منصب رسالتؐ — دین کے تمام شعبوں کی اتھارٹی

   
تاریخ: 
۱۸ مارچ ۲۰۱۲ء

(۱۸ مارچ ۲۰۱۲ء کو پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہ علوم اسلامی میں سیرت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت شعبہ کے ڈین پروفیسر حافظ ڈاکٹر محمود اختر نے کی جب کہ مولانا زاہد الراشدی مہمان خصوصی تھے اور پروفیسر ڈاکٹر سعد صدیقی نے نقابت کے فرائض سر انجام دیے۔ مولانا زاہد الراشدی کے خطاب کا خلاصہ درج ذیل ہے۔ ادارہ نصرۃ العلوم)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کی اس کانفرنس کا موضوع سیرت النبیؐ ہے اور جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب رسالت کو گفتگو کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ سیرت نبوی کے ہزاروں پہلو ہیں جو گفتگو کے لیے توجہ کو کھینچتے ہیں اور منصب کے بھی بیسیوں پہلو ایسے ہیں جن پر گفتگو کی جا سکتی ہے اور جن پر گفتگو کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، لیکن میں منصب کو ’’اتھارٹی‘‘ کے مفہوم پر فوکس کرتے ہوئے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ جناب نبی اکرمؐ دین کے تمام شعبوں میں فائنل اتھارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں اور اسے چند مثالوں کے ذریعے واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔

ہمارا ایمان ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے جو رسول اکرمؐ پر نازل ہوا اور قیامت تک نسل انسانی کی ہدایت اور راہنمائی اس سے وابستہ ہے۔ جبکہ قرآن کریم تک ہماری رسائی کا ذریعہ نبی کریمؐ کی ذات گرامی ہے اور آنحضرتؐ کی وساطت کے بغیر نہ ہم قرآن کریم کے الفاظ تک پہنچ سکتے ہیں، نہ اس کی ترتیب و جمع تک ہماری رسائی ممکن ہے، اور نہ ہی اس کے مفہوم اور اس کے الفاظ اور جملوں سے اللہ تعالیٰ کی منشا و مراد کو معلوم کر لینا رسول اللہ سے راہنمائی حاصل کیے بغیر ہمارے بس میں ہے۔ مثلاً ہم یہ بات مانتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن کریم کی سب سے پہلے آیات جو نازل ہوئیں وہ سورہ العلق کی پہلی پانچ آیات ہیں، لیکن یہ بات معلوم ہونے کا واحد ذریعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے کہ آپؐ نے ہمیں یہ واقعہ بتایا اور اپنے غار حراء میں عبادت کے لیے جانے کی تفصیلات بتاتے ہوئے فرمایا کہ غار میں فرشتہ آیا تھا اور اس نے مجھے یہ پانچ آیات سنائیں اور پڑھنے کے لیے کہا۔ اگر غار حراء کے واقعہ کو نہ مانا جائے اور اس پر یقین نہ ہو تو ان پہلی پانچ آیات تک ہماری رسائی ممکن نہیں ہے اور نہ ہی غار حراء کے واقعہ اور جناب نبی اکرمؐ کی بیان کردہ تفصیلات کو تسلیم کیے بغیر ہم ان آیات پر ایمان لا سکتے ہیں۔

اسی طرح ہمارا ایمان ہے کہ اس وقت ہمارے سامنے جو قرآن کریم مصحف عثمانی کی صورت میں موجود ہے اور جسے دنیا بھر کے مسلمان پڑھتے ہیں، وہی اصلی قرآن کریم ہے اور اسی پر جناب نبی اکرمؐ اپنی امت کو چھوڑ کر گئے ہیں۔ یہ قرآن کریم اس طرح کتابی شکل میں جناب نبی اکرمؐ کی حیات مبارکہ میں موجود نہیں تھا بلکہ رسول اکرمؐ کے وصال کے بعد حضرت ابوبکرؓ کے دور خلافت میں حضرت عمرؓ کی تجویز و تحریک پر حضرت زید بن ثابتؓ نے قرآن کریم کو موجودہ کتابی صورت میں تحریر کیا۔ آنحضرتؐ کے دور میں قرآن کریم کو یاد کرنے کا ذوق زیادہ تھا اور سینکڑوں حفاظ کرام صحابہؓ موجود تھے اس لیے لکھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی، ویسے بھی آپؐ کے وصال تک وحی جاری تھی اور قرآن کریم کی مکمل صورت نے حضور علیہ السلام کے وصال کے بعد ہی سامنے آنا تھا۔ یہاں حضرت شاہ عبد القادر محدث دہلویؒ کے بیان کردہ ایک نکتہ کا ذکر کرنا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے جو انہوں نے آیت کریمہ ’’بل ھو اٰیات بینات فی صدور الذین اوتوا العلم‘‘ (سورہ العنکبوت ۴۹) کے ضمن میں لکھا ہے کہ قرآن کریم کی اصل جگہ سینہ ہے اور کتابت امر زائد ہے۔ اس کا مفہوم میں اپنے انداز میں یوں بیان کیا کرتا ہوں کہ کتابت قرآن کریم کی ضروریات میں سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق ہماری کمزوریوں سے ہے کہ جو یاد نہ کر سکتا ہو وہ لکھا ہوا دیکھ کر پڑھ لے۔

بہرحال اس ضرورت کو سب سے پہلے حضرت عمرؓ نے محسوس کیا اور خاص طور پر انہیں اس صورتحال نے اس بات کا احساس دلایا کہ حضرت ابوبکرؓ کے دورِ خلافت میں ہونے والی جنگوں میں حافظ قرآن کریم صحابہ کرامؓ کی کثرت سے شہادتوں کی خبریں آرہی تھیں، حتٰی کہ صرف مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں ستر حفاظِ قرآن صحابہ کرام شہید ہو گئے۔ اس پر حضرت عمرؓ نے خدشہ محسوس کیا اور حضرت صدیق اکبرؓ سے عرض کیا کہ قرآن کریم کا ایک نسخہ لکھوا کر محفوظ کر لیا جائے۔ حضرت ابوبکرؓ کو پہلے اس کام میں تردّد تھا مگر بعد میں انہوں نے اس تجویز کو قبول کر لیا اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے کاتبِ وحی حضرت زید بن ثابتؓ کو بلا کر حکم دیا کہ وہ قرآن کریم کو مکمل کتابی شکل میں تحریر کر دیں۔ جس پر حضرت زید بن ثابتؓ نے قرآن کریم لکھنا شروع کر دیا، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اصول طے کیا کہ وہ آیت کریمہ قرآن کریم میں درج کروں گا جس پر کم از کم دو صحابیؓ شہادت دیں گے کہ انہوں نے بھی یہ آیت جناب نبی اکرمؐ سے اسی طرح سنی ہے۔ حضرت زید بن ثابتؓ خود قرآن کریم کے حافظ تھے بلکہ نبی اکرمؐ کے دور مبارک میں قرآن کریم کا بیشتر حصہ ان کے قلم سے لکھا گیا تھا، لیکن انہوں نے طے کیا کہ وہ اپنے علاوہ کم از کم دو اور گواہ صحابہ کرامؓ میں سے ہر آیت اور سورۃ پر تلاش کریں گے تاکہ غلطی کا کوئی امکان نہ رہے۔

چنانچہ صحابہ کرامؓ سے وسیع پیمانے پر رابطے اور رجوع کر کے انہوں نے اس فارمولے پر قرآن کریم لکھنا شروع کیا، اور جب پورے قرآن کریم کی کتابت مکمل کر لی تو معلوم ہوا کہ دو آیات ایسی ہیں جن پر صرف ایک گواہ مل رہا ہے اور دوسرا گواہ دستیاب نہیں ہے۔ ایک آیت ’’لقد جآءکم من انفسکم عزیز علیہ ما عنتم‘‘ (سورہ التوبہ ۱۲۸) والی اور دوسری ’’من المؤمنین رجال صدقوا ما عاھدوا اللہ علیہ‘‘ (سورہ الاحزاب ۲۳) والی ہے۔ ان آیات پر صرف ایک گواہ مل رہا ہے اور وہ حضرت خزیمہ بن ثابت انصاریؓ ہیں جبکہ دوسرا گواہ دستیاب نہیں ہو رہا۔ البتہ حضرت خزیمہ بن ثابتؓ وہ بزرگ ہیں جن کی گواہی کو ایک مقدمہ میں جناب نبی اکرمؐ نے دو گواہوں کے برابر قرار دیا تھا، اس لیے حضرت ابوبکرؓ کے مشورہ اور ہدایت کے مطابق ان کی گواہی کو ڈبل گواہی قرار دے کر قرآن کریم کی کتابت مکمل کر لی گئی اور قرآن کریم کے اس مکتوب مصحف کو مسجد نبویؐ میں ایک ستون کے ساتھ عام مسلمانوں کی راہنمائی اور استفادہ کے لیے رکھوا دیا گیا، جو آج بھی ’’استوانۂ مصحف‘‘ کے نام سے معروف ہے۔

میں عرض یہ کرنا چاہتا ہوں کہ یہ قرآن کریم جو مصحف کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے اور دنیا بھر میں پڑھا جا رہا ہے حضرت زید بن ثابتؓ کا تحریر کردہ ہے۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ قرآن کریم کو مرتب صورت میں لکھنے کے لیے حضرت زید بن ثابتؓ کا سورس اور مأخذ کیا تھا؟ انہوں نے قرآن کریم کی جو آیات اور سورتیں جناب نبی اکرمؐ سے خود سنی تھیں اور جن کے بارے میں دوسرے صحابہ کرامؓ نے بتایا کہ انہوں نے یہ آیات اور سورتیں آنحضرتؐ سے سنی ہیں، وہی آیات اور سورتیں اس مرتب کتاب کی شکل اختیار کر گئیں اور اس طرح قرآن کریم کی کسی بھی سورۃ آیت یا جملے تک رسائی کا ہمارے لیے واحد ذریعہ جناب نبی اکرمؐ کی ذات گرامی قرار پائی۔ اس لیے میں ایک بات عام طور پر عرض کیا کرتا ہوں کہ بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ قرآن کریم کے بعد کیا حدیث نبویؐ پر ایمان رکھنا بھی ضروری ہے؟ میری گزارش یہ ہوتی ہے کہ قرآن کریم کے بعد نہیں بلکہ قرآن کریم سے پہلے حدیث نبویؐ پر ایمان لانا ضروری ہے، اس لیے کہ حدیث نبوی پر ایمان نہ ہو تو قرآن کریم پر ایمان ممکن ہی نہیں ہے۔

اسی طرح یہ بھی دیکھ لیں کہ ہم سب یہ مانتے ہیں کہ قرآن کریم کی سب سے پہلے پانچ آیتیں نازل ہوئیں جو سورۃ العلق کا حصہ ہیں، لیکن جب ہم قرآن کریم کھول کر اس کی تلاوت شروع کرتے ہیں تو سورۃ العلق کی ابتدائی پانچ آیات کی بجائے سورۃ الفاتحہ کی سات آیات سے تلاوت کا آغاز کرتے ہیں، جبکہ سورۃ العلق موجودہ مصحف میں ۹۶ نمبر پر پڑھی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ ترتیب کیسے تبدیل ہو گئی؟ اور وہ کون سی اتھارٹی ہے جس نے سورۃ الفاتحہ کو پہلے نمبر پر اور سورۃ العلق کو ۹۶ نمبر پر رکھ دیا؟ ظاہر بات ہے کہ یہ تبدیلی بھی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے عمل میں آئی ہے اور مصحف کی موجودہ ترتیب آپؐ ہی کی قائم کردہ ہے۔ اور اگر خدانخواستہ اس حوالہ سے جناب نبی اکرمؐ کی اتھارٹی اور آپؐ کی حدیث کو نہ مانا جائے تو قرآن کریم کی موجودہ ترتیب کے ساتھ تلاوت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

حضرات محترم! میں نے اس وقت تک یہ عرض کیا ہے کہ قرآن کریم پر ہمارا ایمان ہے لیکن اس کے الفاظ، جملوں، آیات، سورتوں اور ترتیب تک پہنچنے کے لیے ہمارے پاس واحد سورس اور مأخذ جناب نبی اکرمؐ کی ذات گرامی ہے، اور قرآن کریم کی کسی بھی آیت تک رسائی کے لیے نبی کریمؐ ہی اتھارٹی بلکہ واحد اتھارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

بالکل اسی طرح قرآن کریم کی آیات اور جملوں کے مفہوم و معنی اور ان میں اللہ تعالیٰ کی منشا و مراد کو معلوم کرنے کے لیے بھی ہمارے پاس واحد ذریعہ جناب نبی اکرمؐ کی ذات گرامی ہے۔ اس وجہ سے کہ وہ ’’رسول اللہ‘‘ کے طور پر اللہ تعالیٰ کے نمائندہ ہیں اور نمائندہ جو بات بھی کہے وہ اس کی اپنی نہیں ہوتی بلکہ اس کی بات شمار کی جاتی ہے جس کا وہ نمائندہ ہوتا ہے۔ کسی ادارے کا کوئی نمائندہ آپ کے پاس گفتگو کے لیے آئے تو آپ کو یہ حق تو حاصل ہے کہ اس کے نمائندہ ہونے کی تسلی کریں اور یہ بھی حق ہے کہ اسے نمائندہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیں، لیکن اگر آپ اس کی نمائندہ حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس سے گفتگو شروع کر دیں تو پھر آپ کو اس کی کسی بات پر یہ پوچھنے کا حق نہیں رہتا کہ وہ یہ بات کس کی طرف سے کر رہا ہے؟ اس لیے کہ وہ نمائندہ ہونے کی حیثیت سے جو بات کر رہا ہے وہ اس کی نہیں بلکہ اس کے ادارے کی بات ہو گی، وہ اپنے ادارے سے پوچھ کر کر رہا ہے تب بھی وہ ادارے کی بات ہے اور اگر پوچھے بغیر کر رہا ہے تب بھی وہ بات ادارے ہی کی بات تصور کی جاتی ہے۔ اس لیے جس طرح قرآن کریم کی آیات، سورتوں اور ترتیب میں جناب نبی اکرمؐ اتھارٹی ہیں اسی طرح اس کے مفہوم اور اللہ تعالیٰ کی منشا کی وضاحت میں بھی آپ کو واحد اتھارٹی کا درجہ حاصل ہے۔ اور اگر قرآن کریم کی کسی سورت یا آیت کا کوئی مفہوم آنحضرتؐ نے اپنے قول یا عمل کی صورت میں طے کر دیا ہے تو وہی اس کا حتمی مفہوم ہے۔ اس بات کی تو بحث ہو سکتی ہے کہ روایت کا درجہ کیا ہے؟ سند کی حیثیت کیا ہے؟ اور اگر دو مختلف مفہوم مروی ہیں تو ترجیح کس کو ہے؟ مگر جناب نبی اکرمؐ کی طرف سے کسی آیت قرآنی کا مفہوم متعین صورت میں صحیح سند کے ساتھ سامنے آجائے تو پھر کسی بھی شخص کے لیے اس بات کا کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا کہ وہ اس آیت کا اپنی طرف سے کوئی مفہوم طے کرنے کی کوشش کرے اور فہم قرآن کے لیے کوئی اور معیار قائم کرنے کے درپے ہو۔

