مغربی معاشرہ میں دینی تعلیم

   
تاریخ اشاعت: 
دسمبر ۱۹۹۲ء

مولانا محمد کمال خان ہمارے محترم بزرگ ہیں، سوات کے رہنے والے ہیں، ایک عرصہ تک ڈیوزبری (برطانیہ) کے تبلیغی مرکز کے دینی مدرسہ میں خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں اور اب نوٹنگھم کے قریب نیوارک سے متصل بلڈنگ خرید کر الجامعۃ الاسلامیہ کے نام سے ایک بڑا دینی ادارہ قائم کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ بلڈنگ رائل ایئر فورس کے آفیسرز کے ہاسٹل کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے، اس میں ڈیڑھ سو کے قریب کمرے ہیں اور مجموعی رقبہ دس ایکڑ سے زائد ہے۔ اس کی قیمت کی قرضہ حسنہ سے ادائیگی کے لیے اصحاب خیر سے رابطے کر رہے ہیں، خیال ہے کہ آنے والے رمضان المبارک کے بعد تعلیمی و تدریسی سلسلہ کا وہاں باقاعدہ آغاز ہو جائے گا، ان شاء اللہ العزیز۔ مولانا موصوف نے گزشتہ دنوں دو تین ملاقاتوں میں راقم الحروف سے ارشاد فرمایا کہ جامعہ کے تعلیمی نظام و نصاب کے بارے میں انہیں مشورہ دوں، یہ ان کا حسنِ ظن ہے، ورنہ بیس سالہ تدریسی زندگی گزارنے کے باوجود خود کو اس کا اہل نہیں سمجھتا کہ تعلیمی نظام و نصاب جیسے اہم اور نازک مسائل پر رائے زنی کر سکوں، تاہم ان کے حکم کی تعمیل میں اس موضوع پر قلم اٹھا رہا ہوں۔

برصغیر کے دینی مدارس کا پس منظر اور نظام و نصاب

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ تعلیمی نظام و نصاب کے کسی نئے خاکہ پر گفتگو سے پہلے دینی مدارس کے موجودہ نظام و ماحول پر مختصر سا تبصرہ ہو جائے تاکہ اس کا تاریخی پس منظر سامنے رہے۔ برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش اور برما میں دینی مدارس کا موجودہ نظام اس تسلسل کا ایک حصہ ہے جس کا آغاز ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی میں برصغیر کے مسلمانوں کی شکست کے بعد ہوا تھا۔ انگریز حکمرانوں نے جنگِ آزادی کو کچلنے کے بعد پورے برصغیر پر تعلیمی و تہذیبی یلغار کر دی تھی، مسلمانوں کے تعلیمی ادارے تباہ برباد کر دیے تھے اور زبان، قانون اور نظامِ تعلیم کو یکسر تبدیل کر کے پرانے تعلیمی نظام کی عملی افادیت کو یکسر ختم کر کے رکھ دیا تھا۔ اس وقت چند مردانِ باخدا نے امدادِ باہمی اور عوامی تعاون کی بنیاد پر دینی مدارس کے قیام کی طرف قدم بڑھایا۔ ابتدا میں دیوبند، سہارنپور اور مراد آباد میں چند دینی مدرسے قائم ہوئے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورے برصغیر میں ان مدارس کا جال بچھ گیا۔ ان مدارس میں فارسی اور عربی زبان کے ساتھ قرآن و حدیث، فقہ، اصول فقہ، ادب، منطق، فلسفہ اور دیگر متعلقہ علوم کو نصاب میں سمو دیا گیا اور ملّا نظام الدین سہالویؒ کے مرتب کردہ ’’درسِ نظامی‘‘ کے دائرہ میں رہتے ہوئے دینی ضروریات اور ترجیحات کا ایک ہدف متعین کر دیا گیا۔ اب تک ہمارے دینی مدارس اسی دائرے میں کام کر رہے ہیں اور معاشرہ ان کی جدوجہد کے ثمرات سے بہرہ ور ہو رہا ہے۔

تاریخ کے طالب علم اور نفاذِ شریعت کی جدوجہد کے نظریاتی کارکن کی حیثیت سے یہ بات عرصہ سے ذہن میں گردش کر رہی تھی کہ آزادیٔ وطن کے بعد دینی تعلیم کے اس پرانے نصاب و نظام کو جوں کا توں قائم رکھنے کی ضرورت باقی نہیں رہی، کیونکہ یہ نظام دورِ غلامی کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر ترتیب دیا گیا تھا اور آزادی کے بعد وہ تقاضے بدل گئے ہیں، اس لیے پورے تعلیمی نظام و نصاب میں اجتہادی تبدیلیوں بلکہ انقلاب کی ضرورت ہے۔ حتٰی کہ گزشتہ سال حکومت پاکستان کے قائم کردہ تعلیمی کمیشن کے ایک سوالنامہ کے جواب میں راقم الحروف نے یہ لکھ بھی دیا کہ علی گڑھ کا نظامِ تعلیم اور دیوبند کا نظامِ تعلیم دونوں دورِ غلامی کی یادگار ہیں اور دونوں کی بنیاد خوف اور تحفظات پر تھی:

  1. ایک طبقہ کے سامنے یہ خوف تھا کہ اگر مسلمان نوجوانوں نے جدید تعلیم اور انگریزی زبان سے بے اعتنائی برتی تو قومی زندگی کی دوڑ میں ہندو آگے بڑھ جائے گا اور قومی نظام زندگی کی باگ پر مسلمان کی گرفت قائم نہیں رہے گی، اس لیے اس طبقہ نے علی گڑھ کے نظام کی بنیاد رکھی۔
  2. دوسری طرف ایک طبقے کو یہ خوف تھا کہ اگر دینی علوم کی تعلیم و تدریس کا مناسب انتظام نہ ہو سکا تو قرآن و سنت اور ان سے متعلقہ علوم رفتہ رفتہ مسلمانوں کی زندگی سے نکل جائیں گے، نیز مسلمانوں کو مساجد میں نماز اور قرآن کریم پڑھانے والے ائمہ اور حفاظ میسر نہیں آئیں گے تو دین کے ساتھ ان کا تعلق قائم نہیں رہے گا اور رفتہ رفتہ یہ خطہ بھی اسپین بن جائے گا، اس لیے اس طبقہ نے دینی مدارس کے قیام کا سلسلہ شروع کر دیا۔

دونوں خوف اپنی اپنی جگہ بجا تھے اور ان کی بنیاد پر قائم ہونے والے دونوں تعلیمی نظاموں نے معاشرہ کی خدمت کی اور اپنے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے تاریخی کردار ادا کیا، لیکن آزادی اور قیامِ پاکستان کے بعد ان دونوں کو ختم ہو جانا چاہیے تھا کیونکہ اب ضرورت بالکل نئے نظام تعلیم کی ہے۔ جس کا خاکہ میرے نزدیک یہ ہے کہ کہ میٹرک تک تعلیم ہر شہری کے لیے لازمی قرار دی جائے جس میں مندرجہ ذیل امور شامل ہوں: (۱) علاقائی زبان (۲) اردو بحیثیت قومی زبان (۳) عربی بطور دینی زبان (۴) انگلش بطور بین الاقوامی زبان (۵) لکھنا پڑھنا (۶) روز مرہ ضروریات کا حساب (۷) جغرافیہ (۸) تاریخ (۹) جنرل سائنس (۱۰) ضروریات دین۔ یہاں تک تعلیم ہر شہری کے لیے ضروری ہو، اس کے لیے ایک ہی طرز کے تعلیمی ادارے ہوں جن میں کسی قسم کی طبقاتی ترجیحات نہ ہوں۔ میٹرک کے بعد تعلیم کو انجینئرنگ، میڈیکل، علم دین، تاریخ، سائنس، ٹیکنالوجی اور دیگر ضروری شعبوں میں تقسیم کر دیا جائے اور ہر شعبہ کی ضروریات کے مطابق قومی تعلیمی پالیسی کی منصوبہ بندی کی جائے۔

یہ خلاصہ ہے ان گزارشات کا جو سوالنامہ کے جواب میں قومی تعلیمی کمیشن کو میں نے بھجوائیں۔ اس کے ساتھ یہ احساس بھی رہا کہ ’’چھوٹا منہ بڑی بات والی‘‘ بات ہو گئی ہے، مگر گزشتہ دنوں مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی سے یہ معلوم کر کے بے حد مسرت ہوئی کہ ان کے والد محترم مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ نے قیامِ پاکستان کے بعد کم و بیش اسی نوعیت کے خیالات کا اظہار تعلیماتِ اسلامیہ بورڈ میں فرمایا تھا اور ان کا نقطۂ نظر بھی لگ بھگ یہی تھا۔ تفصیلات میں جائے بغیر صرف ایک مثال سے بات واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔ دینی مدارس نے دورِ غلامی میں بنیادی طور پر تین چار اہم خدمات سرانجام دی ہیں:

  • ایک یہ قرآن و حدیث اور ان سے متعلقہ علوم و فنون کی حفاظت کی ہے۔
  • دوسری یہ کہ مسلمانوں کو مساجد اور مدارس آباد رکھنے کے لیے ائمہ، حفاظ اور مدرسین مہیا کرتے رہے ہیں۔
  • تیسری یہ کہ مسلّمہ دینی عقائد و احکام کے خلاف اٹھنے والے ہر نظریاتی فتنہ کا تعاقب کیا ہے۔
  • اور چوتھی یہ کہ تحریکِ آزادی کو تربیت یافتہ قائدین اور کارکنوں کی کھیپ فراہم کی ہے۔

قیامِ پاکستان کے بعد دینی مدارس کی ذمہ داری

اب اس حوالہ سے قیامِ پاکستان کے بعد ملک میں شریعتِ اسلامیہ کی بالادستی اور نفاذ کی تحریک کی فکری و علمی قیادت بھی دینی مدارس کی ذمہ داری تھی اور دو کام انہوں نے بہرحال کرنا تھے:

  1. ایک یہ کہ اپنے طلبہ کو نفاذِ اسلام کے حوالے سے پیش آمدہ فکری و عملی مسائل سے مانوس کراتے اور حدیث و فقہ کی تدریس میں جدید تہذیبی، نظریاتی اور معاشرتی مسائل کو زیر بحث لایا جاتا تاکہ علماء میں ان مسائل پر قرآن و سنت کی روشنی میں بحث و تمحیص اور استنباط و استخراج کا ذوق بیدار ہوتا،
  2. اور دوسرا یہ کہ طلبہ و علماء کو ذہنی طور پر تیار کیا جاتا تاکہ وہ معاشرہ میں شریعت کی بالادستی کی جدوجہد کی قیادت کریں۔

لیکن یہ دونوں کام ہمارے مدارس میں نہیں ہوئے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ قومی سیاست تو اپنی جگہ، خود نفاذِ شریعت کی جدوجہد بھی فکری انارکی کا شکار ہے اور اس پر سنجیدہ دینی حلقوں کی گرفت نہیں ہے۔ ہمارے ہاں حدیث کی کتابوں میں رفع یدین اور آمین بالجہر جیسے فروعی مباحث پر ہفتوں صرف ہو جاتے ہیں، مجھے ان ضروریات سے انکار نہیں اور اپنی ضرورت کے دائرہ میں ہر علمی بحث کی اہمیت مسلّم ہے، لیکن میں اس وقت اپنے جذبات کو قابو میں نہیں رکھ سکتا جب دیکھتا ہوں کہ قانون سازی کی حدود، آبادی کے کنٹرول، سود، نظریہ ارتقا، جدلی معاشیات، اباحیت مطلقہ، اسلامی حکومت کی سیاسی بنیاد، اور انسانی حقوق کے حوالے سے جو مسائل قدم قدم پر دامن پکڑے ہمارا منہ چڑا رہے ہیں، ان پر کوئی بحث و مباحثہ نہیں ہوتا، حالانکہ حدیث و فقہ کی کتابوں میں ان کے بارے میں بھی وافر مقدار میں مواد موجود ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہزار میں سے نو سو ننانوے علماء کو جب عملی طور پر ان میں سے کسی مسئلہ کا سامنا درپیش ہوتا ہے تو وہ رائج الوقت منطق و استدلال سے تہی دامن ہوتے ہیں، مجبور ہو کر فتویٰ اور طعن و تشنیع کی زبان کا سہارا لیتے ہیں، اور کرکٹ کی اصطلاح میں ’’ایل بی ڈبلیو‘‘ ہو کر رہ جاتے ہیں۔

مغربی معاشرہ میں دینی تعلیم کا موجودہ نظم

اب ایک طائرانہ نظر برطانیہ میں دینی تعلیم کے مروّجہ سسٹم پر ڈال لی جائے تو مناسب ہوگا۔ یہاں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سے آنے والے مسلمانوں میں بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے جو نظام چل رہا ہے، اس کے تحت ایک تو مساجد یا اسلامک سنٹروں میں قائم وہ مکتب ہیں جہاں روزانہ شام پانچ سے سات بجے تک یا ویک اینڈ پر ہفتہ اور اتوار کے روز دینی تعلیم دی جاتی ہے، قرآن پاک ناظرہ پڑھایا جاتا ہے، نماز اور دیگر دینی مسائل بچوں کو ذہن نشین کرائے جاتے ہیں اور ایک طرح سے بنیادی دینی تعلیم سے بچوں اور بچیوں کو ایک حد تک آراستہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ ایک اچھی کوشش ہے اور یہاں پروان چڑھنے والی مسلمان پود میں اگر دین کے ساتھ کوئی تعلق ہے تو اسی کی برکت سے ہے۔

اس کے علاوہ وہ مدارس، جامعات اور دارالعلوم بھی اب تیزی کے ساتھ برطانیہ کے مختلف شہروں میں قائم ہو رہے ہیں جن کا مقصد علمِ دین کی مکمل تعلیم دے کر علماء تیار کرنا ہے تاکہ وہ معاشرہ میں دینی قیادت کے فرائض سنبھال سکیں۔ اور ان کے بارے میں میری ایک واضح رائے ہے لیکن اسے عرض کرنے سے قبل اس تجویز کو سامنے لانا ضروری سمجھتا ہوں کہ جس طرح پاکستان میں وفاق المدارس کے ناموں سے دینی مدارس کے مختلف بورڈ ہیں جن کے تحت مدارس کا سلسلہ رفتہ رفتہ نظم آشنا ہوتا جا رہا ہے اور ان وفاقوں کی اسناد کو حکومتی سطح پر بھی تسلیم کیا جاتا ہے، اسی طرز پر برطانیہ میں بھی دینی مدارس کا ایک وفاق قائم ہونا ضروری ہے اور بہتر ہوگا کہ مختلف مکاتبِ فکر کے الگ الگ وفاق نہ ہوں، بلکہ اہلِ سنت کے مسلّمہ مکاتبِ فکر کا ایک مشترکہ بورڈ ہو۔

یہاں یہ بات بھی المیہ کی حد تک موجود ہے کہ مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان بعد، مناقشت اور مسابقت کی فضا نے باہم مل بیٹھنے کے راستے مسدود کر رکھے ہیں، حالانکہ پاکستان میں فرقہ وارانہ تعصبات کے باوجود ہم نفاذِ شریعت اور ختمِ نبوت جیسے مشترکہ مقاصد کے لیے بوقت ضرورت مل بیٹھتے ہیں اور اس کے ثمرات بھی حاصل کرتے ہیں، لیکن جہاں اس مل بیٹھنے کی ضرورت زیادہ ہے وہاں اس کے امکانات کم نظر آرہے ہیں، جو انتہائی افسوسناک امر ہے اور دیوبندی، بریلوی و اہلِ حدیث مکاتبِ فکر کے برطانوی قائدین کو اس پہلو کا ضرور جائزہ لینا چاہیے۔ بہرحال بہتر تو یہی ہے کہ اہلِ سنت کے تمام مکاتبِ فکر کے مدارس کا مشترکہ بورڈ قائم ہو، ورنہ اگر سردست ایسا کرنا قابلِ عمل نہ ہو تو ہمارے مکتبِ فکر کے مدارس کو بہرحال جلد از جلد اس قسم کا کوئی نظام ضرور قائم کر لینا چاہیے۔ یہ وفاق یا بورڈ دو امور کی نگرانی اور اہتمام کرے:

