عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ’’آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس‘‘ کا یہ نمائندہ دینی و قومی اجتماع وطنِ عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کو درپیش سیاسی، انتظامی، معاشی، دینی و تہذیبی مسائل و مشکلات پر شدید اضطراب اور بے چینی کا اظہار کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ قومی معاملات میں مسلسل بیرونی دخل اندازی اور دستور و شریعت کے ناگزیر تقاضوں سے صَرفِ نظر کا یہ منطقی نتیجہ ہے جو موجودہ قومی خلفشار اور مختلف النوع بحرانوں کی صورت میں پاکستانی قوم کے لیے وبالِ جان بنتا جا رہا ہے۔ جبکہ آج بھی اس دلدل سے نکلنے کا واحد راستہ بیرونی مداخلت سے آزاد قومی خودمختاری کی بحالی اور دستور و شریعت کی بالادستی میں ہے جو قوم کے تمام طبقات، سیاسی و دینی حلقوں اور تمام ریاستی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور یہ نمائندہ قومی و دینی اجتماع ان قومی مقاصد کے حصول کے لیے عزمِ نو اور ہمہ گیر قومی جدوجہد کو وقت کی اہم ضرورت سمجھتا ہے۔ بالخصوص اسلامی جمہوریہ پاکستان کی نظریاتی و تہذیبی شناخت کا تحفظ اور دستور کے مطابق ملی مسائل مثلاً دستور کی اسلامی دفعات کی عملداری، عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ، ناموس رسالت کی پاسداری اور شرعی قوانین و روایات کے تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے تمام دینی و سیاسی حلقوں، قومی طبقات اور ریاستی اداروں کا کردار ضروری ہے۔
اس سلسلہ میں بین الاقوامی اداروں اور طاقتوں کی طرف سے پاکستان کے دستور و قانون کے بارے میں یکطرفہ موقف کا بار بار اظہار اور اس کے لیے سیاسی، معاشی اور دیگر نوعیت کا بیرونی دباؤ پاکستانی قوم کے عقیدہ و ایمان اور حمیت و غیرت کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے اور قومی اداروں کا اس دباؤ سے مرعوب ہو کر ختم نبوت، ناموس رسالت، شرعی قوانین اور تہذیبی روایات کے بارے میں اپنے فیصلوں میں ابہام پیدا کرنا قومی تقاضوں کے یکسر منافی ہے جس کا پوری قوم کو متحد ہو کر سامنا کرنا ہو گا۔
اس کی تازہ ترین مثال مبارک ثانی کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے جس میں ملی تقاضوں اور قومی خدمات و احساسات کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے شہری حقوق کے نام سے قادیانیوں کے لیے سہولت کاری کا ماحول پیدا کیا گیا ہے۔ حالانکہ قادیانیوں نے دستور و قانون کے فیصلوں کو تسلیم کرنے سے مسلسل انکار کر رکھا ہے جو بجائے خود دستور کی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے اور اس کا نوٹس لینا اعلیٰ عدالتوں کی بہرحال ذمہ داری ہے۔
چنانچہ یہ اجتماع عدالتِ عظمیٰ کے مذکورہ فیصلہ کو مبہم قرار دیتے ہوئے مسترد کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ اس فیصلہ پر ازسرنو نظرثانی کر کے دینی و قومی تقاضوں اور دستور و قانون کے فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور قادیانیوں کو دستور و قانون کا پابند بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کا اہتمام کیا جائے۔
یہ اجتماع تمام دینی و سیاسی جماعتوں، قومی پارلیمنٹ اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے پیدا کیے جانے والے ابہامات اور کنفیوژنز کا فوری نوٹس لے کر ملک کی اسلامی شناخت اور مسلم امت کے عقیدہ و جذبات کی پاسداری میں اپنا کردار ادا کریں۔

