حدیث و سنت کی اہمیت اور امام بخاری کا اسلوبِ استدلال

   
تاریخ بیان: 
۱۷ مئی ۲۰۱۴ء

(۱۷ رجب ۱۴۳۵ھ کو جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں بخاری شریف کے آخری سبق کی تقریب سے خطاب۔)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ سب سے پہلے ان طلبہ و طالبات کو مبارک باد دینا چاہوں گا جو آج بخاری شریف کا آخری سبق پڑھ کر درس نظامی کے نصاب اور دورۂ حدیث کی تکمیل کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کا پڑھنا ان کے لیے، ان کے والدین کے لیے، اساتذہ کے لیے، ان کے ساتھی طلبہ کے لیے، اور جامعہ کے منتظمین و معاونین سب کے لیے دنیا و آخرت کی کامیابیوں، برکتوں، سعادتوں اور خوشیوں کا ذریعہ بنائے، آمین یا رب العالمین۔

یہ گلشنِ علم ہمارے بزرگوں کا، حضرات شیخین کریمین حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ، حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ اور ان کے رفقاء و معاونین کا لگایا ہوا ہے جس کی آبیاری انہوں نے زندگی بھر بڑی محنت اور ذوق کے ساتھ کی ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر سے نوازیں، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں اور ہم سب کو اس گلشن کی آبیاری کرتے رہنے کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔ ابھی ایک عزیز طالب علم نے بخاری شریف کے آخری باب اور حدیث کی قراءت کی ہے، اس کے بارے میں مختصرًا کچھ عرض کروں گا لیکن اس سے پہلے تمہید کے طور پر چند باتیں عرض کرنا مناسب خیال کرتا ہوں۔

عزیز طلبہ اور طالبات سے گزارش ہے کہ مدرسہ کے ماحول میں چند سال گزارنے کے بعد اب وہ عملی زندگی میں قدم رکھیں گے تو انہیں ایک نئے ماحول کا سامنا کرنا ہو گا، بہت سی نئی باتیں دیکھنے میں آئیں گی اور تغیرات محسوس ہوں گے۔ وہ مدرسہ کے محدود ماحول سے نکل کر سوسائٹی کے وسیع ماحول میں داخل ہو رہے ہیں جسے میں یوں تعبیر کیا کرتا ہوں کہ وہ جزیرہ سے نکل کر سمندر میں کود رہے ہیں۔ ہمارے مدارس انسانی سوسائٹی کے اس وسیع سمندر میں علمی، تہذیبی اور دینی حوالوں سے جزیروں کی حیثیت رکھتے ہیں جہاں ہم چند سال گزارتے ہیں، لیکن جب کھلے سمندر میں جاتے ہیں تو بالکل اجنبی سا ماحول ملتا ہے اور عجیب و غریب قسم کی مخلوقات سے سابقہ پڑتا ہے۔ زبان، لہجہ، اسلوب، روایات و اقدار اور روز مرہ معمولات کا بہت سا فرق سامنے آتا ہے۔ اس کا حل یہ نہیں کہ ہم راہ فرار اختیار کریں اور مسائل و ضروریات سے آنکھیں بند کر کے کنارہ کشی کی زندگی اختیار کر لیں، بلکہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم مسائل کا سامنا کریں، معاشرتی ضروریات کو محسوس کریں، نئے ماحول سے مانوس ہونے کی کوشش کریں، لوگوں کی نفسیات کو سمجھ کر اور ان کی زبان و اسلوب سے واقف ہو کر ان کی علمی و عملی راہنمائی کا اہتمام کریں۔

نئے ماحول سے مانوس ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خود بھی اس کا رنگ اختیار کر لیں بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنی اصل اور اساس پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہتے ہوئے ماحول اور اس کی ضروریات کو سمجھنے کی کوشش ضرور کریں تاکہ لوگوں کی صحیح راہنمائی کر سکیں۔ مثال کے طور پر عرض کروں گا کہ آپ نے بخاری شریف کی آخری روایت پڑھی ہے، یہ حدیث نبویؐ کی کتاب ہے، امام بخاریؐ نے بڑی محنت اور ذوق و شوق کے ساتھ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث و سنن کا ایک مستند ذخیرہ مرتب کیا ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے اس درجہ قبولیت سے نوازا ہے کہ ہر طبقہ میں، ہر زمانہ میں اور ہر علاقہ میں مسلسل پڑھی اور پڑھائی جا رہی ہے۔ حدیث مبارکہ کے بارے میں مدرسہ کے ماحول میں آپ نے جو مباحث پڑھے ہیں، وہ آج کے اس مقام تک پہنچنے کے لیے انتہائی ضروری تھے، لیکن مدرسہ کے ماحول سے باہر نکل کر آپ کو ان مباحث سے سابقہ درپیش نہیں ہو گا، بلکہ اس سے مختلف مباحث اور سوالات آپ کے سامنے آئیں گے۔ یہاں تو آپ نے یہ پڑھا ہے کہ حدیث صحیح کون سی ہے اور ضعیف کیا ہوتی ہے؟ حدیث کے مدارج کیا ہیں؟ ان کی صحت و ضعف کے اسباب و علل کیا ہیں؟ اور اس کو جانچنے کے معیارات کیا ہیں؟ لیکن جب آپ عام سوسائٹی میں جائیں گے تو آپ کو اس سے مختلف سوالات کا سامنا کرنا ہو گا اور آپ کو اس قسم کے سوالات سننے کو ملیں گے کہ:

  • کیا حدیث پر ایمان لانا ضروری ہے؟
  • کیا قرآن فہمی کے لیے حدیث کی ضرورت ہے؟
  • کیا حدیث عقائد میں بھی حجت ہے؟
  • اور کیا حدیث قانون و حکم کا خود بھی ماخذ ہے؟ وغیر ذٰلک

میں بات کو سمجھانے کے لیے ان سوالات کا مختصرًا جائزہ لینا چاہوں گا:

  1. یہ سوال آج کل عام ہونے لگا ہے کہ کیا قرآن کریم پر ایمان لانے کے بعد حدیث پر ایمان لانا بھی ضروری ہے؟ میں اس کے جواب میں عرض کیا کرتا ہوں کہ قرآن کریم کے بعد نہیں بلکہ اس سے پہلے حدیث پر ایمان لانا ضروری ہے، اس لیے کہ قرآن کریم ہمیں حدیث کے ذریعے ملا ہے اور حدیث سے ہٹ کر قرآن کریم تک رسائی کا ہمارے پاس اور کوئی ذریعہ موجود نہیں ہے۔ مثلاً ہم سب مانتے ہیں کہ قرآن کریم کی سب سے پہلی وحی ’’اقرأ باسم ربک الذی خلق والی‘‘ پانچ آیات ہیں، لیکن یہ آیات ہمیں غار حرا کے واقعہ کے ذریعے ملی ہیں، اگر غار حرا کا واقعہ ہے تو یہ پانچ آیات بھی ہیں اور اگر غار حرا کا واقعہ نہیں ہے تو یہ پانچ آیات معلوم کرنے کا اور کوئی ذریعہ ہمارے پاس موجود نہیں۔ غار حرا کے واقعہ کی روایت حدیث کہلاتی ہے، اس لیے پہلے ہمیں حدیث پر ایمان لانا ہو گا اس کے بعد قرآن کریم پر ایمان کی بات ہو گی، حدیث پر ایمان نہیں ہو گا تو قرآن کریم پر ایمان لانا ممکن ہی نہیں ہے۔

