قربانی کا مقصد: رضائے الٰہی اور انسانی اخوت

   
۱۲ اگست ۲۰۱۹ء

(عید الاضحٰی کے موقع پر لکھا گیا کالم جو تاخیر اور تعطیلات کی وجہ سے اخبارات میں شائع نہیں ہو سکا۔)

اس دفعہ عید الاضحٰی اور یومِ آزادی اکٹھے آرہے ہیں اور وطنِ عزیز کے مسلمان جہاں جانوروں کی قربانی کریں گے وہاں ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کے ماحول کی انسانی قربانیوں کو یاد کریں گے اور عالمِ اسلام خصوصاً اپنے پڑوس مقبوضہ کشمیر میں انہی قربانیوں کے تسلسل میں قربان ہونے والے مظلوم مسلمان بھائیوں کے ساتھ ہم آہنگی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے بارگاہِ ایزدگی میں ان کے لیے دعاگو ہوں گے۔

گزشتہ روز عرفات کے میدان میں اس سال کے امیر حج معالی الشیخ محمد بن حسن آل الشیخ حفظہ اللہ تعالٰی نے جو خطبہ ارشاد فرمایا ہے اس میں کشمیر، فلسطین، اراکان اور دیگر خطوں کے مظلوم مسلمانوں کا تذکرہ نہ ہونا مجھے بھی محسوس ہوا ہے اور خطبہ سن کر دل میں حسرت ابھری کہ کاش دعا میں ہی کچھ ذکر ہو جاتا لیکن بہرحال شیخ محترم حفظہ اللہ تعالٰی کی دنیا بھر کے مسلمانوں کو یہ تلقین اچھی لگی کہ (۱) سیاسی قوت بنو (۲) باہمی وحدت کو فروغ دو (۳) دیانت اختیار کرو (۴) اچھے اخلاق کا عملی مظاہرہ کرو کہ شاید ہماری اجتماعی اور مِلی بیماریوں کی تشخیص یہی ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو کے ماحول میں عسکری یلغار اور جبر و تشدد کا جو بازار گرم ہے وہ ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کی انہی قربانیوں کا تسلسل ہے جس میں ہزاروں مسلمان صرف اس جرم میں ذبح اور لاکھوں بے گھر ہو گئے تھے کہ وہ ’’پاکستان‘‘ چاہتے تھے اور اسے اپنی منزل سمجھتے تھے۔ وہ پاکستان جو مسلمانوں کی تہذیبی شناخت اور نظریاتی تشخص کے تحفظ کے لیے قائم کیا جا رہا تھا اور جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ اس میں مسلمان حفظ و امان میں ہوں گے، اپنی تہذیبی و ثقافتی روایات کو برقرار رکھ سکیں گے، اللہ تعالٰی اور اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام و تعلیمات پر عملدرآمد کے ماحول میں زندگی گزار سکیں گے، اور انہیں ہندو اکثریت کے معاشی تسلط، عددی بالادستی اور سیاسی حاکمیت کے خوف سے نجات ملے گی۔ اس منزل سے ہمکنار ہونے کے لیے ایک بڑی تعداد ذبح ہو گئی، اس سے بڑی تعداد گھر بار چھوڑ کر جلاوطن ہوئی اور آگ و خون کا دریا عبور کر کے پاکستان پہنچ پائی۔

کشمیریوں کا جرم بھی یہی ہے کہ وہ قیامِ پاکستان کے وقت سے ہی پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں، اپنے دینی اور تہذیبی تشخص سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں، اور چونکہ اپنے خطہ میں واضح اکثریت رکھتے ہیں اس لیے وہ آزادی اور خودمختاری کا حق مانگ رہے ہیں۔ اگرچہ عالمی برداری اور اقوامِ متحدہ نے اس معاملہ میں کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کرتے ہوئے کشمیری عوام سے اس کے اہتمام کا وعدہ کر رکھا ہے مگر ستر سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود عالمی برادری یا بھارت کی جانب سے اس سلسلہ میں کوئی سنجیدہ کوشش سامنے نہیں آئی، بلکہ بھارت اس کے برعکس عسکری تسلط اور جبر و تشدد کے ذریعے آزادیٔ کشمیر کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کا طرز عمل اختیار کیے ہوئے ہے، جبکہ دنیا کی صورتحال کچھ اس طرح دکھائی دیتی ہے کہ عالمی برادری کا اختیار اور قوت صرف بے بس ملکوں کو دبانے کے ہی کام آتا ہے اور بڑے اور با اثر ملکوں کے معاملہ میں سب خاموش سادھو بن کر بیٹھے رہتے ہیں۔

