ساتھ ہے۔ چنانچہ فقہاء کرام نے خلافت کی جو تعریف کی ہے وہ بھی یہی کی ہے۔ خلافت کسے کہتے ہیں اور خلیفہ کسے کہتے ہیں؟ جو امت کے اجتماعی نظام کو سنبھالے ’’نیابتاً عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘۔ خلافت کی تعریف میں بھی فقہاء نے یہ جملہ شامل کیا ہے۔ ہمارے ہاں حکمران حاکم نہیں ہے، خلیفہ ہے۔ خلیفہ کس کا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور پابند ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا۔ قرآن پاک کا بھی اور سنت کا بھی۔
اس حوالہ سے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بات نقل کرنا چاہوں گا کہ نظام کیسے چلتا ہے۔ بخاری شریف کی روایت ہے، آپ نے کئی بار پڑھی ہو گی، کئی بار بیان کی ہو گی، جہاں فاطمہ مخزومیہؓ کا ذکر ہے۔ بنو مخزوم کی فاطمہؓ۔ ان سے چوری ہو گئی، مقدمہ چلا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوئے، بات ثابت ہو گئی۔ حضورؐ نے فرمایا، چور کی سزا ’’والسارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیھما‘‘ ہاتھ کاٹنا ہے، ہاتھ کٹے گا۔ قبیلہ پریشان ہو گیا۔
یہاں ایک لطیفہ بھی عرض کروں گا۔ ہمارے دور کے ایک بڑے متجدد تھے، فوت ہو گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ علماء کرام کو اس کا معنی سمجھنے میں غلطی لگی ہے۔ قرآن پاک کے الفاظ یہی ہیں، معنی وہ نہیں جو مولوی صاحبان کرتے ہیں۔ ہاتھ کاٹنے سے مراد فزیکلی ہاتھ کاٹنا نہیں۔ ہمارے ہاں یہ محاورہ ہے کہ جب آدمی کوئی فیصلہ کر لیتا ہے اور نظرثانی نہیں کر سکتا تو کہتا ہے میں نے تو ہاتھ کاٹ کے دے دیے بھئی، میں تو فیصلہ کر چکا، میں اس پہ نظرثانی نہیں کر سکتا۔ تو یہ قرآن پاک نے محاورے کے طور پہ ’’فاقطعوا ایدیھما‘‘ (المائدۃ ۳۸) فرمایا ہے اور اس کا معنی ہاتھ کاٹنا نہیں بلکہ اس کو پابند کر دینا ہے کہ وہ آزادانہ عمل نہ کر سکے، کوئی کام نہ کر سکے، یعنی جیل میں ڈال دینا ہے۔ یہ ایک صاحب نے لکھا جو اب فوت ہو چکے ہیں۔
میں نے اس پر لکھا، میں نے کہا میرے بھائی! اگر یہ مغالطہ ہے تو سب سے پہلے کس مولوی صاحب کو لگا تھا؟ ’’فاقطعوا ایدیھما‘‘ کا معنی فزیکل ہاتھ کاٹنا نہیں اور محاورتاً اس کو کام سے روک دینا ہے، جیل میں ڈال دینا ہے، چلو مان لیتے ہیں مولوی صاحبان کو مغالطہ لگا ہے، تو سب سے پہلے کس مولوی صاحب کو لگا تھا، جس نے ہاتھ کاٹے تھے؟ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو؟ انہوں نے صرف آیت نہیں سنائی بلکہ ہاتھ کاٹ کے عمل کا طریقہ بھی بتا دیا کہ یہ طریقہ ہے آیت پر عمل کرنے کا۔
فاطمہ مخزومیہ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاتھ کٹے گا۔ قبیلہ پریشان ہو گیا کہ اس کا ہاتھ کٹے گا تو قبیلے کی ناک کٹ جائے گی۔ یہ ہوتا ہے قبائل میں کہ قبیلے کی ایک خاتون کا ہاتھ کٹے گا تو قبیلے کی ناک کٹ جائے گی۔ سفارشی تلاش کیا۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو سفارشی بنایا۔ پورا واقعہ بخاری میں ہے، آپ وہاں پڑھ لیں۔ انہوں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سفارش کی۔ حضورؐ پہلے تو ان پہ غصے ہوئے ’’اتشفع فی حد من حدود اللہ؟‘‘ اللہ کی حدود میں سفارش کرتے ہو؟ ڈانٹ دیا۔ اور پھر مسجد میں جا کر اجتماع سے خطاب فرمایا اور یہ اصول بیان فرمایا کہ ’’انما ھلک من کان قبلکم‘‘ تم سے پہلی امتوں کی بربادی کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ قانون کا نفاذ یکساں نہیں ہوتا تھا۔ امیر آدمی چوری کرتا تو کسی نہ کسی بہانے اسے چھوڑ دیتے تھے، اور غریب آدمی چوری کرتا تو اس کو سزا دیتے تھے۔ یعنی قانون کا نفاذ یکساں نہیں تھا۔ جن کی پہنچ ہے وہ قانون سے بچ جاتے تھے۔ جن کی پہنچ نہیں ہے وہ قانون کی زد میں آجاتے تھے۔ فرمایا، یہ بات امتوں کی ہلاکت کا سبب بنی ہے۔ یہ بات پہلی امتوں کی بربادی کا سبب بنی ہے۔ اس لیے قانون کا نفاذ یکساں کرو۔ اس موقع پر یہ تاریخی جملہ فرمایا تھا کہ یہ تو بنو مخزوم کی فاطمہ ہے، اگر میری بیٹی فاطمہؓ بھی خدانخواستہ چوری کرے تو ’’لقطعت یدھا‘‘ میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دوں گا۔
تو یہاں میں اسلامی نظام کی دو بنیادیں عرض کر رہا ہوں:
- ایک بات یہ کہ اسلام کے نظام کی بنیاد انسان پر انسان کی حکمرانی کی نہیں ہے۔ اسلام میں حاکم حکومت نہیں کرتا، خلافت کرتا ہے، نیابت کرتا ہے۔ نیابت کس کی کرتا ہے؟ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت کرتا ہے، جو حضورؐ نے فرمایا، اس کا پابند ہے۔ اس پر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خلیفہ بننے کے بعد جو پہلا خطبہ ارشاد فرمایا تھا، اس کا ایک جملہ نقل کرنا چاہوں گا۔ فرمایا، میں تم پہ حکمران بنا دیا گیا ہوں، تم میں سے بہتر نہیں ہوں (ان سے بہتر کون تھا، لیکن یہ فرمایا)۔ فرمایا کہ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ ’’اقودکم بکتاب اللہ وسنۃ نبیہ‘‘ میں تمہیں کتاب اللہ کے مطابق چلاؤں گا، سنتِ نبیؐ کے مطابق چلاؤں گا۔ اگر صحیح چلاؤں تو ساتھ دو، اور اگر میں اس کے خلاف چلوں تو مجھے سیدھا کر دو۔ یہ نہیں کہا کہ مجھے بتا دو ’’فقومونی‘‘ مجھے سیدھا کر دو۔ یعنی حکمران کا محاسبہ، خلیفہ کا محاسبہ عوام کر سکتی ہے، اپنے وقت کی ضروریات اور معمولات کے مطابق۔ تو ایک بات یہ کہ ہمارے ہاں حکومت حکمرانی کا نام نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت کا نام ہے۔
- اور دوسری بات یہ کہ قانون کی یکساں حکمرانی۔ قانون کے نفاذ میں فرق ہو گا تو معاشرہ تباہ ہو گا، فساد ہو گا۔ آج کل ہم انہی حالات کا شکار ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اپنے نظام کو سمجھنے کی، اس کا رخ صحیح کرنے کی، اور پرانی روایات کو دوبارہ زندہ کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ مولانا سعید احمد کاظمی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یہ چند باتیں میں نے عرض کی ہیں، اسی پہ اکتفا کرتا ہوں۔ دعا فرمائیں، اللہ رب العزت ہم سب کو اپنے اپنے دائرے میں صحیح طور پر دین کی دعوت اور دفاع، جو بھی ہم کر سکتے ہیں، وہ کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

