ازبک اسلامک فرنٹ پر امریکی پابندی

   
تاریخ اشاعت: 
اکتوبر ۲۰۰۰ء

ہفت روزہ الہلال کراچی نے ۲۲ تا ۲۸ ستمبر ۲۰۰۰ء کی اشاعت میں ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کے حوالے سے خبر شائع کی ہے کہ امریکی حکومت نے ازبک مجاہدین کی تنظیم ’’ازبک اسلامک فرنٹ‘‘ کو بھی دہشت گرد قرار دے کر اس پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔ خبر کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے انسدادِ دہشت گردی کے شعبہ کے انچارج مائیکل شیان نے بتایا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کی فہرست پر نظرثانی کر کے اسے دوبارہ جاری کرنے کا کام عام طور پر دو سال بعد کیا جاتا ہے لیکن ازبک اسلامک فرنٹ کی سرگرمیوں کے پیشِ نظر دنیا بھر کی دیگر اسلامی تحریکات کو اس قسم کی کاروائی کا اشارہ دینے کے لیے دو سالہ مدت پوری ہونے سے پہلے ہی اسے دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس کا نام ممنوعہ جماعتوں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے۔ جس سے امریکی حکومت کی طرف سے دنیا بھر میں دہشت گرد قرار دی جانے والی تنظیموں کی تعداد انتیس ۲۹ ہو گئی ہے۔

ازبک اسلامک فرنٹ کا تعلق وسطی ایشیا کی ایک مسلم ریاست ازبکستان سے ہے جو جہادِ افغانستان کے نتیجے میں سوویت یونین کے بکھر جانے کے بعد اس خطہ کی دیگر مسلم ریاستوں کے ساتھ آزاد ہوئی تھی، لیکن ان سب ریاستوں کے حکومتی ڈھانچے اور نظامِ مملکت حتٰی کہ حکمران ٹیمیں بھی بدستور وہی چلی آ رہی ہیں جو روسی تسلط کے دوران کمیونسٹ حکومت کے طور پر ان کا نظام سنبھالے ہوئے تھیں۔ جبکہ ازبک اسلامک فرنٹ اور اس جیسی متعدد دیگر تنظیمیں ان ریاستوں میں اس مقصد کے لیے سرگرمِ عمل ہیں کہ سوویت یونین سے گلوخلاصی کے بعد کمیونسٹ نظام اور اس دور کے حکمران طبقوں سے بھی نجات حاصل کی جائے اور ان ممالک میں اسلامی نظام کا نفاذ عمل میں لایا جائے۔ ان میں بعض مسلح تحریکیں ہیں، اور علمی و فکری تحریکات بھی ہیں، جن کا طریق کار ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ لیکن ہدف سب کا یہی ہے کہ کمیونسٹ نظام اور کمیونسٹ دور کی حکومتوں سے چھٹکارا حاصل کر کے ازبکستان، تاجکستان، ترکمانستان، قازقستان، آذربائیجان اور وسطی ایشیا کی دیگر مسلم ریاستوں میں قرآن و سنت کا نظام نافذ کیا جائے۔ اور امریکہ کی طرف سے ازبک اسلامک فرنٹ کو دہشت گرد قرار دینے کی اصل وجہ بھی یہی ہے کہ افغانستان میں طالبان کی اسلامی حکومت کے اثرات کو وسطی ایشیا کی ان ریاستوں تک پھیلنے سے روکا جائے۔

دراصل جہادِ افغانستان کے دوران روسی افواج کی شکست کے آثار نمایاں ہوتے ہی اس بات کی منصوبہ بندی شروع ہو گئی تھی کہ افغان مجاہدین کے نظریاتی اثر و رسوخ اور جہادی دائرہ کو وسیع نہ ہونے دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے امریکہ کے سابق صدر آنجہانی نکسن نے بہت فعال اور متحرک کردار ادا کیا تھا، اور روسی دانشوروں کو انہوں نے ہی اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ وہ امریکہ کے خلاف محاذ آرائی ترک کر دیں تاکہ امریکہ اور روس دونوں مل کر اپنے مشترکہ دشمن اِسلام کے خلاف صف آرا ہو سکیں۔ اسی مفاہمت کے نتیجے میں وسطی ایشیا کی ریاستوں پر سوویت یونین کا شکنجہ ڈھیلا کر دیا گیا تھا تاکہ وہ اس ظاہری آزادی پر قناعت کرتے ہوئے کمیونسٹ نظام کے خلاف بغاوت پر نہ اتر آئیں۔ لیکن یہ فسوں زیادہ دیر تک نہیں چل سکا اور وسطی ایشیا کی ان مسلم ریاستوں کے عوام دھیرے دھیرے اس حقیقت کو سمجھتے جا رہے ہیں کہ آزادی کے نام پر ان ملکوں میں کمیونسٹ نظام اور کمیونسٹ حکومتوں کو بدستور باقی رکھنے کا ڈھونگ رچایا گیا تھا۔ اس لیے وہاں اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے اور مختلف گروپ اس کے لیے متحرک ہو رہے ہیں جن کا راستہ روکنے کے لیے امریکہ نے مذکورہ کاروائی کی ہے۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ وسطی ایشیا کے مسلمان بالآخر کمیونسٹ نظام اور حکومتوں سے بھی جلد نجات حاصل کر لیں گے۔

   
2016ء سے
Flag Counter