حدیثِ نبویؐ کی ضرورت و اہمیت

   
مقام / زیر اہتمام: 
تاریخ بیان: 
اگست ۲۰۱۱ء

(رمضان المبارک ۱۴۳۲ھ کے پہلے عشرہ کے دوران مکی مسجد بروکلین نیویارک میں مختلف نشستوں سے خطاب کا مجموعہ)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ مکی مسجد کے خطیب و امام مولانا حافظ محمد صابر صاحب نے فرمایا ہے کہ میں چار پانچ روز تک یہاں مقیم ہوں تو نماز فجر کے بعد ایک حدیث بیان کر دیا کروں، میں نے سوچا ہے کہ حدیث بیان کرنے کی بجائے حدیث نبویؑ کے بارے میں مختصرًا کچھ بیان ہو جائے، جو تھوڑا تھوڑا کر کے چار پانچ روز میں مکمل کر دوں گا، انشاء اللہ تعالیٰ۔

’’حدیث‘‘ عربی زبان میں بات چیت اور گفتگو کو کہتے ہیں، لیکن جب ہم مذہبی حوالہ سے حدیث کا لفظ بولتے ہیں تو اس سے مراد ہر وہ بات ہوتی ہے جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول و منسوب ہو، یا ان کے بارے میں کسی روایت میں مذکور ہو۔ گویا کسی قول، عمل یا واقعہ میں جناب نبی اکرمؐ کا ذکر آجائے تو وہ حدیث بن جاتا ہے اور حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ کے بقول حدیثِ نبویؐ تمام دینی علوم کا سر چشمہ ہے۔

رمضان المبارک میں ہم قرآن کریم عام دنوں سے زیادہ پڑھتے سنتے ہیں، اور یہاں بھی تراویح میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد روزانہ قرآن کریم سماعت کر ر ہی ہے۔ قرآن کریم کے ساتھ حدیث کا کیا تعلق ہے؟ اس پہلو کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا۔

  1. پہلی بات یہ ہے کہ حدیث نبویؐ قرآن کریم تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔ ہم قرآن کریم کے الفاظ` جملوں اور آیات تک حدیث کے ذریعہ ہی پہنچتے ہیں، اگر حدیث کا واسطہ درمیان میں نہ ہو تو قرآن کریم تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔ مثلًا یہ ہمارے علم میں ہے کہ قرآن کریم کی پہلی آیات جو نازل ہوئی تھیں وہ سورۃ العلق کی ابتدائی پانچ آیات ہیں۔ ’’اقرأ باسم ربک الذی خلق۔ خلق الانسان من علق۔ اقرأ وربک الاکرم۔ الذی علم بالقلم۔ علم الانسان مالم یعلم‘‘۔ کم و بیش ہر مسلمان یہ جانتا ہے اور اس پر ایمان رکھتا ہے کہ یہ پانچ آیات قرآن کریم کی وہ پہلی آیات ہیں جو غار حرا میں جناب نبی اکرمؐ پر نازل ہوئی تھیں۔ مگر یہ بات ہمیں معلوم کیسے ہوئی؟ اور کس ذریعہ سے ہم نے ان پانچ آیات تک رسائی حاصل کی؟ یہ ذریعہ حدیث نبویؐ کی وہ روایت ہے جس میں غار حراء کا واقعہ بیان کیا گیا ہے اور جناب نبی اکرمؐ پر وحی کے نزول کے آغاز کی کیفیات ذکر کی گئی ہیں۔ اگر یہ واقعہ اور اس کے بارے میں یہ روایات ہمارے علم میں نہ ہوں اور ہم ان پر یقین نہ رکھیں تو قرآن کریم کی ان پانچ آیات تک رسائی کا ہمارے پاس اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

    اسی طرح ہم یہ جانتے ہوئے بھی کہ پہلی آیات کریمہ سورۃ العلق والی ہیں، جب ہم قرآن کریم کی تلاوت شروع کرتے ہیں تو سورۃ العلق کی پانچ آیات سے نہیں بلکہ سورۃ الفاتحہ کی سات آیات کی تلاوت سے آغاز کرتے ہیں، یعنی قرآن کریم کی تلاوت اس ترتیب سے نہیں کرتے جس ترتیب سے وہ نازل ہوا تھا۔ ترتیب کی اس تبدیلی کا ہمارے پاس کیا جواز ہے؟ ظاہر ہے کہ اس کی دلیل یہی ہو گی کہ جناب نبی اکرمؑ نے اسے اس ترتیب کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ نبی کریمؐ نے کون سی آیت اور سورت کس ترتیب کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے، یہ بات ہمیں کس ذریعہ سے معلوم ہوئی ہے؟ اور قرآن کریم کی ترتیب نبویؑ معلوم کرنے کا ذریعہ ہمارے پاس کیا ہے؟ یہی کہ کوئی صحابی نبی اکرمؐ سے روایت کرے گا کہ فلاں سورۃ نبی اکرمؐ نے اس ترتیب کے ساتھ پڑھی ہے اور فلاں آیت کو اس ترتیب کے ساتھ تلاوت کیا ہے۔ یہ روایت جو قرآن کریم کی ترتیب کے بارے میں کوئی صحابی بیان کر رہا ہے یہی حدیث کہلاتی ہے، اور قرآن کریم کی اس ترتیب تک رسائی کا ذریعہ ہمارے پاس حدیث کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔

    پھر قرآن کریم کے اس مصحف کو دیکھ لیجئے جو ہمارے پاس موجود ہے اور ’’مصحف عثمانی‘‘ کہلاتا ہے۔ قرآن کریم کو اس ترتیب کے ساتھ کتابی شکل میں حضرت زید بن ثابتؓ نے خلیفۂ وقت حضرت ابوبکر صدیقؓ کے حکم سے لکھا تھا۔ جناب نبی اکرمؐ کے دور میں قرآن کریم کتابی شکل میں مرتب نہیں تھا اور اس کی ضرورت بھی نہیں تھی، اس لیے کہ حفاظ کرام بکثرت موجود تھے اور ویسے بھی اس معاشرے میں حافظہ اور یادداشت پر اس قدر اعتماد کیا جاتا تھا کہ لکھنے پڑھنے کو کمزوری سمجھا جاتا تھا۔ اس کی ضرورت حضرت ابوبکرؓ کے دورِ خلافت میں مختلف جنگوں میں حافظ قرآن کریم صحابہ کرامؓ کی کثرت کے ساتھ شہادت کی وجہ سے حضرت عمرؓ نے محسوس کی۔ اس کی بنیاد احتیاط اور تحفظ پر تھی کہ حفاظ کرام کثرت کے ساتھ جام شہادت نوش کر رہے ہیں، کہیں قرآن کریم کی حفاظت کے بارے میں کوئی مشکل نہ پیدا ہو جائے۔ اس تحفظ اور احتیاط کے ذہن سے حضرت عمرؓ کی تجویز بلکہ اصرار پر حضرت ابوبکرؓ نے حضرت زید بن ثابتؓ سے قرآن کریم کا ایک نسخہ کتابی شکل میں لکھوا کر محفوظ کر لیا، جسے بعد میں حضرت عثمانؓ نے اپنے دور خلافت میں کچھ ضروری تحفظات اور احتیاطات کے حوالہ سے دوبارہ لکھوا کر اس کے چند نسخے عالم اسلام کے مختلف حصوں میں بھجوا دیے۔

    سوال یہ ہے کہ حضرت زید بن ثابتؓ نے قرآن کریم کا یہ کتابی مصحف کس بنیاد پر مرتب کیا تھا اور ان کے پاس اس کا ذریعہ کیا تھا؟ حضرت زید بن ثابتؓ خود قرآن کریم کے حافظ تھے لیکن وہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے یہ اصول قائم کر لیا تھا کہ ہر آیت پر جناب نبی اکرمؐ سے سننے والے کم از کم دو اور صحابی شہادت دیں گے تو وہ اسے تحریر میں لائیں گے۔ اس اصول پر انہوں نے سارا قرآن کریم تحریر کر لیا مگر سورہ یونس کی آخری دو آیات اور سورہ الاحزاب کی ایک آیت پر انہیں الجھن پیش آگئی کہ ان پر صرف ایک صحابی ان آیات کو جناب نبی اکرمؐ سے سننے کی گواہی دے رہے تھے، وہ حضرت خزیمہ بن ثابتؓ تھے، ان کے ساتھ دوسرا گواہ نہیں مل رہا تھا۔ لیکن چونکہ جناب نبی اکرمؐ نے ایک واقعہ میں حضرت خزیمہؓ کی شہادت کو دو گواہوں کی شہادت قرار دے رکھا تھا، اس لیے ان آیات کو اسی بنیاد پر قرآن کریم میں تحریر کیا گیا۔

    عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حضرت زید بن ثابتؓ نے جن روایات کی بنیاد پر قرآن کریم کا یہ مصحف مرتب اور تحریر کیا وہ احادیث ہی ہیں اور انہی احادیث کے ذریعہ ہم نے یہ مصحف حاصل کیا ہے۔ اس لیے میری پہلی گزارش یہ ہے کہ حدیث نبویؐ قرآن کریم تک پہنچنے کا واحد ذریعہ ہے، اس ذریعہ کو درمیان سے ہٹا دیں تو ہمارا قرآن کریم کی آیات، سورتوں اور ترتیب تک رسائی حاصل کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کریم کے بعد حدیث پر ایمان لانا ضروری نہیں ہے، مگر میں یہ عرض کرتا ہوں کہ قرآن کریم سے پہلے حدیث پر ایمان لانا ضروری ہے، اس لیے کہ حدیث پر ایمان نہیں ہو گا تو قرآن کریم پر ایمان ہو ہی نہیں سکتا۔

  2. دوسری بات یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ جناب نبی اکرمؐ کی ذات گرامی کو بھی مطاع اور واجب الاتباع قرار دیا ہے اور نبی اکرمؐ کی حیات طیبہ کو قیامت تک مسلمانوں کے لیے اسوہ حسنہ کا درجہ دیا ہے جس کی قدم بہ قدم پیروی ضروری ہے۔ جناب نبی اکرمؐ کی اطاعت اور اسوۂ حسنہ کے طور پر آپ کی قدم بہ قدم پیروی کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہمیں آنحضرتؐ کے ارشادات و اقوال، احوال و افعال اور واقعات کا علم ہو، اس کے بغیر ہم اس فریضہ کی انجام دہی میں سرخرو نہیں ہو سکتے۔ اور یہ اقوال و افعال اور واقعات و کیفیات معلوم کرنے کا واحد ذریعہ حدیث نبویؑ ہے، اسی کے ذریعے ہم کسی معاملہ میں جناب نبی اکرمؐ کی سنت اور آپؐ کی منشا معلوم کر کے اس پر عمل کر سکتے ہیں۔
  3. تیسرے نمبر پر یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ قرآن کریم کی کسی آیت کریمہ کے سمجھنے میں الجھن پیش آئے تو اسے حل کرنے کے لیے سب سے پہلے جناب نبی اکرمؐ سے رجوع کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ صاحبِ قرآن ہونے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے نمائندہ بھی ہیں، وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ صحابہ کرامؓ کو جب کسی آیت یا جملہ کا مفہوم سمجھنے میں الجھن ہوتی تھی تو وہ نبی اکرمؐ سے رجوع کرتے تھے، اس سلسلہ میں بیسیوں واقعات حدیث و تفسیر کے ذخیرے میں موجود ہیں جن میں سے مثال کے طور پر ایک کا ذکر کر دیتا ہوں۔ قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے کہ ’’یا ایہا الذین اٰمنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم‘‘ (سورہ المائدہ ۱۰۵) اے ایمان والو! تم پر لازم ہے کہ اپنا فکر کرو دوسرا کوئی اگر گمراہ ہوتا ہے تو وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں دے گا اگر تم خود ہدایت پر ہو۔ اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ دوسروں کی گمراہی کے بارے میں فکر اور تردّد کرنے کی ضرورت نہیں، حالانکہ مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خود بھی جہنم کی آگ سے بچیں، اپنے گھر والوں کو بھی بچائیں، اور معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ماحول قائم کریں۔

    چنانچہ حضرت صدیق اکبرؓ نے جب مرتدین، منکرین ختم نبوت اور مانعین زکوٰۃ کے خلاف عملی جہاد کا اعلان کیا تو کسی نے یہ آیت کریمہ پڑھ دی۔ اس ماحول میں اس آیت کریمہ کا حوالہ دینے کا مطلب آپ سمجھتے ہیں کہ کیا ہو سکتا تھا؟ بخاری شریف کی روایت کے مطابق اس پر حضرت صدیق اکبرؓ نے باقاعدہ خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا کہ لوگو! اس آیت کریمہ سے مغالطے میں نہ پڑنا اس لیے کہ میں نے جناب نبی اکرمؐ سے خود سنا ہے، آنحضرتؐ نے ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو، یہاں تک کہ وہ وقت آجائے جب خواہش پرستی اور بخل کے فتنوں کے باعث اپنا ایمان بچانا مشکل ہو جائے، تو پھر سب سے پہلے اپنے ایمان کی فکر کرو۔ یعنی ’’علیکم انفسکم‘‘ کا حکم عام حالات میں نہیں ہے بلکہ فتنوں کے اس دور میں ہے جب فتنوں کی کثرت اور غلبہ کی وجہ سے خود اپنے ایمان کی حفاظت مشکل ہو جائے۔ جبکہ ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ اس آیت کریمہ کے حوالہ سے یہی اشکال ایک صاحب نے حضرت ابو ثعلبہ خشنیؓ کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم نے باخبر آدمی سے سوال کیا ہے اس لیے کہ مجھے بھی اس آیت پر یہی اشکال ہوا تھا اور میں نے جناب نبی اکرمؐ سے دریافت کیا تو انہوں نے اس پر یہی فرمایا تھا کہ اس آیت کریمہ کا حکم فتنوں کے دور کے بارے میں ہے اور اس سے اس کا ظاہری مفہوم مراد نہیں ہے۔

    اب دیکھیے کہ ایک آیت کریمہ کا مفہوم و مصداق سمجھنے میں صحابہ کرامؓ کو الجھن پیش آئی اور جناب نبی اکرمؑ نے اس کی وضاحت فرما دی۔ اس قسم کی الجھنیں بیسیوں آیات کریمہ کے بارے میں صحابہ کرامؓ کو پیش آئی ہیں جن کی وضاحت حضورؐ نے فرمائی ہے۔ اور یہ احادیث نبویہ ہی ہیں جن کے ذریعہ ان وضاحتوں تک ہماری رسائی ہوتی ہے جو جناب نبی اکرمؐ نے قرآن کریم کی مختلف آیات کے بارے میں فرمائی ہے، اور احادیث نبویہؐ اور روایات کے بغیر ہمارے پاس ان کا علم حاصل کرنے کا اور کوئی ذریعہ موجود نہیں ہے۔

  4. چوتھی بات اس سلسلہ میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم کی مختلف آیات کریمہ کے بارے میں غیر مسلموں کی طرف سے اعتراضات کیے گئے جن کا جواب حاصل کرنے کے لیے صحابہ کرامؓ نے نبی اکرمؑ سے رجوع کیا اور آپؐ نے ان کی وضاحت فرما دی۔ مثلًا قرآن کریم میں ہے کہ ’’اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللّٰہ والمسیح بن مریم‘‘ (سورہ التوبہ ۳۱) عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ساتھ اپنے احبار اور رہبان یعنی علماء اور مشائخ کو بھی اللہ تعالیٰ کے بعد رب بنا لیا تھا۔ اس پر حضرت عدی بن حاتمؓ نے، جو اسلام قبول کرنے سے پہلے مسیحی سردار تھے، اشکال پیش کیا کہ ہمارے ہاں تو ایسا نہیں ہوتا تھا، قرآن کریم نے ہمارے بارے میں یہ کیا کہہ دیا ہے؟ ان کا مطلب یہ تھا کہ ہم تو اپنے مشائخ اور علماء کو رب کا درجہ نہیں دیا کرتے تھے۔ جناب نبی اکرمؐ نے اس کے جواب میں ان سے پوچھا کہ کیا تمہارے علماء و مشائخ کو حلال و حرام کا اپنی طرف سے فیصلہ کرنے کی اتھارٹی حاصل تھی؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ اتھارٹی تو انہیں حاصل ہے۔ اور میں عرض کرتا ہوں کہ یہ اتھارٹی آج بھی کیتھولک عیسائیوں میں پاپائے روم کو حاصل ہے کہ وہ جس چیز کو حلال کہہ دیں وہ حلال سمجھی جاتی ہے اور جس کو حرام کہہ دیں وہ حرام قرار پاتی ہے۔ جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ رب بنانے کا مطلب یہی ہے کہ حلال و حرام میں ردوبدل کا اختیار، جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس نہیں ہے، عیسائیوں نے اپنے علماء و مشائخ کو اس اختیار کا حامل قرار دے رکھا ہے۔

    اس سلسلہ میں اسلام کا عقیدہ کیا ہے؟ ذرا غور کر لیجیے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی شخصیت کو حلال و حرام میں ردوبدل کا صوابدیدی اختیار دیتا تو اس کا حق سب سے زیادہ جناب نبی اکرمؐ کا ہو سکتا تھا لیکن جب حضورؐ نے اپنی ذات کے لیے شہد کو حرام قرار دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر ٹوک دیا کہ ’’یا ایھا النبی لم تحرم ما احل اللّٰہ لک‘‘ (سورہ التحریم ۱) اے نبی! جو چیز ہم نے آپ کے حلال کی ہے وہ آپ نے کیسے حرام قرار دے دی؟ چنانچہ آپؐ نے حکم خداوندی کے تحت قسم توڑی اس کا کفارہ دیا اور شہد استعمال کیا۔ اسی طرح کا ایک اعتراض حضرت مغیرہ بن شعبہؓ پر ہوا جب وہ نجران کے علاقے میں دعوت اسلام کے لیے گئے۔ ترمذی شریف کی روایت کے مطابق وہاں کے مسیحی علماء نے قرآن کریم میں سورۃ مریم کی آیت ۲۸ پر اعتراض کیا جس میں ’’یا اخت ہارون‘‘ کہہ کر حضرت مریم علیہا السلام کو ہارون کا بھائی قرار دیا گیا ہے، جبکہ حضرت ہارونؑ تو حضرت موسٰیؑ کے بھائی تھے اور ان کے اور حضرت عیسٰیؑ کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے اس کا کوئی جواب نہ بن پڑا اور مدینہ منورہ واپسی پر یہ سوال نبی اکرمؐ کے سامنے پیش کر دیا۔ آنحضرتؐ نے فرمایا کہ حضرت مریمؑ کے بھائی کا نام بھی ہارون تھا اور وہ حضرت موسٰیؑ کے بھائی حضرت ہارونؑ نہیں تھے، بنی اسرائیل میں لوگ اپنے بچوں کے نام انبیاء کرام علیہم السلام کے نام پر رکھا کرتے تھے۔

میں نے آپ حضرات کے سامنے جو گزارشات پیش کی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کریم کے الفاظ جملوں، آیات اور سورتوں تک رسائی کی بات ہو، اس کی ترتیب کا مسئلہ ہو، مصحف قرآنی کی اساس، اور مأخذ کا معاملہ ہو، کسی آیت کا مفہوم سمجھنے میں الجھن درپیش ہو، یا قرآن کریم کی کسی بات پر غیر مسلموں کے کسی اعتراض کا مسئلہ ہو، ہر معاملہ میں ہم حدیث نبویؐ کے محتاج ہیں اور ان میں سے کوئی مسئلہ بھی حدیث نبویؑ کے بغیر حل نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اسی پس منظر میں فرمایا ہے کہ تمام علوم دینیہ کا سر چشمہ اور اساس حدیث نبویؐ کا علم ہے، (۱) اسی سے ہمیں قرآن ملتا ہے، (۲) اسی سے سنت حاصل ہوتی ہے، (۳) اور اسی کی بنیاد پر فقہ تشکیل پاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو حدیث نبویؐ کا صحیح یقین اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