نکاح کے وقت حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی عمر اور راویانِ حدیث کا مقام و مرتبہ

   
تاریخ : 
۱۵ ستمبر ۲۰۱۰ء

گزشتہ دنوں روزنامہ پاکستان میں محترم بریگیڈیئر (ر) حامد سعید اختر صاحب کا قسط وار مضمون نظر سے گزرا جس میں انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کے نکاح کے وقت ان کی عمر کے حوالے سے تفصیلی بحث کی ہے، اور خلاصے کے طور پر یہ بات بیان فرمائی ہے کہ ہمیں احادیث کی وہ تمام روایات مسترد کر دینی چاہئیں جو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے بارے میں آج کی دنیا بالخصوص مغرب کے اعتراضات کا باعث بنتی ہیں، اور چونکہ مغرب کم سنی کی شادی کو قابلِ اعتراض سمجھتا ہے اس لیے بخاری شریف کی یہ روایت ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہونی چاہیے جس میں بتایا گیا ہے کہ نکاح کے وقت حضرت عائشہؓ کی عمر ۶ سال اور رخصتی کے وقت ۹ سال تھی۔ بریگیڈیئر صاحب محترم نے اس مقصد کے لیے بخاری شریف کی اس روایت کو ناقابلِ اعتبار قرار دینے میں خاصی محنت فرمائی ہے۔

جہاں تک ان کے اس جذبے کا تعلق ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی پر مغرب کے اعتراضات کا محققانہ جواب دینا ضروری ہے، انتہائی قابل قدر ہے، اور اس کے لیے ان کی یہ محنت بھی قابلِ داد ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ ان کی بحث کے تمام پہلوؤں اور اس کے نتائج سے بھی اتفاق کیا جائے، اور ہم اسی حوالے سے کچھ گزارشات پیش کرنا مناسب خیال کر رہے ہیں۔

نکاح اور رخصتی کے وقت ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کی عمر کے بارے میں یہ بحث ایک عرصہ سے جاری ہے اور بحث و تحقیق کی حد تک اس میں کوئی اشکال کی بات بھی نہیں ہے، ہر مؤرخ اور محقق کا حق ہے کہ روایات کی بنیاد پر اپنی تحقیق کے مطابق کوئی رائے قائم کرے اور اس کا اظہار بھی کرے۔ اس نوعیت کے سینکڑوں مسائل امت کے اہلِ علم میں مختلف فیہ چلے آ رہے ہیں اور ان پر بحث و تمحیص کا سلسلہ بھی جاری ہے، جبکہ آئندہ بھی قیامت تک ان مباحث کا دروازہ کھلا ہے۔

البتہ بحث کا یہ پہلو کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کے بارے میں مغرب کے اعتراضات اور طعن و تشنیع کا جواب دینے کے لیے ہم اپنی ہی روایات اور علمی اثاثے کی اکھاڑ پچھاڑ میں لگ جائیں، بہرحال قابلِ توجہ بات ہے، اور ہمارے خیال میں ایسے مسائل میں اپنے علمی ذخیرے کے درپے ہونے سے پہلے ہمیں اس بات کا جائزہ لے لینا چاہیے کہ مغرب کے اس اعتراض کی فکری اساس کیا ہے؟ اور اس طعن و تشنیع کی اپنی علمی حیثیت کیا ہے جس کی بنیاد پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کو موردِ طعن قرار دیا جا رہا ہے؟ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ مغرب کے طعن و اعتراض کی علمی و ثقافتی حیثیت کا تجزیہ کیا جائے، اور ہر مغربی اعتراض کو درست تسلیم کرنے کی بجائے اس کی خامی کو واضح کرنے کی کوشش کی جائے۔

مگر ہمارا المیہ ہے کہ علامہ محمد اقبالؒ کے بعد مغربی فلسفہ و ثقافت کا اس سطح پر ناقدانہ جائزہ لینے والا اور کوئی مفکر سامنے نہیں آیا، اور اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ خود اقبالؒ کا نام لینے والے اس معاملہ میں اقبالؒ کی راہ پر چلنے کی بجائے مغربی فلسفہ و ثقافت کی نام نہاد علمی برتری کے سامنے سربسجود دکھائی دے رہے ہیں۔ اسی کم سنی کی شادی کے بارے میں دیکھ لیجیے کہ مغرب ایک خاص عمر سے قبل لڑکی کو شادی کا حق دینے کے لیے تیار نہیں ہے، لیکن نو سال سے بارہ سال تک عمر کی حاملہ لڑکیوں کی کثرت نے خود مغرب کے دانشوروں کو پریشان کر دیا ہے۔ اور بجائے اس کے کہ وہ زنا کی روک تھام کے لیے نو عمر لڑکوں اور لڑکیوں کے آزادانہ اختلاط کا راستہ روکیں، یا کم سنی کی شادی کی اجازت دیں، مغرب کے دانشور اسقاطِ حمل کو ہر لڑکی کا قانونی حق قرار دینے پر مصر ہیں، اور اس مقصد کے لیے عالمی سطح پر اقوام متحدہ کے زیر نگرانی مہم چلائی جا رہی ہے کہ دنیا کے تمام ممالک اسقاطِ حمل کے غیر مشروط حق کو اپنے قانون کا حصہ بنائیں۔

ابھی رمضان المبارک کے پہلے عشرے کی بات ہے کہ میں بروکلین نیویارک کی مکی مسجد کے امام حافظ محمد صابر کے ہاں چار پانچ روز کے لیے مقیم تھا، ایک دن مکی مسجد کے گیٹ کے پاس کھڑا تھا کہ میرے سامنے سے ایک لڑکی گزری جس کی عمر بمشکل تیرہ یا چودہ برس ہو گی، اس نے ایک بچہ گود میں اٹھا رکھا تھا اور ایک بچے کو انگلی پکڑے ساتھ چلا کر لے جا رہی تھی۔ وہ تو گزر گئی مگر میں سوچ میں پڑ گیا کہ اس عمر میں اس لڑکی کے دو بچے مغرب کے لیے قابلِ اعتراض نہیں ہیں، اور نہ صرف یہ کہ یہاں تک اس کے پہنچنے کے سارے مراحل مغربی فلسفہ و ثقافت کے نزدیک قابل قبول ہیں، بلکہ ان کے ماں بیٹے کے اسٹیٹس کو پورا احترام دیا جاتا ہے، لیکن یہ لڑکی ان دو بچوں کے بعد بھی اس عمر میں باقاعدہ نکاح اور شادی کرنا چاہے تو اسے مغرب کا قانون اجازت نہیں دے گا، اور ہمارے بہت سے دانشوروں کی روحوں پر بھی لرزہ طاری ہونے لگے گا۔ کم سنی کی شادی کو ناجائز قرار دینے اور اس کی بنیاد پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کو موردِ طعن بنانے والے مغرب کا اپنا حال یہ ہے کہ وہ پندرہ سال کی لڑکی کو نکاح کا باقاعدہ حق دینے کے لیے تیار نہیں، لیکن نو سال سے بارہ سال کی عمر کی ہزاروں حاملہ لڑکیوں کے لیے ہاتھ میں کشکول لیے دنیا بھر سے اسقاطِ حمل کے قانونی حق کی بھیک مانگ رہا ہے۔

اسلام نے کم سنی میں شادی کی اجازت دی ہے اور وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ فطری طور پر بھی اس میں کوئی قباحت نہیں ہے، بلکہ بعض صورتوں میں یہ فطری تقاضوں کی بہتر انداز میں تکمیل کا باعث بن جاتی ہے۔ قرآن کریم نے سورۃ الطلاق کی آیت ۴ میں وہ سن رسیدہ عورت جو حیض کے پراسیس سے گزر چکی ہو، اور وہ کم سن لڑکی جو ابھی حیض کی عمر کو نہ پہنچی ہو، ان دونوں کی طلاق کی صورت میں عدت تین ماہ بیان کی ہے۔ یعنی وہ کم سن لڑکی جو ابھی ماہواری کی عمر کو نہیں پہنچی قرآن کریم کے نزدیک نکاح، اس کے بعد طلاق، اور اس کے بعد عدت کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اور اللہ تعالیٰ کا کلام اس کی عدت تین ماہ بیان کر رہا ہے۔ اس لیے محترم بریگیڈیئر (ر) حامد سعید اختر کی خدمت میں عرض ہے کہ ہمیں کسی مسئلہ میں بحث و تمحیص اور روایات کی جانچ پڑتال سے انکار نہیں ہے، اور ہم بحمد اللہ تعالیٰ دینی مقاصد کے لیے شب و روز اس کام میں مصروف رہتے ہیں، مگر مغرب کے فلسفہ و ثقافت کی تائید اور اس کے کسی لایعنی اعتراض سے خود کو بری الذمہ قرار دلوانے کے لیے خود اپنی ہی روایات اور علمی ذخیرے پر نشتر زنی کرنے کے لیے ہم تیار نہیں ہیں، اور پھر اعتراض بھی وہ جس کا بوداپن تجربہ اور وقت نے واضح کر دیا ہے۔

جہاں تک کم سنی میں ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کی شادی کی حکمت کا تعلق ہے، اس کے لیے ہمیں مغرب کے پیدا کردہ اس ماحول اور نفسیاتی تاثر سے نکلنا ہو گا کہ شادی کا مقصد صرف سیکس ہے اور ایک جوڑا صرف اپنی خواہشات کی تکمیل کی ضرورت کے لیے سوشل کنٹریکٹ کے تحت ایک دوسرے سے منسلک ہوتا ہے۔ اسلام کے نزدیک شادی کے مقاصد کا تناظر اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے، اور اس وسیع تناظر میں اس شادی کا جائزہ لیا جائے تو ایک حکمت یہ سمجھ میں آتی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نسلِ انسانی کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تعلیمات و ہدایات لے کر آئے، اور ان تعلیمات و ہدایات پر عملدرآمد کا واقعاتی اور عملی ماحول جناب نبی اکرمؐ نے دنیا کے سامنے پیش فرمایا، جسے قرآن کریم نے اسوۂ حسنہ کے طور پر پوری امت کے لیے واجب العمل قرار دیا ہے۔ اور وہ مردوں اور عورتوں کے لیے یکساں طور پر ہے اور اس میں چار دیواری سے باہر کی دنیا کے بارے میں ارشادات، تعلیمات اور ہدایات کے ساتھ ساتھ گھر کی چار دیواری کے اندر کا ماحول اور تعلیمات بھی شامل ہیں۔ بلکہ ایک لحاظ سے وہ نصف دین ہے، اس نصف دین کو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کرنے، سمجھنے، اور اس کا پوری طرح ادراک کرنے کے لیے فطری ضرورت یہ تھی کہ کوئی لڑکی تعلیم و تعلم کی طبعی عمر میں نبی اکرمؐ کے گھر میں آئے، جو ذہین و فطین ہو، اور اس کی حیثیت بیوی کی ہو تاکہ کسی بات کے سمجھنے میں کسی قسم کا کوئی حجاب نہ ہو۔

اللہ تعالیٰ نے اس ملی و دینی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے حضرت عائشہؓ کو نو سال کی عمر میں بیوی کے طور پر جناب نبی اکرمؐ کے حرم میں داخل کیا، انہوں نے مسلسل نو برس تک تعلیم حاصل کی، پھر باقی ساری زندگی امت کو تعلیم دینے اور اس کی دینی رہنمائی میں بسر کر دی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد کم و بیش نصف صدی تک حضرت عائشہؓ نے امت کی جو دینی اور علمی خدمت کی ہے، وہ اس بات کی شہادت ہے کہ حرمِ نبویؐ میں ان کی آمد کا اصل مقصد یہی تھا، اور اس کے لیے فطری طور پر ضروری تھا کہ وہ

  • نکاح کے وقت تعلیم و تعلم کی فطری عمر میں ہوں،
  • ذہانت و فطانت کی اعلیٰ صلاحیت سے بہرہ ور ہوں،
  • بحیثیت بیوی کے حرمِ نبویؐ کا حصہ ہوں،
  • اور ان کے ذہن کی تختی خالی ہو کہ حرمِ نبویؐ سے ہی ان کی تعلیم کا آغاز ہوا ہو۔

باقی رہی بات روایات کی تو ہمارے خیال میں بریگیڈیئر (ر) حامد سعید اختر صاحب نے روایات کے مجموعی تناظر پر نظر ڈالنے کی زحمت گوارا نہیں کی، بلکہ کسی یکطرفہ کتاب کو سامنے رکھ کر ساری بحث و تمحیص کا تانا بُن دیا ہے۔ ورنہ انہیں یہ کہنے کی ضرورت نہ پڑتی کہ شادی کے وقت حضرت عائشہؓ کی عمر نو سال ہونے کی روایت صرف ہشام بن عروہؓ سے ہے، جسے ان کے بقول بعض محدثین نے کاذب قرار دیا ہے، اس لیے اس روایت کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ کیونکہ یہی روایت امام مسلمؒ نے دو اور سندوں کے ساتھ بھی بیان کی ہے جن میں ہشام بن عروہؓ کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ ایک روایت میں امام اعمشؒ حضرت ابراہیمؒ سے، وہ حضرت اسودؓ سے، اور وہ حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہیں۔ جبکہ دوسری سند کے مطابق امام عبد الرازاقؒ حضرت معمرؒ سے، وہ امام زہریؒ سے، وہ حضرت عروہؒ سے، اور وہ حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہیں، جس میں ام المؤمنین خود فرماتی ہیں کہ نکاح کے وقت ان کی عمر ۶ سال اور رخصتی کے وقت ۹ سال تھی، جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت وہ ۱۸ برس کی تھیں۔

ہشام بن عروہؓ پر بھی محترم بریگیڈیئر (ر) حامد سعید اختر صاحب کا غصہ بے جا ہے، اس لیے کہ ہشام بن عروہؓ، موطا امام مالک، صحیح بخاری شریف، اور صحیح مسلم شریف کے مرکزی راوی ہیں، جن سے ان تینوں اماموں نے سینکڑوں روایات لی ہیں۔ خود امام مالکؒ کی موطا امام مالک کے پہلے باب میں، جو طہارت کے مسائل پر مشتمل ہے، ہشام بن عروہؓ سے ایک درجن سے زیادہ روایات بیان کی گئی ہیں۔ ہشام بن عروہؓ کو امام مالکؒ نے، بریگیڈیئر صاحب کے بقول، کاذب کہا ہے یا نہیں، امام مالکؒ کی طرف یہ جملہ منسوب کرنے والی روایات کی چھان پھٹک پر موقوف ہے۔ مگر موطا امام مالک تو ہمارے سامنے موجود ہے جس میں سینکڑوں روایات درج ہیں جو امام مالکؒ نے براہ راست ہشام بن عروہؓ سے لی ہیں، اور امام مالکؒ کے ساتھ ساتھ وہ امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ کے بھی معتمد راوی ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ اسمائے رجال کی کتابوں میں راویوں کے بارے میں مختلف لوگوں کے جو ریمارکس مذکور ہیں، ان میں سے اگر صرف منفی ریمارکس کو بنیاد بنا کر شخصیات کے بارے میں فیصلہ کرنا شروع کر دیا جائے تو کوئی بڑی سے بڑی علمی شخصیت بھی اس طرح کے فیصلے سے محفوظ نہیں رہے گی جس طرح کا فیصلہ ہشام بن عروہؓ کے بارے میں بریگیڈیئر (ر) حامد صاحب نے صادر کر دیا ہے۔ یہ کام محدثین اور اسمائے رجال کے ناقدین کا ہے کہ کسی راوی کے بارے میں فیصلہ کریں کہ روایتِ حدیث میں اس کا درجہ کیا ہے اور اس کے بارے میں مختلف لوگوں کے ریمارکس کی حیثیت کیا ہے۔ ہماری مصیبت یہ ہے کہ نزلہ اور زکام کی نوعیت سمجھنے کے لیے تو ہم اسپیشلسٹ کی رائے کے منتظر رہتے ہیں، مگر کسی حدیثِ نبویؐ کا درجہ اور راوی کی حیثیت طے کرنے کے لیے ہم میں سے ہر شخص فیصلے کا قلم اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے۔ بریگیڈیئر محترم سے گزارش ہے کہ کسی حدیث کا درجہ اور راوی کی حیثیت طے کرنا میرا اور آپ کا کام نہیں، محدثین اور ناقدین کا کام ہے۔ اور جب امام مالکؒ، امام بخاریؒ، اور امام مسلمؒ نے ہشام بن عروہؓ سے سینکڑوں روایات بیان کر کے ان کی شفافیت کا فیصلہ دے دیا ہے تو میرے اور آپ کے لیے اس فیصلے کو ’’ری اوپن‘‘ کرنے کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے؟

   
2016ء سے
Flag Counter