بہرحال ۱۹۴۷ء کی انسانی قربانیوں کی یاد، مقبوضہ کشمیر اور بہت سے دیگر خطوں میں ظلم و جبر کا شکار ہونے والے مسلمانوں کی قربانیاں، اور دنیا بھر میں سنتِ ابراہیمیؑ کے مطابق لاکھوں جانوروں کی قربانیوں کا ماحول ان تین دنوں میں جمع ہو گئے ہیں جو بلاشبہ ملتِ اسلامیہ خصوصاً اسلامیانِ پاکستان کے لیے کسی بڑے امتحان سے کم نہیں ہیں، اللہ تعالٰی ہم سب کو اس میں سرخروئی نصیب فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

اس موقع پر سنتِ ابراہیمیؑ والی قربانی کے حوالہ سے ایک بات عرض کرنے کو جی چاہتا ہے کہ اس کا اصل مقصد تو اللہ تعالٰی کی رضا ہے مگر ظاہری مقصد قرآن کریم نے ’’فکلوا منہا واطعموا القانع والمعتر‘‘ بیان فرمایا ہے کہ خود بھی کھاؤ اور غریب و امیر سب کو کھلاؤ۔ حتٰی کہ اس کھلانے میں غیر مسلموں کو بھی محروم نہیں رکھا گیا کہ یہ اللہ تعالٰی کی طرف سے اس کے بندوں کی مہمانی ہے جس سے کسی کو محروم نہیں رہنا چاہیے۔

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف احادیث میں قربانی کے اس مقصد کو بیان فرمایا ہے جن میں ایک حدیثِ مبارکہ کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ جناب نبی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سال عید الاضحٰی کے خطبہ میں اعلان فرمایا کہ قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کسی کے گھر میں موجود نہیں رہنا چاہیے، جس کا مقصد یہ تھا کہ خود استعمال کر لو یا لوگوں میں تقسیم کر دو لیکن گوشت کا ذخیرہ نہ کرو۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اس سال چوتھے روز کسی قربانی کرنے والے کے گھر میں گوشت کی ایک بوٹی بھی باقی نہ رہی۔ اگلے سال عید الاضحٰی کے موقع پر آنحضرتؐ سے پوچھا گیا کہ گزشتہ سال آپ نے جو پابندی لگائی تھی کیا وہ اس سال کے لیے بھی ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ وہ صرف پچھلے سال کے لیے تھی اب باقی نہیں ہے ’’کلو وادخروا‘‘ کھاؤ اور سنبھال کر بھی رکھ سکتے ہو۔ اس کے ساتھ جناب نبی کریمؐ نے فرمایا کہ گزشتہ سال کچھ مہاجر خاندان مدینہ منورہ آئے ہوئے تھے جو غریب و مسافر تھے اور کھانے پینے کی سہولتیں انہیں عام میسر نہیں تھیں، یہ پابندی اس لیے تھی کہ انہیں بھی قربانی کا گوشت میسر آسکے۔

اس سے جہاں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قربانی کا اصل مقصد دوسروں کو کھلانا پلانا ہے، وہاں فقہاء کرامؒ نے اس سے یہ اصول بھی اخذ کیا ہے کہ اگر سوسائٹی میں کچھ لوگوں کو عمومی ذرائع سے کھانے پینے کی ضروریات میسر نہ ہو رہی ہوں تو کھاتے پیتے لوگوں کو پابند کر دینا کہ وہ اپنی معمول کی ضروریات سے زائد اشیائے خود و نوش مستحقین پر لازماً صرف کریں، یہ بھی شریعت کا تقاضہ اور اسلامی ریاست کی ذمہ داری بن جاتا ہے جیسا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ مبارکہ اس سلسلہ میں واضح ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter