۲۹۵۔سی کے خلاف مغرب کی مہم

   
تاریخ اشاعت: 
مارچ ۱۹۹۶ء

روزنامہ جنگ لاہور ۱۵ جنوری ۱۹۹۶ء کے مطابق بشپ آف فیصل آباد ڈاکٹر جان جوزف نے بتایا ہے کہ پاکستان میں توہینِ رسالتؐ پر موت کی سزا کے قانون (تعزیراتِ پاکستان ۲۹۵۔سی) کے خاتمہ کے لیے اکثر ممالک نے عملی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں جرمنی کے ۸۸ ہزار سے زائد باشندوں نے اپنے دستخطوں کے ساتھ ایک تحریری یادداشت حکومتِ پاکستان کے سپرد کی ہے جس میں اس قانون کی منسوخی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس سلسلہ میں لاہور سے شائع ہونے والے مسیحی جریدہ پندرہ روزہ شاداب نے اپنی اشاعت ۱۶ جنوری تا ۳۱ جنوری ۱۹۹۶ء میں ڈاکٹر جان جوزف مذکور کی تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جرمنی میں یہ یادداشت مرتب کرنے کا اہتمام وہاں کی تنظیم میسیو آخن (مسیحی امدادی تنظیم) نے کیا، اور ۱۴ دسمبر ۱۹۹۵ء کو جرمنی کے دارالحکومت بون کے پریس کلب میں منعقدہ تقریب میں جرمنی کے نائب وزیر خارجہ ہیلمٹ شیفر نے یہ یادداشت جرمنی میں پاکستان کے سفیر جناب اسد درانی کے سپرد کی۔ اس تقریب میں حکومتِ جرمنی کے ڈائریکٹر برائے امور ایشیا کے علاوہ بشپ آف فیصل آباد ڈاکٹر جان جوزف نے بھی شرکت کی۔

پاکستان میں توہین رسالتؐ پر سزا انگریزوں کے دور سے تین سال قید چلی آ رہی تھی جسے جنرل ضیاء الحق مرحوم نے دس سال قید میں تبدیل کر دیا۔ مگر سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ایڈووکیٹ جناب محمد اسماعیل قریشی نے اسے وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کر دیا کہ شرعاً توہینِ رسالتؐ کی سزا دس سال قید نہیں بلکہ موت ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے طویل سماعت کے بعد ان کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے دس سال قید کی سزا کو غیر شرعی قرار دے کر حکومت کو ہدایت کی کہ اس قانون کو شریعت کے مطابق تبدیل کر کے توہینِ رسالتؐ کی سزا موت مقرر کی جائے۔ چنانچہ میاں محمد نواز شریف کے دورِ حکومت میں وفاقی شرعی عدالت کی ہدایت کے مطابق توہینِ رسالتؐ پر موت کی سزا نافذ کر دی گئی۔

قانون کی اس دفعہ کو ۲۹۵۔سی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس قانون کے خلاف اسی وقت سے مغربی حکومتیں اور لابیاں مسلسل حرکت میں ہیں اور پاکستان پر اس کی منسوخی کے لیے بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کی اقلیتوں میں سے قادیانی اور مسیحی بطور خاص اس مہم میں پیش پیش ہیں اور انہیں ملک کے اندر اور باہر سیکولر لابیوں اور انسانی حقوق کے نام پر کام کرنے والی تنظیموں کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔ جس کا اندازہ جرمنی کی مذکورہ رپورٹ سے کیا جا سکتا ہے۔

جبکہ پاکستان کی دینی جماعتوں میں اس قانون کے تحفظ کے لیے جس دلچسپی کا اظہار ہونا چاہیے وہ نظر نہیں آ رہا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کی دینی جماعتیں اس سلسلہ میں بین الاقوامی دباؤ کی صورتحال کا صحیح طور پر احساس کریں اور اس کا سامنا کرنے کے لیے منظم حکمتِ عملی اختیار کریں۔

   
2016ء سے
Flag Counter