وزیر اعلیٰ میاں محمد نواز شریف اور موجودہ عدالتی نظام کی رکاوٹیں

   
۱۷ جولائی ۱۹۸۷ء

۵ جولائی ۱۹۸۷ء کو صدر جنرل محمد ضیاء الحق کے دورِ اقتدار کے گیارہویں سال کا آغاز لاہور میں بموں کے تین دھماکوں کے ساتھ ہوا جن میں اخباری اطلاعات کے مطابق سات افراد جاں بحق اور ستر سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکوں کا یہ سلسلہ کافی عرصہ سے جاری ہے اور سرحد و بلوچستان میں بے شمار شہریوں کی جان لینے کے بعد اب اس کا رخ پنجاب کی طرف ہے۔ ہمارے حکمران ان دھماکوں کے بارے میں یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کا تعلق تخریب کاروں کی ایک منظم مہم سے ہے جس کا مقصد افغانستان کے بارے میں پاکستان کی پالیسی پر اثر انداز ہونے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔ ہم اس نقطۂ نظر کو رد نہیں کرتے لیکن یہ ضرور عرض کریں گے کہ کیا صرف یہ کہہ کر حکمرانوں کی ذمہ داریاں پوری ہو جاتی ہیں کہ یہ دھماکے حکومت کی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کے لیے کرائے جا رہے ہیں؟

دھماکوں کی ان افسوسناک وارداتوں کا پسِ منظر کچھ بھی ہو ان کو روکنا اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے جس کو پورا کیے بغیر کسی حکومت کے پاس برسرِ اقتدار رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ لاہور کے افسوسناک دھماکوں میں شہریوں کے جان و مال کے المناک ضیاع کے پس منظر میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب جناب نواز شریف کا یہ بیان بھی قابلِ توجہ ہے جو انہوں نے میو ہسپتال لاہور میں دھماکہ سے زخمی ہونے والوں کی عیادت کے بعد اخبار نویسوں کو دیا کہ

’’جہاں تک ہمارے جوڈیشیل سسٹم کا تعلق ہے اور دوسرے قوانین ہیں، ان کے تحت ہم عوام کو صحیح معنوں میں انصاف مہیا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اس سلسلہ میں بعض قوانین آڑے آجاتے ہیں اور بعض تو مجرموں کے حق میں جاتے ہیں۔‘‘ (روزنامہ جنگ لاہور، ۶ جولائی ۱۹۸۷ء)

سوال یہ ہے کہ جب موجودہ عدالتی نظام عوام کو انصاف مہیا نہیں کر سکتا بلکہ بعض قوانین مجرموں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں تو اس عدالتی نظام اور ان قوانین کے تسلسل کو قائم رکھنے اور ان کے تحفظ کے لیے شرعی قوانین کے نفاذ کے قومی مطالبہ کو قبول نہ کرنے کا آخر کیا جواز ہے؟

موجودہ عدالتی نظام اور قوانین کی ناکامی کا اعتراف اس سے قبل وفاقی وزیر قانون اور پنجاب ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی کر چکے ہیں۔ اور ان اعترافات سے قطع نظر ہر سطح کی عدالتوں میں عوام کا دن بدن بڑھتا ہوا ہجوم، مقدمات کی فائلوں کے انبار میں روز بروز اضافہ اور قدم قدم پر انصاف کی خرید و فروخت کے افسوسناک مناظر اس قانونی نظام کی نا اہلی اور ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ یہ صورتحال انتہائی سنگین ہے اور اس کا حل یہ نہیں کہ حکمران گروہ انگریزی قانون کی اس ’’مردہ لاش‘‘ کا پہرے دار بن کر اس کی حفاظت کرتا رہے یا اس کی جگہ اسپین، سویڈن، فلپائن اور فرانس سے قانونی نظام کی درآمد کے منصوبے بنائے جائیں بلکہ اس کا فطری اور منطقی حل صرف یہ ہے کہ اس مردہ اور متعفن لاش کو جلد از جلد دفن کر کے اسلام کے عادلانہ نظامِ قانون کو رائج کرنے کے لیے موزوں اقدامات کیے جائیں۔ سینٹ میں زیرِ بحث شریعت بل کا بنیادی مقصد یہی ہے اور حکمران اسے جتنی جلدی منظور کر لیں ملک و قوم کے حق میں بہتر ہوگا۔

   
2016ء سے
Flag Counter