    یہی صورتحال قرآن فہمی میں حدیث کی اہمیت و ضرورت کے حوالہ سے بھی ہے کہ قرآن کریم کی کسی آیت، جملہ یا لفظ میں اللہ تعالٰی کی منشا و مراد سے واقفیت حدیث کے بغیر ممکن نہیں ہے، یہ بات اصولاً بھی ہے اور واقعاتی تناظر میں بھی ہے۔ اصولاً اس لیے کہ قرآن کریم کا متکلم اللہ تعالٰی ہے، کسی بھی کلام کی وضاحت کا پہلا حق متکلم کا ہوتا ہے اور وہی اپنے کلام کی وضاحت کی سب سے بڑی اتھارٹی ہوتا ہے۔ وحی کا دروازہ بند ہو جانے کے باعث اب اللہ تعالٰی سے تو کسی آیت کا مطلب نہیں پوچھا جا سکتا لیکن جناب نبی اکرمؐ اللہ تعالیٰ کے رسول اور نمائندہ کی حیثیت سے یہ اتھارٹی رکھتے ہیں کہ ان کی وضاحت کو اللہ تعالیٰ کی وضاحت سمجھا جائے، اور وہ قرآن کریم کے کسی جملہ یا لفظ کی جو تشریح اپنے قول یا عمل کے ساتھ کریں اسے اللہ تعالٰی کی منشا اور مراد قرار دیا جائے، امت نے ہمیشہ یہی کیا ہے۔ واقعاتی تناظر میں اس طرح کہ صحابہ کرامؓ کو جب کسی آیت قرآنی کے سمجھنے میں دقت ہوتی تھی یا کوئی مغالطہ ہو جاتا تھا تو وضاحت کے لیے نبی کریمؐ سے رجوع کیا جاتا تھا اور آپؐ کی وضاحت کو حتمی تصور کیا جاتا تھا۔ اس کی بیسیوں مثالیں احادیث میں موجود ہیں اور بخاری شریف میں بھی آپ حضرات نے بہت سے واقعات پڑھے ہیں کہ کسی صحابیؓ کو قرآن کریم کی کوئی آیت سمجھنے میں دشواری ہوئی تو اس نے جناب نبی اکرمؐ سے دریافت کر کے اطمینان حاصل کر لیا۔

    ان میں سے ایک واقعہ کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا کہ آنحضرتؐ کے وصال کے بعد سیدنا حضرت صدیق اکبرؓ کو مختلف اطراف سے باغیوں کا سامنا کرنا پڑا اور آپ نے مرتدین، منکرین ختم نبوت، اور منکرین زکوٰۃ کے خلاف جہاد شروع کر دیا تو کچھ ذہنوں میں اشکال پیدا ہوا کہ قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے کہ ’’یا ایھا الذین اٰمنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم‘‘ اے ایمان والو! تم پر لازم ہے کہ اپنا فکر کرو، کوئی اگر گمراہ ہوتا ہے تو تمہیں اس کا کوئی نقصان نہیں ہے اگر تم ہدایت پر قائم ہو۔ اس آیت کریمہ کے ظاہری مفہوم کے اعتبار سے منکرین ختم نبوت اور منکرین زکوٰۃ کے خلاف جہاد کی وجہ سمجھ سے بالاتر ہو جاتی ہے۔ چنانچہ بخاری شریف کی روایت کے مطابق حضرت صدیق اکبرؓ نے خطبۂ جمعہ میں اس کا ذکر کیا اور فرمایا کہ لوگو! اس آیت کی وجہ سے کسی مغالطہ میں نہ پڑ جانا کیونکہ میں نے جناب نبی اکرمؐ سے سنا ہے، آپؐ نے فرمایا کہ اے ایمان والو! امر بالمعروف کرتے رہو اور نہی عن المنکر کا سلسلہ جاری رکھو حتٰی کہ ایک وقت آئے گا جب ہر طرف خواہش پرستی اور بخل کا دور دورہ ہو گا اور اپنا ایمان بچانا مشکل ہو جائے گا، اس وقت تمہاری ذمہ داری ہو گی کہ اپنے ایمان کی فکر کرو۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ’’علیکم أنفسکم‘‘ کا محل عام حالات نہیں بلکہ فتنوں کے عروج کا دور ہے۔

    اسی طرح ترمذی شریف میں روایت ہے کہ ایک صاحب نے حضرت ابو ثعلبہ خشنیؓ سے اسی آیت کے بارے میں پوچھا کہ اگر ہم پر صرف اپنی فکر کرنا لازم ہے تو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور ظالم و جابر کے سامنے کلمۂ حق کہنے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ’’علی الخبیر سقطت‘‘ جاننے والے پر گرے ہو یعنی اس شخص سے پوچھا ہے جو اس کی حقیقت کو جانتا ہے، اس لیے کہ اس آیت کریمہ کے بارے میں یہی اشکال مجھے بھی ہوا تھا اور میں نے جناب نبی اکرمؐ سے پوچھ لیا تھا۔ اس سوال کے جواب میں جناب نبی اکرمؐ نے وہی کچھ فرمایا جو حضرت صدیق اکبرؓ کے حوالہ سے ہم نے بیان کر دیا ہے۔

  2. اب آتے ہیں اس سوال کی طرف کہ کیا عقائد میں بھی حدیث رسول حجت ہے اور کسی حدیث پر بھی عقیدہ کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے؟ یہ سوال آج کل عام طور پر ہوتا ہے اور بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ عقیدہ صرف قرآن کریم سے لیں گے۔ میں اس سلسلہ میں مسلم شریف کتاب الایمان کی روایت کا ذکر کروں گا جس میں مشہور تابعی حضرت یحییٰ بن یعمرؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں کچھ لوگوں کے پروپیگنڈے کی وجہ سے تقدیر کے عقیدہ کے بارے میں تردد ہونے لگا تھا، ہم دو ساتھی حج پر جا رہے تھے، ہم نے دعا کی کہ کسی بزرگ صحابی سے اس سفر میں ملاقات ہو جائے تاکہ ہم ان سے تسلی کر لیں، حسن اتفاق سے ہمیں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کی خدمت میں حاضری کی سعادت حاصل ہو گئی اور ہم نے ان سے عرض کیا کہ ہمارے علاقہ میں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ تقدیر کا کوئی عقیدہ نہیں ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے ایسے لوگوں سے بیزاری کا اظہار فرمایا اور پھر وہ مشہور حدیث جبریل سنائی جس میں جناب نبی اکرمؐ نے ’’وما الایمان؟‘‘ کے سوال کے جواب میں ایک جملہ یہ فرمایا ہے کہ ’’وأن تؤمن بالقدر خیرہ وشرہ‘‘۔ یہاں ایک نکتہ پر غور ضروری ہے کہ عقیدہ میں تردد کے موقع پر وضاحت کے لیے صحابی رسولؐ سے رجوع کیا گیا ہے اور انہوں نے عقیدہ کے اثبات میں حدیث رسولؐ پیش کی ہے، یہی اہل السنۃ والجماعۃ کا منہج اور اصول ہے۔

    ایک اور تابعی حضرت یزید الفقیرؒ کی روایت بھی آپ حضرات نے پڑھی ہے کہ انہیں اور ان کے چند ساتھیوں کو شفاعت کے بارے میں تردد ہو گیا لیکن حج سے واپسی پر مدینہ منورہ سے گزر ہوا تو حضرت جابر بن عبد اللہؓ کی مجلس میں شرکت کی سعادت مل گئی۔ حضرت جابرؓ شفاعت کا ذکر کر رہے تھے اور ان حضرات کے ذہنوں میں یہ تردد اس قدر راسخ ہو چکا تھا کہ ایک صاحب نے اٹھ کر سوال کر دیا کہ حضرت! آپ کون سی شفاعت کی بات کر رہے ہیں جبکہ قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ دوزخ والے وہاں سے نکلنا چاہیں گے لیکن نکل نہیں سکیں گے۔ حضرت جابرؓ نے اس کے جواب میں شفاعت کی تفصیلی حدیث سنائی، جس پر حضرت یزید الفقیرؓ اور ان کے چند ساتھیوں نے یہ کہہ کر اپنا مغالطہ دور کر لیا کہ حضرت جابرؓ بزرگ صحابی ہیں، وہ حدیث سنا رہے ہیں تو جھوٹ نہیں بول رہے اور جب نبی اکرمؐ نے فرمایا ہے کہ ان کی شفاعت کی وجہ سے بہت سے لوگ جہنم سے نکالے جائیں گے تو یہی بات درست ہے۔ یہاں بھی عقیدہ کی وضاحت صحابی رسول کر رہے ہیں اور اس کے ثبوت میں انہوں نے حدیث پیش کی ہے۔

  3. اب میں آخری سوال کی طرف آتا ہوں کہ کیا حدیث بھی قانون اور حکم کا ماخذ ہے؟ اور کیا قرآن کریم کی طرح حدیث سے بھی احکام و قوانین اخذ کیے جا سکتے ہیں؟ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ قرآن و حدیث دونوں شرعی احکام و قوانین کا ماخذ ہیں اور شریعت کے احکام دونوں سے یکساں طور پر لیے جاتے ہیں۔ بلکہ بہت سے احکام ایسے ہیں جو قرآن و حدیث دونوں کو ماخذ بنائے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتے۔ مثلاً نماز ہے، جس کا حکم قرآن کریم میں ہے اور اس کی جا بجا تاکید بھی ہے، لیکن نماز کی ترتیب اور دیگر تفصیلات قرآن کریم میں موجود نہیں ہے اور وہ معلوم کرنے کے لیے ہمیں حدیث نبویؐ سے ہی رجوع کرنا پڑتا ہے۔

    اس کے بارے میں ایک دلچسپ واقعہ عرض کرنا چاہوں گا جس کی تفصیل تفسیر ابن کثیر میں ہے اور کچھ ذکر بخاری شریف میں بھی ہے کہ حضرت یعلی بن امیہؓ نے حضرت عمرؓ سے سوال کیا کہ قرآن کریم نے دوران سفر نماز قصر کرنے کا جو حکم دیا ہے اس کے ساتھ یہ شرط لگائی ہے کہ ’’ان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا‘‘ اگر تمہیں خوف ہو کہ کافر تمہیں آزمائش میں ڈال دیں گے، یعنی اگر حالت جنگ میں کافروں کے حملے کا ڈر ہو تو چار رکعت کی بجائے دو پڑھ لو، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قصر حالت خوف اور حالت جنگ میں ہے، مگر ہم حالت امن میں بھی سفر کے دوران قصر ہی کرتے ہیں، اس کا ثبوت کیا ہے؟ حضرت یعلی بن امیہؓ کے سوال پر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ حجۃ الوداع کے سفر سے واپسی پر یہی اشکال مجھے بھی ہوا تھا اور میں نے جناب نبی اکرمؐ سے پوچھ لیا تھا کہ آج تو ہم ہر طرف سے امن میں ہیں اور کہیں سے کوئی خوف نہیں ہے تو ہم نمازیں قصر کیوں پڑھتے جا رہے ہیں؟ جناب نبی اکرمؐ نے بڑا دلچسپ جواب دیا کہ ’’عمر! یہ اللہ تعالٰی کا صدقہ ہے، اسے قبول کرو‘‘ یعنی ہمارے اس عمل پر اللہ تعالٰی نے خاموشی اختیار کر کے اس کی توثیق فرما دی ہے تو اس کے بارے میں تردد نہ کرو، اس لیے کہ یہ بھی اللہ تعالٰی کا حکم اور مہربانی ہے۔

    ایک بات پر غور کریں کہ ہم حدیث کی تعریف میں ’’تقریری حدیث‘‘ اس کو کہتے ہیں کہ صحابی نے کوئی بات کہی ہے یا عمل کیا ہے اور جناب نبی اکرمؐ نے معلوم ہونے کے بعد اس پر خاموشی اختیار کر لی ہے اور نکیر نہیں فرمائی، تو صحابی کا یہ قول اور فعل جناب نبی اکرمؐ کی حدیث اور سنت بن جاتا ہے۔ اسی طرح جناب نبی اکرمؐ نے کوئی بات فرمائی ہے یا عمل کیا ہے اور وحی کا سلسلہ جاری ہونے کے باوجود اللہ تعالٰی نے سکوت فرما لیا ہے، تو نبی اکرمؐ کا قول اور عمل اللہ تعالٰی کے حکم کا درجہ اختیار کر لیتا ہے۔ اور میری طالب علمانہ رائے میں ’’وحی حکمی‘‘ اسے ہی کہتے ہیں۔ اب نتیجہ یہ نکلے گا کہ حالت خوف اور جنگ کا قصر تو قرآن کریم نے بیان کیا ہے مگر حالتِ امن کے قصر کی بنیاد جناب نبی اکرمؐ کا عمل مبارک ہے، اور دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جبکہ ابوداؤد شریف کی وہ روایت تو آپ حضرات کے ذہن میں ضرور ہو گی کہ جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ مجھے قرآن کریم کے علاوہ اور احکام بھی دیے گئے ہیں اور جس چیز کو میں حرام قرار دیتا ہوں وہ بھی اسی طرح حرام ہے جیسے اللہ تعالٰی نے حرام قرار دیا ہے۔

میں نے ان سوالات کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ آپ کو عام سوسائٹی میں جانے کے بعد حدیث نبویؐ کے بارے میں اصطلاحی اور فنی سوالات کا سامنا نہیں ہو گا بلکہ اس سے مختلف قسم کے سوالات درپیش ہوں گے، جن میں سے چند ایک کا میں نے تذکرہ کیا ہے۔ اور ان میں ایک اور بات کا اضافہ کرنا چاہوں گا کہ قرآن کریم نے جناب نبی اکرمؐ کی حیات مبارکہ کو ’’اسوۂ حسنہ‘‘ قرار دے کر عمومی زندگی میں ان کی اتباع کا حکم دیا ہے۔ اور جناب نبی اکرمؐ کی حیات مبارکہ میں اوامر و نواہی اور احکام و قوانین کے علاوہ بہت سے پہلو ہیں، ان کو معلوم کرنے کا ذریعہ بھی ہمارے پاس صرف حدیث نبویؐ ہے۔ اس لیے میری آپ حضرات سے گزارش ہے کہ مدرسہ سے نکل کر باہر کے ماحول کو اجنبی جانتے ہوئے گھبراہٹ کا شکار نہ ہونا بلکہ حوصلہ و تدبر کے ساتھ حالات، ضروریات، اشکالات اور سوالات کا سامنا کرتے ہوئے سوسائٹی کی راہنمائی کی کوشش کرنا۔ البتہ اس کے لیے آپ کو مطالعہ کرنا ہوگا، تحقیق و تجزیہ کا ذوق پیدا کرنا ہو گا اور اپنے اساتذہ اور بزرگوں سے رابطہ رکھنا ہو گا۔

اب میں اس حدیث کی طرف آتا ہوں جو ابھی ایک عزیز طالب علم نے بخاری شریف کے آخری سبق کے طور پر پڑھی ہے، زیادہ لمبی بات نہیں کروں گا ورنہ بہت کچھ کہنے کی گنجائش موجود ہے، صرف ایک دو پہلوؤں کی طرف توجہ دلاؤں گا کہ امام بخاریؒ کا اس کتاب میں شروع سے یہ اسلوب ہے کہ احادیث بھی بیان کرتے ہیں اور ان کے ساتھ ان احادیث میں سے اپنے ذوق کے مطابق جو مسائل مستنبط ہوتے ہیں ان کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ حدیث کا متن اور سند بیان کرنا محدث کا کام ہے جبکہ احادیث سے مستنبط ہونے والے احکام بیان کرنا فقیہ کا کام ہوتا ہے۔ امام بخاریؒ محدث بھی ہیں اور فقیہ بھی ہیں، دونوں کام کرتے ہیں۔ احادیث بھی بیان کرتے ہیں اور ان سے جو مسائل نکلتے ہیں وہ بھی بیان کرتے ہیں، بلکہ انہوں نے مسائل زیادہ بیان کیے ہیں کیونکہ احادیث کی تعداد مسائل سے کم ہے۔ اسی طرح وہ پہلے مسئلہ بیان کرتے ہیں اور پھر اس کی مطابقت میں حدیث کا متعلقہ حصہ لاتے ہیں، یہ فقہی ترتیب ہے اور اسی وجہ سے بعض علماء حدیث کا کہنا ہے کہ بخاری شریف اصلًا فقہ کی کتاب ہے، جبکہ حضرت شاہ ولی اللہؒ فرماتے ہیں کہ بخاری شریف چار علوم کا مجموعہ ہے: (۱) تفسیر (۲) حدیث (۳) فقہ (۴) تاریخ۔ اور امام بخاریؒ نے ان چاروں علوم سے متعلقہ بیش بہا ذخیرہ اپنی اس عظیم کتاب میں جمع کر دیا ہے۔

امام بخاریؒ نے آخری باب اور آخری حدیث میں بھی یہی اسلوب اختیار فرمایا ہے۔ ایک مسئلہ بیان کیا ہے، اس کی موافقت میں قرآن کریم کی ایک آیت کریمہ ذکر کی ہے، اور دلیل میں ایک حدیث نبویؐ لائے ہیں۔ مسئلہ عقیدہ سے متعلق ہے کہ ’’ان اعمال بنی آدم واقوالہم یوزن‘‘ انسانوں کے اعمال اور اقوال دونوں قیامت کے دن ترازو پر تولے جائیں گے۔ یہ مسئلہ بیان کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ امام بخاریؒ کے دور میں کچھ گمراہ فرقے وزن اعمال کا انکار کرتے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ عمل اور قول تولی جانے والی چیزیں نہیں ہیں، کیونکہ قول اور عمل دونوں صادر ہونے کے بعد ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں اور ان کا کوئی وجود باقی نہیں رہتا جسے تولا جا سکے۔ ان کے اور بھی دلائل ہیں لیکن اس مذکورہ اشکال کا سائنس نے حل پیش کر دیا ہے کہ زبان سے نکلنے والی بات اور بدن سے صادر ہونے والا عمل معدوم نہیں ہوتا بلکہ ریکارڈ ہو جاتا ہے، بلکہ اس کی مقدار بھی متعین ہو جاتی ہے۔ ایک محاورہ ہمارے ہاں بولا جاتا تھا کہ ’’اذا تلفظ فتلاشی‘‘ جب بات منہ سے نکلتی ہے تو معدوم ہو جاتی ہے، مگر اب یہ محاورہ خود ’’فتلاشی‘‘ ہو گیا ہے اور ہر چیز ریکارڈ ہو رہی ہے۔

امام بخاریؒ کا اسلوب یہ ہے کہ مسئلہ بیان کرتے ہیں، اس کے مطابق قرآن کریم کی کوئی آیت لاتے ہیں، پھر حدیث بیان کرتے ہیں، اور کوئی بات وضاحت طلب ہو تو آثار صحابہؓ اور آثار تابعینؒ کے ذریعے اس کی وضاحت کرتے ہیں۔ یہی اسلوب اہل سنت کا ہے، اور میں عرض کیا کرتا ہوں کہ اہل سنت کے اسلوب استدلال اور دائرہ مستدلات میں امام بخاریؒ امت کے بہترین نمائندہ ہیں اور آج کے فتنوں کے دور میں ان کا یہ اسلوب زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ حدیث و سنت اور تعامل صحابہؓ کو بنیاد بنا لیا جائے تو کوئی فتنہ پریشانی کا باعث نہیں بن سکتا۔

آخری باب میں امام بخاریؒ نے یہی کیا ہے، یہ مسئلہ بیان کیا ہے کہ قیامت کے دن انسانوں کے اعمال و اقوال کا وزن ہو گا، اس کی موافقت میں قرآن کریم کی آیت مبارکہ ’’ونضع الموازین القسط لیوم القیامۃ‘‘ کو ترجمۃ الباب کا حصہ بنایا ہے، اور دلیل میں حدیث رسولؐ بیان کی ہے جس میں جناب نبی اکرمؐ نے ذکر کے دو کلموں ’’سبحان اللّٰہ و بحمدہ سبحان اللّٰہ العظیم‘‘ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’ثقیلتان فی المیزان‘‘ یہ دو جملے قیامت کے دن ترازو پر بہت وزنی ہوں گے۔ اور اسی جملہ سے انہوں نے وزن اعمال پر استدلال کیا ہے، اس کے ساتھ ہی ایک آیت کریمہ سے جو لفظ ’’قسطاس‘‘ آیا ہے، اس کی ایک تابعی حضرت قتادہؒ کے قول کے ساتھ تشریح کر دی ہے۔

ان گزارشات کے بعد میں طلبہ اور طالبات کو ایک بار پھر مبارک باد دیتے ہوئے بطور نصیحت یہ عرض کروں گا کہ:

  • یہ جو کچھ آپ نے پڑھا ہے اس کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ کیونکہ کوئی بھی کمائی ہو اگر اس کی حفاظت نہ کی جائے اور وہ ضرورت کے وقت کام نہ آئے تو وہ کمائی نہیں بلکہ صرف مشقت ہوتی ہے۔ جبکہ علم کی کمائی اور دین کی کمائی سے بہتر کوئی کمائی نہیں ہے، اس کی حفاظت عمل کے ساتھ اور پڑھنے پڑھانے کا شغل جاری رکھنے سے ہو گی۔ اس لیے تعلیم و تدریس کے ساتھ کسی نہ کسی درجہ میں تعلق ضرور قائم رکھیں ورنہ سب کچھ بھول جائے گا اور محنت ضائع چلی جائے گی۔
  • اس کے ساتھ ہی فتنوں کے اس دور میں اپنے اکابر و اسلاف کے ساتھ وابستہ رہیں اور امت کے اجماعی تعامل کے دائرے کو لازم پکڑیں۔ فتنوں سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ امت کے اجماعی تعامل کی پابندی کرتے ہوئے اسلاف و اکابر سے مسلسل راہنمائی حاصل کرتے رہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق سے نوازیں اور ہمارے بزرگوں کے اس گلشن علم و عمل کو ہمیشہ آباد رکھیں، آمین یا رب العالمین۔