ہفت روزہ نقاب گوجرانوالہ کا انٹرویو

   
تاریخ : 
۱۱ جنوری ۱۹۹۶ء

(ہفت روزہ نقاب گوجرانوالہ کے نمائندہ جناب راز راجوری کا انٹرویو)

مولانا زاہد الراشدی ۲۸ اکتوبر ۱۹۴۸ء کو گکھڑ ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا شمار ملک کے نامور علماء اور مصنفین میں ہوتا ہے۔ مولانا زاہد الراشدی کا پورا نام ’’محمد عبد المتین خان زاہد‘‘ ہے۔ یہ نام تاریخی ہے جس کا عدد حروف ابجد کے اعتبار سے ۱۳۶۷ بنتا ہے جو ہجری لحاظ سے ان کا سن پیدائش ہے۔ تصوف کے قادری سلسلہ کی معروف شاخ راشدیہ میں حضرت مولانا عبید اللہ انور سے بیعت ہونے کے وجہ سے راشدی کہلاتے ہیں اور اپنے بڑے بیٹے حافظ محمد عمار خان ناصر کی نسبت سے ’’ابو عمار‘‘ اپنے نام کے ساتھ لکھتے ہیں، اور اس طرح ان کے لیٹر پیڈ اور ذاتی مہر میں ان کا نام ’’ابو عمار زاہد الراشدی‘‘ لکھا جاتا ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم گھر میں والد محترم اور والدہ محترمہ سے حاصل کی، پرائمری سکول میں چوتھی جماعت تک تعلیم پائی۔ وہ چوتھی جماعت میں تھے کہ گکھڑ میں الحاج سیٹھی محمد یوسف مرحوم آف گتہ مل راہوالی کی کوشش سے حفظ قرآن کریم کا مدرسہ قائم ہوا اور انہیں حفظ قرآن کریم کے لیے سکول سے اٹھا لیا گیا۔ ۲۰ اکتوبر ۱۹۶۰ء کو انہوں نے حفظ قرآن کریم مکمل کیا، ان کا آخری سبق حضرت مولانا عبداللہ درخواستیؒ اور استاذ القرآن مولانا قاری فضل کریمؒ نے سن کر ان کی دستار بندی کی، جبکہ حفظِ قرآن میں ان کے اساتذہ ایک درجن کے لگ بھگ ہیں۔ جن میں آخری اور سب سے معروف استاد قاری محمد انور صاحب ہیں جو آج کل مدینہ منورہ میں حفظ قرآن کریم کی تعلیم دے رہے ہیں۔

حفظ قرآن پاک کے بعد صرف و نحو کی ابتدائی تعلیم گھر میں والد صاحب سے حاصل کی۔ ۱۹۶۲ء میں درس نظامی کی تعلیم کے لیے مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں داخل ہوئے۔ جہاں سے ۱۹۷۰ء میں دورۂ حدیث کر کے فراغت حاصل کی۔

طالب علمی کے دور میں بھی ادبی اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔ مدرسہ نصرۃ العلوم میں ’’جمعیۃ طلبہ مدرسہ نصرۃ العلوم‘‘ کے نام سے تنظیم بنائی جس کے وہ سیکرٹری جنرل رہے۔ گکھڑ میں چند دوستوں کے تعاون سے ’’انجمن نوجوانانِ اسلام‘‘ قائم کر کے پبلک لائبریری اور ادبی محافل اور مشاعروں کا اہتمام کیا۔ گوجرانوالہ کی معروف ادبی سوسائٹی ’’مجلسِ فکر و نظر‘‘ کے رکن رہے اور اس کی متعدد محافل میں مختلف عنوانات پر تحقیقی مقالات پڑھے۔ ’’حلقۂ اربابِ اصلاح‘‘ کے نام سے ایک ادبی سوسائٹی کے سیکرٹری رہے جس کا دفتر ایک عرصہ تک شیرانوالہ باغ کی لائبریری میں قائم رہا اور ہفتہ وار ادبی محافل منعقد ہوتی رہیں۔

۱۹۶۲ء میں ایوب خان مرحوم کے مارشل لاء کے خاتمہ کے بعد سیاسی جماعتیں بحال ہوئیں تو جمعیۃ علماء اسلام میں شامل ہوئے۔ کچھ عرصہ گکھڑ کے سیکرٹری اطلاعات رہے، ۱۹۶۵ء میں گوجرانوالہ شہر کے سیکرٹری اطلاعات بنائے گئے، ۱۹۶۷ء میں ضلعی سیکرٹری اطلاعات چنے گئے، ۱۹۶۹ء میں لاہور ڈویژن کے ناظم بنے، ۱۹۷۲ء میں صوبہ پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات بنائے گئے، اور ۱۹۷۵ء میں انہیں جمعیۃ کا مرکزی سیکرٹری اطلاعات چن لیا گیا۔ اس کے بعد ۱۹۹۲ء تک مرکز میں سیکرٹری اطلاعات، مرکزی ناظم انتخابات اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل کے مناصب پر کام کرتے رہے۔ اور ۱۹۹۲ء میں جماعتی قیادت کی پالیسیوں سے اختلاف کے باعث تمام عہدوں سے الگ ہو گئے اور اب ایک خاموش رکن کے طور پر جمعیۃ علماء اسلام میں شامل ہیں۔

۱۹۷۷ء میں پاکستان قومی اتحاد بنا تو اس کی دستور کمیٹی، منشور کمیٹی اور پارلیمانی بورڈ میں جمعیۃ کی نمائندگی کی اور کم و بیش تین سال تک قومی اتحاد صوبہ پنجاب کے سیکرٹری جنرل رہے۔ کل جماعتی مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت اور متحدہ شریعت محاذ میں جمعیۃ کے نمائندہ کی حیثیت سے سیکرٹری اطلاعات رہے۔ اسلامی جمہوری اتحاد کی دستور کمیٹی اور منشور کمیٹی میں جمعیۃ کی نمائندگی کی اور صوبہ پنجاب ’’آئی جے آئی‘‘ کے نائب صدر رہے۔

۱۹۶۵ء میں گکھڑ میں روزنامہ وفاق لاہور کے نامہ نگار کی حیثیت سے صحافتی زندگی میں قدم رکھا۔ ۱۹۶۸ء میں ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور اور ہفت روزہ خدام الدین لاہور کی ادارتی ٹیم میں شامل ہو گئے۔ ۱۹۷۲ء میں ہفت روزہ ترجمان اسلام کے مدیر بنائے گئے، اور مختلف وقفوں کے ساتھ ۱۹۹۲ء تک ایڈیٹر کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ ۱۹۸۹ء میں گوجرانوالہ سے پہلے علمی و فکری جریدہ ماہنامہ الشریعہ کا آغاز کیا جو اب تک پابندی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔

۱۹۸۵ء میں عالمی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن گئے اور اس کے بعد سے مسلسل موسم گرما لندن میں گزارنے کا معمول ہے۔ جون، جولائی اور اگست کے تین ماہ لندن میں رہتے ہیں اور مختلف دینی کانفرنسوں میں شرکت کرتے ہیں۔ ۱۹۹۲ء میں چند دوستوں کے ساتھ مل کر ’’ورلڈ اسلامک فورم‘‘ کی بنیاد رکھی جس کے وہ چیئرمین ہیں، جبکہ انڈیا سے تعلق رکھنے والے معروف دانشور عالم دین مولانا عیسیٰ منصوری فورم کے سیکرٹری جنرل ہیں، اور فورم کا مین ہیڈ کوارٹر لندن میں ہے۔ ورلڈ اسلامک فورم تعلیم اور میڈیا کے محاذ پر جدید تقاضوں کا احساس بیدار کرنے کے لیے محنت کر رہا ہے اور مغربی ممالک میں مقیم مسلمان طلبہ اور طالبات کے لیے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے تعاون سے اردو اور انگلش میں ’’خط و کتابت کورس‘‘ چلا رہا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے اس کورس کا نام ’’اسلامک ہوم اسٹڈی کورس‘‘ ہے۔ اس کا آفس برطانیہ کے شہر نوٹنگھم کی مدنی مسجد میں ہے اور اس سال اس کورس میں یورپ کے مختلف ممالک کے ساڑھے تین سو کے لگ بھگ طلبہ اور طالبات شریک ہیں۔

مولانا زاہد الراشدی کی شادی اکتوبر ۱۹۷۰ء میں تحصیل کھاریاں کے قصبہ گلیانہ میں ہوئی۔ آپ کی اہلیہ بھی قرآن پاک کی حافظہ ہیں اور بچیوں کو قرآن کریم کی تعلیم دیتی ہیں۔ آپ کے تین بچے ہیں۔ بڑی لڑکی ہے، جس کی شادی آپ کے چچا حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی کے فرزند مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی سے ہوئی ہے، جبکہ دو بیٹے ہیں۔ بڑے بیٹے حافظ محمد عمار خان ناصر درسِ نظامی کے فاضل ہیں اور ماہنامہ الشريعہ کی ادارت کے ساتھ ساتھ الشریعہ اکیڈمی کے تعلیمی نظام کو چلا رہے ہیں۔ الشریعہ اکیڈمی کے تحت مختلف موضوعات پر لٹریچر کی اشاعت کے علاوہ حفظ قرآن کریم اور پرائمری پاس بچوں کے لیے چار سالہ میٹرک کلاس جاری ہے، جس میں انہیں چار سال میں میٹرک کی مکمل تیاری کے علاوہ عربی گرائمر کے ساتھ قرآن کریم کا مکمل ترجمہ پڑھایا جاتا ہے اور کمپیوٹر ٹریننگ دی جاتی ہے۔ چھوٹے بیٹے حافظ ناصر الدین خان عامر ایف اے کے اسٹوڈنٹ ہیں اور ’’الشریعہ کمپوزرز‘‘ کے نام سے مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں کمپوزنگ سنٹر چلا رہے ہیں۔

مولانا زاہد الراشدی گوجرانوالہ میں پرائیویٹ سطح پر قائم ہونے والی ’’شاہ ولی اللہ یونیورسٹی‘‘ کے بانیوں میں سے ہیں اور ٹرسٹی اور ایڈمنسٹریٹر ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی تعلیمی کونسل کے چیئرمین بھی ہیں۔ یہ پرائیویٹ یونیورسٹی جی ٹی روڈ پر اٹاوہ کے ساتھ تقریباً تیس ایکڑ رقبہ پر قائم کی گئی ہے جس میں اس وقت ڈگری کالج کی سطح تک تعلیم کا سلسلہ چل رہا ہے اور درسِ نظامی کے فضلاء کے لیے گریجویشن کلاس اس سال رمضان المبارک کے بعد شروع کی جا رہی ہے۔

مولانا زاہد الراشدی گوجرانوالہ کی قدیمی مرکزی جامع مسجد (شیرانوالہ باغ) میں گذشتہ پچیس برس سے خطابت کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں اور اس سال مختلف اوقات میں مدرسہ نصرۃ العلوم اور مدرسہ انوار العلوم میں حدیث و فقہ کے بعض اسباق بھی پڑھاتے ہیں۔

وہ تحریک ختم نبوت، تحریک نظام مصطفٰیؐ، تحریک نفاذِ شریعت اور تحریک بحالئ مسجد نور کے دوران متعدد بار گرفتار ہوئے ہیں اور عملی سیاست سے کنارہ کشی تک ان کے خلاف مقدمات اور ضلع بندیوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ گذشتہ روز ایک ملاقات میں ان سے عملی سیاست سے کنارہ کشی کی وجوہات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ سیاست سے الگ نہیں، بلکہ وہ اسے ایک ملی و دینی فریضہ سمجھتے ہیں اور قومی دینی مسائل پر خطبہ جمعہ، اخباری بیانات، پبلک اجتماعات اور ماہنامہ الشریعہ کے ذریعے مسلسل اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں، البتہ جماعتی اور انتخابی سیاست سے انہوں نے کنارہ کشی اختیار کی ہے جس کے دو بڑے سبب ہیں: ایک یہ کہ جس جماعت کے ساتھ وہ گزشتہ تیس سال سے وابستہ چلے آ رہے ہیں اس کے دونوں دھڑوں کی قیادت کی پالیسیوں اور سیاسی طرز عمل سے وہ مطمئن نہیں ہیں۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ عملی سیاست کے تقاضے اب بہت مہنگے ہو گئے ہیں جس کے وہ متحمل نہیں ہیں۔ عملی سیاست کے تقاضے پورے کرنے کے لیے جن وسائل کی ضرورت ہے ان کا حکومت یا کسی لابی اور ایجنسی سے وابستہ ہوئے بغیر حاصل ہونا اس دور میں ممکن نہیں۔ اور تیس سال تک اصولوں اور نظریاتی سیاست کرنے کے بعد اس ’’بے ضمیری‘‘ کے لیے وہ تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء اسلام کے دونوں دھڑے متحد ہو جائیں اور اپنی پالیسیوں کو لابیوں اور ایجنسیوں کے اثرات سے آزاد کرا کے آزادانہ اور باوقار دینی سیاست کی طرف واپس لوٹ جائیں تو وہ اپنی بساط اور وسائل کی حد تک جمعیۃ میں متحرک کردار ادا کرنے کے لیے اب بھی تیار ہیں، مگر اس کے بغیر سیاست میں کوئی رول ان کے ذہن میں نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کے نزدیک اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ قومی خود مختاری کی بحالی اور امریکہ اور ورلڈ بینک کے بڑھتے ہوئے تسلط کے خلاف رائے عامہ کو منظم کرنا ہے۔ کیونکہ ہماری تمام قومی بیماریوں کی جڑ یہ ہے کہ پالیسیوں پر ہمارا اپنا کوئی کنٹرول نہیں ہے اور ہماری ناک میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی نکیل ڈال کر جس طرف ہمیں گھمایا جاتا ہے ہم گھوم جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف آزادی کی جدوجہد میں سب سے اہم کردار علماء نے ادا کیا تھا اور امریکی تسلط سے نجات کے لیے بھی علماء ہی کو قوم کی قیادت کرنا ہو گی، کیونکہ اور کسی طبقے میں نہ مسائل کا ادراک و احساس ہے اور نہ ہی قیادت کی اہلیت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل ایک اچھا تجربہ ہے اور اس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ لیکن مستقبل میں اس کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اسے سیاسی اتحاد بننے سے بچایا جائے اور اس کا دائرہ فکری، عملی اور اپنی راہنمائی تک محدود رکھا جائے۔ مذہبی مکاتب فکر کے مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم کی ضرورت ہے، لیکن اس کے لیے ملی یکجہتی کونسل سے ہٹ کر ہم خیال دینی جماعتیں سیاسی اتحاد قائم کریں تو زیادہ بہتر رہے گا۔

مولانا زاہد الراشدی نے علماء کرام اور دینی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی قومی و دینی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور باہمی اختلافات و تنازعات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے امریکی استعمار کی فکری، معاشی اور سیاسی یلغار کے خلاف متحد ہو کر قوم کی قیادت کریں۔

   
2016ء سے
Flag Counter