دورِ حاضر کی اہم دینی ضروریات: ایک بیٹی کا خط

   
۱۵ مئی ۲۰۱۰ء

ایک بیٹی نے مندرجہ ذیل مکتوب میں دورِ حاضر کی بعض اہم دینی ضروریات کی طرف توجہ دلائی ہے جو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے، امید ہے کہ متعلقہ حضرات اس پر خصوصی توجہ فرمائیں گے۔

’’محترم جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج بخیر!

میں آپ کا کالم روزنامہ اسلام میں بہت شوق سے پڑھتی ہوں، اللہ پاک نے آپ کو وسیع الظرفی، حقیقت پسندی، جدید حالات کا فہم، مغربی ذہنیت کا ادراک، قدیم مسائل کو جدید حالات پر منطبق کرنا، بے تکلف قوتِ تحریر، طبعیت میں اکابر والی سادگی، سلف صالحین کے اصل مزاج کو باقی رکھتے ہوئے جدید حالات کے تقاضوں کو پورا کرنے کی لگن، جدید طبقات سے قریبی روابط، مغربی دنیا کو بار بار قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کے مواقع، معاصر اہل علم کا اعتماد، تفسیرِ قرآن و علومِ حدیث سے طبعی مناسبت عطا فرمائی ہے۔ اللہم زد فزد۔ چند امور کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہتی ہوں، قوی امید ہے کہ آپ اپنے کالم اور بیانات میں دینی مدارس کے منتظمین، وفاق المدارس کی قیادت اور ائمہ و خطباء کو اس طرف متوجہ فرما کر احسان فرمائیں گے۔

  1. قرآن کریم کے ساتھ ہماری قوم کا عمومی رویہ یہ ہے کہ یہ اللہ پاک کی مقدس کتاب ہے، اسے بہت خوبصورت کاغذ پر پرنٹ کیا جائے، خوبصورت ریشمی غلاف میں سجایا جائے، بیمار کو دم کر کے پلایا جائے، یا کسی عزیز کے انتقال پر پڑھ کر ایصال ثواب کر دیا جائے۔ یہ کام اپنی جگہ قابل قدر ہیں مگر اس کتاب کے نزول کا مقصد نہیں، نہ خیر القرون کے لوگوں کا رویہ اس کتاب کے ساتھ یہ تھا۔ حضرت شیخ الہندؒ جب مالٹا کی جیل سے واپس تشریف لائے تو فرمایا کہ

    ’’جیل کی تنہائی میں میں نے غور کیا کہ مسلمانوں کی پریشانی کے دو سبب ہیں: (۱) فہمِ قرآن سے دوری (۲) آپس کا اختلاف ۔ ۔۔ اور یہ عزم لے کر آیا ہوں کہ بقیہ زندگی قریہ قریہ لفظاً و معناً قرآن کو عام کروں گا اور مسلمانوں کو جوڑنے کی کوشش کروں گا۔‘‘

    آپ کے والد محترم اور چچا جان کی زندگی کا اہم مشغلہ پوری استقامت کے ساتھ درسِ قرآن و حدیث رہا ہے جس کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ وفاق المدارس سے تیرہ ہزار مدارس اور لاکھوں فضلاء و فاضلات منسلک ہیں، اگر ہر مدرسہ کی طرف سے ایک عالم ہفتہ میں دو جگہ درسِ قران و حدیث دے تو ہزاروں مربع میل میں علماء اور عوام کا رابطہ ہوگا اور دین کی طلب پیدا ہوگی۔ گزشتہ دنوں تحفظِ مدارس دینیہ کے نام سے جو کنونشن ہوئے اگر اتنا زور اور سرمایہ ائمہ و خطباء، وفاق المدارس کے فضلاء و فاضلات اور دینی مدارس کے اساتذہ کو درسِ قرآن و حدیث اپنے ماحول میں شروع کرنے کے لیے لگایا جاتا تو اتنا فائدہ ہوتا جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، اور وہ تمام مقاصد بھی حاصل ہوتے جن کے لیے یہ کنونشن ہوئے۔ لہٰذا آپ سے گزارش ہے کہ اپنے بیانات، ختم بخاری کے اجتماعات اور اخباری کالم کے ذریعے وفاق المدارس کے فضلاء و مدرسین کو ترغیب دیں کہ ہفتہ میں دو دن درسِ قرآن و حدیث کا اہتمام ضرور کریں۔ اگر وفاق المدارس کے اکابرین ایک اشتہار کے ذریعے تمام فضلاء کو ترغیب دیں تو زیادہ فائدہ ہوگا۔ نیز دینی مدارس اور وفاق المدارس کے ضلعی نظماء اپنے علاقوں کے ائمہ و خطباء اور معلمات و معلمین کو جمع کر کے درجہ ذیل عنوانات پر تربیتی مذاکرہ کرلیں تو درسِ قرآن ایک تحریک کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

    (۱) درسِ قرآن کی اہمیت اور اس سلسلہ میں اکابرین کی خدمات۔

    (۲) درسِ قرآن کی تیاری کس طرح اور کن تفاسیر سے کرنی ہے۔

    (۳) درسِ قرآن کے مقاصد کیا ہونے چاہئیں۔

    (۴) موضوعاتی اور غیر موضوعاتی درسِ قرآن میں کیا فرق ہے۔

    (۵) ماڈرن مفسرین اور مفسرات کی طرف لوگ کیوں متوجہ ہو رہے ہیں، علماء کے درس میں ماڈرن طبقہ کیوں دلچسپی نہیں لیتا، اس کے اسباب کیا ہیں اور اس کا تدارک کیسے کیا جائے۔

    اگر درسِ قرآن کی یہ تحریک چار صفات کے ساتھ شروع ہو تو مہینوں میں اس کے فوائد سامنے آنے شروع ہو جائیں گے: (۱) وحدتِ کلمہ۔ (۲) وحدتِ فکر۔ (۳) اکابر سے مشورہ۔ (۴) تواضع۔ جیسے تبلیغ میں ہر آدمی کا ایک ہی بول ہے، ایک ہی فکر ہے، منت سماجت اور مشورہ ہے تو اللہ پاک اس کے اثرات پوری دنیا میں دکھا رہے ہیں۔

  2. دشمن بہت طاقتور اور مکار ہے۔ اس کے مقابلہ کے لیے جوش کی بجائے ہوشمندی اور دشمن کی چال، اسلوب و زبان کوسمجھنے کی ضرورت ہے۔ لال مسجد کے مذاکرات اس پر شاہد ہیں کہ وائٹ انکل اور اس کی روحانی اولاد قابلِ اعتماد نہیں۔ ان کی مکاریوں کا مقابلہ کرنے کے لیے موجودہ حالات میں حضرت نعیم بن مسعودؓ کی پالیسی، جو انہوں نے غزوۂ خندق و احزاب کے موقع پر یہودی قبائل کے ساتھ اپنائی، زیادہ مفید ہو سکتی ہے۔ آپ اس واقعہ پر غور فرما لیں جس کی طرف دینی مدارس سنجیدگی کے ساتھ توجہ نہیں دے رہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو نہیں ہے اور نئی تعلیمی پالیسی کے نتیجہ میں دس سال بعد جو نسل تیار ہوگی وہ صرف دس فیصد اردو جانے گی اور تمام دینی لٹریچر آہستہ آہستہ انگریزی میں لانا ضروری ہوگا۔ اس کے لیے جذبات اور افراط و تفریط سے بالاتر ہو کر سوچنے کی ضرورت ہے۔
  3. موسم گرما کی تعطیلات جون سے شروع ہو رہی ہیں، اس عرصہ میں اسکول و کالج کے طلبا و طالبات، معلمین و معلمات کے لیے مختصر فہمِ دین کورس شروع کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دینی مدارس کے منتظمین ائمہ و خطبا، وفاق کے فضلا و فاضلات اس میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وفاق المدارس کی طرف سے اس سلسلہ میں مہتمم حضرات کو ترغیبی لیٹر جاری کرنا زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔ آپ اپنے کالم میں بھی توجہ دلائیں تو احسان ہوگا۔
  4. اسلام اور تصوف کے عنوان پر مسلم ممالک خصوصاً پاکستان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ میں مغرب کے ماڈرن اور اعلیٰ تربیت یافتہ کلین شیو ماہر روحانیات، پیر اور پیرنیاں وائٹ پروفیسروں کی زیرنگرانی کالجوں، یونیورسٹیوں، فائیو اسٹار ہوٹلوں میں تصوف پر لیکچر دے رہے ہیں۔ جس میں تصوف کی اصطلاحات، صوفیاء کے طریقہ کار کو ’’جدید اسلوب‘‘ میں بڑے منظم انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ پروفیسر حضرات علم قیافہ، مسمریزم، قوتِ خیال، جادو، تعویذات و عملیات، مختلف امراض کی تشخیص کے کرتب دکھاتے ہیں، اکابر صوفیاء کے اقوال کا انگریزی میں ترجمہ و تشریح کر کے جدید طبقے کے مرد و خواتین کو متوجہ کر رہے ہیں۔ بظاہر ان کا مقصد جہاد سے مسلمانوں کا رخ موڑنا اور مدارس سے تعلق رکھنے والے جدید تعلیم یافتہ طبقہ کو بدظن کرنا ہے۔ میں نے ایک جگہ پڑھا تھا کہ آپ کے والد صاحب نے آپ کو تصوف پر کام کرنے کا حکم دیا تھا، اس سلسلہ میں ماہرین کی ضرورت ہے جو تصوف پر گہری نظر رکھتے ہوں۔ مغربی یونیورسٹیوں میں اس پر کافی تحقیق ہو رہی ہے، گوجرخان کے ایک پروفیسر صاحب یونیورسٹیوں میں اس موضوع پر لیکچر دے رہے ہیں، بڑے بڑے اعلیٰ عہدہ دار ان سے متاثر ہیں، ان کا صحیح نام معلوم نہیں۔
  5. علماء کی سرپرستی میں عصری علوم کے ادارے جن میں دینی تعلیم بھی ہو، وقت کی اہم ضرورت ہیں، خصوصاً دیہاتی علاقوں میں اس کی اہمیت اور زیادہ ہے۔ شہروں میں مساجد اور مدارس کی بھرمار ہے اور امت کا سرمایہ ان میں ضرورت سے زیادہ لگایا جا رہا ہے جبکہ نئی کالونیاں اور دور دراز علاقے خالی ہیں۔ وفاق المدارس سے فارغ ہونے والے ہر فاضل اور فاضلہ کی خواہش ہے کہ میں شہر میں ادارہ کھولوں۔

آپ دینی مدارس کے ختم بخاری کے اجتماعات میں آئندہ ماہ سے شرکت کریں گے، براہِ کرم ان امو رکی طرف بھی توجہ دلا دیں تو بہت بڑا احسان ہوگا۔

والسلام، آپ کی ایک روحانی بیٹی
   
2016ء سے
Flag Counter