فوجی افسران کی گرفتاری اور سرکاری موقف

   
دسمبر ۱۹۹۵ء

پاک فوج کے بعض افسروں کی گرفتاری کے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد وزیراعظم اور وزیر دفاع کے بیانات نے اس سلسلہ میں ملکی اور عالمی سطح پر ہونے والی بحث کو ایک نیا رخ دے دیا ہے اور حکومت کی مسلسل خاموشی سے پیدا ہونے والے شکوک و خدشات ختم ہونے کی بجائے مزید سوالات و شبہات کو جنم دینے کا باعث بن گئے ہیں۔ میجر جنرل ظہیر الاسلام اور بریگیڈیر مستنصر باللہ سمیت دو درجن کے لگ بھگ افراد اس وقت زیرحراست ہیں جن میں فوجی افسران کے علاوہ بعض علماء کرام بھی شامل ہیں۔ ان گرفتاریوں کے بارے میں مختلف حلقوں کی طرف سے جو قیاس آرائیاں اب تک سامنے آئی ہیں وہ کچھ اس طرح ہیں کہ:

  • آنریبل امریکہ بہادر پاکستان کی مسلح افواج میں تخفیف، عسکری استعداد کی تحدید اور نظریاتی رجحانات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک عرصہ سے سرکاری طور پر باضابطہ دباؤ ڈال رہا ہے جبکہ ہمارے حکمران بھی امریکہ کو خوش رکھنے اور اسے اپنی وفاداری کا یقین دلانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ اس پس منظر میں یہ کاروائی پاک فوج کو اسلام اور پاکستان کے ساتھ نظریاتی وابستگی رکھنے والے افسروں سے صاف کرنے کے لیے عمل میں لائی گئی محسوس ہوتی ہے اور اس قسم کی منصوبہ بندی امریکہ کے خفیہ اداروں کے لیے کوئی مشکل بات نہیں ہے۔
  • پاک فوج کے یہ افسر مسئلہ کشمیر کے بارے میں موجودہ حکومت کی پالیسیوں سے مطمئن نہیں تھے اور کشمیریوں کی جنگ آزادی کو آنریبل امریکہ بہادر کی خواہشات و مفادات کی بھینٹ چڑھانے کی ان افواہوں پر مضطرب تھے جو اس وقت بین الاقوامی پریس کے ذریعے سامنے آرہی ہیں، اس لیے انہوں نے مجاہدین کشمیر کو سرکاری پالیسی سے ہٹ کر اپنے طور پر اسلحہ سپلائی کرنے اور سپورٹ دینے کے لیے ڈسپلن کی پروا نہیں کی اور وہ ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پکڑے گئے۔
  • پاک فوج کے داخلی ڈسپلن اور مصلحتوں کے تحت ان افسروں کو وہ ترقی نہیں ملی جس کی وہ توقع کر رہے تھے، اس لیے انہوں نے انتقامی طور پر بغاوت کی منصوبہ بندی کی۔

یہ تو وہ قیاس آرائیاں ہیں جو مختلف حلقوں کی طرف سے ملکی اور بین الاقوامی پریس کے ذریعے سامنے آئی ہیں، لیکن وزیر دفاع جناب آفتاب شعبان میرانی نے سینٹ میں سینیٹر حافظ حسین احمد کے سوال پر سرکاری پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے جو کچھ کہا ہے اور بعد میں وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی سینٹروں کے اعزاز میں دی گئی ایک دعوت میں گفتگو کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ:

’’یہ افسر ملک میں اسلامی انقلاب لانے کی سازش کر رہے تھے، انہوں نے کور کمانڈرز کی میٹنگ میں فوجی قیادت کو اور بعد میں صدر اور وزیراعظم کو قتل کر کے اقتدار پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور ملک میں نافذ کرنے کے لیے ’’خودساختہ شریعت‘‘ کا مسودہ بھی تیار کر لیا تھا۔‘‘

لیکن وزیردفاع نے ملک میں ’’مسلح اسلامی انقلاب‘‘ اور ’’اقتدار پر قبضہ‘‘ کی منصوبہ بندی کرنے والے افسروں سے جس اسلحہ کی برآمدگی ظاہر کی ہے وہ کسی کالج کے ہاسٹل پر قبضہ کرنے کے لیے بھی ناکافی ہے جبکہ وزیردفاع کا اصرار ہے کہ یہ افسران اس اسلحہ کے ذریعے ملک کی فوجی اور سیاسی قیادت کا صفایا کرنا چاہتے تھے۔ وزیردفاع کا کہنا ہے کہ ان افسروں پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا اور انہیں سزا ملے گی۔

جہاں تک فوجی عدالت میں مقدمہ کا تعلق ہے وہ فوج کا داخلی معاملہ ہے اور ہم اس کے بارے میں کوئی رائے نہیں دینا چاہتے۔ لیکن اسلام، کشمیر اور آنریبل امریکہ بہادر کا حوالہ سامنے آجانے کے بعد مجموعی تناظر میں یہ مسئلہ فوج کا داخلی مسئلہ نہیں رہا بلکہ پوری قوم کے جذبات و احساسات اس سے وابستہ ہوگئے ہیں اور وہ بجا طور پر حقائق سے براہ راست واقف ہونا چاہتی ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے زیادہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان فوجی افسران کی گرفتاری کے بعد قیاس آرائیوں یا سرکاری موقف کی صورت میں ان کے بارے میں جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ سب یکطرفہ ہے اور اس سلسلہ میں ان کا اپنا موقف نہ اس وقت تک سامنے آیا ہے اور نہ موجودہ حالات میں اس کے سامنے آنے کی کوئی قابل اعتماد صورت موجود ہے۔ گرفتارشدگان کے بارے میں یکطرفہ اظہار رائے اور قیاس آرائیاں اس وقت اور زیادہ ذہنی الجھن کا باعث بن جاتی ہیں جب یہ بات سامنے آتی ہے کہ گرفتار فوجی افسران دینی رجحانات کے حامل اور محب وطن افراد ہیں۔ بالخصوص میجر جنرل ظہیر الاسلام وہ افسر ہیں جنہیں دہلی کے پاکستانی سفارت خانہ میں ڈیوٹی کے دوران بھارتی حکومت نے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر وہاں سے نکال دیا تھا، ان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے پاکستان پر بھارتی حملہ کا منصوبہ قبل از وقت معلوم کر کے اس کی ساری تفصیلات پاکستان بھجوا دی تھیں اور پاکستان اس کی وجہ سے بھارتی جارحیت کا شکار ہونے سے بچ گیا تھا۔ جبکہ بریگیڈیر مستنصر باللہ کے بارے میں یہ بات ریکارڈ پر آچکی ہے کہ انہوں نے مجاہدین کشمیر کی امداد کے لیے اپنا ذاتی پلاٹ فروخت کر کے دس لاکھ روپیہ کا عطیہ کچھ عرصہ قبل دیا تھا۔

پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اسلحہ کی جو مقدار اور انقلاب کی منصوبہ بندی ان افسروں سے منسوب کی جا رہی ہے اگر وہ واقعی درست ہے تو پھر ان افسروں کی انکوائری سے زیادہ پاک فوج کے اس سسٹم کا ازسرنو جائزہ لینا ضروری ہو جائے گا جس کے تحت یہ افراد کرنل، بریگیڈیر اور میجر جنرل جیسے مناصب تک پہنچ گئے ہیں۔ کیونکہ اس طرح کی بچگانہ منصوبہ بندی کی توقع تو کسی کالج کے ان کھلنڈرے نوجوانوں سے بھی نہیں کی جا سکتی جو کوئی جاسوسی ناول پڑھ کر یا جاسوسی فلم دیکھ کر اپنے مخالفوں کے کیمپ پر قبضے کے منصوبے بنانے بیٹھ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے بیشتر دینی حلقوں کے ساتھ ساتھ سینٹ اور قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈروں نے بھی سرکاری موقف کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ چنانچہ نوائے وقت لاہور ۲۱ نومبر ۱۹۹۵ء کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمد نواز شریف نے پشاور میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے گرفتار فوجی افسران کے بارے میں سرکاری موقف کو جھوٹ پر مبنی قرار دیا ہے۔ جبکہ ۱۵ نومبر کو سینٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر راجہ محمد ظفر الحق نے اس سلسلہ میں سرکاری موقف کو مسترد کرتے ہوئے گرفتار فوجی افسران کے خلاف کھلی عدالت میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

