گوجرانوالہ میں خاتون صوبائی وزیر کا قتل

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مارچ ۲۰۰۷ء

گزشتہ دنوں گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون صوبائی وزیر مسز ظل ہما عثمان کو کھلی کچہری کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ قاتل گوجرانوالہ کا شہری ہے جو اس سے قبل بھی متعدد خواتین کو بدکاری کے الزام کے حوالہ سے قتل کر چکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس نے خاتون صوبائی وزیر کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قتل کیا ہے کیونکہ وہ بے پردہ پھرتی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ عورت کی حکمرانی کو بھی شرعاً جائز نہیں سمجھتا۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اسلام عورت کو حکمرانی کے نظام میں شریک نہیں کرتا اور عورتوں کو بے پردہ نہیں پھرنا چاہیے، ہمیں اس بات سے اختلاف نہیں ہے کہ اس سلسلہ میں اسلامی تعلیمات کو عام کرنے اور تمام متعلقہ افراد کو اس کی تلقین کرنے کی ضرورت ہے اور یہ بات امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے زمرہ میں شمار ہوتی ہے۔ لیکن کیا اس کے لیے کسی کو قتل کرنا، قانون کو ہاتھ میں لینا، ہتھیار اٹھانا اور کسی کی جان کو خطرہ میں ڈالنا بھی شرعاً درست ہے؟ اس کی کسی طرح بھی تائید نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی اسلامی شریعت اس کی اجازت دیتی ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر شرعی احکام میں سے ہے لیکن اس کی حدود اور طریق کار بھی شرعی طور پر واضح ہیں، کوئی شخص اگر اس سے ہٹ کر اسلام کے نام پر ہتھیار اٹھاتا ہے اور قانون کو ہاتھ میں لیتا ہے تو یہ اس کا جنون ہے جسے نفسیاتی مرض سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے ہم محترمہ ظل ہما عثمان کے افسوسناک قتل کی مذمت کرتے ہیں اور اسلام کے نام پر کیے جانے والے اس قتل سے براءت کا اظہار ضروری سمجھتے ہیں۔ البتہ حکومت پاکستان کو اس حوالہ سے دو باتوں کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتے ہیں۔

پہلی بات یہ کہ ایک جنونی قاتل مبینہ طور پر چار عورتوں کو قتل کرنے اور دو عورتوں کو قتل کرنے کی کوشش کے بعد بھی آزاد پھرتا ہے اور ایک صوبائی وزیر کو قتل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اس قتل کی ذمہ داری اس ناکام قانونی نظام پر بھی عائد ہوتی ہے جو نوآبادیاتی دور کی یادگار کے طور پر ہمارے ملک میں مسلسل قائم ہے، جب تک یہ نظام موجود ہے قتل اسی طرح ہوتے رہیں گے، اس لیے حکمرانوں کو اس حوالہ سے سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔

دوسری بات یہ ہے کہ جس طرح ملک میں مغربی ثقافت کو سرکاری ذرائع اور ریاستی وسائل کے ذریعے فروغ دیا جا رہا ہے، اسلامی احکام و قوانین کا راستہ روکا جا رہا ہے، روشن خیال حکومت خود اس سلسلہ میں مغربی ثقافت کے حق میں کھلم کھلا فریق بن گئی اور اسلامی احکام و قوانین کی خلاف ورزی کے دستوری راستے کھولے جا رہے ہیں، اس کے بعد اس قسم کی انتہا پسندی کو جنم لینے سے آخر کیسے روکا جا سکتا ہے؟ ہم اس انتہا پسندی کی حمایت نہیں کرتے اور قانون کو ہاتھ میں لینے اور لوگوں کی جان و مال کو خطرہ میں ڈالنے کی مذمت کرتے ہیں لیکن اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ جب اسلامی تعلیمات پر عملداری کا قانونی اور دستوری راستہ روکا جائے گا اور دستوری ادارے اسلامی تعلیمات کے فروغ میں خود رکاوٹ بن جائیں گے تو پھر اسی قسم کے جنونی پیدا ہوتے رہیں گے اور اسلام کے بارے میں حکومت کے منفی طرز عمل کے ردعمل کو روکنا مشکل ہوتا جائے گا۔