اس اصولی بات کے بعد اس سلسلہ میں کچھ واقعاتی شہادتوں کی طرف توجہ دلانا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ احادیث کے ذخیرے میں بیسیوں ایسی شہادتیں موجود ہیں جن کے مطابق قرآن کریم کی کسی آیت یا جملے کا مفہوم سمجھنے میں صحابہ کرامؓ کو دقت پیش آئی تو انہوں نے اس کی وضاحت کے لیے جناب رسول اللہ سے رجوع کیا اور جب آپؐ نے ایک مفہوم بیان کر دیا تو اس کے بعد اس کی کسی مزید وضاحت کی ضرورت کبھی محسوس نہیں کی گئی، ان بیسیوں شہادتوں میں سے دو تین کا تذکرہ کرنا چاہوں گا جن سے اس بات کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔

حضرت عدی بن حاتمؓ عیسائی سے مسلمان ہوئے تھے، انہوں نے جب قرآن کریم پڑھا تو اس آیت کریمہ پر ذہن اٹک گیا کہ ’’اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابًا من دن اللہ والمسیح ابن مریم‘‘ (سورہ التوبہ ۳۱) عیسائیوں نے اپنے علماء اور مشائخ کو اللہ تعالیٰ کے نیچے اپنا رب بنا لیا تھا اور مسیحؑ بن مریمؑ کو بھی رب مانتے تھے۔ حضرت عدیؓ نے جناب نبی اکرمؐ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم نے تو اپنے احبار و رہبان کو رب کا درجہ نہیں دیا تھا، قرآن کریم نے ہمارے بارے میں یہ کیا فرما دیا ہے؟ نبی کریمؐ نے ان سے پوچھا کہ کیا تمہارے ہاں علماء و مشائخ کو یہ اتھارٹی حاصل تھی کہ وہ جس چیز کو چاہیں حلال قرار دے دیں اور جسے چاہیں حرام کر دیں؟ انہوں نے کہا کہ ہاں یہ تو تھا۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کہ رب بنانے کا یہی مطلب ہے۔

ویسے میں عرض کروں گا کہ آج بھی یہی صورتحال ہے کہ کیتھولک مسیحیوں کے ہاں اب بھی حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرنے کی فائنل اتھارٹی پا پائے روم ہیں، جبکہ ہمارے ہاں اس کی صورت یہ ہے کہ اگر کسی شخصیت کو حلال و حرام میں اس قسم کا کوئی اختیار حاصل ہوتا تو اس کے لیے جناب نبی اکرمؐ سے زیادہ حقدار اور کوئی شخصیت نہیں ہو سکتی تھی، لیکن جب آپؐ نے اپنی ذات کے لیے شہد کو حرام قرار دیا تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی ایک مستقل سورۃ کے ذریعہ ٹوک دیا ’’لم تحرم ما احل اللہ لک‘‘ (سورہ التحریم ۱) جو چیز اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کی ہے وہ آپ نے کیسے حرام کر دی ہے؟ یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قرآن کریم کی ایک آیت کے مفہوم و مصداق کے بارے میں صحابی رسول حضرت عدی بن حاتمؓ کو الجھن ہوئی تو اس کی وضاحت کے لیے جناب نبی اکرمؐ سے انہوں نے رجوع کیا اور آپؐ نے جو وضاحت فرما دی اس نے اس الجھن کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔

بسا اوقات قرآن کریم کی دو آیات بظاہر متضاد معلوم ہوتی ہیں اور دونوں کا ظاہری مفہوم ایک دوسرے کے خلاف دکھائی دیتا ہے، اس کی وضاحت کے لیے بھی نبی اکرمؐ ہی اتھارٹی ہیں۔ ترمذی شریف کی روایت کے مطابق ایک شخص نے حضرت ابو ثعلبہ خشنیؓ سے دریافت کیا کہ قرآن کریم میں جا بجا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا تذکرہ موجود ہے اور اسے مسلمانوں کی دینی ذمہ داریوں میں شامل کیا گیا ہے۔ لیکن ایک آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اے ایمان والو ’’علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم‘‘ (سورہ المائدہ ۱۰۵) تم پر لازم ہے کہ اپنا فکر کرو اگر کوئی گمراہ ہوتا ہے تو اس کا تمہیں کوئی ضرر نہیں ہے، اگر تم ہدایت پر ہو۔ تو اس کا کیا مطلب ہے؟ ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرو اور اس عمل کو ترک کرنے پر وعید سنائی جا رہی ہے اور دوسری طرف یہ کہا گیا ہے کہ تم پر صرف اپنا فکر کرنا ضروری ہے۔ حضرت ابو ثعلبہ خشنیؓ نے اس پر پہلی بات تو یہ فرمائی کہ ’’علی الخبیر سقطت‘‘ خبردار پر گرے ہو یعنی تم نے بات اس شخص سے پوچھی ہے جس کو یہ معلوم ہے، اس لیے کہ جو اشکال تمہارے ذہن میں آیا ہے میرے ذہن میں بھی آیا تھا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیا تھا، آپؐ نے فرمایا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہر حال میں کرتے رہو البتہ جب ایسا زمانہ آجائے کہ فتنوں کی کثرت کے باعث اپنا ایمان بچانا مشکل ہو جائے تو پھر پہلے اپنی فکر کرو۔ گویا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم عمومی ہے اور صرف اپنا فکر کرنے کا حکم مخصوص حالات میں ہے۔ اس طرح قرآن کریم کے دو حکموں میں بظاہر دکھائی دینے والے تعارض کی بات جناب رسول اکرمؐ کی وضاحت کے بعد ختم ہو گئی۔

بسا اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ قرآن کریم کچھ اور کہہ رہا ہے اور جناب نبی اکرمؐ حدیث میں کچھ اور فرما رہے ہیں۔ ایسی صورت میں بھی وضاحت کی اتھارٹی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ بخاری شریف میں روایت ہے ام المؤمنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک موقع پر نبی کریمؐ نے فرمایا ‘‘من حوسب عذب‘‘ جس کا حساب کتاب ہوا اسے ضرور عذاب ہو گا۔ فرماتی ہیں اس پر میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! قرآن کریم تو یہ کہتا ہے کہ جس کو نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں ملے گا ‘‘فسوف یحاسب حسابًا یسیرًا‘‘ (سورہ الانشقاق ۸) اس کا حساب آسان ہو گا اور وہ خوش خوش اپنے گھر والوں کے پاس واپس پلٹے گا، بلکہ ایک جگہ قرآن کریم میں یہ ہے کہ ’’فیقول ھآءم اقرءوا کتابیہ‘‘ (سورہ الحاقہ ۱۹) وہ اپنے امتحان کا نتیجہ لوگوں کو پڑھاتا پھرے گا کہ میں کامیاب ہو گیا ہوں، جبکہ آپؐ فرما رہے ہیں کہ جس کا حساب ہوا وہ عذاب سے نہیں بچے گا۔ بظاہر یہ قرآن کریم اور حدیث کا تعارض ہے کہ قرآن کریم کچھ اور کہہ رہا ہے اور جناب نبی اکرمؐ اس سے مختلف بات فرما رہے ہیں۔ اس کی وضاحت بھی آنحضرتؐ سے مانگی گئی اور آپؐ کی وضاحت کے بعد بات ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔ نبی کریمؐ نے ایک جملے میں بات صاف کر دی کہ ’’ذاک العرض یا عائشۃ‘‘ جس حساب کی تم بات کر رہی ہو تو وہ باقاعدہ حساب نہیں بلکہ صرف عدالت میں پیشی ہے ’’اما من نوقش فقد عذب‘‘ البتہ جس کا مناقشہ ہوا اور ریکارڈ کھول لیا گیا وہ عذاب سے نہیں بچے گا۔

حضرات محترم ! جناب نبی اکرمؐ کے منصب رسالت کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ آپؐ دین کے ہر معاملہ میں فائنل اتھارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں اور اسے تسلیم کیے بغیر دین کا ڈھانچہ ہی سرے سے مکمل نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ ہم سب کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع نصیب فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

2016ء سے
Flag Counter