اسلام آباد میں ’’امریکہ اور عالمِ اسلام‘‘ سیمینار

   
تاریخ : 
۲۰ ستمبر ۱۹۹۶ء

پاکستان شریعت کو نسل کے زیر اہتمام علماء کرام اور دانشوروں کے ایک بھرپور سیمینار میں خلیج عرب میں امریکی افواج کی مسلسل موجودگی کو حرمین شریفین کے تقدس اور تحفظ کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے دنیا بھر کی مسلمان حکومتوں اور بین الاقوامی مسلم تنظیموں سے اپیل کی گئی ہے کہ خلیج سے امریکی فوجوں کی واپسی کے لیے منظم اور مربوط جدوجہد کی جائے۔ پاکستان شریعت کونسل کا یہ سیمینار گزشتہ شب جی نائن مرکز اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں کونسل کے مرکزی رہنما مفتی حبیب الرحمٰن درخواستی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اور ریٹائرڈ جنرل حمید گل اور پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی (راقم الحروف) کے علاوہ ممتاز علماء کرام مولانا حامد علی رحمانی، مولانا قاری سعید الرحمٰن، مولانا قاری محمد نذیر فاروقی، میاں محمد اسلم لودھی اور تحفظِ حرمین محاذ کے کنوینر مولانا اللہ وسایا قاسم نے سیمینار سے خطاب کیا، جبکہ اسلام آباد کے مختلف علاقوں سے دو سو کے لگ بھگ علماء کرام، خطباء اور دانشور سیمینار میں شریک ہوئے۔

’’امریکہ اور عالمِ اسلام‘‘ کے موضوع پر منعقد ہونے والے اس سیمینار کی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ امریکہ خلیج میں تیل کے چشموں پر قبضہ کرنے اور اسرائیل کے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اپنی موجودگی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور اسرائیل کے ناپاک عزائم میں مدینہ منورہ پر قبضے کا خواب بھی شامل ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وصیت میں حکم فرمایا تھا کہ جزیرۂ عرب سے یہود و نصاریٰ کو نکال دو اور امیر المومنین حضرت عمرؓ نے اپنے دورِ خلافت میں اس وصیت کی تعمیل کرتے ہوئے پورے جزیرۂ عرب کو یہود و نصاریٰ کے وجود سے پاک کر دیا تھا، لیکن آج پھر جزیرۂ عرب یہود و نصاریٰ کی سرگرمیوں کی آماجگاہ بن گیا ہے اور امریکہ اور اس کے حواری ممالک کی فوجیں خلیج عرب میں عرب ممالک کی آزادی اور خودمختاری کے ساتھ ساتھ حرمین شریفین کے تقدس کے لیے بھی خطرہ بنی ہوئی ہیں اس لیے یہ ملتِ اسلامیہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق جزیرۂ عرب سے یہود و نصاریٰ کو نکالنے کے لیے منظم جدوجہد کی جائے۔

ریٹائرڈ جنرل حمید گل نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہودی عالمِ اسلام کے ازلی دشمن ہیں اور امریکہ پر یہودیوں کا تسلط ہے جو اسے اپنی مرضی کے مطابق مسلمانوں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ اس لیے علماء اور دانشوروں کو چاہیے کہ وہ یہودیوں کے عزائم سے آگاہی حاصل کریں اور ان کے بارے میں ملتِ اسلامیہ کی رائے عامہ کو بیدار کرنے کی جدوجہد کریں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کو اسلام سے تکلیف یہ ہے کہ اسلام ایک زندہ اور توانا قوت ہے، جو اپنے ابدی اور دائمی اصولوں کے باعث آج بھی دنیا کو عدل و انصاف فراہم کرنے اور نسلِ انسانی کی قیادت کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ مغربی دنیا کا فلسفہ اور انسانوں کے لیے بنائے ہوئے تمام نظریات اور نظام ناکام ہو چکے ہیں اور ان کے پاس دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے کچھ بھی باقی نہیں رہا۔

انہوں نے کہا کہ مغرب اس خوف کا شکار ہے کہ دنیا میں کسی جگہ بھی اسلامی اصولوں کے مطابق صحیح اسلامی ریاست قائم ہو گئی تو اس وقت مختلف ممالک میں رائج تمام نظام ریت کی طرح بکھر جائیں گے اور اسلام کی بالادستی اور نفاذ کو روکنا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں رہے گا اور اس خوف کے باعث امریکہ عالمِ اسلام کی دینی تحریکات کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔ اس لیے اس کا جواب صرف امریکہ کو برا بھلا کہتے رہنا نہیں ہے، بلکہ اصل جواب یہ ہے کہ ہم اپنی تمام تر صلاحیتیں اسلام کے نفاذ اور ایک اسلامی ریاست اور معاشرہ کے قیام کے لیے وقف کر دیں اور تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قرآن و سنت کی بالادستی اور اسلام کے نفاذ کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں۔

انہوں نے کہا کہ مغرب نظریاتی محاذ پر شکست کھا چکا ہے اور اسے اس بات کا پورا ادراک ہے کہ اس کا فلسفہ اور نظریہ اسلام کے مقابلہ کی سکت نہیں رکھتا، اس لیے وہ ہماری ثقافت پر حملہ آور ہے اور اس بات کی جنگ لڑ رہا ہے کہ مسلمان اپنی تہذیبی شناخت سے محروم ہو جائیں، لیکن جب تک مسلمان میں قرآن کریم اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت موجود ہے اور اپنے عقائد کے ساتھ اس کی وابستگی پختہ ہے اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اصل ضرورت اتحاد کی ہے اور باہمی اختلافات پر قابو پاتے ہوئے اسلام کا پیغام دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ہے۔ اگر ہم اس میں کامیاب ہو جائیں تو پوری دنیا اسلام قبول کرنے کے لیے تیار بیٹھی ہے، لیکن اس کے لیے پہلے خود صحیح مسلمان بننا ہو گا اور اسلامی زندگی کا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔

راقم الحروف نے اپنے تفصیلی خطاب میں پاکستان کے قومی اور دینی معاملات میں امریکہ کی مسلسل مداخلت کا ذکر کیا اور کہا کہ

  • ہمارے معاملات میں امریکہ کی مداخلت اس وقت سامنے آئی تھی جب پاکستان کے پہلے قادیانی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان کو وزارت سے الگ کرنے کا عوامی مطالبہ تحریک کی صورت اختیار کر گیا تو اس وقت کے وزیر اعظم کی طرف سے کہا گیا کہ اگر ظفر اللہ خان کو وزارت خارجہ سے الگ کیا گیا تو امریکہ ہم سے ناراض ہو جائے گا۔
  • امریکہ نے ۱۹۸۷ء میں پاکستان کی امداد کی بحالی کی شرائط میں ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کے ساتھ قادیانیوں کو مسلمان تسلیم کرنے اور اسلامی قوانین نافذ نہ کرنے کی شرائط بھی شامل کیں اور اب تک وہ ان شرائط پر مسلسل زور دے رہا ہے۔
  • ۱۹۹۰ء میں پاکستان میں شریعت بل کی منظوری کے موقع پر بھی امریکی سفارتکار پوری طرح متحرک رہے، اور شریعت بل میں قرآن و سنت کی بالادستی سے سیاسی نظام کو مستثنیٰ قرار دیے جانے کے بعد امریکی سفیر نے کھلم کھلا اس پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس پر مبارکباد کا پیغام دے کر اسلامی نظام کے عامی کارکنوں کے زخموں پر نمک چھڑکا۔
  • امریکہ نے ۱۹۹۱ء میں قومی سلامتی کونسل کے منظور کردہ پروگرام میں مسلمانوں کی دینی تحریکات کو آپس میں لڑانے، اسلامی نظام کے نفاذ کی خواہشمند مسلم حکومتوں کا خاتمہ کرنے اور مسلمانوں کی ثقافت کو برباد کرنے کے فیصلے کیے اور ان پر مسلسل عمل ہو رہا ہے۔
  • جبکہ پاکستان میں توہینِ رسالتؐ کے مقدمہ کے ملزموں کی رہائی کے لیے خود امریکہ کی نائب وزیر خارجہ رابن رافیل نے اسلام آباد میں بیٹھ کر منصوبہ بندی کی۔
  • اس کے بعد موجودہ امریکی سفیر نے پاکستان آنے سے قبل یہ اعلان کیا کہ اسلام کا کردار ہمارے لیے باعثِ تشویش ہے۔
  • اور امریکی وزارتِ خارجہ نے سالِ رواں کی رپورٹ میں توہینِ رسالتؐ کی سزا کا قانون ختم کرنے اور قادیانیوں کو مسلمان تسلیم کرنے کا باضابطہ مطالبہ کیا۔
  • امریکہ ہماری سیاست اور معیشت پر مکمل تسلط حاصل کرنے کے بعد اب ہمارے مذہب اور عقائد کو بھی اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنا چاہتا ہے، اس لیے یہ ضروری ہے کہ دینی حلقے متحد ہو کر اس کا مقابلہ کریں اور اسلامی اقدار کے تحفظ اور قومی خودمختاری کی بحالی کے لیے انقلابی کردار ادا کریں۔

پاکستان شریعت کونسل کے سربراہ مولانا فداء الرحمٰن درخواستی نے اعلان کیا کہ شریعت کونسل پاکستان کے قومی اور دینی معاملات میں امریکی دباؤ کا مقابلہ کرنے اور شریعتِ اسلامیہ کے عملی نفاذ کے لیے رائے عامہ کو منظم کرنے کی جدوجہد کرے گی اور اس مقصد کے لیے تمام مکاتب فکر اور طبقات کے اہل فکر و دانش سے رابطہ قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا ہمارا اصل مسئلہ شریعت کا نفاذ اور قرآن و سنت کی بالادستی کا اہتمام ہے۔ یہ مسئلہ اگر طے ہو گیا تو باقی تمام مسائل خودبخود حل ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے ملک بھر میں سیمینار منعقد کیے جائیں گے اور علماء، وکلاء اور اساتذہ کو نفاذِ اسلام کے لیے جدوجہد کے لیے تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ انتخابی اور گروہی سیاست سے الگ رہتے ہوئے تحریکی انداز میں کام کریں گے اور رائے عامہ کی قوت کے ساتھ اسلامی انقلاب کی راہ ہموار کریں گے۔

آل جموں و کشمیر جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما مولانا قاری محمد نذیر فاروقی نے کہا کہ امریکہ مسئلہ کشمیر کو اپنی مرضی اور مفاد کے مطابق حل کرنے کے لیے ثالثی کا کردار پیش کر رہا ہے لیکن کشمیری عوام ایسے کسی دھوکے میں نہیں آئیں گے اور لاکھوں کشمیری شہداء کے خون کو امریکی خواہشات پر قربان نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ کو پہچانتے ہیں اور گزشتہ پچاس برس میں اس نے کشمیری عوام اور پاکستان کے ساتھ جو کچھ کیا ہے اسے بھی جانتے ہیں، اس لیے اب ہم امریکہ پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

پنجاب کے سابق وزیر مولانا قاری سعید الرحمٰن نے کہا کہ جذبۂ جہاد کے بغیر ہم اپنی جدوجہد میں کامیاب نہیں ہو سکتے، اس لیے ضروری ہے کہ جہاد کا جذبہ بیدار کرنے کی جدوجہد کی جائے۔

مولانا حامد علی رحمانی نے کہا کہ جس طرح روس مجاہدین سے ٹکرا کر بکھر گیا ہے، امریکہ بھی اسی طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گا اور وہ زیادہ دیر تک اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکے گا۔

   
2016ء سے
Flag Counter