امریکہ میں دینی مصروفیات

   
تاریخ اشاعت: 
نومبر ۲۰۰۳ء

میں ۱۹ ستمبر ۲۰۰۳ء سے امریکہ ہوں اور رمضان المبارک کے دوسرے ہفتہ کے دوران واپسی کا ارادہ ہے ان شاء اللہ تعالیٰ۔ امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کی قریب ریاست ورجینیا کے علاقہ اسپرنگ فیلڈ میں دارالہدیٰ کے نام سے ایک دینی مرکز قائم ہے جس میں مسجد کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی تعلیم کا مکتب اور طالبات کے لیے اسکول بھی کام کر رہا ہے۔ اس کے بانی و منتظم مولانا الحمید اصغر نقشبندی کا تعلق بہاولپور سے ہے، انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں استاذ رہے ہیں، حضرت مولانا حافظ غلام حبیب نقشبندی ؒ کے خلیفہ مجاز ہیں لیکن امریکہ آنے کے بعد انہوں نے انجینئرنگ کی بجائے دینی تعلیم کا شعبہ اختیار کر لیا اور کم و بیش پندرہ سولہ برس سے وہ انہی خدمات میں مصروف ہیں۔ مئی ۲۰۰۳ء کے دوران دو ہفتے کے لیے میں امریکہ آیا تو انہی کے ہاں قیام رہا اور انہوں نے اصرار کیا کہ اس سال مدرسہ نصرت العلوم کی سالانہ تعطیلات کے دوران کم و بیش چالیس دن کا وقت ان کے ادارہ کے لیے نکالوں تاکہ وہ یہاں کے پڑھے لکھے دوستوں کے لیے آج کے عالمی حالات کے تناظر میں دینی ضروریات کے مختلف عنوانات پر لیکچر کے لیے ایک کورس کا اہتمام کر سکیں۔ میں نے ان سے وعدہ کر لیا اور ۱۹ ستمبر کو ان کے ہاں پہنچنے کا پروگرام بنا لیا۔

امریکہ آتے ہوئے راستہ میں ایک رات کا قیام لندن میں رہا جہاں وائٹ چیپل کے علاقہ میں بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے نوجوان علماء کرام کے قائم کردہ ابراہیم کالج میں ’’رد قادیانیت کورس‘‘ کا اس روز آغاز تھا، جس میں سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی نے دس روز تک علماء کرام کو رد قادیانیت کی تیاری کرائی۔ اختتامی تقریب میں شرکت کی مجھے بھی سعادت حاصل ہوگئی بلکہ مولانا منظور احمد چنیوٹی کے ارشاد پر افتتاحی گفتگو بھی میں نے کی اور علماء کرام سے درخواست کی کہ وہ دور حاضر کے فتنوں سے آگاہی کی ضرورت کا احساس کریں اور اصحاب فن سے رجوع کرکے ان فتنوں کے مقابلہ کی تیاری کریں۔ لندن سے دوسرے روز مجھے واشنگٹن جانا تھا مگر طوفان بادوباراں کی وجہ سے واشنگٹن کے تمام ایئرپورٹ اس روز بند تھے اور لوگ اس حقیقت کا نظارہ کر رہے تھے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں اعلیٰ ترین مہارت اور وسائل سے بہرہ ور ملک بھی قدرتی آفات کے سامنے بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ چنانچہ مجھے واشنگٹن کی بجائے نیویارک کی فلائٹ دی گئی اور ایک روز کی تاخیر کے بعد جب میں جمعہ کی شام کو نیویارک سے ایک دوسری فلائٹ کے ذریعہ واشنگٹن پہنچا تو دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک کے وفاقی دارالحکومت کے کئی حصے ابھی تک بجلی سے محروم تھے، گیس کی سپلائی معطل تھی، بعض علاقوں میں پانی کی سپلائی رکی ہوئی تھی اور میں جب اپنے ایک عزیز کے ہاں پہنچا تو وہاں ایک اور فیملی بھی مہمان تھی جن کے بارے میں بتایا کہ ان کے محلہ میں کل سے بجلی، پانی اور گیس مسلسل بند ہیں اور ان کے لیے گھر میں کھانا پکانا بھی مشکل ہوگیا ہے اس لیے وہ یہاں آئے ہوئے ہیں۔

چالیس روزہ کورس میں دس روز سیرت نبویؐ پر لیکچرز کے لیے مخصوص تھے جن میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی (۱) گھریلو زندگی (۲) خاندانی زندگی (۳) مجلس زندگی (۴) عدل و انصاف (۵) غیر مسلموں سے تعلقات (۶) صلح و جنگ (۷) عورتوں سے سلوک (۸) غلاموں سے سلوک (۹) تجارتی زندگی اور (۱۰) وفود اور مہمانوں کے ساتھ سلوک و معاملہ کے عنوانات پر روزانہ مغرب کے بعد گفتگو ہوتی رہی۔ اس کے ساتھ احباب نے تقاضہ کیا کہ حدیث نبویؐ کی کسی کتاب کا باقاعدہ درس بھی دیا جائے جس پر بخاری شریف کی کتاب العلم اور مسلم شریف کی کتاب الفتن کے درس کا فیصلہ ہوا، بحمد اللہ تعالیٰ بخاری شریف کی کتاب العلم کا درس مکمل ہو چکا ہے اور مسلم شریف کی کتاب الفتن ان دنوں چل رہی ہے، بہت سے حضرات ذوق و شوق کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔ جب سے آیا ہوں جمعہ کا خطبہ بھی دارالہدیٰ میں چل رہا ہے۔ البتہ اس دوران نیویارک، بفیلو اور ریاست الاباما کے شہر برمنگم جانے اور کچھ دینی اجتماعات میں شرکت کا موقع بھی ملا۔ یہاں کے مسلمانوں میں دینی معلومات حاصل کرنے اور اپنے بچوں کو قرآن و سنت کی تعلیم دلانے کا شوق دن بدن بڑھ رہا ہے اور مسلمان ایسے سکولوں کے قیام کی طرف پہلے سے زیادہ متوجہ ہیں جن میں مروجہ سرکاری نصاب کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت کی تعلیم اور دینی ماحول کا بھی اہتمام ہو۔ برمنگھم (الاباما) سے متصل ایک بستی ہوور میں مسلمانوں کے ایک اسکول میں جانے کا اتفاق ہوا جہاں پرائمری تک تعلیم ہوتی ہے، چھوٹے چھوٹے بچوں کو اسکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ قرآن کریم پڑھتے اور ظہر کی نماز سکول کی مسجد میں باجماعت ادا کرتے دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی۔ میرے پرانے دوست افتخار رانا نے جن کا تعلق گکھڑ سے ہے بتایا کہ ان کے بچے عماد رانا نے بھی پرائمری تعلیم اسی سکول میں حاصل کی ہے اور جب اس نے تعلیم مکمل کی تو دین کی بنیادی باتوں سے بخوبی واقف ہونے کے علاوہ وہ قرآن کریم کے آخری تین پارے حفظ کر چکا تھا۔

میں ۱۹۸۷ء سے ۱۹۹۰ء کے دوران چار پانچ بار امریکہ آچکا ہوں، مجھے اس وقت کے حالات سے اب کے حالات میں خاصا فرق محسوس ہو رہا ہے اور دینی بیداری اور اسلامی تہذیب و اقدار کے ساتھ وابستگی کے جذبات میں بہت اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔ خدا کرے کہ یہ پیشرفت اسی طرح جاری رہے اور امریکہ میں مختلف مسلم ممالک سے آنے والے لاکھوں مسلمان اس ملک میں اپنا دینی تشخص اور تہذیبی امتیاز برقرار رکھنے میں کامیاب ہوجائیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter