وفاق المدارس کی مجلس شوریٰ کا ایک خوش آئند فیصلہ ۔ چند تجاویز

   
۲۴ جنوری ۲۰۰۵ء

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس شوریٰ نے شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم کو مزید پانچ سال کے لیے وفاق کا صدر اور مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کو سیکرٹری جنرل منتخب کر لیا ہے۔ وفاق کی مجلس شوریٰ کے اجلاس سے قبل بعض حلقوں کی طرف سے دونوں رہنماؤں کے خلاف ایک مہم بھی چلائی گئی تھی جس کا مقصد انہیں سنگین الزامات کا ہدف بنا کر وفاق کی قیادت میں تبدیلی لانا نظر آتا تھا۔ اس مہم کا دائرہ ملک گیر سطح پر خط و کتابت کے ساتھ ساتھ بعض اخبارات تک وسیع ہوا اور بعض دوستوں نے مجھ سے بھی رابطہ قائم کر کے مشورہ چاہا۔ میں نے گزارش کی کہ شکایات و اعتراضات پر اجلاس میں کھل کر بات کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے مگر اس مرحلہ پر جبکہ دینی مدارس کے خلاف عالمی مہم مختلف پینترے بدل رہی ہے اور اس بین الاقوامی یلغار کا وفاق کی موجودہ قیادت بڑی حکمت عملی کے ساتھ کامیابی سے سامنا کر رہی ہے، اس موقع پر وفاق کی قیادت میں کوئی تبدیلی اب تک کی کامیابیوں کو مشکوک بنا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایسی کسی مہم کا اخبارات تک اپنے دائرہ کو وسیع کرنا بھی اچھے نتائج کا حامل نہیں ہو گا اور اس کا دینی مدارس کے مجموعی ماحول کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بہرحال مجلس شوریٰ نے قیادت کے سابق تسلسل کو قائم رکھنے کا جو فیصلہ کیا ہے، وہ حکمت اور تدبر کا حامل ہے اور اس پر وفاق المدارس العربیہ کی قیادت اور مجلس شوریٰ دونوں مبارک باد کے مستحق ہیں۔

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا قیام حضرت علامہ شمس الحق افغانیؒ، حضرت مولانا مفتی محمودؒ، حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ اور حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ جیسے اکابر کی کوششوں سے عمل میں آیا تھا۔ اور ابتدا میں اس کا مقصد یہ تھا کہ دینی مدارس کے نصاب و نظام اور امتحانات کے یکساں معیار کے حوالہ سے باہمی ربط و مشاورت کا کوئی نظم قائم ہو جائے، چنانچہ دونوں مقاصد میں وفاق نے مسلسل پیشرفت کی اور نصاب میں ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ مشترکہ امتحانی نظام کی داغ بیل بھی ڈالی گئی، جس کے لیے حضرت مولانا مفتی محمودؒ اور حضرت مولانا محمد ادریس میرٹھیؒ کی کاوشیں بطور خاص قابل ذکر ہیں، جن کے باعث یہ نظام رفتہ رفتہ ترقی کر کے آج ایک معیاری اور منظم و مربوط امتحانی نیٹ ورک کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

وفاق المدارس العربیہ پاکستان دیوبندی مکتب فکر کے مدارس و مکاتب کی نمائندگی کرتا ہے جبکہ اس کے بعد بریلوی مکتب فکر، اہل حدیث مکتب فکر، اور شیعہ مکتب فکر کے مدارس نے اسی طرز پر اپنے اپنے وفاق قائم کیے اور جماعت اسلامی نے بھی اپنے حلقہ کے مدارس کو ایک الگ وفاق کی صورت میں باہم مربوط کر لیا۔ ان وفاقوں کا بنیادی مقصد تعلیمی نصاب و نظام میں ہم آہنگی کا مشترکہ معیار و نظم تھا۔ بعد میں ایک مرحلہ پر مدارس کی آزادی اور خود مختاری کے تحفظ کی جدوجہد بھی ان وفاقوں کے ایجنڈے میں شامل ہو گئی۔

۱۹۷۶ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کو محکمہ اوقاف کی تحویل میں لینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا اور مدرسہ معراج العلوم بنوں کے خلاف بھی اسی نوعیت کی کارروائی عمل میں لائی گئی تو یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ حکومت ان دو مدارس کو تحویل میں لینے میں کامیاب ہو گئی تو اس کے لیے دوسرے مدارس کو سرکاری تحویل میں لینا آسان ہو جائے گا اور دینی مدارس کے آزادانہ کردار و تشخص کو ختم کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔ چنانچہ یہ پہلا موقع تھا کہ حضرت مولانا مفتی محمودؒ نے دوسرے مکاتب فکر کے مدارس کے وفاقوں سے بھی رابطہ قائم کیا اور اس وقت موجود تمام وفاقوں نے متحد ہو کر دینی مدارس کی انتظامی و مالی خود مختاری اور آزادانہ و جداگانہ تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے مشترکہ جدوجہد کا فیصلہ کر لیا۔ ادھر گوجرانوالہ میں بھی یہ تحریک جاری رہی اور سینکڑوں علمائے کرام اور کارکنوں نے احتجاجی گرفتاریاں پیش کیں۔ راقم الحروف بھی اس تحریک میں کم و بیش ساڑھے تین ماہ گوجرانوالہ جیل میں رہا۔ مدرسہ معراج العلوم بنوں نے بھی مولانا صدر الشہید ایم این اے کی قیادت میں، جو اس دینی درس گاہ کے بانی و مہتمم تھے، مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ مولانا مفتی محمود نے قومی اسمبلی میں اور علامہ رحمت اللہ ارشد نے پنجاب اسمبلی میں مؤثر آواز اٹھائی جس کے نتیجے میں حکومت کو مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کو محکمہ اوقاف کی تحویل میں لینے کا فیصلہ واپس لینا پڑا۔ اس سلسلے میں مختلف مکاتب فکر کے دینی مدارس کے وفاقوں نے جو متحدہ محاذ قائم کیا، اس کے سربراہ حضرت مولانا مفتی محمودؒ اور سیکرٹری جنرل جامع نظامیہ رضویہ لاہور کے مولانا مفتی عبد القیوم ہزاروی چنے گئے اور لاہور میں ایک بڑا کنونشن ہوا۔

اس پس منظر میں جب موجودہ حکومت کی طرف سے دینی مدارس کو ’’قومی دھارے‘‘ میں شامل کرنے کے نام پر سرکاری کنٹرول میں لینے کی بات کی گئی اور عالمی سطح پر بھی دینی مدارس کے آزادانہ کردار اور جداگانہ تشخص کو ہدف تنقید بنایا جانے لگا تو وفاق المدارس العربیہ نے دینی مدارس کے تمام وفاقوں کو پھر یکجا کر لیا اور ’’اتحاد تنظیمات مدارس‘‘ وجود میں آیا جس نے دینی مدارس کی آزادی اور خودمختاری کے خلاف قومی اور عالمی سطح پر سامنے آنے والی اس نئی یلغار کا کامیابی کے ساتھ سامنا کیا، اور بالآخر حکومت کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ وہ دینی مدارس کو سرکاری کنٹرول میں لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ میرے خیال میں اس کامیابی کی پشت پر جہاں تمام وفاقوں کا اتحاد اور اشتراک عمل ایک مضبوط قوت کی حیثیت رکھتا ہے، وہاں حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم کی مدبرانہ قیادت اور مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کی شبانہ روز محنت کا بھی اس میں بہت بڑا حصہ ہے۔

اس تناظر میں اس قیادت کا مزید پانچ سال کے لیے وفاق کی باگ ڈور سنبھالنا ایک خوش آئند فیصلہ ہے جس سے ہر اس شخص کو اطمینان حاصل ہوا ہے جو وفاق کی گزشتہ تاریخ سے آگاہی رکھتا ہے اور مستقبل کے خدشات پر بھی اس کی نظر ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی ہم وفاق کی قیادت سے بھی یہ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ آنے والا دور پہلے سے زیادہ کٹھن اور مشکل ہوگا۔ دینی مدارس کے جداگانہ تشخص اور آزادانہ کردار کے خلاف یلغار سرِدست رک گئی ہے، لیکن یہ صرف پینترا بدلنے والی بات ہے۔ ان قوتوں کا ایجنڈا بدستور قائم ہے اور وہ مختلف طریقوں اور حیلوں سے اس ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی وقتاً فوقتاً کوشش کرتی رہیں گی کیونکہ جو قوتیں دینی مدارس کی اس حیثیت اور کردار کو اپنے عزائم اور پروگرام کی راہ میں رکاوٹ تصور کرتی ہیں، ظاہر ہے وہ اپنے عزائم اور پروگرام سے ہٹنے کے لیے تو تیار نہیں ہوں گی اور جب بھی موقع ملا، شب خون مارنے سے گریز نہیں کریں گی، اس لیے وفاقوں کے اتحاد کو برقرار رکھنا اور باہمی اعتماد و اشتراک میں اضافہ کرتے چلے جانا اس مقصد کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

وفاق المدارس العربیہ کی مجلس شوریٰ نے مذکورہ اجلاس میں نصاب میں کچھ جزوی تبدیلیاں کی ہیں بلکہ چند برسوں سے یہ روایت سی بن گئی ہے کہ کم و بیش شوریٰ کے ہر اجلاس میں کوئی نہ کوئی تبدیلی نصاب کے حوالہ سے سامنے آتی رہتی ہے۔ اس کی افادیت و ضرورت سے انکار نہیں ہے مگر اس طرح کی بار بار تبدیلیوں سے مدارس کے لیے مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ ہمارے نزدیک اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ تجربہ کار مدرسین پر مشتمل ایک مستقل نصابی بورڈ تشکیل دیا جائے جو پورے نصاب کا جائزہ لے اور یہ جائزہ ایک دو اجلاسوں کی صورت میں نہ ہو بلکہ:

  • کم از کم ایک سال تک اس انداز کا مباحثہ جاری رہے کہ مختلف شہروں میں پرانے مدرسین اور ماہرین تعلیم کے علاقائی سطح پر سہ روزہ اجتماعات منعقد کیے جائیں، مسائل اور ضروریات پر کھلے دل سے بحث کی جائے اور تجاویز سامنے لائی جائیں۔
  • ان تجاویز کو سامنے رکھ کر نصابی بورڈ اپنی سفارشات مرتب کرے اور مجلس شوریٰ ان میں سے جن سفارشات کو منظور کرے، ان کے مطابق نصاب میں رد و بدل کیا جائے۔
  • البتہ نصاب میں جو ترمیم یا رد و بدل کیا جائے، کم از کم پانچ سال تک اس کے نتائج کا انتظار ضرور کیا جائے۔ اس طرح ہر سال تبدیلی کرنا آسانی کے بجائے مشکلات کا باعث بنتا ہے۔
  • اس کے علاوہ اپنی ایک اور پرانی تجویز کا اعادہ بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ وفاق کو دینی مدارس کے سینئر اساتذہ کی مستقل سالانہ ورکشاپ کا اہتمام کرنا چاہیے جو تعطیلات کے دوران کسی بڑے جامعہ میں منعقد کی جائے۔ اس کا دورانیہ چار سے سات روز کا ہو اور ملک بھر سے انتخاب کر کے کم از کم اڑھائی تین سو اساتذہ کو جمع کیا جائے، ان کے سامنے مسائل و ضروریات کی فہرست رکھی جائے، ان سے رائے لی جائے، انہیں معروضی حالات اور وقت کی ضروریات کے بارے میں بریف کیا جائے، اور چوٹی کے ماہرین تعلیم کو زحمت دے کر ان سے متعین عنوانات پر بیانات کرائے جائیں۔ اس سے اساتذہ کو حالات اور ان کے تقاضوں سے آگاہی ہوگی اور وفاق کی قیادت بھی اساتذہ کے ذہنی رجحانات اور ان کی مشکلات و مسائل سے باخبر رہے گی۔

امید ہے کہ وفاق کی قیادت ان گزارشات کا سنجیدگی سے جائزہ لے گی اور اس کی راہنمائی میں دینی مدارس اپنے مشن اور پروگرام میں مسلسل پیشرفت کرتے رہیں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

   
2016ء سے
Flag Counter