چین کے صوبہ سنکیانگ کے مسلمانوں کی صورتحال

   
تاریخ : 
۴ مارچ ۱۹۹۷ء

عوامی جمہوریہ چین کے سرحدی صوبہ سنکیانگ میں ترک مسلمانوں اور چینی نسل کے لوگوں کے درمیان فسادات کی خبریں کچھ دنوں سے پھر منظر عام پر آرہی ہیں، اور ’’نیوز ویک‘‘ نے اپنی حالیہ اشاعت میں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان فسادات کے حوالے سے سنکیانگ کے مسلمانوں کے خلاف چینی حکومت کے اقدامات عالمِ اسلام کے ساتھ چین کے تعلقات پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

عوامی جمہوریہ چین ہمارا پڑوسی ملک ہے جس کے ساتھ ہمارے تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے ہیں اور ہر مشکل وقت میں چین نے ہمارا ساتھ دیا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہ دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے، جس کی آبادی ایک ارب پندرہ کروڑ کے لگ بھگ بیان کی جاتی ہے، جبکہ اس میں مسلمانوں کی تعداد پانچ اور چھ کروڑ کے درمیان بتائی جاتی ہے جو ملک کے مختلف حصوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ البتہ شمال مغربی سرحد میں پاکستان اور وسطی ایشیا کی ریاستوں کے ساتھ ملحق صوبہ سنکیانگ میں مسلمان اکثریتی آبادی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس صوبہ کی آبادی ایک کروڑ کے قریب ہے اور اس میں مسلمانوں کا تناسب کم و بیش اسی فیصد ہے یہ مسلمان ترکی النسل ہیں جو یغور کہلاتے ہیں، اور چینی بادشاہت کے دور سے چینی حکمرانوں کے ساتھ ان کی کشمکش کا سلسلہ چلا آ رہا ہے۔ چین میں کمیونسٹ انقلاب کے بعد اس خطہ کے مسلمانوں کی حالت بھی وسطی ایشیا کی ریاستوں جیسی ہو گئی ہے جو سوویت یونین کی کمیونسٹ حکومت کے تسلط میں آ گئی تھیں، اور یہاں کے مسلمانوں کا تعلق دنیا کی باقی مسلم آبادی سے کٹ کر رہ گیا۔ حتیٰ کہ انہیں حج پر جانے کی اجازت بھی ایک عرصہ تک نہ تھی، اور جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں ان کی کوششوں سے چین کی حکومت نے مسلمانوں کی ایک محدود تعداد کو حج بیت اللہ کے لیے حرمین شریفین جانے کی اجازت دی، بلکہ ابتدائی چند سالوں میں یہ انتظامات بھی حکومتِ پاکستان ہی کرتی رہی۔ اس کے علاوہ چین کے مسلمان نوجوانوں کو پاکستان کے مختلف تعلیمی اداروں بالخصوص بڑے دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا، جس سے اس خطہ کے مسلمانوں کا تعلق دنیا کی مسلم آبادی کے ساتھ قائم ہو گیا اور ایک مسلم معاشرہ کے طور پر عالمِ اسلام کے اجتماعی دھارے میں شامل ہونے کے جذبات پرورش پانے لگے۔

اسی دور میں جہادِ افغانستان نے علاقائی حدود سے نکل کر عالمِ اسلام کے اجتماعی جہاد کی شکل اختیار کر لی اور اس کی برکت سے نہ صرف مشرقی یورپ اور وسطی ایشیا کی ریاستوں کو آزادی نصیب ہوئی بلکہ کم و بیش دنیا کے ہر خطہ کے مسلمانوں کا جہاد کے ساتھ جذباتی اور عملی تعلق استوار ہو گیا۔ ظاہر بات ہے کہ پڑوس میں ہونے والے اس جہاد سے جس میں دنیا بھر کے مسلمان نوجوان شریک تھے، چین کے مسلمانوں کا لاتعلق رہنا اور متاثر نہ ہونا ممکن نہ تھا۔ پھر روس کے تسلط سے وسطی ایشیا کی مسلم ریاستوں کی آزادی بھی چین کے مسلمانوں پر اثر انداز ہوئی اور سنکیانگ کے مسلمانوں میں آزادی کی لہر دوڑ گئی۔ چنانچہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اس صوبہ کے مسلمان آزادی کے لیے مسلح جنگ کے دور میں داخل ہو گئے ہیں اور چین کی حکومت اس تحریک کو دبانے کے لیے روایتی جبر کا سہارا لے رہی ہے۔

حال ہی میں عالمی پریس کے ذریعے سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق سنکیانگ کے ساٹھ ہزار کے لگ بھگ مسلمان اپنے پڑوس میں وسطی ایشیا کی نو آزاد مسلم ریاستوں قازقستان میں ہجرت کر کے سنکیانگ کی آزادی کا نعرہ لگا چکے ہیں اور خود سنکیانگ کے اندر حالیہ فسادات کے بعد ریاستی اداروں نے ہزاروں افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور سینکڑوں افراد کو موت کی سزا دے دی گئی۔

ان فسادات کا پس منظر یہ بیان کیا جاتا ہے کہ چین کی حکومت اس صوبہ میں مسلمانوں کی اکثریت کا تناسب کم کرنے کے لیے دوسرے علاقوں کے چینی نسل کے لوگوں کو سنکیانگ میں آباد کرنے کے منصوبہ پر عمل کر رہی ہے۔ جبکہ مسلمان اس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور یہ کشمکش فسادات کی شکل اختیار کر گئی ہے، جس کے نتیجہ میں صرف فروری کے دوران ڈیڑھ سو کے لگ بھگ مسلمانوں کو سرسری عدالتی کارروائی کے بعد سزائے موت دینے کی خبریں اخبارات میں شائع ہو چکی ہیں، اور گرفتار شدگان کی تعداد ہزاروں میں بیان کی جا رہی ہے۔ اور عالمی پریس کے مطابق اب اس صوبہ کا کنٹرول فوج کے حوالے کر کے اسے مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اس کے بعد کی کوئی خبر سامنے نہیں آ رہی، لیکن فوج کے کنٹرول اور صوبے کے سیل ہو جانے سے ہی بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس آہنی پردے کے پیچھے سنکیانگ کی مسلمان آبادی پر کیا گزر رہی ہو گی۔

اس سلسلہ میں چینی حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان سے مذہبی جماعتیں قرآن پاک کے نسخے اور مذہبی لٹریچر سنکیانگ کے مسلمانوں کو مہیا کر رہی ہیں اور افغانستان میں طالبان کی حکومت سنکیانگ کے مسلمان نوجوانوں کو اسلحہ کی تربیت دے رہی ہے جس کی وجہ سے وہاں حالات خراب ہو رہے ہیں۔ طالبان کے رہنما مولوی گل محمد ربانی نے اس کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ہم خود اس وقت حالتِ جنگ میں ہیں اس لیے ہم یہ کام کیسے کر سکتے ہیں؟ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے بھی وضاحت جاری کی ہے۔ لیکن ہمارے خیال میں چین کے حکمرانوں اور دانشوروں کو اس مسئلہ کا جائزہ اس محدود دائرہ میں نہیں لینا چاہیے اور عالمی حالات، عالمِ اسلام کی صورتحال، اور اردگرد تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے مجموعی تناظر میں معروضی حقائق کا سامنا کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ آج کے دور میں یہ ممکن نہیں رہا کہ کسی مخصوص خطہ کی آبادی کو عالمی حالات اور اردگرد کی تبدیلیوں سے اثر پذیر ہونے سے روکا جا سکے، اور یہ بات بھی عقل و قیاس کے دائرہ سے باہر ہے کہ سنکیانگ کے مسلمانوں کے دنیا کی باقی مسلم برادری کے ساتھ مذہبی تعلقات کو محدود رکھنے کی کوشش کی جائے۔

اگر سنکیانگ کے مسلمان دنیا کے دیگر مسلمانوں کے ساتھ مذہبی اور ثقافتی طور پر ملت اسلامیہ کے اجتماعی دھارے میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو یہ ایک فطری جذبہ ہے، اور دنیا کے دوسرے ممالک کے مسلمان مذہبی اور تعلیمی روابط میں ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تو یہ بھی کوئی جرم نہیں ہے۔ اس لیے ہم اپنے عظیم پڑوسی عوامی جمہوریہ چین کے دانشور حکمرانوں سے عرض کریں گے کہ وہ حالات اور معروضی حقائق کا کھلے دل کے ساتھ جائزہ لیں اور جبر و تشدد کے روایتی ہتھیاروں سے کام لینے کی بجائے اس خطہ کے مسلمانوں کو اعتماد میں لے کر ان کے ساتھ کھلی فضا میں مستقبل کے معاملات طے کریں، کیونکہ اس کے بغیر اس قسم کے مسائل کا کوئی حل نہیں ہوتا اور عقلمند حکمران وہی ہوتے ہیں جو ’’بعد از خرابی بسیار‘‘ کا انتظار نہیں کرتے بلکہ پہلے ہی حالات کے رخ کا صحیح اندازہ کر کے دانش مندی کے ساتھ معاملات کو سلجھا لیا کرتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی ہم عالمِ اسلام کی رائے عامہ، مسلم حکومتوں اور دینی تحریکات سے بھی یہ گزارش کریں گے کہ وہ اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور سنکیانگ کے پون کروڑ کے لگ بھگ مسلمانوں کو ریاستی جبر سے بچانے اور ان کے دینی تشخص کی بحالی کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں ورنہ اگر چینی حکومت نے دانش مندی اور مفاہمت کا راستہ اختیار نہ کیا اور مسلم ممالک اور حکومتوں نے اس سلسلہ میں مفاہمانہ رول ادا نہ کیا تو اس خدشہ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ امریکہ اپنے مخصوص مفادات اور عزائم کے تحت اس صورتحال سے فائدہ اٹھائے گا اور سنکیانگ کے مسلمانوں پر ریاستی جبر کے بڑھتے ہوئے رجحانات کو دیکھتے ہوئے وہ لوگ بھی ۔۔۔۔ خاموش رہ جانے پر مجبور ہو جائیں گے جو ۔۔۔۔

   
2016ء سے
Flag Counter