ترکی میں اسلامی حکومت کے قیام کی کوشش

   
تاریخ : 
اکتوبر ۲۰۰۰ء

روزنامہ جنگ لاہور نے ۲ ستمبر ۲۰۰۰ء کو خبر شائع کی ہے کہ

’’ترکی کی ایک عدالت نے سرکردہ عالمِ دین فتح اللہ بلند پر اسلامی مملکت کے قیام کے لیے موجودہ حکومت کا تختہ الٹنے کے اقدام میں فردِ جرم عائد کر دی ہے، الزام ثابت ہونے پر انہیں دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔‘‘

ترکی میں اس وقت سیکولر فوج اور دیندار حلقوں کے درمیان کشمکش عروج پر ہے:

  1. ایک طرف اسلامی حلقے ملک میں اپنا اثر و رسوخ مسلسل بڑھا رہے ہیں، اور سابق وزیر اعظم جناب نجم الدین اربکان کو طاقت کے بل پر اقتدار سے محروم کرنے اور ان کی ’’رفاہ پارٹی‘‘ کو خلافِ قانون قرار دینے کے باوجود ان کے ہم خیال حضرات ’’فضیلت پارٹی‘‘ کے نئے نام کے ساتھ پارلیمنٹ میں ایک مؤثر قوت کے طور پر موجود ہیں۔ جس کی وجہ سے حکومت کو دینی ذہن رکھنے والے فوجی اور سول ملازمین کے خلاف کاروائی میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ حتیٰ کہ ترک افواج کے کمانڈر انچیف کی طرف سے سخت ایکشن کی دھمکی کے باوجود نومنتخب ترک صدر نے اس مسودۂ قانون پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس کا مقصد حکومت کو اسلامی ذہن رکھنے والے ہزاروں سول اور فوجی ملازمین کی برطرفی کا اختیار دینا ہے۔
  2. جبکہ دوسری طرف بعض دینی عناصر ترکی کو دوبارہ ایک اسلامی ریاست کی حیثیت دینے کے لیے سیاسی عمل کا راستہ بند دیکھ کر متبادل ذرائع کی طرف بھی دیکھنے لگے ہیں، جس کا اندازہ مذکورہ بالا خبر سے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں دو سال قبل لندن میں راقم الحروف کی ملاقات ایک ترک عالمِ دین سے ہوئی جو ترکی میں باقاعدہ خلافتِ شرعیہ کے قیام کا اعلان کر کے اس کی عملداری کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، اور جرمنی کو اپنی محنت کی جولان گاہ بنائے ہوئے ہیں جہاں ایک بڑی تعداد میں ترک تارکینِ وطن آباد ہیں۔

    اس قسم کی کوششیں درست ہیں یا نہیں؟ ان کی کامیابی کا کوئی امکان موجود ہے یا نہیں؟ اس بحث سے قطع نظر ان کوششوں سے ترک عوام اور ان کے دینی حلقوں کے رجحانات، اور اسلامی ریاست کے حوالے سے ان کے جذبات کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ دیکھ کر اطمینان ہوتا ہے کہ مصطفیٰ کمال اتاترک کی اسلام بیزاری کی تحریک اور اس کے مغربی سرپرست ایک صدی کی سرتوڑ کوشش اور محنت کے باوجود ترک عوام کے دلوں سے اسلام کی محبت اور قرآن و سنت کی عملداری کے جذبہ کو کم نہیں کر سکے۔ اس سے کم از کم ان عناصر کو ضرور سبق حاصل کرنا چاہیے جو ترکی کے اس ناکام تجربہ کو پاکستان، بنگلہ دیش، مصر، انڈونیشیا، الجزائر اور دیگر مسلم ممالک میں بھی دہرانے کے خواہشمند ہیں، اور ایک ہاری ہوئی جنگ کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں، توانائیوں اور وسائل کو خواہ مخواہ برباد کر رہے ہیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter