سات اکتوبر کا معرکہ : تحریکِ آزادئ فلسطین کا ایک فیصلہ کن مرحلہ

   
تاریخ اشاعت: 
دسمبر ۲۰۲۳ء

فلسطین کے حماس مجاہدین نے ۷/اکتوبر ۲۰۲۳ء کو اسرائیل کے اہم ٹھکانوں پر اچانک حملہ کیا تو ہر طرف ہاہاکار مچ گئی کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا ہے؟ یہ کہا گیا کہ اپنے سے کئی گنا طاقتور دشمن پر اس طرح حملہ کر کے انہوں نے فلسطینیوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کیا ہے اور بعض لوگوں نے اسے ’’خودکش حملہ‘‘ سے بھی تعبیر کیا ہے۔ لیکن ڈیڑھ ماہ کے مسلسل اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد یرغمالیوں کے تبادلہ کے لیے مشروط جنگ بندی ہوئی ہے تو صورتحال لوگوں کو سمجھ آنے لگی ہے کہ حماس کا یہ اقدام نہ تو بغیر تیاری کے تھا اور نہ ہی اپنے مقاصد اور نتائج کے حوالے سے لا حاصل رہا ہے۔

فلسطینی مجاہدین اپنے وطن کو بیرونی مداخلت کاروں اور صہیونی قابضین سے نجات دلانے کی جنگ لڑ رہے ہیں جو گزشتہ پون صدی سے جاری ہے، اور اس سے قبل بھی اس قسم کے کئی معرکے ہو چکے ہیں۔ آزادی کی جنگوں میں ایسا ہی ہوتا ہے اور حریت پسندوں کی تاریخ اس قسم کے معرکوں سے بھری پڑی ہے، خود ہمارے ہاں برطانوی استعمار کے خلاف برصغیر کے عوام کی جنگِ آزادی میں اس نوعیت کے بیسیوں معرکوں کا تذکرہ موجود ہے۔ اور فلسطینیوں نے کسی دوسرے ملک کے خلاف یکطرفہ کاروائی نہیں کی بلکہ ان کی سرزمین پر ناجائز قبضہ اور تسلط جمانے والی قوت کو حربی میدان میں ایک بار پھر چیلنج کیا ہے جو ان کا حق تھا۔ دراصل دنیا بھر کے مسلم حکمران طبقات کو اس بات کا عادی بنا دیا گیا ہے کہ استعماری قوتوں نے مسلم ممالک اور اقوام کو جس حالت میں چھوڑا ہے انہیں اسی کیفیت اور ماحول میں رہنے دیا جائے اور کسی بھی شعبہ میں انقلابی تبدیلی کا کوئی قدم نہ اٹھایا جائے۔ سیاست، عدالت و قانون، معیشت، معاشرت اور مغرب کی مسلط کردہ جغرافیائی تقسیم سمیت ہر دائرہ میں یہی کچھ ہو رہا ہے اور نو آبادیاتی ماحول کو بہرصورت قائم رکھنے کو ہی آزادی کا عنوان دیا گیا ہے۔ حالانکہ استعماری قوتوں سے آزادی کی جنگیں ان کے مسلط کردہ ماحول اور تہذیب و معاشرت سے نجات کے لیے لڑی گئی تھیں جس کی طرف عملی پیشرفت نہ کرنا جدوجہدِ آزادی کے مقاصد اور شہداء کے خون سے بے وفائی کے مترادف ہے۔

اس پس منظر میں فلسطینی مجاہدین کا ۷/ اکتوبر کا یہ سرفروشانہ اقدام وقت کی انتہائی اہم ضرورت ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے سبق کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ پھر یہ اقدام لا حاصل بھی نہیں رہا اور حماس کے اس معرکہ نے اب تک جو مقاصد حاصل کیے ہیں وہ ہمارے خیال میں یہ ہیں:

  • اسرائیل کو بعض اہم مسلم ممالک کی طرف سے تسلیم کرنے کے لیے جو مذاکرات چھ اکتوبر تک مسلسل جاری تھے ان کو بریک لگ گئی ہے۔
  • اسرائیل کی قوت و طاقت کا یہ طلسم ٹوٹ گیا ہے کہ اس سے کوئی نہیں لڑ سکتا۔ فلسطین کے مجاہدین نے اپنے عزم و حوصلہ اور قربانیوں کے ساتھ واضح کیا ہے کہ اگر افغان مجاہدین روس اور امریکہ سے لڑ سکتے ہیں تو فلسطینی بھی اسرائیل سے لڑ سکتے ہیں۔
  • غزہ کے اس معرکہ نے دنیا بھر کے مسلمانوں اور دیگر آزادی پسند لوگوں کو متوجہ کر کے یہ بتایا ہے کہ بیت المقدس اور فلسطین کا تنازعہ محض ایک علاقائی جھگڑا نہیں ہے بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا اجتماعی مسئلہ ہے جس کے کسی منصفانہ حل میں امتِ مسلمہ اور دنیا کے دیگر آزادی پسند حلقوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
  • فلسطینیوں نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے خود کرنے کا حوصلہ او رعزم رکھتے ہیں اور ان کی آزادی کو چند دارالحکومتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا اب ممکن نہیں رہا۔

چنانچہ اخباری اطلاعات کے مطابق بیس ہزار سے زائد شہادتیں پیش کر کے خود کو ایک زندہ اور حوصلہ مند قوم کے طور پر ایک بار پھر دنیا کے سامنے لانے پر فلسطینی عوام کو ہم تبریک و تحسین کے ساتھ ہر ممکن حمایت وتعاون کا یقین دلاتے ہیں اور ان کی اس معرکہ میں سرخروئی کے ساتھ بارگاہِ ایزدی میں بیت المقدس اور فلسطین کی مکمل آزادی کے لیے دعاگو ہیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter