سودی نظام سے نجات کی جدوجہد: پس منظر اور لائحہ عمل

   
تاریخ اشاعت: 
۷ جون ۲۰۲۲ء

سودی نظام کے خاتمہ کے لیے وفاقی شرعی عدالت نے رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں جو فیصلہ دیا ہے اس کا تمام دینی حلقوں میں خیر مقدم کیا جا رہا ہے اور اس پر عملدرآمد کا ہر طرف سے مطالبہ ہو رہا ہے۔ اس فیصلہ کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ

  • قیامِ پاکستان کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے واضح اعلان کیا تھا کہ پاکستان کا معاشی نظام مغربی اصولوں پر نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات کے حوالے سے تشکیل دیا جائے گا، مگر ان کی وفات کے بعد یہ اعلان فائیلوں میں تو محفوظ رہا لیکن عملی طور پر پاکستان کے تمام معاشی فیصلے اور معاہدات مغربی اصولوں کے حوالہ سے ہوئے جو اَب تک اسی طرح ہو رہے ہیں۔
  • حتٰی کہ ۱۹۵۶ء اور ۱۹۶۲ء کے دستوروں میں بھی سودی قوانین کے خاتمہ کا اعلان ہوا مگر معاملات حسبِ سابق چلتے رہے۔
  • جبکہ ۱۹۷۳ء کے دستور میں حکومت کے لیے یہ واضح ہدایت بھی، کہ وہ جلد از جلد سودی قوانین کا خاتمہ کر کے ملک کے نظامِ معیشت کو اسلامی اصولوں کے دائرے میں لے آئے، کسی پیشرفت کا ذریعہ نہ بن سکی۔
  • تا آنکہ صدر جنرل ضیاء الحق شہید کے دور میں وفاقی شرعی عدالت قائم ہوئی اور اس کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ خود، یا کسی شہری کی درخواست پر ملک کے جس قانون کو قرآن و سنت کے منافی سمجھے، حکومت کو اس قانون کو ختم کرنے کی ہدایت کر سکتی ہے۔ البتہ مالی معاملات کو دس سال کے لیے اس اختیار سے مستثنٰی کر دیا گیا۔
  • البتہ اس دوران اسلامی نظریاتی کونسل نے سود کے بارے میں تفصیلی بحث و مباحثہ کے بعد سودی قوانین کے خاتمہ اور متبادل غیر سودی نظام کے لیے جامع سفارشات حکومت کو پیش کیں۔
  • دس سالہ مدت ختم ہونے پر ملک کے مختلف حلقوں اور شخصیات نے سودی قوانین کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کر دیا۔ جس پر سالہا سال کی سماعت کے بعد وفاقی شرعی عدالت نے ملک میں رائج سودی قوانین کی نشاندہی کرتے ہوئے حکومت کو ان قوانین کے خاتمہ اور ان کے متبادل اسلامی قوانین کے نفاذ کی ہدایت کر دی۔
  • جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا، اور سپریم کورٹ نے بھی گزشتہ عیسوی صدی کے اختتام پر وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے حکومت کو سودی قوانین ختم کرنے کی واضح ہدایت جاری کی۔
  • مگر اس پر عملدرآمد کی بجائے اس پر نظرثانی کی اپیل دائر کر دی گئی اور سپریم کورٹ نے وفاقی شرعی عدالت کو اس کیس کی دوبارہ سماعت کا حکم جاری کر دیا۔ یہ کیس عدالت میں دیگر حضرات کے علاوہ خاص طور پر ملک کی دو جماعتوں جماعتِ اسلامی اور تنظیمِ اسلامی نے تسلسل اور استقامت کے ساتھ لڑا۔ مگر وفاقی شرعی عدالت میں دوبارہ سماعت کے لیے آنے کے بعد دس سال تک سرد خانے میں پڑا رہا اور ۲۰۰۳ء میں دائر ہونے والے اس کیس کی سماعت ۲۰۱۳ء میں شروع ہو سکی۔

اس مرحلہ میں ملک کے مختلف دینی حلقوں اور جماعتوں نے کیس لڑنے والوں کو سپورٹ فراہم کرنے کے لیے تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام اور راہنماؤں پر مشتمل ایک فورم ’’تحریک انسدادِ سود پاکستان‘‘ کے نام سے تشکیل دیا جس کی مرکزی رابطہ کمیٹی کا کنوینیر راقم الحروف ابو عمار زاہد الراشدی کو منتخب کیا گیا اور ہم نے پبلک محاذ پر عوام کی بیداری اور متعلقہ حلقوں کی امداد کے لیے سرگرمیوں کا آغاز کیا جو بحمد للہ تعالیٰ ۲۰۱۴ء سے اب تک جاری ہیں اور اس جدوجہد میں مختلف مکاتبِ فکر اور طبقات بالخصوص علماء کرام، وکلاء اور تاجر راہنماء ہمارے ساتھ شریک چلے آرہے ہیں۔

اس پس منظر میں وفاقی شرعی عدالت کا یہ فیصلہ خوش آئند اور دو حوالوں سے خاص طور پر بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے:

  1. ایک اس حوالے سے کہ سابقہ فیصلوں پر کیے گئے اشکالات، سوالات اور تحفظات کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لے کر ان کا مکمل اور تفصیلی جواب دیا گیا ہے اور بظاہر کوئی اشکال ایسا باقی نہیں رہا جس کا حل اس فیصلے میں موجود نہ ہو۔
  2. اور دوسرا یہ کہ یہ فیصلہ صرف بینکاری کے دائرے میں نہیں ہے بلکہ اس میں ملک کے نظامِ معیشت کے تمام شعبوں کو پانچ سال کے اندر اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھال لینے کا دوٹوک حکم دیا گیا ہے۔ جس پر وفاقی شرعی عدالت کے تمام جج صاحبان اور مسلسل کیس لڑنے والی دونوں جماعتوں اور وکلاء ہم سب کی طرف سے مبارکباد اور شکریہ کے مستحق ہیں کہ انہوں نے پوری پاکستانی قوم کی طرف سے فرضِ کفایہ ادا کیا ہے، جس سے ملکی نظامِ معیشت کو اسلامی بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے واضح رخ مل گیا ہے۔

اس فیصلہ کے بعد مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کرام اور ماہرین معیشت کے متعدد مشترکہ اجلاس ہوچکے ہیں جن میں:

  • حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پھر سے اپیل در اپیل کے چکر میں پڑنے کی بجائے اس فیصلہ کو تسلیم کرنے کا واضح اعلان کرے اور طے شدہ مدت کے اندر اس کام کو مکمل کرنے کا عملی پروگرام تشکیل دے۔
  • ملک کے مالیاتی اداروں سے کہا گیا ہے کہ اگر ان میں سے کسی نے اس فیصلہ کے خلاف اپیل کا راستہ اختیار کر کے اس پر عملدرآمد میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف پبلک بائیکاٹ کی مہم چلائی جا سکتی ہے کیونکہ اپیلوں کے چکر میں پہلے ہی ربع صدی ضائع کی جا چکی ہے۔
  • تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ اس سلسلہ میں باہمی مشاورت اور ہم آہنگی کا ماحول قائم رکھیں اور مشترکہ جدوجہد کے ذریعے حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے رہیں کہ اس فیصلہ پر عمل کیا جائے۔
  • اسلامی معیشت اور غیر سودی بینکاری کے حوالہ سے علمی و دینی حلقوں میں پائے جانے والے باہمی تحفظات و اشکالات کے بارے میں متعلقہ اداروں اور شخصیات سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان تحفظات و اشکالات کو باہمی مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے دور کرنے کی کوشش کریں اور کسی باہمی اختلاف کو سودی نظام کے تسلسل اور بقا کا ذریعہ بننے کا موقع نہ دیں۔
  • تاجر برادری، صحافی حضرات، وکلاء اور دیگر طبقات سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ بھی اس جدوجہد میں عملی طور پر شریک ہوں اور اسے ایک قومی جدوجہد کی صورت میں منزل مقصود تک پہنچانے کے لیے محنت کریں۔
  • تمام بڑے شہروں میں مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کرام، تاجر راہنماؤں، ماہرین معیشت اور قانون دان حضرات کے مشترکہ اجتماعات کا تسلسل ضروری ہے تاکہ رائے عامہ کی صحیح طور پر راہنمائی ہوتی رہے۔
  • اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین محترم ڈاکٹر قبلہ ایاز نے وزارتِ خزانہ اور مالیاتی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ وفاقی شرعی عدالت کے خلاف اپیل میں جانے کی بجائے اس پر عملدرآمد کا اہتمام کریں، اسلامی نظریاتی کونسل اس سلسلہ میں متعلقہ اداروں سے مکمل تعاون کرے گی۔ اس اپیل کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام اداروں جماعتوں اور حلقوں سے ہماری گزارش ہے کہ وہ بھی اس کے حق میں مؤثر اور منظم آواز اٹھانے کا اہتمام کریں۔

امید ہے کہ سب دوست اپنی اپنی جگہ اس ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے متحرک ہوں گے اور ملک کو سودی نظام کی لعنت اور نحوست سے نجات دلانے کے لیے کسی محنت اور قربانی سے گریز نہیں کریں گے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter