مولانا محمد اسلم قریشی کی بازیابی

   
جولائی ۱۹۸۸ء ۔ جلد ۳۱ شمارہ ۲۸ و ۲۹

سیالکوٹ کے مبلغ ختم نبوت مولانا محمد اسلم قریشی کی پانچ سال سے زیادہ عرصہ تک گمشدگی کے بعد گزشتہ روز ان کی اچانک برآمدگی اور آئی جی پولیس لاہور کے ساتھ ان کی پریس کانفرنس نے بین الاقوامی شہرت اور اثرات کے حامل اس کیس کو جو ڈرامائی رخ دیا ہے اس نے ملکی رائے عامہ کو حیرت و استعجاب اور تشویش و اضطراب سے دوچار کر دیا ہے۔

جہاں تک مولانا محمد اسلم قریشی کی سلامتی اور واپسی کا تعلق ہے اس پر ہر طبقہ کی طرف سے اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ان کی زندگی کے بارے میں جو خدشات مسلسل باعث اضطراب بنے ہوئے تھے وہ دور ہوگئے ہیں مگر آئی جی پولیس کی موجودگی میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران انہوں نے ازخود روپوش ہونے، اپنے بارے میں عوامی تحریک کا علم ہونے کے باوجود واپس نہ آنے، ایران کی فوج میں بھرتی ہونے اور اچانک واپس آنے کی جو کہانی بیان کی ہے اسے ملک کے دینی و عوامی حلقوں میں بے یقینی اور شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

ہمارے ہاں پولیس کو ملزموں سے اپنی مرضی کے بیانات دلوانے کا جو ملکہ حاصل ہے اور آج کے دور میں برین واشنگ اور جدید ترین نفسیاتی حربوں کے ذریعہ انسانی ذہن پر اثر انداز ہونے کے جو حربے معروف ہیں ان کے پیش نظر اس بیان کو حقائق کا آئینہ قرار دینا بہت مشکل ہے۔ برآمدگی کے بعد سے مولانا محمد اسلم قریشی مسلسل پولیس کی حراست میں ہیں بلکہ پریس کانفرنس کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت کے کسی راہنما کو ان سے ملاقات تک کی اجازت نہیں دی جا رہی جس سے اس موقف کو مزید تقویت حاصل ہو رہی ہے کہ ان سے یہ بیان پولیس کے روایتی ہتھکنڈوں کے ذریعہ حاصل کیا گیا ہے۔

ان حالات میں یہ ضروری ہے کہ مولانا محمد اسلم قریشی کو بلاتاخیر رہا کیا جائے تاکہ آزاد فضا میں ان کی گفتگو اور ذہن کا تجزیہ کر کے اصل حقائق کو منظر عام پر لایا جا سکے۔

   
2016ء سے
Flag Counter