(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
ہمارے افغانستان کے مظلوم مسلمان بھائی مسلسل آزمائش میں ہیں، مسلسل ابتلا میں ہیں، ان کا پوری دنیا نے بائیکاٹ صرف اس جرم میں کر رکھا ہے کہ وہ کہتے ہیں: ہم اسلام نافذ کر رہے ہیں، قرآن کریم کے احکامات پر عمل کر رہے ہیں۔
اور جو احکامات ہم قرآن و حدیث کی کتابوں میں پڑھتے ہیں وہ اگر دنیا میں کہیں نافذ ہیں تو وہ کابل میں ہیں، افغانستان میں ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں استقامت نصیب فرمائے۔ اب پھر ان پر پابندیاں سخت کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ نے وہاں مانیٹرنگ ٹیمیں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں اس سلسلہ میں دو باتیں عرض کرنا چاہوں گا:
(۱) پہلی یہ کہ اقوامِ متحدہ کی دوغلی پالیسی اور منافقت دیکھیں، اسی سے پتہ چلتا ہے کہ اقوامِ متحدہ کا یہ ادارہ دراصل کن طاقتوں کے زیرِ اثر ہے، کہ اسرائیل گزشتہ پچاس سال سے اقوامِ متحدہ کے فیصلوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے، اقوامِ متحدہ قراردادیں پاس کرتی ہے جس پر اسرائیل کہتا ہے کہ میں ان قراردادوں کو نہیں مانتا۔ آپ نے کبھی سنا ہو کہ اقوامِ متحدہ کی کوئی ایک مانیٹرنگ ٹیم اسرائیل گئی ہو، یہ دیکھنے کے لیے کہ اسرائیل اقوامِ متحدہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کر رہا ہے یا نہیں؟ اقوامِ متحدہ اسرائیل میں مانیٹرنگ کیوں نہیں بھیجتا اور افغانستان کیوں بھیج رہا ہے؟ طالبان اگر اقوامِ متحدہ کے فیصلے نہیں مانتے، ٹھیک ہے، لیکن اسرائیل بھی تو نہیں مانتا۔ کیا انڈیا نے اقوامِ متحدہ کی قراردادیں مانیں؟ وہاں مانیٹرنگ ٹیمیں کیوں نہیں بھیجیں اور یہاں کیوں بھیج رہے ہیں؟
یہ جانبداری ہے، ظلم ہے، نا انصافی ہے اور اسلام دشمنی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے افغان بھائیوں کو استقامت نصیب فرمائے، یہ نیک لوگ ہیں، مخلص ہیں، سادہ ہیں، ایک آزمائش میں مبتلا ہیں۔ جہاں بھی موقع ملا آپ حضرات ان کی حمایت بھی کریں اور ان کی امداد بھی کریں۔ مسلمان بھائی آزمائش میں ہوں تو ان کی مدد کرنا بھی بہت بڑے اجر و ثواب کی بات ہے۔ یہ لوگ ہمارے مسلمان بھائی بھی ہیں، ہمارے پڑوسی بھی ہیں اور ہمارے محسن بھی ہیں۔ یہ لوگ اگر روس کے خلاف ڈٹ نہ گئے ہوتے تو روس آج کراچی میں بیٹھا ہوتا۔ اگر افغانستان کے لوگ پندرہ لاکھ افراد کی قربانی نہ دیتے تو روس گرم پانیوں تک رسائی کے لیے گوادر تک پہنچا ہوتا۔ یہ لوگ ہمارے محسن بھی ہیں۔
(۲) دوسری بات جو ہماری سمجھ سے بالاتر ہے وہ یہ کہ ہمارے وزارتِ خارجہ نے ایک بات کہی ہے کہ اقوامِ متحدہ کی جو یہ ٹیمیں آرہی ہیں یہ ہماری خود مختاری میں مداخلت ہیں، لیکن ہم قبول کرتے ہیں۔ کبھی کوئی زندہ اور آزاد قوم خود مختاری میں مداخلت قبول کرتی ہے؟ کیا ہم بحیثیت قوم اپنی خود مختاری سے دستبردار ہوگئے ہیں؟ خدا کے لیے کچھ عقل سے کام لو، تم امریکہ کے سامنے کتنا بھی جھکو، قرآن کریم کا یہ فیصلہ یاد رکھو ’’ولن ترضٰی عنک الیھود ولا النصاریٰ حتّٰی تتبع ملتھم‘‘ (البقرۃ ۱۲۰) کہ ان یہودیوں اور عیسائیوں کو خوش کرنے کی کوشش کرو گے تو یہ تم سے اس وقت تک خوش نہیں ہوں گے جب تک تم اپنا دین بدل کر ان کے دین میں شامل نہ ہو جاؤ۔ قرآن کریم نے تو آج سے چودہ سو سال پہلے کہہ دیا تھا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کو کبھی خوش کرنے کی کوشش نہ کرنا، یہ تم سے اس وقت تک راضی نہیں ہوں گے جب تک تم اپنا مذہب چھوڑ کر ان کا مذہب قبول نہ کر لو گے۔
میں اپنے حکمرانوں سے صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ امریکہ کو راضی کرنے کے لیے آگے کہاں تک جانا چاہتے ہو؟ کہیں ایک حد تو مقرر کرو۔ تمہارے لیے بہتر ہے کہ تم اپنے خالق کو، اپنے خدا کو راضی کرنے کی کوشش کرو، اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی بات کرو، اللہ کے پیغمبر جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کرنے کی بات کرو، اسلام کے ساتھ وابستگی اختیار کرو، اس کا سوا تمہارے پاس بھی امریکہ اور اس کے حواریوں سے نجات کا راستہ نہیں ہے۔

