حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور عصر حاضر

   
۱۹ اگست ۲۰۲۳ء

(’’مجلس ارشاد المسلمین‘‘ کے زیر اہتمام ’’شاہ ولی اللہ دہلویؒ سیمینار‘‘ سے خطاب۔)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ مولانا حافظ عبد الوحید اشرفی، مولانا مفتی عبد الحفیظ، مجلس ارشاد المسلمین اور جامعہ محمدیہ کاہنہ کے دوستوں کا شکرگزار ہوں کہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے حوالہ سے منعقد ہونے والی اس تقریب میں حاضری اور کچھ کہنے سننے کا موقع فراہم کیا، اللہ تعالیٰ جزائے خیر سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کو تین صدیوں کے بعد بھی جس محبت، تشنگی او راستفادہ کے ماحول میں یاد کیا جا رہا ہے اس کے پیش نظر باقی تمام پہلوؤں سے قطع نظر اس حوالہ سے ان کا تذکرہ کرنا چاہوں گا کہ آج کی دنیا انہیں کس نظر سے دیکھتی ہے اور آج کے علمی و فکری حلقوں میں ان کا ذکر کس تناظر میں کیا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں اپنے کچھ مشاہدات کا ذکر کروں گا جن کا تذکرہ متفرق طور پر پہلے بھی کئی جگہ کر چکا ہوں مگر آج انہیں اس محفل کی مناسبت سے آپ کے سامنے یکجا پیش کروں گا۔

برطانیہ کے معروف نو مسلم دانشور ڈاکٹر یحییٰ برٹ سے ایک بار لندن کی ایک محفل میں ملاقات ہوئی تو ہم نے ان سے پوچھا کہ آج کے دور میں بالخصوص مغرب میں اسلام کی دعوت اور تعارف کے لیے کیسے بات کرنی چاہیے؟ تو انہوں نے کہا کہ اس کے لیے دو شخصیتوں کو اسٹڈی کرنے اور ان کا لہجہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور دوسرے حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ۔ انہوں نے اس کی وضاحت میں کہا کہ یہ دونوں بزرگ منطق اور روحانیات کے ماحول میں بات کرتے ہیں اور آج سب سے زیادہ اسی کی ضرورت ہے۔

امریکہ کی نو مسلم خاتون ڈاکٹر ایم کے ہرمینسن جو اس وقت شکاگو کی ایک یونیورسٹی میں شعبہ اسلامک ورلڈ اسٹڈیز کی ڈائریکٹر ہیں، انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی علمی سرگرمیوں کا موضوع حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کو بنا لیا تھا، مغربی دنیا میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فکر و فلسفہ کے تعارف کے عنوان سے ان کا تفصیلی کام موجود ہے اور انہوں نے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کا انگلش میں ترجمہ بھی کیا ہے جس سے مغرب کے اہل علم استفادہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے مقالات میں ہمارے عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کی کتابوں سے استفادہ کا ذکر کیا ہے اور ان سے ملاقات کے لیے گوجرانوالہ بھی تشریف لا چکی ہیں۔ جامعہ نصرۃ العلوم کی لائبریری میں ہونے والی اس ملاقات میں میری شرکت بھی ہوئی تھی جن کی تفصیل اپنے بعض مضامین میں بیان کر چکا ہوں۔

ملائیشیا کے ایک بدھ راہنما کے فرزند مسلمان ہوئے جو شیخ محمد امین کے نام سے متعارف ہیں، ان کی رسائی حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے ایک شاگرد تک ہوئی جن کے ذریعے وہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فکر و فلسفہ سے متعارف ہو گئے اور پھر خود کو انہوں نے اسی فکر و فلسفہ کی تعلیم و اشاعت کے لیے وقف کر دیا۔ وہ ملائشین زبان میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی کتابوں کا ترجمہ کرنے میں مصروف ہیں۔ اس دوران وہ چند روز کے لیے الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں تشریف لائے تو بعض مسائل پر ان کے ساتھ مذاکرہ ہوا۔ ان کا کہنا بھی یہ ہے کہ آج کی دنیا سے اسلام کی بات کرنے کے لیے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا لب و لہجہ اور فکر و فلسفہ سب سے زیادہ موزوں اور مؤثر ہے۔

امریکہ کی بعض یونیورسٹیوں میں اسلام اور مسلم شخصیات پر خاصا وقیع کام ہو رہا ہے۔ ایک صاحب علمِ کلام کے معروف امام ابومنصور ماتریدیؒ پر پی ایچ ڈی کر رہے تھے، ریسرچ کے دوران ہمارے ہاں گوجرانوالہ تشریف لائے اور متعلقہ امور پر ان کا میرے علاوہ عزیزم ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر سے بھی تبادلۂ خیال ہوا۔ اس موقع پر میں نے ان سے انٹرویو کیا جو کالم کی صورت میں شائع ہو چکا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مغرب کے بہت سے اہلِ فکر و دانش یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ مذہب ایک بار پھر انسانی سوسائٹی میں واپس آ رہا ہے اور چونکہ وحئ آسمانی اور صاحبِ وحیؐ کی تعلیمات و تشریحات محفوظ حالت میں صرف مسلمانوں کے پاس موجود ہیں اس لیے اسلام ہی واپس آئے گا۔ اس تناظر میں امریکی اصحابِ فکر کا ایک حلقہ مسلمانوں کی علمی شخصیات کو تخصصات کا موضوع بنائے ہوئے ہے اور ان کے بقول دو درجن سے زائد شخصیات پر پی ایچ ڈی سطح کا کام ہو چکا ہے۔ ان اصحابِ فکر کو اس بات کی تلاش ہے کہ مسلم شخصیات میں روایت ،درایت اور وجدانیات کی جامعیت کن بزرگوں میں پائی جاتی ہے تاکہ وہ ان سے استفادہ کر سکیں۔ جبکہ اس سے اگلے مرحلہ میں وہ متلاشی ہیں کہ اس جامعیت اور امتزاج میں روایت، درایت اور وجدانیات کے حوالہ سے توازن کن اہلِ علم میں پایا جاتا ہے کیونکہ ان کے خیال میں جامعیت کے ساتھ اعتدال اور توازن بھی ضروری ہے جو مستقبل میں انسانیت کی علمی راہنمائی کے لیے ناگزیر تقاضے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس حوالہ سے دو شخصیات کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا ہے، ایک حضرت امام ابو منصور ماتریدیؒ اور دوسرے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ، ان میں سے ایک پر وہ خود پی ایچ ڈی کر رہے ہیں اور دوسری شخصیت پر ایک اور صاحب مصروفِ تحقیق ہیں۔

یہ کچھ ذاتی مشاہدات میں نے اس لیے ذکر کیے ہیں کہ ہمارے علماء کرام کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آج کے ماحول اور مستقبل کی علمی و فکری ضروریات کے لیے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا مطالعہ کس انداز سے کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ایک اور بات بھی شامل کرنا چاہوں گا جس کا ذکر خود حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں کیا ہے کہ اب نظاموں کے مقابلہ کا دور ہے، جس میں اسلامی احکام و قوانین اور قرآن و سنت کی تعلیمات و فرمودات کی معاشرتی حکمتوں کو واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ اسے حضرت شاہ صاحبؒ نے قرآن کریم کی وجوہِ اعجاز میں ایک نیا پہلو واضح کرنے سے تعبیر کیا ہے کہ جس طرح دنیا فصاحت و بلاغت اور بہت سے دیگر پہلوؤں میں قرآن کریم کا مقابلہ کرنے سے عاجز چلی آ رہی ہے، اسی طرح معاشرتی قوانین و احکام کے دائروں میں بھی قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و تعلیمات کی معاشرتی حکمتوں، مصلحتوں اور افادیت و تاثیر کا مقابلہ کرنا بھی دنیا کے کسی نظام کے بس میں نہیں ہے، اور یہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک نمایاں معجزہ ہے۔

ان گزارشات کے ساتھ میں ایک بار پھر مجلس ارشاد المسلمین لاہور اور جامعہ محمدیہ کاہنہ کا شکر گزار ہوں اور دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت ان دونوں اداروں کو ترقیات و برکات سے نوازیں اور ہم سب کو حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی تعلیمات کو آگے بڑھانے کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔

2016ء سے
Flag Counter