الغرض گرفتار فوجی افسران کے بارے میں وزیراعظم اور وزیر دفاع کے بیانات نے شکوک و شبہات کا ازالہ کرنے کی بجائے معاملہ کو مزید الجھا دیا ہے اور گرفتارشدگان کا موقف سامنے آئے بغیر ان کے بارے میں یکطرفہ قیاس آرائیوں اور بیانات نے انصاف کی رہی سہی توقعات کو بھی دھندلا کر رکھ دیا ہے۔ ان حالات میں انصاف کے مسلمہ تقاضوں کو پورا کرنے اور ملکی و عالمی رائے عامہ کو مطمئن کرنے کی اس کے سوا کوئی صورت باقی نہیں رہ جاتی کہ گرفتارشدہ فوجی افسران کو اپنا موقف اور پوزیشن واضح کرنے کے لیے ذرائع ابلاغ تک رسائی کے مواقع فراہم کیے جائیں، اور ان پر مقدمہ بے شک فوجی عدالت میں چلایا جائے لیکن ملک کے شہریوں اور اخبارات کے نمائندوں کو عدالتی کاروائی سننے اور اس سے رائے عامہ کو باخبر رکھنے کی اجازت دی جائے۔ ورنہ یکطرفہ پراپیگنڈا اور کسی بند عدالت کی کاروائی سے حکومت وقتی مقاصد حاصل کرنے میں تو شاید کامیاب ہو جائے لیکن ایسی کوئی کاروائی انصاف اور اخلاق کی عدالت سے جواز کی سند حاصل نہیں کر پائے گی۔

مصری سفارت خانہ میں دھماکہ

گزشتہ دنوں اسلام آباد میں مصری سفارت خانہ میں بم کے دو دھماکوں میں ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ افراد جاں بحق ہوگئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ مصر کی بعض تنظیموں نے اس کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا ہے، اور مصر میں حکومت اور دینی حلقوں کے درمیان جو کشمکش ایک عرصہ سے چلی آرہی ہے اس کے پیش نظر اس قسم کے دھماکے غیر متوقع نہیں ہیں۔

جہاں تک بم دھماکے کا تعلق ہے ہر ذی شعور اس کی مذمت کرے گا اور اس قسم کی وارداتیں مذمت ہی کی مستحق ہیں، لیکن اس کی آڑ میں پاکستان بھر میں علماء اور دینی کارکنوں کے خلاف وسیع پیمانے پر جن کاروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے اور وزیر داخلہ ریٹائرڈ بریگیڈیر نصیر اللہ بابر جس جارحانہ انداز میں رائے ونڈ کے تبلیغی اجتماع، دینی مدارس اور اسلام آباد کی بین الاقوامی یونیورسٹی کی کردار کشی کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں وہ دینی حلقوں کو بہرصورت دبانے کی حکومتی خواہش کا آئینہ دار ہے۔

آنریبل امریکہ بہادر اور اس کی بہی خواہ بہت سی مسلم حکومتیں بلاشبہ عالم اسلام کے دینی حلقوں کی سرگرمیوں سے پریشان ہیں اور انہیں کنٹرول کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہیں لیکن تاریخ کے دھارے کا رخ موڑنا کسی کے بس کی بات نہیں ہوتا، خدا کرے کہ یہ بات جلد ان کی سمجھ میں آجائے۔

   
2016ء سے
Flag Counter