پنجاب میں مسجد مکتب اسکیم کا مکمل خاتمہ

   
فروری ۲۰۱۱ء

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۹ جنوری ۲۰۱۱ء کی خبر کے مطابق پنجاب اسمبلی کے اسپیکر رانا محمد اقبال خان نے مسجد مکتب اسکیم کی بندش پر وزیر تعلیم مجتبیٰ شجاع الرحمن کو ہدایت کی ہے کہ اس پر نظر ثانی کی جائے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ ارکان اسمبلی وارث کلو، سعید اکبر نوانی، علی اصغر منڈا اور دیگر ارکان نے اسمبلی میں اس بات پر احتجاج کیا کہ مسجد مکتب سکیم کو صوبائی محکمہ تعلیم نے بند کر دیا ہے جو غریب لوگوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ اس پر صوبائی وزیر تعلیم نے ایوان کو بتایا کہ بچوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے یہ مکاتب بند کیے گئے ہیں اور بچوں کو دوسرے سکولوں میں تعلیم دی جائے گی۔ مگر اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اس جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم کو مسجد مکتب اسکیم کی بندش کے فیصلہ پر نظر ثانی کی ہدایت کی ہے۔

مسجد مکتب اسکیم کا آغاز جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں اس غرض سے کیا گیا تھا کہ پرائمری سطح کی تعلیم کا مساجد میں انتظام کرنے سے نہ صرف اسکولوں کے لیے بلڈنگ کا مسئلہ حل ہو جائے گا بلکہ بچے قرآن کریم اور نماز وغیرہ کی تعلیم بھی حاصل کر سکیں گے۔ ہمارے مرحوم دوست ڈاکٹر محمود احمد غازی ؒ نے ایک موقع پر بتایا کہ ورلڈ بینک اور دیگر عالمی اداروں نے یہ کہہ کر اس کی مخالفت کی کہ اس سے تو بہت زیادہ بچے اپنی تعلیم کے لیے کئی سال مسجد کے ماحول میں گزار کر بنیاد پرست بن جائیں گے۔ چنانچہ عالمی اداروں کے دباؤ پر یہ اسکیم ختم کر دی گئی صرف چند مقامات پر اس کا سلسلہ جاری رکھا گیا جنہیں اب ختم کر دیا گیا ہے۔

ہمارے ہاں صدیوں سے مسجد میں ابتدائی تعلیم کا نظام رائج رہا ہے جس سے تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کی دینی اور اخلاقی تربیت کا مقصد بھی پورا ہو جاتا تھا مگر عالمی استعمار کو یہ گوارا نہیں ہے کہ مسلمان بچے بچپن کے چند سال ہی مسجد کے ماحول میں گزار لیں، اس لیے جتنا کچھ تھوڑا سسٹم موجود تھا اسے بھی ختم کر دیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter