غریب ممالک کیلئے عالمی قرضوں سے نکلنے کا راستہ

   
تاریخ اشاعت: 
مئی ۲۰۰۰ء

روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۱۳ اپریل ۲۰۰۰ء کے مطابق امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے خلاف گزشتہ روز ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرین نے زنجیریں پکڑ رکھی تھیں جو اس بات کو ظاہر کر رہے تھے کہ چھوٹے ممالک آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ان مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف غریب ملکوں کے قرضے معاف کرنے کا اعلان کریں۔

جبکہ روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۵ اپریل ۲۰۰۰ء کے مطابق ورلڈ بینک کے صدر جیمز ڈولفنس نے ترقی پذیر اور غریب ملکوں کے قرضے معاف کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر چالیس ملکوں کے قرضے معاف کر دیے جائیں تو اکتالیسواں ملک بھی قرض معافی کی درخواست کرے گا اور اس طرح قرضوں کی مکمل معافی کا دروازہ کھل جائے گا۔

ورلڈ بینک کے صدر کی طرف سے غریب اور ترقی پذیر ملکوں کے قرضے معاف کرنے سے یہ انکار خلافِ توقع نہیں ہے، اس لیے کہ قرضوں کا یہ جال خود ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف نے بڑی محنت کے ساتھ دنیا بھر میں پھیلایا ہے جس کے ذریعے ترقی پذیر اور غریب ممالک کو قرضوں کی زنجیروں میں جکڑ کر انہیں مغرب کی پالیسیوں کے مطابق چلنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اور ان قرضوں کے دام ہمرنگ زمین کا شکار ہونے والے ممالک اور اقوام بے بس اور لاچار قیدیوں کی طرح مغربی طاقتوں کی دھن پر ناچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے یہ قرضے ’’کاروبار‘‘ نہیں بلکہ ’’جال‘‘ ہیں اور کوئی شکاری اپنے جال سے آسانی کے ساتھ دستبردار نہیں ہوا کرتا۔

ترقی پذیر اور غریب ممالک اگر فی الواقع اس جال سے نکلنا چاہتے ہیں تو انہیں روایتی کہانی کی ان چڑیوں کی طرح جال سمیت اڑنا ہو گا جو یکبارگی اجتماعی قوت کے ساتھ پورے جال کو لے اڑی تھیں اور شکاری کی دسترس سے دور نکل گئی تھیں۔ اور اس کا طریقہ صرف یہ ہے کہ غریب اور ترقی پذیر ممالک متحد ہو کر ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے قرضے واپس کرنے سے یکبارگی انکار کر کے ان اداروں کے کارندوں کو اپنے ملکوں سے باہر نکال دیں۔ اور یہ کوئی نا انصافی کی بات نہیں ہو گی اس لیے کہ غریب اور ترقی پذیر ممالک نے ان اداروں سے جو قرضے لیے تھے ان میں سے اکثر کی اصل رقم واپس ہو چکی ہے، اور اب وہ سود در سود ہے جس نے ان غریبوں کی گردنوں کو دبوچ رکھا ہے۔ اور سود کی واپسی سے انکار کوئی نا انصافی نہیں ہے کیونکہ استحصال اور لوٹ مار کی سب سے بری علامت سود دنیا سے جب بھی ختم ہو گا اسی طرح کی جرأتِ رندانہ سے ختم ہو گا۔

   
2016ء سے
Flag Counter