نفاذِ اسلام کی جدوجہد کی معروضی صورتحال پر ایک نظر

   
تاریخ اشاعت: 
۳۰ جون ۲۰۲۲ء

قیامِ پاکستان کے وقت جو نظام ہمیں ورثے میں ملا تھا وہ قطعی طور پر ناکام ہو گیا ہے اور ہمارے مسائل حل ہونے کی بجائے مزید الجھتے جا رہے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ نظام کی تبدیلی کے لیے سنجیدگی کے ساتھ محنت کی جائے۔ نظام کی تبدیلی کی بات ملک کے تمام سیاسی حلقے کر تے ہیں اور اس پر تمام حلقوں کا اتفاق پایا جاتا ہے کہ موجودہ نظام ناکام ہو گیا ہے اور اس کی جگہ نیا نظام لانے کی ضرورت ہے لیکن نئے نظام کے بارے میں بڑی سیاسی جماعتوں کا ذہن صاف نہیں ہے اور وہ اسلام کو بطور نظام قبول کرنے کی بجائے اس سلسلہ میں راہنمائی کے لیے باہر کی طرف دیکھ رہی ہیں، حالانکہ صرف اسلام ایک ایسا نظام ہے جو نہ صرف ہم مسلمانوں کے بلکہ پورے انسانی معاشرہ کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے سوا کسی اور نظام کا تجربہ مزید وقت ضائع کرنے اور قوم کو اور زیادہ پریشانیوں سے دوچار کرنے کے علاوہ کوئی نتیجہ پیدا نہیں کرے گا۔

ہم مسلمان کی حیثیت سے قرآن و سنت کے تمام احکام قبول کرنے کے پابند ہیں، اور ہمیں یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ زندگی کے جس شعبے میں چاہیں قرآن و سنت کے احکام کو اختیار کر لیں اور جس شعبے میں نہ چاہیں انہیں ترک کر دیں۔ کیونکہ اللہ تعالٰی نے قرآن کریم میں خدائی احکام کو تقسیم کرنے والی قوموں کے لیے دنیا کی زندگی میں سخت ذلت اور رسوائی کی وعید سنائی ہے جس کا عملی مظاہرہ ہم اپنی قومی زندگی میں دیکھ رہے ہیں۔ پھر ہم نے بحیثیت قوم ایک عہد کر رکھا ہے کہ پاکستان کے نام پر الگ ملک ملنے کی صورت میں خدا تعالٰی اور اس کے آخری رسول کے احکام کی عملداری قائم کریں گے، لیکن پچھتر برس سے ہم اس قومی عہد کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ جبکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے کہ قومی عہد کی خلاف ورزی کرنے والی قوموں پر اللہ تعالٰی دشمنوں کو مسلط کر دیتا ہے۔

مسلم ممالک میں اسلامائزیشن کی تحریکیں قیادت کے لیے پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہیں، اور دنیا بھر کی اسلام دشمن لابیاں پاکستان سے خوفزدہ ہیں کہ یہی ایک ملک ہے جو دنیا میں خلافتِ اسلامیہ کے احیا اور اسلامی نظام کے دوبارہ نفاذ کی قیادت کر سکتا ہے، لیکن پاکستان کی دینی جماعتیں باہمی خلفشار اور گروہی بالادستی کی ترجیحات میں الجھ کر رہ گئی ہیں۔

پاکستان میں نفاذِ اسلام کا مسئلہ اب ہمارا داخلی مسئلہ نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے کیونکہ پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کو روکنے کی جنگ اب اسلام آباد میں نہیں بلکہ جنیوا ، نیویارک اور پیرس وغیرہ میں لڑی جا رہی ہے اور اس جنگ کی قیادت بین الاقوامی ادارے کر رہے ہیں۔ اسی طرح اقوامِ متحدہ، یوپی یونین، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر بین الاقوامی ادارے نفاذِ اسلام کی جدوجہد کے خلاف فریق بن چکے ہیں، اور وہ انسانی حقوق کے مغربی فلسفہ کو بطور ہتھیار استعمال کر کے نفاذِ اسلام کا راستہ روک دینا چاہتے ہیں۔

اس پس منظر میں پاکستان کی تمام دینی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صورتحال کی سنگینی کا احساس کریں اور اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں کو یکجا کر کے ہوش مندی کے ساتھ نفاذِ اسلام کی جنگ لڑیں۔ مغربی ممالک میں مقیم مسلمان اور پاکستانی بھی اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اسلام اور پاکستان کے خلاف مغربی لابیوں کی سرگرمیوں کے تعاقب اور اسلام اور پاکستان کے دفاع کے لیے منظم محنت کریں اور جرأت و حوصلہ کے ساتھ کام کریں، کیونکہ اگر نیویارک ، پیرس اور لندن میں رہنے والے یہودی صہیونیت اور اسرائیل کے لیے لابنگ کر سکتے ہیں تو مسلمانوں اور پاکستانیوں کو بھی اپنے دین اور وطن کے لیے لابنگ اور جدوجہد کرنے میں کوئی حجاب محسوس نہیں کرنا چاہیے۔

اس سلسلہ میں صورتحال کے تجزیاتی مطالعہ کے لیے درج ذیل نکات کو سامنے رکھنا ضروری ہے:

  •   پارلیمنٹ نے بہت سے اسلامی قوانین کو ملک میں نافذ کر رکھا ہے مگر عدالتی نظام میں ان پر عملدرآمد کے لیے مناسب ماحول مہیا نہیں کیا جا رہا۔
  • ملک کا تعلیمی نظام اسلامی قوانین کی تعلیم اور ان کے عملی نفاذ کے لیے تربیت یافتہ عملہ اور جج صاحبان کی فراہمی سے مسلسل گریزاں ہے۔
  • میڈیا کے کم و بیش تمام ذرائع ملک میں اسلامی احکام و قوانین کی پاسداری اور عملداری میں تعاون کرنے کی بجائے معاشرتی ماحول کو اسلامی تعلیمات اور احکام سے دور کرنے میں مصروف ہیں۔
  • علماء کرام اور دینی حلقے عوام کو اسلامائزیشن کے تقاضوں، شرعی احکام اور اسلامی اخلاقیات و اقدار کی تعلیم و تربیت دینے میں اپنا کردار مؤثر طور پر ادا نہیں کر پا رہے۔
  • بین الاقوامی سیکولر ادارے اور ملک میں کام کرنے والی این جی اوز کی غالب اکثریت اسلامی معاشرت اور اقدار و روایات سے عوام کو دور کرنے کے لیے منظم مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔
  •  انٹرنیٹ کے ذریعے خلاف اسلام عقائد و نظریات نئی نسل میں سرایت کر کے خاموش ارتداد کا ذریعہ بن رہے ہیں جبکہ ہمارے دینی حلقے سماجی بنیادوں پر ان کے سدباب کی بجائے روایتی طریقوں پر انحصار کر رہے ہیں جو کہ آج کی نسل کے لیے اجنبی ہیں۔
  •   ہم آزادی کے پچھتر سال گزر جانے کے بعد بھی ہندو ثقافت کے لوازمات سے نجات حاصل نہیں کر سکے جبکہ مغربی ثقافت کی یلغار بھی عروج پر ہے جو ہمارے خیال میں پاکستان میں عوامی سطح پر نفاذ اسلام کی راہ ہموار کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
  •  بالخصوص سودی نظام کو ہر حال میں قائم رکھنے پر اصرار اور اس کے خلاف وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد میں کھڑی کی جانے والی رکاوٹیں انتہائی المناک صورت اختیار کر چکی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اسلامائزیشن کی خواہش اور کوشش کسی جہاز کی طرح گزشتہ پچھتر برس سے فضا میں ہی چکر کاٹ رہی ہے اور اسے معاشرتی ماحول میں اترنے کی کوئی جگہ میسر نہیں آرہی۔

   
2016ء سے
Flag Counter