سر سید احمد خاں کے عقائد و نظریات ’’امداد الفتاوٰی‘‘ کی روشنی میں

   
تاریخ : 
۱۲ جون ۱۹۹۳ء

ریٹائرڈ جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال، سر سید احمد خان کے حوالے سے اسلام کے اصلاحی نظام پر زور دیتے آئے ہیں اور ان کے خطبات و مقالات کا حاصل یہ ہے کہ اسلام کی جو تعبیر و تشریح سر سید احمد خان نے کی، اسے اپنائے بغیر آج کے دور میں اسلام کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ لاہور میں خواتین کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ

’’سر سید احمد خان نے اگر اسلام کے اصلاحی نظام کے حوالے سے کوشش نہ کی ہوتی تو آج عورتیں اور مرد میم اور صاحب بن کر یہاں نہ بیٹھے ہوتے۔‘‘

اس لیے اس بات کی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ سر سید احمد خان کے اصلاحی نظام کے حوالے سے ڈاکٹر جاوید اقبال کا دراصل مقصد کیا ہے۔ سر سید کی عملی جدوجہد کے تین ادوار ہیں:

  1. ایک دور وہ ہے جس میں ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی میں وہ انگریزوں کے حامی ہیں اور برطانوی حکومت کے ملازم کی حیثیت سے جنگِ آزادی کے مجاہدین سے اختلافات کا اظہار کرتے ہیں اور مسلمانوں کو برطانوی حکومت کی مکمل اطاعت و وفاداری کا سبق دیتے ہیں۔
  2. ان کی عملی زندگی کا دوسرا دور وہ ہے جس میں اسلام کے ایک نئے شارح کی حیثیت سے انہوں نے قرآن کی تفسیر لکھی، اور معقولیتِ جدید کی روشنی میں اسلامی عقائد و احکام کی تشریح کی۔
  3. اور ان کا تیسرا دور وہ ہے جس میں مسلمانوں کو جدید تعلیم حاصل کرنے اور قومی زندگی میں شرکت کا مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے علی گڑھ کے تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھی اور اپنی شبانہ روز محنت سے اسے قومی جدوجہد کی حیثیت سے منوایا۔

جہاں تک آخری دور کا تعلق ہے علماء نے اس شعبہ میں سر سید کی خدمات کا کبھی انکار نہیں کیا، بلکہ ان کا ہمیشہ احترام کے ساتھ ذکر کیا ہے، مگر ان کے پہلے دو ادوار ہمیشہ متنازع رہے ہیں، اور انگریز کے خلاف آزادی کی مسلسل جنگ آزادی کے مجاہد علماء نے سر سید کی طرف سے برطانوی حکومت کی وفاداری کے سبق کو مسترد کیا۔ اسلامی عقائد و احکام کی جو تشریح اس دور میں سر سید نے کی، اسے ان کے مخالفین اور موافقین میں سے کسی نے بھی قبول نہیں کیا۔ اور سر سید احمد خان کی طرف سے کی گئی اسلام کی جس اصلاحی تعبیر کو آج ڈاکٹر جاوید اقبال اسلامیانِ پاکستان کیلئے بہتر تصور کرتے ہیں، اسے خود سر سید احمد خان کی اپنی زندگی میں ان کے ساتھیوں نے قبول نہیں کیا۔

اس سلسلے میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے ’’امداد الفتاویٰ‘‘ جلد شسشم میں سر سید احمد خان کی تصنیفات کے حوالے سے ان کے عقائد و نظریات کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ یہ تفسیر چھ جلدوں میں ہے اور انسٹیٹیوٹ پریس علی گڑھ سے طبع ہوئی ہے۔ اس میں سے چند حوالہ جات نقل کیے جاتے ہیں جن کے مطابق سر سید احمد خان کے اصلاحی نظام کا خاکہ کچھ یوں ہے:

  1. نبوت کا یہ تصور غلط ہے کہ جبریلؑ نام کی کوئی شخصیت وحی لے کر آتی تھی اور اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں کو وحی سنائی جاتی تھی جسے وہ قوم کے سامنے پیش کر دیتے تھے۔ جبریلؑ کا کوئی خارجی وجود نہیں ہے۔ نبوت شاعری اور طبابت کی قسم کا ایک ملکہ اور فن ہے، نبی اس فن میں ماہر ہوتے تھے، ان پر جنون کی طرز کی کیفیت طاری ہوتی تھی، اس کیفیت کا نام ’’جبریل‘‘ اور اس دوران ان سے صادر ہونے والے کلام کا نام ’’وحی‘‘ ہے۔
  2. دوزخ کی آگ اور جنت کی نعمتوں کا کوئی خارجی وجود نہیں ہے۔
  3. فرشتوں اور جنوں کا کوئی خارجی وجود نہیں ہے۔
  4. قرآن کریم میں آدم علیہ السلام کی تخلیق سے قبل فرشتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی گفتگو کا ذکر ہے، پھر آدم علیہ السلام کو اشیا کے ناموں کی تعلیم دینے اور فرشتوں پر آدمؑ کی برتری ثابت کرنے کا جو ذکر ہے اس کی کوئی واقعاتی حیثیت نہیں، یہ محض تمثیل ہے۔
  5. حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے جتنے معجزے قرآن کریم میں مذکور ہیں ان کا کوئی ظاہری وقوع نہیں ہوا اور نہ ہی معجزات نبوت کے ثبوت کی دلیل ہیں۔
  6. حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے دور کے جاہلین کی رسم کے مطابق کعبہ کے پتھروں کو خدا تعالیٰ کی عبادت کی علامت بنا دیا تھا۔
  7. قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کا حکم خدا تعالیٰ کا حکم نہیں ہے۔
  8. قتلِ عمد کی صورت میں ورثاء کو معاف کرنے یا دیت لینے کا حق رسمِ جاہلیت ہے۔
  9. روزہ فی نفسہٖ کوئی عبادت نہیں ہے، لیکن چونکہ عرب کے جاہل اسے عبادت کی ایک صورت سمجھتے تھے، اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باقی رکھا۔
  10. تندرست اور مقیم نوجوان کو بھی اختیار ہے چاہے تو روزہ رکھے اور چاہے فدیہ دے دے۔
  11. مسلمان حکمرانوں نے ملک گیری کے لیے عبادت کے نام پر جہاد کا غلط استعمال کیا، اور علمائے اسلام نے جہاد کے جو مسائل و احکام کتابوں میں لکھے ہیں ان کا روحانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
  12. حج اور عمرہ میں احرام باندھنا کوئی مقصدی بات نہیں ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا زمانہ غیر ترقی یافتہ دور تھا، اس لیے اس زمانے میں اس قسم کا لباس پہنتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ان کی یاد کو باقی رکھنے کے لیے احرام باندھنے کا حکم دیا۔
  13. حجرِ اسود کا بوسہ صرف طواف کی گنتی یاد رکھنے کے لیے ایک علامت ہے، اس کے علاوہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
  14. حج کا مقصد صرف مکہ کو آباد کرنا اور قربانی کا مقصد اس علاقہ کے لوگوں کو خوراک مہیا کرنا تھا۔ بعد میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سالانہ یادگار کے طور پر یہ سلسلہ مستقل طور پر چل پڑا۔
  15. سود کی بہت سی صورتیں جنہیں علماء امت باجماع حرام کہتے چلے آرہے ہیں، حرام نہیں ہیں۔
  16. حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا نہیں ہوئے، ان کے باپ کا نام (معاذ اللہ ) یوسف ہے۔
  17. عیسیٰ علیہ السلام نے ماں کی گود میں کلام نہیں کیا اور نہ ہی وہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔
  18. چور کا ہاتھ کاٹنا وحشیانہ سزا ہے، اور جہاں قید خانہ موجود ہو وہاں یہ سزا دینا جائز نہیں ہے۔
  19. جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات واقعاتی نہیں تھے، بلکہ مسمریزم (mesmerism) کی طرز کے تھے۔
  20. قیامت کے دن قبروں سے مردوں کے اٹھائے جانے کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
  21. جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج بیداری کی حالت میں نہیں ہوا۔
  22. جِن علیحدہ کوئی مخلوق نہیں بلکہ پہاڑی لوگوں کو قرآن کریم میں جن کہا گیا ہے۔
  23. انسانوں کے اعمال نامہ ہائے اعمال میں درج کیے جانے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
  24. اصحابِ کہف کا سینکڑوں سال غار میں خواب کی حالت میں رہنا واقعہ نہیں، محض تمثیل ہے۔
  25. معجزات فطرت اور عقل کے خلاف ہیں۔

میں ڈاکٹر جاوید اقبال سے معذرت کے ساتھ یہ عرض کروں گا کہ وہ اپنی روشن خیالی کو کم از کم اس طرح کے اصلاحی نظام کے تابع نہ کریں۔

   
2016ء سے
Flag Counter