شخصی غلامی کا نیا ایڈیشن

   
فروری ۲۰۰۳ء

روزنامہ جنگ راولپنڈی نے ۳۱ دسمبر ۲۰۰۲ء کی اشاعت میں امریکی محکمہ خارجہ کی ایک رپورٹ کے حوالہ سے بتایا ہے کہ ہر سال دنیا میں عصمت فروشی اور جبری مشقت کے لیے چالیس سے ساٹھ لاکھ افراد کی خرید و فروخت ہوتی ہے اور تقریباً ہر سال پچاس ہزار افراد کو غیر قانونی طور پر امریکہ سمگل کیا جاتا ہے جن میں زیادہ تر تعداد کمسن بچیوں کی ہوتی ہیں جنہیں زبردستی عصمت فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے لاکھوں انسان بہتر مستقبل کی تلاش میں ۲۱ ویں صدی کے ’’غلامی‘‘ کے تاجروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ لاس اینجلس میں واقع غلامی اور انسانی تجارت کے خاتمہ کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے کے سربراہ ڈینس نے کہا ہے کہ مرد اور عورتیں ان علاقوں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جہاں روزگار کے مواقع نہیں، تاہم ان کے پاس اکثر نقل مکانی کے لیے وسائل موجود نہیں ہوتے اور وہ مجرموں کے منظم گروہوں کا سہارا لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

انسانوں کی غیر قانونی نقل و حرکت کے کاروبار سے سالانہ سات ارب ڈالر منافع کمایا جاتا ہے۔ ان مجبور تارکین وطن کو ہر جگہ دیکھا جا سکتا ہے، مغربی یورپ میں، تیل سے مالامال خلیجی ریاستوں میں، جاپان میں، تھائی لینڈ میں، یہاں تک کہ ’’آزاد لوگوں‘‘ کی سرزمین امریکہ میں بھی لاکھوں افراد کو جبری محنت اور عصمت دری کے لیے سمگل کیا جاتا ہے۔ امریکہ لائے جانے والے تارکین وطن میں زیادہ تر تعداد نوعمر لڑکیوں کی ہوتی ہے جنہیں نائٹ کلبوں، ریستورانوں اور قحبہ خانوں میں عصمت فروشی کے لیے پیش کیا جاتا ہے، انہیں ایسے تمام کاموں کا کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا جاتا، ان افراد کا زیادہ تر تعلق جنوب مشرقی ایشیائی اور افریقی ممالک سے ہوتا ہے، ان لوگوں کو ہفتے میں کوئی چھٹی بھی نہیں دی جاتی۔ امریکی محکمہ خارجہ کی سینئر کوارڈینیٹر شرن پائر کہتی ہیں کہ جیسے جیسے ملکوں کی سرحدیں ختم ہوتی جا رہی ہیں، مجرموں کے منظم گروہ ان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، یہ گروہ انتہائی اثر و رسوخ اور طاقت رکھتے ہیں۔ اکتوبر ۲۰۰۰ء میں امریکی کانگریس نے اس کی روک تھام کے لیے ایکٹ پاس کیا اور محکمہ بھی بنایا لیکن تمام قوانین اور محکموں کی موجودگی میں بھی امریکہ اور یورپ سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں یہ کاروبار جاری ہے۔

اس رپورٹ سے امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں کے اس دعوے کا اندازہ کیجئے جو وہ گزشتہ نصف صدی سے بڑی بلند آہنگی کے ساتھ دہراتے آرہے ہیں کہ انہوں نے دنیا میں غلامی کا خاتمہ کردیا ہے اور اقوام متحدہ کے منشور کے تحت انسانوں کی خرید و فروخت کو ممنوع قرار دے کر غلامی کے کاروبار کو دنیا سے مٹا دیا ہے لیکن اقوام متحدہ کے منشور اور خاص طور پر امریکی حکومت کے بلند بانگ اعلانات کے باوجود امریکہ سمیت دنیا کے بیشتر ملکوں میں انسانوں کی خرید و فروخت کا کاروبار جاری ہے اور ہر سال دنیا میں چالیس لاکھ سے زیادہ انسانوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے جن سے جبری مشقت لی جاتی ہے اور انہیں کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا، وہ ہفتہ میں ایک دن کی چھٹی کے حق سے بھی محروم ہوتے ہیں، لڑکیاں جبری عصمت دری کا نشانہ بنتی ہیں اور ان کی خرید و فروخت کا باقاعدہ ’’کاروبار‘‘ ہوتا ہے۔ اس سے مغرب کے اس دعوے کی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ معاشرہ میں جرائم پر قابو پانے اور انسان کو انسان کے ظلم و حاکمیت سے نجات دلانے کے لیے صرف قانون کافی ہے اور قومیں اور طبقات آپس میں معاہدے کرکے اور قوانین و احکام نافذ کرکے انسانی معاشرہ کو جرائم اور مظالم سے نجات دلا سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے نصف صدی کے تجربہ سے یہ بات ایک بار پھر واضح ہوگئی ہے کہ جب تک عقیدہ اور اخلاقیات کی قوت کارفرما نہ ہو، کسی انسان کو صرف قوانین اور معاہدات کے ذریعہ ظلم و جبر اور جرم و ناانصافی سے روکنا ممکن نہیں ہے۔

اس لیے اگر آج بھی مغرب انسانی سوسائٹی کو جرائم، مظالم اور ناانصافی سے پاک دیکھنا چاہتا ہے تو اسے عقیدہ اور اخلاق کی قوت کی طرف واپس آنا پڑے گا اور یہ صرف آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کو قبول کرکے ہی ممکن ہے۔ لاکھوں انسانوں کی خرید و فروخت اور شخصی غلامی کا یہ نیا ایڈیشن مغرب کے فلسفہ اور اقوام متحدہ کے نام نہاد عالمی نظام کی ناکامی کی کھلی دلیل ہے، اس لیے مغرب اور اس کے حواری جتنی جلدی عقیدہ و اخلاق کی طرف واپسی کی ضرورت محسوس کرلیں اسی میں نسل انسانی کا فائدہ ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter