ان کو ڈھونڈے گا اب تو کہاں راشدی

   
جون ۲۰۰۹ء

شیخ صفدرؒ بھی ہم سے جدا ہو گئے
علم و دین پر وہ آخر فدا ہو گئے

علم تھا ان کا سب سے بڑا مشغلہ
ذوق و نسبت میں اس کی فنا ہو گئے

وہ جو توحید و سنت کے منّاد تھے
شرک و بدعت پہ رب کی قضا ہو گئے

خواب میں ملنے آئے مسیح ناصریؐ
شرف ان کو یہ رب سے عطا ہو گئے

بو حنیفہؒ سے ان کو عقیدت رہی
اور بخاریؒ کے فن میں سَوا ہو گئے

شیخ مدنی ؒ سے پایا لقب صفدری
اور اس کی علمی نہج کی ادا ہو گئے

میانوالی کا اک بطل توحید تھا
جس کی صحبت میں وہ با صفا ہو گئے

نور احمدؒ نے ان کو جو دی تھی دعا
اس کی برکت سے وہ با وفا ہو گئے

جن کی تلقین ہوتی تھی رب کی رضا
حق کی راہ میں وہ رب کی رضا ہو گئے

حق کی خاطر جو جھیلے مصائب تو وہ
حق کی دنیا میں حق کی صدا ہو گئے

اہل حق کے سفینے کے تھے نا خدا
عزم و ہمت میں پھر با خدا ہو گئے

ان کو ڈھونڈے گا اب تو کہاں راشدیؔ
وہ جو راہیٔ دارِ بقا ہو گئے

   
2016ء سے
Flag Counter