محکمہ تعلیم کے تحت دینی مدارس کی رجسٹریشن کی صورتحال

   
تاریخ اشاعت: 
۴ مارچ ۲۰۲۳ء

محکمہ تعلیم کے تحت دینی مدارس کی رجسٹریشن کا سلسلہ کئی سالوں سے چل رہا ہے جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ دینی مدارس کے وفاقوں کے ساتھ معاہدہ کے تحت شروع کیا گیا تھا اور اب تک پندرہ ہزار کے لگ بھگ مدارس رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ مگر جب بعض مدارس کے بارے میں یہ بات سامنے آئی کہ ان کی اصل انتظامیہ کی موجودگی میں کسی قسم کی تحقیق کیے بغیر متوازی انتظامیہ رجسٹرڈ کر دی گئی ہے اور تنازعات پیدا ہو رہے ہیں تو دینی حلقوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار ہونے لگا۔ اس پر پاکستان شریعت کونسل اسلام آباد نے ۲۶ فروری کو جامعہ رحمانیہ ماڈل ٹاؤن اسلام آباد میں منعقدہ ایک مشاورتی اجلاس میں محکمہ تعلیم کے ذمہ دار حکام سے وفد کی صورتحال میں ملاقات کر کے صورتحال کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا، اور وفد کی ملاقات کے بعد پاکستان شریعت کونسل اسلام آباد کے سیکرٹری جنرل حافظ سید علی محی الدین نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کو اس کی باضابطہ رپورٹ بھیج دی ہے جس کے کچھ حصے حالات سے آگاہی کے لیے قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں:

’’جامعہ اسلامیہ رحمانیہ ماڈل ٹاؤن ہمک اسلام آباد میں مورخہ 26 فروری 2023ء بروز اتوار مولانا زاہد الراشدی کی زیر صدارت پاکستان شریعت کونسل راولپنڈی،اسلام آباد کے سرکردہ احباب کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں دیگر معاملات کے علاوہ وفاقی وزارت تعلیم کی جانب سے مدارس کی رجسٹریشن اور متعدد مقامات پر متوازی رجسٹریشنوں سے پیدا شدہ تنازعات کی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض ہوا اور تین رکنی کمیٹی قائم ہوئی جو وفاقی وزارت تعلیم کے متعلقہ افراد سے ملاقات کر کے ان مسائل پر گفت و شنید کرے۔

اس سلسلے میں مورخہ 2 مارچ 2023ء بروز جمعرات تین رکنی وفد جس میں مولانا محمد ثناء اللہ غالب امیر پاکستان شریعت کونسل گلگت بلتستان، مولانا قاری محمد محفوظ خطیب جامع مسجد الاعظم اسلام آباد اور حافظ سید علی محی الدین شاہ شامل تھے۔ اسلام آباد میں وفاقی وزارت تعلیم کے ماتحت قائم شدہ ڈئرایکٹریٹ بنام ڈی جی آر ای ( ڈائریکٹریٹ جنرل آف ریلیجیئس ایجوکیشن) میں حاضر ہوئے۔ یہ ڈائریکٹریٹ کیبنٹ نوٹیفیکیشن کے ذریعے ایک مستقل شعبے کے طور پر میجر جنرل (ر) ڈاکٹر غلام قمر کی ماتحتی میں قائم ہے جو اس کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔ اس شعبے کا واحد کام دینی مدارس کی رجسٹریشن کرنا ہے۔

یہاں ہماری ملاقات سید اظہر عباس کاظمی ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن اور محترمہ یاسمین صاحبہ سے ہوئی جن کے دستخطوں سے رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ جاری کیے جاتے ہیں۔ ہماری ملاقات ڈیڑھ سے دو گھنٹے جاری رہی جس میں تفصیل کے ساتھ ہم نے رجسٹریشن کا طریقہ کار جاننے کی کوشش کی جس میں مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ کی متوازی رجسٹریشن سے متعلق اپنا موقف بھی متعلقہ دستاویزات کے ساتھ ان کے سامنے رکھا۔ اور ساتھ ہی وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی وہ یادداشت بھی ان کے سامنے رکھی جو وزیر اعظم پاکستان جناب میاں شہباز شریف کو پیش کی گئی تھی جس میں رجسٹریشن سے متعلق وفاق کا موقف پیش کیا گیا۔ اور یہ بات ان کو باور کروائی کہ تنظیماتِ مدارس کے ساتھ متفقہ قواعد و ضوابط اور تفصیلات کو طے کیے بغیر کسی تصدیق و تحقیق کے یکطرفہ طور پر رجسٹریشن کے اس طریقہ کار کی وجہ سے، جو کوئی بھی شخص صرف ایک فارم پر کر کے کروا سکتا ہے، بعض مدارس کے پُراَمن ماحول میں عملاً فتنہ و فساد کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے، جس کا اگر بروقت تدارک نہ کیا گیا تو ہر جگہ تنازعات کھڑے ہو سکتے ہیں، جیسا کہ مدرسہ قاسم العلوم ساروکی چیمہ وزیر آباد اور مدرسہ انوار العلوم مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے حوالے سے صورتحال سامنے آ چکی ہے۔

ڈائریکٹر صاحب نے ہماری معروضات کو بہت توجہ سے سنا اور پھر انہوں نے فرمایا کہ پندرہ ہزار سے زائد مدارس اس وقت تک ہمارے ساتھ رجسٹرڈ ہوچکے ہیں، اور ہماری ایک بنیادی شرط یہ بھی ہے کہ ہم اس جامعہ یا مدرسے کی رجسٹریشن کرتے ہیں جن کا موجود وفاقوں میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق ہوتا ہے۔ اور ان کے بقول ان پندرہ ہزار رجسٹریشن میں سے اکا دکا جگہوں پر یہ صورتحال بنی ہوگی باقی جگہوں پر امن و اطمینان ہے، جس پر ہم نے ان سے وہ فہرست مانگی جو مدارس رجسٹرڈ ہوچکے ہیں لیکن انہوں نے دینے سے معذرت کی۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ اہم بات بھی بتائی کہ ہم یہ رجسٹریشن کا عمل کسی تحقیق اور تصدیق کے بغیر ہی کر رہے ہیں جبکہ اگلے مراحل میں رجسٹرڈ مدارس و جامعات میں جا کر تحقیق و تفتیش ہوگی جو مراحل ابھی شروع نہیں ہوئے۔ اور ساتھ ہی انہوں نے یہ بات بھی دہرائی کہ ہمارا مقصد قطعی طور مدارس میں فتنہ و فساد پیدا کرنا نہیں ہے۔

کسی متوازی رجسٹریشن کی منسوخی کا طریقہ پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اصل انتظامیہ درخواست دے تو ہم صوبائی آفس کے ذریعے ویریفیکیشن (تصدیق) کر کے میرٹ پر فیصلہ کریں گے۔ جس پر ہم نے کہا کہ وفاق المدارس یا ضلعی انتظامیہ اگر تصدیق کر دیتی ہے تو کیا اس بنیاد پر اس کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ تو انہوں نے اپنی پہلی بات کے برعکس یہ کہا کہ ہم خود ادارے میں جا کر قرب و جوار کے لوگوں کو جمع کر کے ان سے رائے اور مرضی معلوم کریں گے اور پھر اس کے بعد رجسٹریشن کی توثیق یا تنسیخ کریں گے، جس پر ہم نے کہا کہ جو تحقیق رجسٹریشن سے پہلے کرنی چاہیے تھی وہ کام آپ رجسٹریشن کے بعد کرنا چاہ رہے ہیں، اور خود آپ نے کہا کہ وفاق کے الحاق کے بغیر کسی کو رجسٹرڈ نہیں کرتے تو کیا وہاں کی تصدیق کو آپ اہمیت نہیں دیں گے۔ تو اس پر انہوں نے کہا کہ وفاق میں بھی جعلسازی اور تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے ریکارڈ میں ردوبدل کا امکان موجود ہے۔ ہم نے نہایت شدت اور اصرار سے انہیں اس پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ وفاق اور ضلعی انتظامیہ کی تصدیق پر جعلی رجسٹریشن کو کینسل کر دینا چاہیے، لیکن وہ اس پر آمادہ نہ ہوئے۔

ہم نے وفاق المدارس اور وزارتِ تعلیم کی مفاہمتی یادداشت کی ایک شق کا حوالہ بھی دیا جس میں درج ہے کہ جب تک باہمی طور پر معاہدے پر عمل درآمد کا آغاز نہیں ہو جاتا اس وقت تک سوسائٹی ایکٹ کے تحت ہونے والی رجسٹریشنوں کو تمام حکومتی ادارے تسلیم کریں گے، اس پر بھی وہ تیار نہ ہوئے۔

یاد رہے کہ وفاقی وزارتِ تعلیم کی ماتحتی میں قائم اس ادارے کو کسی ایکٹ یا قانون کا تحفظ حاصل نہیں ہے بلکہ کیبنٹ ڈویژن کے ایک انتظامی حکم پر نوٹیفیکیشن کے ذریعے اس کا وجود قائم ہے جو کوئی مضبوط قانونی بنیاد مہیا نہیں کرتا۔

اس نازک صورتحال میں وفاق المدارس کی قیادت کی جانب سے واضح اور دو ٹوک انداز میں ملحق مدارس کو راہنمائی مہیا کرنے کی ضرورت ہے اور مضبوط انداز میں اس ون وے ٹریفک کے خلاف آواز بلند کر کے جعلسازیوں کے ذریعے مدارس و مساجد کو فتنہ و فساد کی آماجگاہ بنانے والوں کا راستہ روکنا ہوگا وگرنہ اس طرح کے معاملات کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ بھی بن سکتے ہیں۔ اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو۔‘‘

   
2016ء سے
Flag Counter