اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات

   
اپریل ۲۰۱۲ء

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۱۹ مارچ ۲۰۱۲ء میں شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ:

’’اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے پارلیمنٹ کو بھجوائی گئی ۹۵ ہزار کے قریب سفارشات اور ۷۰ کے لگ بھگ رپورٹیں قانون سازی کا حصہ بننے کی بجائے کاغذوں کی نذر ہو کر رہ گئی ہیں اور ان رپورٹوں کو اب تک کسی ایجنڈے کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ اس حوالہ سے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے وزیر اعظم سے ملاقات کا وقت مانگا مگر باضابطہ جواب نہیں دیا گیا۔ کونسل کی گزشتہ چند سال میں صرف خواتین کے حقوق اور جبری مشقت کے بارے میں سفارشات پر کسی حد تک عمل کیا گیا جبکہ باقی سفارشات بے معنی ہو کر رہ گئیں۔ قریبی ذرائع کے مطابق ان سفارشات اور رپورٹس میں ۱۹۶۰ء سے ملک میں نافذ عائلی قوانین پر نظر ثانی کرانے کی بھی بات کی گئی ہے تاہم یہ رپورٹس پارلیمنٹ کے تہہ خانے میں دبا دی گئی ہیں۔‘‘

اسلامی نظریاتی کونسل دستور پاکستان کے تحت قائم ہونے والا ایک آئینی ادارہ ہے جس کے قیام کی غرض ہی یہ ہے کہ وہ ملک میں رائج قوانین پر نظر ثانی کرتے ہوئے انہیں قرآن و سنت کے مطابق بنانے کے لیے سفارشات مرتب کرے اور اس کی سفارشات کو باقاعدہ پارلیمنٹ میں پیش کر کے قانون سازی کے ذریعہ ملکی قوانین کا حصہ بنایا جائے۔ جہاں تک اسلامی نظریاتی کونسل کی محنت اور علمی کاوش کا تعلق ہے مختلف ادوار میں کونسل کی محنت قابل داد ہے اور اس نے اپنے حصہ کا فریضہ سر انجام دینے میں کوئی کوتاہی نہیں کی جس کا ثبوت اس خبر میں موجود ہے کہ پچانوے ہزار کے لگ بھگ سفارشات اور ستر کے قریب رپورٹیں پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے لیے وزارت قانون کی میز پر پڑی ہیں مگر ان میں سے ایک دو کے سوا باقی سب سفارشات اور رپورٹیں دستور کے مطابق پارلیمنٹ میں پیش ہونے کی بجائے وزارت قانون کے فریزر میں منجمد پڑی ہیں۔ اس کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہے کہ ہماری حکومتوں کو ملکی قوانین کو اسلامی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالنے سے سرے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ وہ اس کام میں عملاً گریز اور ٹال مٹول سے کام لے رہی ہیں۔

ملک میں نفاذِ اسلام کے لیے ہتھیار اٹھانے کی ہم نے کبھی حمایت نہیں کی اور اب بھی اس کو روا نہیں سمجھتے مگر سوال یہ ہے کہ جب ہماری حکومتوں کا نفاذِ اسلام کے بارے میں طرز عمل مسلسل یہ چلا آرہا ہے اور ہماری دینی سیاسی جماعتوں کے ایجنڈے میں بھی اس مسئلہ نے عملاً ثانوی حیثیت اختیار کر رکھی ہے تو نفاذ اسلام کے لیے مخلصانہ جدوجہد کرنے والوں کے لیے ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘ کے مصداق بالآخر ہتھیار اٹھا لینے کے سوا اور کون سا آپشن باقی رہ جاتا ہے؟ اس سنجیدہ سوال کا جواب صرف حکمرانوں کے ذمہ نہیں بلکہ ہماری دینی سیاسی جماعتوں کو بھی اس سوال کی سنگینی کا بہرحال احساس کرنا ہو گا۔

   
2016ء سے
Flag Counter