اسلام اور عورت کا اختیار

   
۳۱ جولائی ۱۹۹۶ء

عربی ادب کی کہاوت ہے کہ ایک مصور دیوار پر تصویر بنا رہا تھا جس کا منظر یہ تھا کہ ایک انسان کے ہاتھوں میں شیر کی گردن ہے اور وہ اس کا گلا گھونٹ رہا ہے۔ اتنے میں ایک شیر کا وہاں سے گزر ہوا تو وہ رک کر تصویر کو غور سے دیکھنے لگا۔ مصور نے شیر سے پوچھا کہ میاں تصویر کیسی لگی؟ شیر نے جواب دیا کہ بھئی برش تمہارے ہاتھ میں ہے جیسے چاہے منظر کشی کرلو، ہاں اگر برش میرے ہاتھ میں ہوتا تو تصویر کا منظر اس سے یقیناً مختلف ہوتا۔

کچھ اسی قسم کی صورتحال آج عالم اسلام کو مغربی میڈیا کے ہاتھوں درپیش ہے۔ میڈیا کے تمام وسائل کا کنٹرول چونکہ مغرب کے ہاتھ میں ہے اس لیے وہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں اپنی مرضی کی تصویریں اور مناظر بنا کر دنیا کو مسلسل دکھائے جا رہا ہے۔ انہی مناظر میں سے ایک منظر عورت کے بارے میں بھی ہے جس میں دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اسلام میں عورت کے لیے مجبوری، محکومی، اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہے اور اسلام اسے کسی قسم کا کوئی اختیار دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ حالانکہ جب ہم جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو معاملہ اس کے بالکل برعکس نظر آتا ہے اور عورت کی تکریم، اس کی رائے کے احترام، اور اس کے اعزاز کے واقعات قدم قدم پر مشعلوں کی صورت میں روشن دکھائی دیتے ہیں۔ آج کی صحبت میں ہم انہی میں سے ایک ایمان افروز واقعہ کا ذکر کرنا چاہتے ہیں۔

جناب نبی اکرمؒ کی زوجہ محترمہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کی ایک لونڈی تھی جس کا نام بریرہؓ تھا اور وہ مغیثؓ نامی ایک نوجوان کے نکاح میں تھی۔ حضرت عائشہؓ نے جب بریرہؓ کو آزاد کیا تو اسے اسلامی اصولوں کے مطابق ’’خیار عتق‘‘ حاصل ہوگیا۔ خیار عتق کا مطلب یہ ہے کہ کوئی لونڈی آزاد ہوتے وقت اگر کسی کے نکاح میں ہو تو اسے یہ اختیار حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ اگر اپنے اس خاوند کے نکاح میں نہ رہنا چاہے تو اس سے الگ ہو جائے۔ بریرہؓ نے یہ حق استعمال کرتے ہوئے اپنے خاوند مغیثؓ سے علیحدگی اختیار کر لی جس کا مغیثؓ کو بے حد صدمہ ہوا۔ احادیث میں ذکر ہے کہ مغیثؓ اس صدمہ میں گلیوں میں روتا پھرتا تھا اور لوگوں سے کہتا تھا کہ کوئی میری سفارش کرے اور بریرہؓ کو مجھ سے راضی کرا دے۔

رفتہ رفتہ بات جناب نبی اکرمؐ تک پہنچی۔ حضورؐ نے مغیثؓ کو بلا کر پوچھا تو اس نے کہا کہ میں بریرہؓ کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ لیکن جب بریرہؓ سے پوچھا گیا تو اس اللہ کی بندی نے جواب دیا کہ میں مغیثؓ کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ جناب رسول اللہؐ نے بریرہؓ سے مغیثؓ کی سفارش کی اور فرمایا کہ اگر تم واپس اس کے پاس چلی جاؤ تو بہتر ہے۔ اس پر بریرہؓ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! آپ مجھے مغیثؓ کے پاس واپس جانے کا حکم دے رہے ہیں یا یہ آپ کا مشورہ ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ حکم نہیں مشورہ ہے۔ اس پر بریرہؓ نے جو جملہ کہا وہ عورت کی رائے اور حق کے احترام کی روشن مثال ہے۔ اس نے کہا ’’مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔ اس پر مغیثؓ اور بریرہؓ کے نکاح کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔

بریرہؓ نے اپنے حق کا آزادانہ استعمال کیا اور اس کے بارے میں اللہ کے نبی کا مشورہ بھی قبول نہیں کیا۔ لیکن اپنے حق اور رائے پر سختی کے ساتھ قائم رہتے ہوئے بھی اس صحابیہ نے اس احتیاط کا دامن ضرور تھامے رکھا کہ کہیں حکم کی خلاف ورزی نہ ہو جائے، اسی لیے حضورؐ سے پوچھا کہ یہ آپ کا حکم ہے یا مشورہ ہے۔ گویا انہوں نے یہ بات واضح کر دی کہ اگر حکم ہوتا تو سرتابی کی مجال نہ تھی، ہاں مشورہ ہے تو اس کو قبول کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہے۔

اس واقعہ میں ہمیں سنت نبویؐ سے دو سبق ملتے ہیں۔ ایک یہ کہ عورت کو جو اختیار حاصل ہے اسے وہ کسی روک ٹوک کے بغیر استعمال کر سکتی ہے۔ دوسرا یہ کہ اختیار صرف اس وقت تک اختیار ہے جب تک وہ وحی الٰہی سے نہ ٹکرائے لیکن جب وحی سامنے آجائے تو اس کے مقابلہ میں کسی کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا۔ الغرض یہ واقعہ جو احادیث کی اکثر کتابوں میں مذکور ہے، عورت کی رائے کے احترام کی واضح مثال ہے، چنانچہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ اسلام کے دامن میں عورت کے لیے جبر کے سوا کچھ نہیں تو اسے عناد اور ضد کے سوا کوئی اور عنوان نہیں دیا جا سکتا۔

   
2016ء سے
Flag Counter