معرکۂ فلسطین کی معروضی صورتحال پر ایک نظر

   
۲۶ اکتوبر ۲۰۲۲ء

دارالعلوم محمودیہ سیالکوٹ میں پاکستان شریعت کونسل پنجاب کے زیر اہتمام مسئلہ فلسطین پر ’’علماء کنونشن‘‘ سے خطاب کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ فلسطین انبیاء کرام علیہم السلام کا وطن ہے، بیت المقدس کی سرزمین ہے، اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی عقیدتوں اور محبتوں کا مرکز ہے۔ اس کی تاریخ کا آغاز سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت سے ہوتا ہے جب انہوں نے اپنے والد آذر کے ساتھ آخری مکالمہ کے بعد اہلیہ محترمہ حضرت سارہؓ اور بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام کے ساتھ بابل سے فلسطین کی طرف ہجرت فرمائی تھی اور اس سرزمین کو اپنا مسکن بنا لیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ خطہ اہم دینی، سیاسی، تہذیبی واقعات اور تاریخی تبدیلیوں کا مرکز چلا آ رہا ہے۔ اس پر گفتگو کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ اس کے ماضی کی تاریخ کو سامنے لایا جائے جو سینکڑوں کتابوں میں بکھری ہوئی ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں پر آج بھی گفتگو جاری ہے۔

جبکہ اس کے بارے میں بات چیت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کے مستقبل کے بارے میں آسمانی کتابوں بالخصوص قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کا تذکرہ کیا جائے جو وسیع دائرے میں احادیث کی کتابوں میں مذکور ہے، جن میں سے بطور مثال صرف ایک کا ذکر کرتا ہوں کہ قرآن کریم نے بنی اسرائیل کے بارے میں فرمایا ہے کہ جب تمہارا آخری دور آئے گا ’’جئنا بکم لفیفا‘‘ ہم تمہیں سمیٹ کر ایک جگہ جمع کر دیں گے، وغیر ذٰلک۔

مگر آج کی نشست میں ان دونوں پہلوؤں یعنی ماضی اور مستقبل کی بجائے ارضِ فلسطین کے حال کا ذکر کرنا چاہوں گا کہ اس وقت وہ کس ماحول سے دوچار ہے اور فلسطین کے قضیہ کی معروضی صورتحال کیا ہے۔

اس وقت فلسطین میں جو معرکہ جاری ہے وہ اپنے طویل ماضی اور مستقبل کے حوالے سے نہ صرف عرب دنیا بلکہ عالمِ اسلام اور پوری دنیائے انسانیت کا مشترکہ مسئلہ ہے جس کے تینوں دائروں سے کوئی بھی ملک اور قوم لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ باقی ساری تفصیلات سے قطع نظر اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں جن قوتوں کے درمیان کشمکش جاری ہے اس کے بنیادی فریق چار ہیں:

  1. ایک فریق اسرائیل ہے جس کا بطور ریاست اب سے ایک صدی پہلے کوئی وجود نہیں تھا ، بلکہ فلسطین خلافتِ عثمانیہ کا صوبہ تھا جسے پہلی جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ نے اپنی نوآبادی بنا کر دنیا بھر سے یہودیوں کو وہاں لا کر بسانے کی مہم چلائی تھی۔ اس مہم میں برطانیہ نے فلسطینیوں کو ان کے وطن سے محروم کر کے ان کی جگہ یہودیوں کو باہر سے لا کر بسانے کی عالمی سازش کی قیادت کی تھی، جس کے نتیجے میں پون صدی قبل اسرائیل بطور ریاست کے دنیا کے نقشہ پر نمودار ہوا۔ اقوامِ متحدہ کی تقسیم کے مطابق قائم ہونے والے اسرائیل کو فلسطینیوں کے علاوہ پاکستان، سعودی عرب اور دیگر بہت سے مسلم ممالک نے اب تک تسلیم نہیں کیا۔ جس کی تعبیر بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے یوں کی تھی کہ ’’اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے جسے ہم کبھی تسلیم نہیں کریں گے‘‘۔ اقوام متحدہ کے تحت قائم ہونے والی اس ناجائز ریاست میں ’’بیت المقدس‘‘ اور غزہ اسرائیل کا حصہ نہیں تھے اور ان علاقوں پر اسرائیل نے ۱۹۶۷ء میں قبضہ کر کے وہاں تسلط جما لیا تھا۔ اسرائیل کا اس خطہ میں اصل ہدف ’’گریٹر اسرائیل‘‘ ہے یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور کی عالمی حکومت کو دوبارہ یہودی اقتدار کے تحت قائم کرنا اسرائیل کا اصل مقصد ہے، جس کی طرف وہ مسلسل بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے لیے وہ سب کچھ کر گزرنے کو ہر وقت تیار ہے۔
  2. اس کشمکش کا دوسرا بڑا فریق ایران ہے جس کا ٹارگٹ وہ ’’دولتِ فاطمیہ‘‘ ہے جو خلافتِ عباسیہ کے خاتمہ کے بعد قائم ہوئی تھی، اس خطہ کے بہت سے ممالک کو اس نے اپنی حدود میں شامل کر لیا تھا، حتیٰ کہ کچھ عرصہ حرمین شریفین یعنی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بھی اس کے دائرے میں شامل رہے ہیں۔ ایران اپنے پورے وسائل کے ساتھ اس ’’دولتِ فاطمیہ‘‘ کے احیا کی طرف بڑھ رہا ہے اور یمن، عراق، شام، لبنان اور خطہ کے بعض دیگر علاقوں میں اس کی حالیہ موجودگی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ وہ اس مہم کا بہت سا حصہ عبور کر چکا ہے اور آگے بڑھنے کے لیے صرف پرعزم ہی نہیں بلکہ مصروفِ کار بھی ہے۔
  3. اس کشمکش کا تیسرا بڑا فریق ترکیہ ہے جس کا ماضی ’’خلافتِ عثمانیہ‘‘ کی صورت میں اب پھر اس کے پیشِ نظر ہے۔ اس کے لیے اس کا وژن اور ایجنڈا تو واضح دکھائی دے رہا ہے البتہ ابھی اس کے لیے بہت سا کام کرنے کی ضرورت ہے جس کے بعد وہ اپنے اس ہدف کی طرف بڑھنے کی پوزیشن میں ہو گا، اور محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس کے لیے دھیرے دھیرے تیاری کر رہا ہے۔
  4. اس کشمکش کا چوتھا فریق عرب دنیا ہے جس کا مجموعی ایجنڈا اور وژن ابھی تک واضح نہیں ہے۔ کچھ عرصہ قبل مصر نے اس سمت پیشرفت کا آغاز کیا تھا مگر وہ عرب حکمرانوں کے باہمی تحفظات کی نذر ہو گیا تھا۔ عرب دنیا کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ اس خطہ کے حکمران سارے معاملات چند خاندانوں کے دائرے میں طے کرنے پر اصرار کر رہے ہیں، اور ان خاندانوں کا تحفظ ہی اس وقت عرب حکمرانوں کا سب سے بڑا ہدف دکھائی دیتا ہے، جس کے لیے وہ کسی بھی طاقتور فریق کے پلڑے میں اپنا وزن ڈال دینے کے لیے تیار نظر آ رہے ہیں۔

غزہ کے حوالے سے فلسطین کے حالیہ بحران کا وقتی پس منظر بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے مذاکرات کا ایک نیا دور سامنے آیا اور یوں لگا کہ اس راؤنڈ کے بعد اسرائیل پہلے سے زیادہ اعتماد کے ساتھ اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھا سکے گا، جسے روکنے کے لیے فلسطینی حریت پسندوں نے وہ انتہائی اقدام کر ڈالا جسے بہت سے لوگ ’’خود کش حملہ‘‘ سے تعبیر کر رہے ہیں۔ مگر ہمارے خیال میں اگر وہ اس سے اسرائیل کو بعض اہم مسلم اور عرب ممالک سے تسلیم کرانے کی مہم کا راستہ روکنے میں کامیاب ہو گئے ہیں تو ان کا یہ وار رائیگاں نہیں گیا، اور وہ اپنے اس مقصد میں بہت حد تک سرخرو نظر آ رہے ہیں، خدا کرے کہ ایسا ہی ہو، آمین یا رب العالمین۔ اس میں فلسطینیوں کو بہت زیادہ قربانیاں دینی پڑی ہیں جس کی گہرائی اور گیرائی کا صحیح اندازہ مستقبل کا مؤرخ ہی کر پائے گا مگر دنیا میں ہلچل کی صورتحال بہرحال پیدا ہو گئی ہے اور ارضِ فلسطین پر اسرائیل کے عنوان سے یہود کا قبضہ اب دنیا کے لیے اتنی معمے والی بات نہیں رہی۔

اس صورتحال میں ہمارے کرنے کے کام کیا ہیں اور معاملہ کی نوعیت اور سنگینی ہم سے کیا تقاضے کر رہی ہے، ان کے بارے میں عرض کرنا چاہوں گا:

  • سب سے پہلے تو عرب اور مسلم حکمرانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے جس کے لیے ’’عرب لیگ‘‘ اور ’’اسلامی تعاون تنظیم‘‘ کے سربراہی اجلاس فوری طور پر منعقد ہونے ضروری ہیں تاکہ امتِ مسلمہ یا کم از کم مسلم حکمرانوں کا اجتماعی نقطۂ نظر اور پروگرام سامنے آئے۔
  • فلسطینی عوام کے حق میں اور اسرائیلی بربریت کے خلاف سفارتی سطح پر منظم مہم آج کی اہم ترین ضرورت ہے جس کے لیے بہرحال پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کو بنیادی کردار ادا کرنا چاہیے۔
  • دنیا بھر میں مسلم عوام اور حلقوں کی طرف سے فلسطینی عوام کے حق میں عوامی مظاہروں، اجتماعات اور بیانات کا جو سلسلہ جاری ہے اسے تسلسل اور وسعت دینا ضروری ہے تاکہ عالمِ اسلام کی رائے عامہ کی بیداری کا اظہار ہوتا رہے، جو فلسطینی عوام کی حوصلہ افزائی اور اسرائیل نوازوں کی حوصلہ شکنی کا باعث بنتی ہے، بالخصوص خطباء، ائمہ مساجد اور دینی جماعتوں کو اس کے لیے مسلسل سرگرم رہنا چاہیے۔
  • محصور اور مظلوم فلسطینی بھائیوں کی عملی امداد کے جو ذرائع اور طریقے بھی محفوظ اور قابلِ عمل دکھائی دیں ان کو استعمال میں لا کر ان کی زیادہ سے زیادہ مدد کا اہتمام ضروری ہے، جس کے لیے بزنس کمیونٹی اور تاجر برادری کو آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا چاہیے اور رفاہی و سماجی تنظیموں کو منظم مہم کا اہتمام کرنا چاہیے۔

دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہم سب کو اپنا اپنا کام صحیح طریقہ سے سرانجام دینے کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔

2016ء سے
Flag Counter