حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ

   
۱۷ ستمبر ۲۰۱۰ء

مولانا محمد یوسف خانؒ آزاد کشمیر کے نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے بڑے علماء میں سے تھے جنہوں نے تعلیم، سیاست، تحریک آزادیٔ کشمیر اور نفاذِ اسلام کی جدوجہد کے محاذوں پر نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک بھرپور خدمات سرانجام دیں اور گزشتہ روز (۱۳ ستمبر) کئی برس صاحب فراش رہنے کے بعد کم و بیش ۹۰ برس کی عمر میں پلندری آزاد کشمیر میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

مولانا محمد یوسف خانؒ کا تعلق ضلع پونچھ کے علاقہ منگ سے تھا جو اب آزاد کشمیر میں ہے۔ دینی تعلیم سے فراغت کے بعد پلندری ان کی زندگی بھر کی تگ و تاز کا مرکز رہا۔ وہ دارالعلوم دیوبند کے ممتاز فضلاء اور شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کے تلامذہ میں سے تھے۔ انہوں نے ۱۹۴۱ء / ۱۹۴۲ء کے دوران دارالعلوم دیوبند میں دورۂ حدیث کر کے فراغت حاصل کی، ان کے ساتھ دورۂ حدیث کے شرکاء میں میرے والد گرامی مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ، عم مکرم مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی، مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ، مولانا محمد اسحاق قادریؒ باغبانپورہ لاہور، مفتی عبد الحمید قاسمیؒ، مولانا مفتی عبد المتینؒ، مولانا عبد العزیز تھوراڑویؒ، مولانا قاری محمد امینؒ راولپنڈی اور مولانا حافظ محمد رفیق آف ٹوبہ ٹیک سنگھ جیسے بڑے علمائے کرام کے نام آتے ہیں جو سب اپنی اپنی جگہ علمی دنیا میں ممتاز مقام رکھتے تھے۔

سندِ فراغت سے بہرہ ور ہونے کے بعد مولانا محمد یوسف خانؒ جب اپنے علاقے میں واپس آئے تو ریاست جموں و کشمیر پر ڈوگرہ حکمرانوں کا راج تھا اور مسلمان مختلف حوالوں سے ان حکمرانوں سے گلوخلاصی کے لیے مصروف جدوجہد تھے۔ تازہ علم اور گرم خون نے مولانا محمد یوسف خانؒ کو جلد ہی پونچھ کی جیل میں پہنچا دیا جو ان کی سیاسی و تحریکی زندگی کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا، اس کے بعد وہ سیاسی، تحریکی، سماجی اور دعوتی محاذوں پر آگے بڑھتے چلے گئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ریاست جموں و کشمیر کو ڈوگرہ حکمرانوں سے آزادی دلانے اور اسے پاکستان کے ساتھ شریک کرنے کے لیے جن علمائے کرام نے جہاد کا پرچم بلند کیا اور عملی طور پر جہاد میں شریک ہوئے ان میں مولانا محمد یوسف خانؒ اور ان کے رفقاء مولانا عبد العزیز تھوراڑویؒ، مولانا مفتی امیر عالمؒ، مولانا مفتی عبد الحمید قاسمیؒ، مولانا امیر الزمان خانؒ، مولانا نذیر حسین شاہؒ اور مولانا مفتی عبد المتینؒ سرفہرست تھے۔ آزاد جموں و کشمیر کی ریاست قائم کرنے اور اسے مستحکم کرنے میں سردار محمد ابراہیم خان مرحوم اور میر واعظ مولانا سید محمد یوسف شاہ مرحوم کو مولانا محمد یوسف خانؒ کا بھرپور تعاون حاصل رہا جبکہ ریاست جموں و کشمیر کی آزاد حکومت قائم ہونے کے بعد مولانا محمد یوسف خانؒ اور ان کے رفقاء نے خود کو ریاست میں اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد کے لیے وقف کر دیا۔

یہ آزاد جموں و کشمیر کے ان علمائے کرام کے خلوص و محنت کا ثمر ہے کہ جہاں قلات، بہاولپور اور سوات جیسی ریاستوں میں پاکستان کے ساتھ الحاق کے بعد پہلے سے نافذ شدہ شرعی قوانین بھی منسوخ کر دیے گئے وہاں اس نوزائیدہ ریاست میں شرعی قوانین کی طرف عملی پیش رفت ہوئی اور آج ضلع و تحصیل کی سطح پر جج صاحبان کے ساتھ علمائے کرام قاضی کے طور پر بیٹھ کر ان کے فیصلوں میں شریک ہوتے ہیں اور بہت سے مقدمات کے فیصلے قرآن و سنت اور شریعت اسلامیہ کے احکام کی روشنی میں کیے جاتے ہیں۔ شرعی قوانین کے نفاذ اور عدالتی فیصلوں کے نظام میں علمائے کرام کی شمولیت کا یہ انقلابی قدم سردار محمد عبد القیوم خان کے دور حکومت میں اٹھایا گیا۔ ریاست کی عدالتی اور انتظامی مشینری کو اس اقدام تک لے جانے میں کلیدی کردار سردار محمد عبد القیوم خان کا ہے لیکن اس کے لیے عوامی بیداری کا ماحول پیدا کرنے اور اس نظام کو علمی اساس فراہم کرنے کی جدوجہد میں مولانا محمد یوسف خانؒ اور ان کے رفقاء کے نام سرفہرست ہیں۔ جب سردار محمد عبد القیوم خان نے شریعت اسلامیہ کے بعض قوانین ریاست میں عملاً نافذ کرنے اور ان کے عدالتی فیصلوں کے نظام میں علمائے کرام کو شریک کرنے کا اعلان کیا تو ریاست کے انتظامی اور عدالتی ماحول میں ہلچل مچ گئی۔ اس پر باہمی اعتماد کا ماحول پیدا کرنے کے لیے انتظامیہ اور عدلیہ کے سرکردہ حضرات اور علمائے کرام کے ایک اعلیٰ سطحی مشترکہ اجلاس کا اہتمام کیا گیا جس میں آزادکشمیر کے چیف جسٹس صاحب نے اپنے تحفظات اور اعتراضات پر تفصیلی خطاب کیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلامی قوانین آج کے دور میں قابل عمل اور آج کی دنیا کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔ اس کے جواب میں اس ہاؤس میں مولانا محمد یوسف خانؒ نے جو مفصل خطاب کیا اس کی تاثیر کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ اس کے بعد خود جسٹس صاحب موصوف نے کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ مولانا محمد یوسف خانؒ کے مدلل خطاب سے نہ صرف ان کے بیشتر سوالات کا تسلی بخش جواب مل گیا ہے بلکہ مولانا موصوف نے ان کے ذہن کا رخ بھی بدل دیا ہے۔ ان دنوں سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جناب جسٹس حمود الرحمان مرحوم بھی اسی سلسلہ میں مشاورت اور رہنمائی کے لیے آزادکشمیر تشریف لے گئے تھے، انہوں نے بھی مولانا محمد یوسف خانؒ کے ساتھ ملاقات اور مذاکرات کے بعد فرمایا تھا کہ عقیدے کے طور پر تو اسلامی قوانین کی افادیت کے وہ پہلے سے قائل تھے مگر شعور و استدلال کے دائرے میں انہیں اسلامی قوانین کی افادیت و ضرورت سے مولانا محمد یوسف خانؒ نے قائل کیا۔

علمی طور پر مولانا محمد یوسف خانؒ بلند پایہ محدث اور فقیہ تھے، بھرپور سیاسی و سماجی شعور سے بہرہ ور تھے، حالات کے اتار چڑھاؤ پر ان کی گہری نظر رہتی تھی، دور جدید کے تقاضوں اور اسلوب کو بخوبی سمجھتے تھے، آج کی زبان میں گفتگو کی صلاحیت رکھتے تھے، ہر طبقہ اور مکتب فکر کے لوگوں کے ساتھ ان کا رابطہ رہتا تھا، مزاج میں ملنساری اور رواداری کا جوہر رکھتے تھے، اس لیے ان کی گفتگو میں استدلال کی قوت اور تفہیم کی تاثیر کے ساتھ ساتھ ہمدردی اور خیرخواہی کا رنگ بھی پایا جاتا تھا اور ان سے کسی بھی مسئلہ پر بات کرنے والا شخص کسی بھی سطح کا ہو، متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا تھا۔ میں انہیں آزاد کشمیر کا ’’مفتی محمود‘‘ کہا کرتا تھا اور کبھی کبھی دل لگی میں ان سے کہتا تھا کہ آپ کشمیری کیوں ہیں؟ یعنی آپ کا دائرہ کار کشمیر تک محدود کیوں ہے تو وہ جواباً اسی لہجے میں فرماتے کہ تم کشمیری کیوں نہیں ہو؟ مطلب یہ ہوتا تھا کہ میں ان کی کشمیری ٹیم کا حصہ کیوں نہیں بن سکتا؟

پاکستان قومی اتحاد کے دور کی بات ہے، مولانا محمد یوسف خانؒ جمعیۃ علمائے آزاد کشمیر کے امیر تھے اور آزاد کشمیر میں انتخابات کے حوالے سے آزاد کشمیر کی جمعیۃ سردار محمد عبد القیوم خان سے کچھ معاملات طے کرنا چاہتی تھی۔ سردار صاحب قومی اتحاد کی مرکزی قیادت کا حصہ تھے۔ مولانا مفتی محمودؒ نے میرے ذمے لگایا کہ میں اس سلسلہ میں سردار صاحب سے بات کروں۔ میں ان سے راولپنڈی کے کاکاجی ہاؤس میں ملا تو سردار صاحب نے کہا کہ میں مولانا محمد یوسف خانؒ کو جانتا ہوں، ان کو عالم دین مانتا ہوں، ان کا احترام کرتا ہوں، ان کی علمیت اور خدمات کا معترف ہوں اور ان کے لیے جس شعبے میں جس منصب کا آپ تقاضا کریں اس کے لیے حاضر ہوں، مگر باقی جمعیۃ کے بارے میں کوئی وعدہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔ اس کے بعد مولانا محمد یوسف خانؒ آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ کر آزادکشمیر اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور سالہا سال تک اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن بھی رہے۔

مولانا مرحوم کچھ عرصہ سے صاحبِ فراش تھے اور فالج کے حملے کے بعد زیادہ تگ و دو کی پوزیشن میں نہیں تھے لیکن اپنے قائم کردہ دارالعلوم تعلیم القرآن کے ساتھ ان کی گہری محبت کا یہ عالم تھا کہ باقاعدہ دارالعلوم میں آتے تھے اور دن کا کچھ حصہ ضرور اس ادارہ میں گزارتے تھے۔ بڑھاپے، ضعف اور علالت کے باوجود اس سال رمضان المبارک کے تمام روزے رکھے اور تراویح کی نماز پورا مہینہ مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھی۔ عید الفطر کی رات میں نے فون پر ان کے فرزند مولانا سعید یوسف خان سے ان کی خیریت دریافت کی اور دعا کی درخواست کرنے کے لیے کہا مگر دو روز بعد وہ ہم سب کو داغِ مفارقت دے کر عالم جاودانی کو سدھار گئے۔ وفات سے قبل انہوں نے مغرب کی نماز گھر میں ہی باجماعت ادا کی اور نماز کے بعد حسب معمول اپنے وظائف میں مصروف ہوگئے کہ وہ سلسلہ نقشبندیہ کے شیخ طریقت بھی تھے۔ ذکرِ خداوندی کے دوران ہی انہیں سینے میں درد محسوس ہوا جس کا اظہار انہوں نے گھر والوں سے کیا مگر ذکر و تسبیح میں مصروف رہے۔ چند لمحوں بعد تسبیح ہاتھ سے گر گئی، انہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے معائنہ کر کے بتایا کہ حضرت شیخ اب اس دنیا میں نہیں رہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

مولانا محمد یوسف خانؒ کی خدمات کا دائرہ بہت متنوع اور وسیع ہے جن کے تفصیلی ذکر کا یہ کالم متحمل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter