چوہدری محمد خلیل مرحوم

   
تاریخ اشاعت: 
جنوری ۱۹۹۴ء

گجرات میں ہمارے پرانے بزرگ دوست چوہدری محمد خلیل گزشتہ دنوں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کے ساتھ تعارف اس دور میں ہوا جب مولانا سید عنایت اللہ شاہ بخاری نے حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسئلہ پر تفرد کی راہ اختیار کی اور اسے اپنے مواعظ و خطابات کا موضوع بنا کر جمہور علمائے امت کے خلاف فتوٰی بازی کی زبان استعمال کرنا شروع کر دی۔ تو ان کے ایک رفیق مولانا نذیر اللہ خان مرحوم نے ان سے علیحدگی اختیار کر کے مسجد حیات النبیؐ میں الگ ’’مورچہ‘‘ قائم کر لیا۔ چوہدری محمد خلیل مرحوم اس محاذ پر مولانا نذیر اللہ خان مرحوم کا دست و بازو بنے اور فعال ساتھی رہے۔

چوہدری صاحب دراصل مجلسِ تحفظ ختم نبوت کے کارکن تھے اور وہی محاذ ان کی سرگرمیوں کی سب سے بڑی جولانگاہ تھی۔ باضابطہ عالم دین نہیں تھے لیکن قادیانیوں کے بارے میں اس قدر معلومات اور گفتگو کا ملکہ رکھتے تھے کہ متعدد مناظروں میں قادیانی حضرات کو ان کے سامنے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے اپنے گھر کے قریب ختمِ نبوت کے عنوان سے مسجد اور مکتب قائم کیا اور عمر کا آخری حصہ اسی کی خدمت میں بسر کیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے ضلعی امیر تھے اور جمعیۃ علماء اسلام کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter