شریعت بل: جمعیت علماء اسلام کا نقطۂ نظر

   
تاریخ : 
یکم مئی ۱۹۹۱ء

قومی اسمبلی میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی حکومت کی طرف سے پیش کردہ شریعت بل کا مسودہ اخبارات کے ذریعے سامنے آنے کے بعد متحدہ جمعیت علماء اسلام پاکستان کے قائم مقام امیر مولانا محمد اجمل خان نے اس مسودہ کا جائزہ لینے کے لیے (۱) مولانا میاں محمد اجمل قادری (۲) سینیٹر حافظ حسین احمد (۳) جناب عبد المتین چودھری ایڈووکیٹ آف ساہیوال اور (۴) راقم الحروف ابو عمار زاہد الراشدی پر مشتمل ایک کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا اور راقم الحروف کو اس کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا۔ کمیٹی کے ارکان نے شریعت بل کے مذکورہ سرکاری مسودہ کا سینٹ کے منظور کردہ متفقہ شریعت بل اور اس سلسلہ میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات اور اس کے تجویز کردہ متبادل شریعت بل کے ساتھ تقابلی جائزہ لینے کے بعد ۲۴ اپریل ۱۹۹۱ء کو مدرسہ قاسم العلوم شیرانوالہ گیٹ لاہور میں منعقدہ اجلاس میں مندرجہ ذیل رپورٹ پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔ رپورٹ کا پہلا حصہ شریعت بل کے سرکاری مسودہ کے تجزیہ پر اور دوسرا حصہ جمعیت علماء اسلام پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس منعقدہ ۱۱، ۱۲ مئی ۱۹۹۱ء بمقام لاہور کے لیے کمیٹی کی طرف سے اس سلسلہ میں سفارشات پر مشتمل ہوگا۔

شریعت بل کے تجزیہ کے لیے کمیٹی نے مندرجہ ذیل مسودات کو بنیاد بنایا ہے:

  1. سینٹ آف پاکستان میں مولانا قاضی عبد اللطیف اور مولانا سمیع الحق کی طرف سے پیش کردہ شریعت بل کا وہ مسودہ جسے سینٹ کی قائم کردہ خصوصی کمیٹی نے ازسرنو مرتب کر کے ایوان میں پیش کیا اور چند ترامیم کے ساتھ متفقہ طور پر اسے منظور کر لیا گیا۔
  2. شریعت بل کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ اور اس کا تجویز کردہ متبادل مسودہ جو روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی میں ۲۳ جولائی ۱۹۸۶ء کو شائع ہو چکا ہے۔
  3. شریعت بل کے مسودہ میں پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت کے وزیرِ قانون سید افتخار گیلانی کی طرف سے پیش کردہ ترامیم جو بل کی منظوری کے موقع پر ایوان میں ان کی عدم موجودگی کے باعث مسترد ہو گئی تھیں، اور سینٹ میں شریعت بل کے منظور ہونے کے بعد قومی اسمبلی میں اسے پیش کیے جانے کے مرحلہ پر پی پی حکومت کے وفاقی وزیر پارلیمانی امور خواجہ طارق رحیم نے روزنامہ جنگ لاہور میں ۲۴ جولائی ۱۹۹۰ء کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں ان ترمیمات کا اعادہ کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ان ترامیم کے ساتھ پی پی حکومت قومی اسمبلی سے شریعت بل کو منظور کرانے کے لیے تیار ہے۔ مگر پھر قومی اسمبلی ٹوٹ جانے کے بعد بل ایوان میں پیش نہیں ہو سکا تھا۔
  4. قومی اسمبلی میں میاں محمد نواز شریف صاحب کی حکومت کی طرف سے پیش کردہ شریعت بل کا وہ مسودہ جس کا متن روزنامہ پاکستان لاہور نے ۱۳ اپریل ۱۹۹۱ء کو شائع کیا ہے۔

تمہید

سینٹ کے منظور کردہ شریعت بل کی تمہید میں پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کی منظور کردہ قرارداد پاکستان کو بنیاد بنا کر کہا گیا ہے کہ چونکہ خدا کی حاکمیت اعلیٰ کو ملک کے اجتماعی نظام کی بنیاد قرار دینے والی قراردادِ مقاصد دستورِ پاکستان کا مستقل حصہ ہے، اور اس کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے شریعت کے نفاذ کو فی الفور یقینی بنانا ضروری ہے، اس لیے شریعت بل نافذ کیا جا رہا ہے۔

یہ تمہید اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق ہے، جس میں پی پی حکومت کی طرف سے یہ اضافہ تجویز کیا گیا تھا کہ

’’اور جبکہ قرارداد مقاصد دوسری باتوں کے علاوہ یہ کہتی ہے کہ ریاست اپنے اختیارات منتخب عوامی نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی۔‘‘

مگر قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے نئے مسودہ کی تمہید میں قراردادِ مقاصد کا ذکر حذف کر دیا گیا ہے، اور ایک تفصیلی تمہید شائع کی گئی ہے جو اگرچہ ایک اچھی تمہید ہے، لیکن کمیٹی کی رائے میں شریعت بل کی تمہید میں قراردادِ مقاصد کا ذکر ضروری ہے اور اس کی موجودگی میں کسی اور تفصیل کی ضرورت نہیں ہے۔

دفعہ (۱)

شریعت بل کی پہلی دفعہ اس کے عنوان، دائرہ کار اور آغازِ نفاذ پر مشتمل ہے۔ اور اس میں سب مسودات بالخصوص اس امر پر متفق ہیں کہ شریعت بل میں شامل کسی امر کا اطلاق غیر مسلموں کے شخصی قوانین پر نہیں ہو گا۔

دفعہ (۲)

یہ دفعہ بل میں مذکور اصطلاحات کی تعریفات پر مشتمل ہے اور اس میں ’’شریعت‘‘ کی تعریف بطور خاص قابل ذکر ہے، جو سینٹ کے منظور کردہ شریعت بل میں اس طرح کی گئی ہے کہ

’’(ب) ’’شریعت‘‘ سے مراد وہ احکامِ اسلام میں جو قرآن و سنت سے ثابت ہیں۔

تشریح: شریعت کی تشریح و تفسیر کرتے وقت قرآن و سنت کی تشریح و تفسیر کے مسلّمہ اصول و قواعد کی پابندی کی جائے گی اور راہنمائی کے لیے اسلام کے مسلّمہ فقہاء کی تشریحات و آراء کا لحاظ رکھا جائے گا، جیسا کہ دستور کی دفعہ ۲۲۷ شق ۹۱ کی تشریح میں ذکر کیا گیا ہے۔‘‘

اسلامی نظریاتی کونسل کے مسودہ میں ’’قرآن و سنت سے ثابت ہیں‘‘ کی بجائے ’’قرآن و سنت میں مذکور ہیں‘‘ کے الفاظ کے ساتھ شریعت کی تعریف کی گئی ہے۔ اور تشریح میں (۱) سنت خلفاء راشدین (۲) تعاملِ صحابہ (۳) اجماع امت اور (۴) مسلمہ فقہاء اسلام کی تشریحات کی صراحت کی گئی ہے۔

جبکہ پی پی حکومت کی طرف سے پیش کردہ ترامیم میں شریعت کی تعریف یوں کی گئی ہے کہ:

’’شریعت کے معنی قرآن و سنت میں درج احکامات ہیں جن کی تشریح و تفسیر قرآن و سنت کی تشریح کے مسلّمہ قواعد کے مطابق کی گئی ہو۔‘‘

اور موجودہ حکومت کے مسودہ میں اسے اس صورت میں پیش کیا گیا ہے کہ:

’’شریعت سے اسلام کے وہ احکام مراد ہیں جس طرح کہ قرآن پاک اور سنت میں ان کا تعین کیا گیا ہے۔

تشریح: جیسا کہ دستور کے آرٹیکل ۲۲۷ میں تصور کیا گیا ہے کہ مسلم فرقہ کے شخصی قانون کی نسبت شریعت کی تشریح اور تعبیر کرتے ہوئے قرآن پاک اور سنت کے الفاظ سے اس فرقہ کے مطابق قرآن پاک اور سنت کی تشریح اور تعبیر مراد ہو گی۔‘‘

اس ضمن میں مندرجہ ذیل دو نکات قابل توجہ ہیں:

  • شریعت کی تعریف میں ’’وہ احکام جو قرآن و سنت سے ثابت ہیں‘‘ کی بجائے ’’مذکور ہیں‘‘ یا ’’درج ہیں‘‘ کے الفاظ قطعی طور پر ناکافی ہیں، اور ان سے وہ تمام احکامِ اسلام شریعت کی تعریف سے خارج ہو جاتے ہیں جو قرآن و سنت میں صراحت کے ساتھ مذکور نہیں ہیں مگر خلفاءِ راشدینؓ، صحابہ کرامؓ اور فقہاء اسلام نے قرآن و سنت کی روشنی میں مرتب کیے ہیں۔ اور وہ احکامِ اسلام بھی شریعت کے دائرہ میں شامل نہیں ہو سکیں گے جو اجتہاد کے شرعی حق کو استعمال کرتے ہوئے آج کے دور میں مسلم فقہاء قرآن و سنت کی روشنی میں مرتب کریں گے۔ اسی طرح ’’جن کا تعین قرآن و سنت میں کیا گیا ہے‘‘ کے الفاظ بھی مبہم ہیں اور ان سے قرآن و سنت سے مستنبط کیے گئے احکامِ اسلام کو شریعت کی تعریف میں شامل رکھنے کا مقصد کماحقہٗ پورا نہیں ہوتا۔ اس لیے سینٹ کے منظور کردہ ’’ثابت تھے‘‘ کے الفاظ زیادہ واضح، جامع اور ضروری ہیں۔
  • قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح کے ضمن میں سینٹ کے منظور کردہ بل میں ’’قرآن و سنت کی تشریح و تفسیر کے مسلّمہ اصول و قواعد کی پابندی کی جائے گی‘‘ کی ضمانت دی گئی ہے۔ جس سے اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے (۱) سنت خلفاء راشدین (۲) تعامل صحابہ (۳) اجماع امت (۴) اور مسلمہ فقہاء کی تشریحات کی صراحت کا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔ پی پی حکومت کی تجویز کردہ ترامیم میں بھی ’’قرآن و سنت کی تشریح کے مسلّمہ قواعد کے مطابق‘‘ کا اصول تسلیم کیا گیا ہے۔ مگر شریعت بل کے نئے مسودے میں اصول و قواعد کا ذکر حذف کر دیا گیا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح کے قانونی طور پر مجاز اداروں کے سامنے کوئی طے شدہ اصول و ضوابط نہیں ہوں گے اور وہ اپنی صوابدید پر جس طرح چاہیں گے قرآن و سنت کی تشریح کر سکیں گے، البتہ سرکاری مسودہ میں اس کی اگلی دفعہ میں یہ کہا گیا ہے کہ
  • ’’قانون موضوعہ کی تشریح و تعبیر کرتے وقت اگر ایک سے زیادہ تشریحات اور تعبیرات ممکن ہوں تو عدالت کی طرف سے اس تشریح و تعبیر کو اختیار کیا جائے گا جو اسلامی اصولوں اور اصولِ قانون کے مطابق ہو۔‘‘

    مگر یہ بات ناکافی اور مبہم ہے۔ ناکافی اس لیے کہ اس کا تعلق صرف عدالت سے ہے اور دیگر ادارے قرآن و سنت کی تشریح و تعبیر میں مسلّمہ قواعد کی پابندی سے آزاد رہ جاتے ہیں۔ اور مبہم اس لیے کہ ’’مسلّمہ قواعد و اصول‘‘ کی بجائے ’’اسلامی اصولوں‘‘ کا ذکر کیا گیا ہے، جس کی مراد واضح نہیں ہے اور ہر شخص یا ادارہ خود اپنے طے کردہ اصول کو اسلامی اصول قرار دے کر انہیں قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح کی بنیاد بنا سکتا ہے۔ پھر اسلامی اصولوں کو ’’اصولِ قانون‘‘ کے ساتھ نتھی کر کے معاملہ کو اور زیادہ الجھن میں ڈال دیا گیا ہے۔ اس لیے کمیٹی کی رائے میں سینٹ کے منظور کردہ بل کے الفاظ انتہائی ضروری ہیں کیونکہ وہی اس سلسلہ میں ناگزیر تقاضوں کو پورا کرتے ہیں۔

دفعہ (۳)

شریعت بل کی تیسری دفعہ میں قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لاء قرار دیا گیا ہے، جسے اسلامی نظریاتی کونسل کے مسودہ، سینٹ کے منظور کردہ بل اور موجودہ حکومت کی طرف سے قومی اسمبلی میں پیش کردہ مسودہ میں ’’اعلیٰ ترین قانون‘‘ اور ’’بالاتر قانون‘‘ کے الفاظ کے ساتھ تسلیم کیا گیا ہے۔ لیکن پی پی حکومت کی طرف سے تجویز کردہ ترامیم میں اسے ’’اعلیٰ وسیلہ قانون‘‘ کے الفاظ میں بدل دیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن و سنت کو خود قانون کی حیثیت حاصل نہیں ہوگی البتہ انہیں قانون سازی کے وسیلہ کے طور پر بنیاد بنایا جا سکے گا۔ کمیٹی کی رائے میں یہ بات درست نہیں ہے اور اس سے قرآن و سنت کو ’’سپریم لاء‘‘ قرار دینے کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے۔ نیز کمیٹی اس سلسلہ میں اسلامی نظریاتی کونسل کی اس رائے سے اتفاق کرتی ہے کہ قرآن و سنت کو اعلیٰ ترین قانون قرار دینے کی یہ شق شریعت بل کی دفعہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک آئینی ترمیم کے ذریعے دستور پاکستان کا حصہ بننی چاہیے، کیونکہ آئین کا حصہ بننے کی صورت میں ہی یہ بنیادی اصول ملک کے تمام معاملات پر اثر انداز ہو سکے گا، ورنہ اس کی حیثیت محض ایک نمائشی دفعہ کی رہے گی۔ اس ضمن میں یہ بات توجہ طلب ہے کہ:

  • قومی اسمبلی ۱۶ اکتوبر ۱۹۸۵ء کو متفقہ قرارداد کے ذریعے ایک نیا آئینی ترمیمی بل منظور کرنے کا قوم سے وعدہ کر چکی ہے جس میں قرارداد کے مطابق یہ بات بھی شامل ہو گی کہ (الف) آرٹیکل ۲ میں ’’اسلام پاکستان کا سرکاری مذہب ہے‘‘ کے بعد اضافہ کیا جائے کہ ’’قرآن و سنت ملک کا بالاترین (سپریم) قانون اور پالیسی بنانے اور قانون سازی کے لیے اصل منبع ہوں گے۔‘‘
  • اسی وعدہ کی بنیاد پر سینٹ آف پاکستان میں ’’نواں آئینی ترمیمی بل‘‘ منظور کیا گیا تھا جس میں قرآن و سنت کو دستوری طور پر سپریم لاء قرار دیا گیا ہے، لیکن سینٹ میں منظور ہو جانے کے بعد اسے مقررہ دستوری مدت کے اندر قومی اسمبلی میں پیش نہ کیا گیا جس سے یہ ترمیمی بل غیر مؤثر ہو گیا۔
  • وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے ۱۰ اپریل ۱۹۹۱ء کے پارلیمنٹ میں اپنے خطاب کے دوران قرآن و سنت کو سپریم لاء قرار دینے کے لیے آئینی ترمیم پیش کرنے کا وعدہ کیا تھا (بحوالہ جنگ لاہور، ۱۱ اپریل ۱۹۹۱ء) لیکن اس واضح وعدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آئینی ترمیم کی بجائے اس اہم اور بنیادی شق کو شریعت بل کے قانونی مسودہ میں شامل کر دیا گیا ہے۔

اس لیے کمیٹی کی رائے میں ’’قرآن و سنت کو سپریم لاء‘‘ کے عملی مقاصد صرف اس صورت میں پورے ہو سکتے ہیں جبکہ اسے دستوری ترمیم کے ذریعے آئین کے باضابطہ حصہ کے طور پر نافذ کیا جائے۔

دفعہ (۴)

سینٹ کے منظور کردہ شریعت بل کی چوتھی دفعہ کے ذریعے ملک کی تمام عدالتوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ مقدمات کے فیصلے شریعت کے مطابق کریں گی۔ یہ دفعہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق ہے اور عملی طور شریعت بل کی سب سے زیادہ عملی اور انقلابی دفعہ ہے، جس سے ملک کے عدالتی نظام میں قرآن و سنت کے عملی نفاذ کا مقصد حاصل ہوتا ہے، اور فرنگی استعمار کے نافذ کردہ قوانین سے قوم کو نجات ملتی ہے۔ لیکن انتہائی بد قسمتی کی بات ہے کہ پیپلز پارٹی اور آئی جے آئی (اسلامی جمہوری اتحاد) دونوں اس دفعہ کو شریعت بل میں شامل نہ رکھنے پر متفق ہیں۔ چنانچہ سابق وزیرِ قانون سید افتخار گیلانی کی پیش کردہ ترامیم میں بھی اسے حذف کرنے کی سفارش کی گئی ہے اور موجودہ حکومت کی طرف سے سامنے آنے والے مسودہ میں بھی یہ اہم دفعہ شامل نہیں ہے۔

دفعہ (۵)

سینٹ کے منظور کردہ شریعت بل کی پانچویں دفعہ میں کہا گیا ہے کہ

’’انتظامیہ کا کوئی بھی فرد بشمول صدر مملکت، وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ شریعت کے خلاف کوئی حکم نہیں دے سکے گا۔ اور اگر ایسا کوئی حکم دے دیا گیا ہو تو اسے عدالتِ عالیہ میں چیلنج کیا جا سکے گا۔‘‘

اسلامی نظریاتی کونسل اس دفعہ کے ساتھ متفق ہے، لیکن دفعہ ۴ کی طرح پی پی حکومت کے وزیر قانون نے اسے بھی حذف کرنے کی سفارش کی ہے، اور موجودہ حکومت نے اپنے مسودہ میں اسے حذف کر دیا ہے۔

دفعہ (۶)

سینٹ کے منظور کردہ بل کی چھٹی دفعہ میں کہا گیا ہے کہ

’’حکومت کے تمام عمّال دستور کے تابع رہتے ہوئے اسلامی نظام انصاف کے پابند ہوں گے اور شریعت کے مطابق عدالتی احتساب سے بالاتر نہیں ہوں گے۔‘‘

اسلامی نظریاتی کونسل نے اس سے اتفاق کیا ہے کہ اور ’’اسے دستور کے تابع‘‘ رکھنے کی بجائے اس کے عملی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے دستوری ترمیم کی سفارش کی ہے۔ پی پی حکومت نے اسے جوں کا توں تسلیم کیا ہے، مگر موجودہ حکومت کے مسودہ میں اسے سرے سے حذف کر دیا گیا ہے۔

دفعہ (۷)

سینٹ کے منظور کردہ شریعت بل کی ساتویں دفعہ میں علماء اور دینی علوم کے ماہرین کو عدالتوں میں جج اور معاون جج کی حیثیت سے مقرر کرنے کا اصول طے کر کے اس کا طریق کار وضع کیا گیا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ یہ قانون سازی کی بجائے ایک سفارش کی حیثیت رکھتی ہے البتہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی سطح پر علماء کے بطور جج تقرر کے لیے آئین میں ترمیم ضروری ہے، پی پی پی کے سابق وزراء قانون نے اس دفعہ کو من و عن قبول کیا ہے، مگر موجودہ حکومت کے مسودہ میں یہ دفعہ بھی حذف کر دی گئی ہے۔

دفعہ (۸)

سینٹ کے منظور کردہ شریعت بل کی آٹھویں دفعہ میں صدر مملکت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ شرعی احکام میں اعلیٰ عدالتوں کی معاونت کے لیے مفتیوں کا تقرر کر سکے گا جن کی حیثیت ڈپٹی اٹارنی جنرل کے برابر ہوگی۔ اسلامی نظریاتی کونسل اس کے بارے میں خاموش ہے، پی پی پی کے سابق وزیر قانون نے ایک جزوی ترمیم کے ساتھ اسے قبول کیا ہے، مگر موجودہ حکومت کے مسودہ میں یہ دفعہ شامل نہیں ہے۔

دفعہ (۹)

سینٹ کے منظور کردہ شریعت بل کی نویں دفعہ میں قانونِ تعلیم کے موجودہ نظام میں تبدیلی کرنے اور نصاب تعلیم میں ردوبدل کر کے اسلامی قوانین و علوم کو شامل نصاب کرنے کا اصول طے کیا گیا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے اسے ایک سفارش قرار دے کر اصولی طور پر اس سے اتفاق کیا ہے، پی پی پی حکومت نے اسے من و عن قبول کیا ہے، اور موجودہ حکومت کے مسودہ میں بھی اسے ردوبدل کے ساتھ شامل کر لیا گیا ہے، مگر کمیٹی کی رائے میں سینٹ کی منظور کردہ دفعہ زیادہ جامع اور واضح ہے۔

دفعہ (۱۰)

سینٹ کے منظور کردہ بل کی دسویں دفعہ میں معیشت کو اسلامی بنانے اور اس کے لیے ایک مستقل کمیشن مقرر کر کے اس کی سفارشات کی روشنی میں معاشی نظام کو تبدیل کرنے کا طریق کار طے کیا گیا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل اس کے بارے میں خاموش ہے، البتہ کونسل نے ایک اور دفعہ کے تحت ناجائز اور حرام ذرائع سے دولت کمانے کو قابل سزا جرم قرار دینے کی سفارش کی ہے، پی پی پی حکومت کی ترامیم میں اس دفعہ کو مکمل طور پر حذف کرنے کے لیے کہا گیا ہے، جبکہ موجودہ حکومت کے مسودہ میں معیشت کو اسلامی بنانے اور کمیشن قائم کرنے کو اصولی طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور اس کی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں۔

لیکن اس ضمن میں ظلم یہ کیا گیا ہے کہ سود کے خاتمہ کے لیے حکومت کو تین سال کی مدت کی گنجائش دے کر اس میں توسیع کا دروازہ بھی کھلا رکھا گیا ہے، جبکہ سابقہ صورتحال یہ ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کے دائرہ اختیار سے سود سمیت مالیاتی قوانین کو جس دس سالہ مدت کے لیے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا وہ ختم ہو چکی ہے، اور شہریوں کا یہ حق بحال ہو گیا ہے کہ وہ سود یا دیگر غیر اسلامی مالیاتی قوانین کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کر سکیں، مگر شریعت بل کے موجودہ سرکاری مسودہ کی یہ شق منظور ہو جانے کی صورت میں یہ حق دوبارہ تین سال یا اس سے زائد مدت کے لیے معطل ہو جائے گا اور شریعت بل کے حوالے سے یہ کارروائی انتہائی افسوسناک ہوگی۔

دفعہ (۱۱)

سینٹ کے منظور کردہ شریعت بل کی گیارہویں دفعہ میں ذرائع ابلاغ کو اسلامی تعلیمات کا پابند بنانے اور فحش پروگراموں کی اشاعت سے روکنے کا اصول طے کیا گیا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے اس کی خلاف ورزی کو قابلِ سزا جرم قرار دینے کی سفارش کی ہے، پی پی پی حکومت نے اس دفعہ کو ختم کرنے کے لیے کہا ہے، اور موجودہ حکومت کے مسودہ میں اسے مختلف الفاظ کے ساتھ موجود رکھا گیا ہے۔

دفعہ (۱۲)

سینٹ کے پاس کردہ شریعت بل کی بارہویں دفعہ تعلیمی نظام کی اصلاح کے بارے میں ہے، اور اس سلسلہ میں ایک کمیشن کے قیام کو ضروری قرار دیا گیا ہے جس کی سفارشات پر نظامِ تعلیم کو مکمل طور پر اسلامی بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ اسلامی نظریاتی کونسل اس بارے میں خاموش ہے، پی پی حکومت اپنی ترامیم میں اس دفعہ کو حذف کرنے کے حق میں تھی، اور موجودہ حکومت کے مسودہ میں یہ دفعہ برقرار رکھی گئی ہے۔

دفعہ (۱۳)

سینٹ کے منظور کردہ بل میں اس دفعہ کے تحت کہا گیا ہے کہ

’’انتظامیہ، عدلیہ اور مقننہ کے تمام مسلمان ارکان کے لیے فرائضِ شریعت کی پابندی اور کبائر سے اجتناب لازم ہو گا۔‘‘

اسلامی نظریاتی کونسل نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے خلاف ورزی کی صورت میں سزا مقرر کرنے کی سفارش کی ہے، پی پی پی کی حکومت نے اس دفعہ کو سینٹ کی منظور شدہ شکل میں قبول کر لیا تھا، اور موجودہ حکومت کے مسودہ میں اسے حذف کر دیا گیا ہے۔

دفعہ (۱۴)

سینٹ کے منظور کردہ شریعت بل کی اس دفعہ میں قوانین کی تعبیر و تشریح شریعت کی روشنی میں کرنے کا طریق کار طے کیا گیا ہے اور مسلّمہ مسلم فرقوں کے لیے شخصی قوانین میں قرآن و سنت کی تشریح ان کی اپنی فقہ کے مطابق کیے جانے کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے نزدیک دفعہ 2 میں وضاحت آ جانے کے بعد الگ دفعہ کے طور پر اس کی ضرورت نہیں رہی۔ پی پی پی حکومت نے اسے ختم کرنے کی سفارش کی تھی، اور موجودہ حکومت کے مسودہ میں اس کا مفہوم دفعہ 2 میں شامل کر کے الگ دفعہ کے طور پر اسے ختم کر دیا گیا ہے۔

دفعہ ۱۵، ۱۶

سینٹ کے منظور کردہ مسودہ میں یہ دو دفعات حکومت کی بین الاقوامی مالیاتی ذمہ داریوں کا تسلسل قائم رکھنے اور موجودہ ذمہ داریوں کی تکمیل کے حوالے سے شامل کی گئی ہیں۔ اور دفعہ 17 میں شریعت بل پر عملدرآمد کے لیے قواعد وضع کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل اس بارے میں خاموش ہے۔ پی پی پی حکومت کی طرف سے پیش کردہ ترامیم میں سابقہ اور موجودہ ذمہ داریوں کے تسلسل کو تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ آئندہ کے لیے بھی گنجائش پیدا کی گئی ہے کہ حکومت جو مالیاتی اقدامات آئندہ بین الاقوامی سطح پر کرے گی شریعت بل ان پر بھی اثر انداز نہیں ہو گا، جبکہ موجودہ حکومت کے مسودہ میں ان دفعات کو سینٹ کی منظور کردہ صورت میں برقرار رکھا گیا ہے۔

شریعت بل کے مذکورہ بالا مسودات کے تقابلی جائزہ کے بعد جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی خصوصی کمیٹی جمعیت کی مرکزی مجلس شوریٰ سے سفارش کرتی ہے کہ چونکہ

  • وزیر اعظم میاں نواز شریف کے پارلیمنٹ میں واضح اعلان کے باوجود قرآن و سنت کو سپریم لاء قرار دینے کے بارے میں آئینی ترمیم پیش نہ کر کے قوم کے ساتھ کیے گئے وعدہ کی خلاف ورزی کی گئی ہے،
  • سینٹ آف پاکستان کے متفقہ طور پر منظور کردہ ’’شریعت بل‘‘ کی چھ اہم دفعات موجودہ حکومت کے تجویز کردہ ’’شریعت بل‘‘ میں شامل نہیں کی گئیں اور
  • شریعت بل کے موجودہ سرکاری مسودہ کے ذریعہ سودی نظام کو مزید تین سال کے لیے تحفظ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس لیے قومی اسمبلی میں موجودہ حکومت کے پیش کردہ شریعت بل کو مکمل طور پر مسترد کر دیا جائے اور سینٹ آف پاکستان کے منظور کردہ ’’نویں آئینی ترمیمی بل‘‘ اور ’’متفقہ شریعت بل‘‘ دونوں کو پارلیمنٹ سے ازسرنو منظور کرانے کے لیے منظم جدوجہد کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔

   
2016ء سے
Flag Counter