  1. ایک یہ کہ برطانوی معاشرہ بلکہ مغربی معاشرہ کی دینی ضروریات کا وسیع تناظر میں جائزہ لے کر اس کی بنیاد پر تعلیمی نصاب و نظام ترتیب دیا جائے۔
  2. اور دوسرا یہ کہ مدارس کی درجہ بندی کر کے ان کے تعلیمی معیار، امتحانات اور تربیتی ماحول کی نگرانی کی جائے۔

مغربی معاشرہ کی دینی ضروریات

اب میں اس طرف آرہا ہوں کہ برطانوی معاشرہ کی دینی ضروریات میرے نزدیک کیا ہیں اور ان کی بنیاد پر دینی تعلیم کے نظام کا نیا ڈھانچہ کیا ہونا چاہیے؟ مجھے ۱۹۸۵ء سے کم و بیش ہر سال برطانیہ میں آنے کا موقع مل رہا ہے اور حالات کا جائزہ لیتے رہنے کی عادت بھی ہے۔ میں نے مسلسل کوشش کی ہے کہ کھلی آنکھوں سے یہاں کی دینی ضروریات کا جائزہ لوں اور اس کے نتائج اب آپ حضرات کے سامنے رکھ رہا ہوں، لیکن اس وضاحت کے ساتھ کہ ایک شخص کی رائے اور تجزیہ بہرحال ایک ہی شخص کا ہوتا ہے جو اجتماعی مشاورت کا بدل کسی صورت نہیں ہو سکتا۔ اس لیے میری خواہش ہے کہ اس سلسلہ میں کسی اجتماعی مشاورت کا اہتمام ہو اور اس میں مجھے بھی شرکت کی سعادت بخشی جائے تاکہ زیادہ بہتر طور پر حالات و ضروریات کا تجزیہ کر کے نتائج کو سامنے لایا جا سکے۔ تاہم گفتگو کی بنیاد کے طور پر چند ابتدائی گزارشات اس ضمن میں پیش کر رہا ہوں۔

اس معاشرہ کی دینی ضرورت کو بنیادی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

(۱) ہر مسلمان کی شخصی دینی ضروریات

شخصی ضروریات سے مراد یہ ہے کہ ایک مسلمان کو بحیثیت مسلمان اس معاشرہ میں رہنے کے لیے جس قسم کی دینی تعلیم اور معلومات کی ضرورت ہے، وہ اسے مہیا ہونی چاہیے۔ اور ظاہر بات ہے کہ دینی مدارس و مکاتب کے سوا اس ضرورت کے پورا کرنے کی کوئی صورت ممکن نہیں ہے۔ شخصی دینی ضروریات کو ہم ضروریات دین کے اجمالی تعارف کی صورت میں یوں سمیٹ سکتے ہیں کہ ہر مسلمان کو قرآن کریم صحیح تلفظ کے ساتھ کم از کم ناظرہ ضرور پڑھنا چاہیے۔ اسے اتنی سورتیں یاد ہونی چاہئیں کہ وہ پانچ وقت کی نماز مسنون طریقہ سے ادا کر سکے۔ بہتر تو یہ ہے کہ تھوڑی بہت عربی گریمر کے ساتھ مسلم نوجوانوں کے لیے قرآن کریم کے ترجمہ کی کلاسوں کا اہتمام کیا جائے، ورنہ کم از کم ایک دو پارے ترجمہ کے ساتھ ضرور ہوں۔ اسے اسلام کے بنیادی عقائد کا علم ہو اور یہاں رہنے والی دوسری قوموں کے ساتھ عقائد کا فرق معلوم ہو۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور دیگر اسلامی عبادات کے بارے میں اتنی معلومات اسے ضرور حاصل ہوں کہ وہ انہیں صحیح طریقہ سے ادا کر سکے۔ حلال حرام اور جائز ناجائز کے مسائل اس کے علم میں ہوں اور اسلامی تاریخ و شخصیات بالخصوص حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں اسے ضروری معلومات حاصل ہوں۔

شخصی دینی ضروریات کے اس وسیع تناظر میں ہم ان مکاتب کی کارکردگی کا جائزہ لیں جو مساجد اور اسلامک سنٹروں میں اس وقت چل رہی ہے تو نتائج کا گراف تیزی کے ساتھ نیچے کی طرف جاتا دکھائی دے گا۔ اول تو یہ دیکھیں کہ ان مکاتب و مدارس میں آنے والے بچوں کو ملنے والی تعلیم اور حاصل ہونے والی معلومات کا ان کی مجموعی دینی ضروریات کے لحاظ سے کیا تناسب ہے؟ رزلٹ کارڈ آپ کے سامنے حقائق کی ایک نئی دنیا کو بے نقاب کر دے گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں ان مدارس و مکاتب کی افادیت سے انکار کر رہا ہوں، کیونکہ اب تک نئی نسل کا دین کے ساتھ جو تعلق قائم ہے، اس کی بنیاد انہی مدارس پر ہے، لیکن جتنا کام ہونا چاہیے یا جتنا ہو سکتا ہے، اتنا نہیں ہو رہا۔ وجہ صرف یہ ہے کہ باہمی مشاورت نہیں ہے، منصوبہ بندی نہیں ہے اور کام کی ترجیحات متعین نہیں ہیں۔ اگر اس کا اہتمام ہو جائے تو انہی مکاتب و مدارس کی کارکردگی میں کم از کم سو فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔

(۲) مسلم کمیونٹی کی اجتماعی ضروریات

شخصی دینی ضروریات سے آگے بڑھ کر دوسرا دائرہ مسلم کمیونٹی کی اجتماعی دینی ضروریات کا ہے۔ اس میں ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں رہنے والے مسلمانوں کو ایسی دینی قیادت کی ضرورت ہے جو اسلامی احکام و تعلیمات سے پوری واقفیت رکھنے کے ساتھ ساتھ مغربی معاشرہ کی خرابیوں اور نفسیات سے بھی آگاہ ہوتا کہ وہ دینی قیادت مسلمانوں اور ان کی نئی نسل کو اس معاشرہ کی خرابیوں سے حکمت عملی کے ساتھ بچاتے ہوئے صحیح اسلامی زندگی بسر کرنے میں راہنمائی کر سکے۔ اس دینی قیادت کو ہم تین حصوں میں تقسیم کریں گے:

  1. ایک مساجد کے ائمہ کا طبقہ، یعنی یہاں مساجد میں ایسے ائمہ کی ضرورت ہے جو نماز پڑھا سکیں، قرآن کریم ناظرہ اور ترجمہ کی تعلیم دے سکیں، ضرورت کے مطابق بچوں کو ایک دو پارے یاد کرا سکیں، اور دینی معلومات اور احکام و مسائل کی چھوٹی کتابیں پڑھا سکیں۔ یہ کھیپ یہیں تیار ہونی چاہیے، کیونکہ باہر سے آنے والے ائمہ اور حفاظ یہاں کے ماحول کے ساتھ ساتھ زبان سے بھی واقف نہیں ہوتے جس سے استاد اور شاگرد کے درمیان حجاب قائم رہتا ہے اور مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہوتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دینی مدارس کو سب سے زیادہ توجہ ایسے ائمہ کی تیاری کی طرف دینی چاہیے اور اس سطح کے لیے کسی لمبے چوڑے نصاب کی ضرورت نہیں۔ یہ امور کفایت کر جائیں گے کہ امام صاحب قرآن کریم معروف لہجہ میں صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھ سکتے ہوں، حافظ ہوں تو بہت بہتر، ورنہ ایک دو پارے انہیں ضرور یاد ہوں، قرآن کریم کو سمجھنے کی حد تک عربی گریمر پر انہیں عبور ہو، فقہ کی ایک آدھ کتاب مثلاً قدوری انہوں نے اہتمام سے پڑھ رکھی ہو، اور اپنی علاقائی زبان کے ساتھ ساتھ اردو اور انگلش پر بھی انہیں عبور ہو۔ اس سے زیادہ علم کی اس سطح پر ضرورت نہیں ہے، ہاں کوئی اپنے شوق کی تکمیل کے لیے پڑھنا چاہے تو اس کی کوئی حد متعین نہیں کی جا سکتی۔
  2. دوسرا درجہ خطباء کرام کا ہے جو دراصل مسلمانوں کی عمومی راہنمائی کرتے ہیں اور جن کی تیاری پر سرے سے ہمارے ہاں کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ میرے نزدیک یورپ کی کسی مسجد میں خطبہ دینے والے یا کسی اسٹیج پر تقریر کرنے والے خطیب کے لیے ضروری ہے کہ وہ درسِ نظامی کا مستند فاضل ہو، اسلامی تاریخ کا مکمل مطالعہ رکھتا ہو، یہودیت، عیسائیت، ہندو ازم، سکھ مت اور بدھ مت جیسے مذاہب کے بارے میں ضروری معلومات اسے حاصل ہوں، اور اسلام کے ساتھ ان مذاہب کے اعتقادی اور معاشرتی فرق پر اس کی نظر ہو۔ مسلم ممالک میں دورِ غلامی کے دوران علماء کی جدوجہد اور دینی تحریکات سے واقف ہو، یورپ میں اجتماعی زندگی کے حوالہ سے مادی فلسفہ سے عیسائیت کی شکست کے تاریخی پس منظر سے آگاہ ہو، مطالعہ کا ذوق رکھتا ہو اور اپنی علاقائی زبان کے علاوہ اردو اور انگلش میں گفتگو پر بھی اسے قدرت حاصل ہو۔ ان اوصاف کے بغیر اگر کوئی شخص یورپ کی کسی مسجد میں منبر رسولؐ پر بیٹھتا ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ وہ یہاں بسنے والے مسلمانوں کی دینی راہنمائی کا حق ادا کر سکتا ہے۔ وقت گزارنا اور بات ہے اور دینی راہنمائی کے فریضہ کی ادائیگی اس سے بالکل مختلف چیز ہے۔

    اب سوال یہ ہے کہ اس وقت جو ائمہ اور خطباء برطانیہ اور یورپ کی مساجد میں موجود ہیں اور اس معیار پر پورے نہیں اترتے، ان کا کیا کیا جائے؟ ان کے لیے میرے خیال میں ایسے ریفریشر کورسوں کا اہتمام کیا جا سکتا ہے جو کمزوریوں کو دور کر سکیں۔ یہ کورس سال میں ایک ماہ یا وقفہ وقفہ سے پندرہ روز کے لیے ہو سکتے ہیں یا خط و کتابت کورسز کے ذریعے بھی اس خلا کو پر کیا جا سکتا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ بڑے ادارے اس طرف متوجہ ہوں اور خود ائمہ اور خطباء بھی اس کی ضرورت کا احساس اپنے اندر پیدا کریں۔

  3. تیسرا درجہ مدرسین اور اسکالرز کا ہے جن کے ساتھ مفتیان کرام کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ یہ دینی راہنمائی کی اعلیٰ سطح ہے اور اس کے لیے اسی درجہ کے ذہین علماء کی ضرورت ہے جو تدریس اور افتاء کے ساتھ ساتھ تحقیق و مطالعہ کے میدان میں بھی علماء اور طلبہ کی راہنمائی کر سکیں۔ اس طبقہ کے افراد کے لیے ازحد ضروری ہے کہ وہ کسی نہ کسی زبان میں اچھا لکھنے پر قادر ہوں، مسائل کے تجزیہ و تحقیق اور استنباط و استخراج کی صلاحیت سے بہرہ ور ہوں، اور اسلام کے بارے میں مغربی میڈیا کی زبان اور لہجہ کو اچھی طرح سمجھتے ہوئے اسی زبان میں اس کا جواب دینے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ یہ طبقہ خودبخود نہیں پیدا ہوگا، اس کے لیے بڑے دینی مدارس کو تربیتی شعبے قائم کرنا ہوں گے، تخصص کے کورس ترتیب دنیا ہوں گے اور مستقل اکیڈیمیاں قائم کرنا ہوں گی۔

(۳) مغربی معاشرہ کی مجموعی دینی ضروریات

ایک مسلمان کی شخصی دینی ضروریات اور مغرب میں بسنے والی مسلم کمیونٹی کی اجتماعی دینی ضروریات کے ساتھ ہم نے یورپی معاشرہ کی مجموعی دینی ضروریات کا بھی ذکر کیا تھا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جس معاشرہ میں ہم رہتے ہیں، اس کا بھی ہم پر حق ہے کہ اس کے افراد تک اسلام کی دعوت کو صحیح طریقہ سے پہنچائیں اور یہ ہمارے دینی فرائض میں شامل ہے جس کی ادائیگی کے بارے میں روز محشر ہم سے پرسش ہوگی۔ اس لیے اس پہلو پر بھی سنجیدگی کے ساتھ توجہ کی ضرورت ہے۔ یہ درست ہے کہ تبلیغی جماعت اس سلسلہ میں پوری مسلمان آبادی کی طرف سے فرضِ کفایہ ادا کر رہی ہے اور ہمیں اس اس کا شکرگزار ہونے کے ساتھ اس کی کامیابی کے لیے دعاگو اور عملاً اس کا معاون بھی بننا چاہیے۔ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ کام اصلاً علماء کرام کا ہے اور وہی اس کام کو صحیح طریقہ سے سرانجام دے سکتے ہیں، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ یہاں کے دینی مدارس اپنے تعلیمی نصاب و نظام میں دعوتِ اسلام کے لیے طلبہ کی ذہن سازی اور اس کی عملی تربیت کو ایک مستقل مضمون کی حیثیت سے شامل کریں جس میں یہاں کی معاشرتی نفسیات اور دعوتِ اسلام کے دیگر تقاضوں کو سمو دیا جائے تاکہ فارغ ہونے والے علماء کرام اس فریضہ سے غافل اور بے توجہ نہ ہوں۔

تعلیمی نصاب کا خاکہ

ان گزارشات کے بعد مولانا محمد کمال خان کے استفسار کے حوالہ سے ایک بڑے دینی جامعہ کے لیے تعلیمی نصاب کا ایک خاکہ اپنی ذاتی سوچ اور مطالعہ کی بنیاد پر پیش کر رہا ہوں:

  1. یورپ میں قائم ہونے والے کسی بھی بڑے دینی جامعہ کے لیے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ یہاں سرکاری طور پر جتنی تعلیم لازمی ہے، اس کی کلاسوں کا اہتمام جامعہ میں کیا جائے، اور ثانوی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک معیاری اسکول ہو جس کا معیارِ تعلیم سرکاری اسکولوں سے کسی طرح کم نہ ہو۔ البتہ ماحول اپنا ہو تاکہ مسلم نوجوان عصری تعلیم میں دیگر آبادی سے پیچھے نہ رہیں اور یہاں کے تعلیمی ماحول کے برے اثرات سے بچ سکیں۔ یہ تعلیم علماء اور حفاظ کے لیے بھی ازحد ضروری ہے، بالخصوص انگلش زبان کو اس حد تک اہمیت دی جائے کہ دینی جامعات کے فضلاء تحریری اور تقریری طور پر مافی الضمیر کا اظہار عمدگی سے کر سکیں۔ قرآن کریم ناظرہ، ابتدائی عربی گریمر، کم از کم ایک پارہ حفظ اور عقائد و احکام کی بنیادی تعلیم کو اسکول کے نصاب میں سمو دیا جائے اور احادیثِ نبویہ کا ایک منتخب حصہ بھی اس میں شامل کیا جائے۔
  2. دوسرے مرحلہ پر خالص دینی تعلیم کے لیے درس نظامی کی طرز پر ایک متوسط نصاب ترتیب دیا جائے جس کا دورانیہ پانچ سال سے زائد نہ ہو۔ اس میں عربی صرف و نحو شامل کیے جائیں لیکن اس سطح پر چار امور کا اہتمام ازحد ضروری ہے:
    • زیر درس کتابوں میں مضامین کا بہت زیادہ تکرار نہ ہو۔
    • مضامین طلبہ کو رٹانے کی بجائے قواعد ذہن نشین کرا کے اجراء و تمرین کے ذریعہ ان کی ذاتی استعداد کو اجاگر کیا جائے۔
    • سیرت النبیؐ، دور صحابہؓ اور اسلام کی مجموعی تاریخ کو اس نصاب میں لازماً شامل کیا جائے۔
    • ہر مضمون میں قدیم کتابوں کے ساتھ ساتھ دورِ حاضر میں لکھی گئی ایک ایک دو دو نئی کتابیں بھی شامل نصاب کی جائیں تاکہ طلبہ ان علوم میں نئے رجحانات سے نابلد نہ رہیں۔
  3. تیسرے مرحلہ میں میرے نزدیک دورۂ حدیث ہونا چاہیے، لیکن موجودہ طرز پر ہرگز نہیں۔ میں دورۂ حدیث کے لیے صحاحِ ستہ کی تعلیم کے موجودہ نصاب سے متفق ہوں، اس کی برکات و اہمیت کو پوری طرح تسلیم کرتا ہوں، لیکن یہ مرحلہ دو سال میں ہونا چاہیے کیونکہ دورۂ حدیث کے طلبہ کی غالب اکثریت موجودہ طرز میں احادیث کے مضامین کا ادراک نہیں کر پاتی اور احادیث کے اتنے بڑے ذخیرہ سے یوں گزر جاتی ہے جیسے کوئی شخص نیم خوابی کی حالت میں اونگھتے ہوئے کسی بڑے باغ سے گزر جائے، اور پھر یہ بیان کرتا پھرے کہ میں نے باغ میں یہ دیکھا، وہ دیکھا۔ اس لیے میرے خیال میں دورۂ حدیث کے دورانیہ میں ایک سال کا اضافہ ضروری ہے۔

    اس کی ترتیب یہ ہو کہ پہلے سال صحاح ستہ کی دو کتابوں کے ساتھ ساتھ طلبہ کو اصولِ حدیث کا اعادہ کرایا جائے اور اس میں سنت کی اہمیت، حجیتِ حدیث پر دورِ حاضر کے اعتراضات و شبہات کا جواب ذہن نشین کرایا جائے۔ قانون سازی کے موجودہ تصورات کا اصولِ فقہ سے تقابل کرا کے طلبہ کو آئین و قانون کے بارے میں اسلامی اصولوں سے واقف کرایا جائے۔ تجارت، بینکاری، قانون، اجتہاد، سیاست، معاشرت، انسانی حقوق، جدلی معاشیات، نظریہ ارتقا اور دیگر ضروری اجتماعی مباحث سے انہیں متعارف کرایا جائے۔ نیز اسی سال کے دوران حجۃ اللہ البالغہ کے چند منتخب مباحث بھی شامل نصاب کیے جائیں۔ اور اس ایک سالہ تیاری کے بعد دوسرے سال میں انہیں صحاحِ ستہ کی باقی چار کتابیں پڑھائی جائیں تاکہ وہ حدیث و سنت کے اتنے بڑے ذخیرہ سے اچھی طرح روشناس ہوں اور عملی زندگی میں انہیں کسی مسئلہ میں راہنمائی کی ضرورت ہو تو اس ذخیرہ سے استفادہ کر سکیں۔ اس مرحلہ کے بعد طالب علم کو فاضل کی سند دی جائے۔

  4. اس کے بعد چوتھا درجہ تخصصات کا ہے اور ایک بڑے جامعہ میں کسی بھی اسلامی موضوع پر تخصص کی سہولت موجود ہونی چاہیے، لیکن چند مضامین دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق بہت زیادہ اہم ہیں اور ان میں تخصص کے شعبوں کا قیام ازبس ضروری ہے۔

    مذاہب باطلہ

    عیسائیت، یہودیت، ہندوازم، بدھ مت اور دیگر مذاہب سے اس کا ذوق رکھنے والے علماء کو مکمل واقفیت کرائی جائے، لیکن صرف اعتقادی مباحث کو مناظرانہ انداز میں رٹانے پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ ان مذاہب کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات کے تاریخی تناظر، تہذیبی تصادم اور موجودہ دور میں ان کے مابین درپیش عملی مسائل سے بھی ان کو روشناس کرایا جائے۔

    فقہی مذاہب

    احناف، شوافع، حنابلہ، مالکیہ اور دیگر فقہی مذاہب سے اپنے علماء اور طلبہ کو اپنی فقہ کی ترجیحی بنیادوں اور دلائل سے واقف کرانا چاہیں تو یہ بہت بہتر ہے بلکہ اس کا بہت بڑا حصہ احادیث کی کتابوں کی تدریس میں خودبخود آ جاتا ہے، لیکن اس کا دائرہ فقہی اور فروعی ہی رکھا جائے اور ان فقہی مذاہب کے مابین محاذ آرائی کی فضا پیدا کرنے سے گریز کیا جائے۔

    تاریخ اسلام

    تاریخِ اسلام کو دوسرے درجہ کے نصاب میں شامل کرنے کی تجویز پہلے گزر چکی ہے، لیکن وہاں صرف تاریخ سے واقفیت مراد ہے، جبکہ علماء اسلام کے ایک طبقہ کی تاریخ کے تقابلی مطالعہ پر گہری نظر ہونی چاہیے اور اس میں تخصص کا شعبہ ضروری ہے۔ بالخصوص آج کے دور میں ایک عالمِ دین کے لیے دورِ نبوی، خلافتِ راشدہ، صلیبی جنگوں، یورپ میں جدید فلسفہ اور کلیسا کی تاریخی کشمکش اور مسلم ممالک پر استعماری قوتوں کے قبضہ کے دوران وہاں کی دینی تحریکات سے آگاہی انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اس کے بغیر وہ سمجھ نہیں سکتا کہ آج کے دور میں دعوتِ اسلام کا تقاضا کیا ہے اور اسلام کی بات کو اس نے کس انداز میں پیش کرنا ہے۔

    خطابت و دعوت

    خطیب اسلام کا داعی ہے، وہ اسلام کی دعوت، پیغام اور احکام کو معاشرہ کے سامنے پیش کرتا ہے، اس لیے اسے خطابت اور دعوت دونوں کے تقاضوں سے بہرہ ور ہونا چاہیے اور اس مقصد کے لیے تخصص کے ایک مستقل شعبہ کا قیام ضروری ہے۔

    افتاء

    فقہ و افتاء میں تخصص کے شعبے پاکستان کے بڑے جامعات میں موجود ہیں، اس طرز پر یہاں بھی یہ شعبہ قائم ہونا چاہیے جو یہاں کی معاشرتی ضروریات کو سامنے رکھ کر تشکیل دیا جائے۔

    میڈیا

    الیکٹرانک میڈیا اور اخبارات و جرائد آج کے دور میں ابلاغ کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں بلکہ رائے عامہ پر دراصل انہی کا کنٹرول ہوتا ہے، اس لیے ان سے صرفِ نظر ممکن نہیں ہے۔ ضروری نہیں کہ سب ذرائع بیک وقت اختیار کیے جائیں، لیکن جن ذرائع کو استعمال میں لایا جا سکتا ہے انہیں ضرور اختیار کیا جائے اور اسے ’’کیف ما اتفق‘‘ لوگوں کی صوابدید پر نہ چھوڑ دیا جائے، بلکہ علماء کو اس کی باقاعدہ تربیت دی جائے۔ بالخصوص صحافت کے جدید طرز سے علماء کا واقف ہونا اسی طرح ضروری ہے جیسے خطابت اور دعوت کے اصولوں سے آگاہی لازمی ہے، اور اس مقصد کے لیے بڑے جامعات کو مستقل تربیتی شعبہ قائم کرنا چاہیے۔

    اسلام اور دورِ حاضر

    یہ ایک مستقل مضمون ہے، اس لیے کہ کمیونزم کی شکست و ریخت کے بعد مغربی دنیا کا سب سے بڑا ہدف اب اسلام ہے اور اسلام کے حقیقی نظریات و افکار کو دبائے رکھنے اور مسلمانوں کی نئی نسل بالخصوص دانشور طبقہ کو مرعوبیت کے حصار میں بند رکھنے کے لیے وہ اپنے تمام وسائل اور صلاحیتیں صرف کر رہی ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے حوالہ سے مغرب کی سرگرمیوں کا مطالعہ، تجزیہ اور اس کے پھیلائے ہوئے اعتراضات و شبہات کے جوابات کے لیے بڑے دینی جامعات میں الگ شعبے قائم ہونے چاہئیں جن میں اس انتہائی اہم فریضہ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ذہین اور ذی استعداد علماء کی تربیت کا بھی اہتمام ہو۔

    روحانی تربیت

    آخر میں اس پورے تعلیمی نظام کی اصل روح کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں جس کے بغیر تعلیم و تدریس کا بڑے سے بڑا نظام بھی بے جان لاشہ ہے، اور وہ ہے تزکیہ نفس اور روحانی تربیت کا اہتمام، جس سے بے اعتنائی نے ہمارے مروّجہ تعلیمی نظام کو بڑی حد تک بے ثمر کر رکھا ہے۔ میں نے بہت سخت بات لکھ دی ہے لیکن حالات کا تجزیہ کیا جائے تو اس سے نرم الفاظ اس کی تعبیر کے لیے نہیں ملیں گے۔ یہ درست ہے کہ روحانی سلسلوں میں اہلیت کا معیار کم ہوتا جا رہا ہے اور دکانداریاں بڑھ رہی ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس سے دستبرداری اختیار کر لی جائے۔ ضرورت کی کوئی چیز اگر بازار میں خالص نہ مل رہی ہو تو اس کی تلاش ترک کر دینا عقلمندی کا راستہ نہیں ہے۔ اس کساد بازاری میں بھی اللہ والے یقیناً موجود ہیں، ان سے علماء اور طلبہ کا تعلق ہونا چاہیے اور مدارس کو اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔ میرے نزدیک دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے طالب علم کے لیے دو باتوں میں سے ایک بہرحال ضروری ہے: یا تو اس کا کسی صاحب نسبت بزرگ سے تربیت کا عملی تعلق ہو، یا اس نے تبلیغی جماعت کے ساتھ کچھ وقت لگا رکھا ہو، اس کے بغیر عملی تربیت کا وہ رنگ نہیں چڑھتا جو آج کے معاشرہ میں ایک باکردار عالمِ دین پر غالب ہونا ناگزیر ہے۔

مولانا محمد کمال خان کا شکر گزار ہوں کہ ان کے توجہ دلانے پر تعلیمی نظام کے بارے میں چند گزارشات قلم بند کرنے کی توفیق مل گئی۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے اور ان گزارشات میں جو بات صحیح اور مسلمانوں کے لیے مفید ہو، اسے اپنانے کی ہم سب کو توفیق عطا فرمائیں۔ آمین یا الٰہ العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter