حسن محمود عودہ اور قادیانی فلسفۂ حساب

   
تاریخ : 
اگست ۱۹۹۹ء

گزشتہ ہفتے برطانیہ کے شہر سلاؤ میں مولانا منظور احمد چنیوٹی کے ہمراہ الاستاذ حسن عودہ سے ملاقات ہوئی اور مختلف امور پر باہم گفت و شنید کا موقع ملا۔ حسن عودہ کا تعلق فلسطین کے مشہور شہر حیفہ سے ہے اور قادیانی خاندان میں جنم لینے اور پرورش پانے کے باعث وہ ایک دور میں راسخ العقیدہ قادیانی شمار ہوتے تھے۔ مگر ہدایت ان کے مقدر میں تھی اس لیے دس سال قبل مرزا طاہر احمد کی وہ دعوت مباہلہ جو انہوں نے دنیا بھر کے مسلم علماء، دانشوروں اور رہنماؤں کو دی تھی حسن عودہ کے لیے ہدایت کا ذریعہ بن گئی اور اکیس جولائی ۱۹۸۹ء کو انہوں نے اپنی اہلیہ اور بچوں سمیت قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا اور اس کے بعد سے وہ مسلسل ان عربوں میں قادیانیت کے حقیقی تعارف اور پہچان کو اجاگر کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں جو کسی نہ کسی طور پر قادیانی پراپیگنڈہ کا شکار ہو چکے ہیں۔

حسن عودہ کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان میں سب سے پہلے ان کے نانا نے ۱۹۲۸ء میں قادیانیت قبول کی تھی جس کے بعد خاندان کے دیگر افراد بھی قادیانی ہوتے گئے حتیٰ کہ یہ خاندان عرب دنیا بالخصوص فلسطین میں قادیانیت کے فروغ کا سب سے بڑا علمبردار بن گیا۔ اس خاندان میں حسن عودہ نے ۱۹۵۵ء میں جنم لیا۔ ثانوی درجہ تک فلسطین میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے سویڈن گئے تو وہاں ۱۹۷۶ء اور ۱۹۷۸ء میں اس وقت کے قادیانی چیف مرزا ناصر احمد سے ملاقات ہوئی اور اس قدر متاثر ہوئے کہ ان کا قرب حاصل کرنے کے لیے سویڈن چھوڑ کر قادیان چلے گئے اور قادیانیت کی باقاعدہ تعلیم حاصل کرنا شروع کی تاکہ خلیفہ کے قریب ترین لوگوں میں جگہ پا سکیں۔

تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ حسن عودہ کی شادی بھی قادیان میں ہوئی اور ۱۹۸۵ء میں قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے انہیں مبشر کا منصب عطا کر کے لندن میں قائم ہونے والے نئے مرکز میں بلا لیا، جہاں حسن عودہ کو عربی شعبہ کا ڈائریکٹر مقرر کر کے مرزا طاہر احمد کی تقاریر کا عربی میں ترجمہ کرنے اور عربی ماہنامہ ’’التقویٰ‘‘ کی ادارت کی ذمہ داری ان کے سپرد کر دی گئی۔

حسن عودہ کا کہنا ہے کہ جب تک وہ خالص قادیانی ماحول میں تھے انتہائی خوش عقیدہ قادیانی تھے اور کبھی ان کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آئی تھی کہ یہ مذہب بھی غلط ہو سکتا ہے، اس لیے کہ انہوں نے مسلم علماء کی باتیں نہیں سنی تھیں اور نہ ہی ان کی تحریریں پڑھنے کا موقع ملا تھا۔ لیکن جب لندن کی کھلی فضا میں مخالفانہ باتیں بھی کچھ کچھ کان میں پڑنے لگیں تو کسی کسی وقت الجھن ہونے لگتی تھی اور اس الجھن میں اس وقت اضافہ ہو جاتا تھا جب انہیں ذہن میں آنے والے کسی سوال یا اشکال کا قادیانی خلیفہ یا جماعت کی طرف سے کوئی تسلی بخش جواب نہ ملتا۔ اس طرح ان کے شکوک و شبہات میں اضافہ ہوتا گیا، حتیٰ کہ مرزا طاہر احمد نے ۱۹۸۸ء میں دنیا بھر کے مسلمان علماء اور رہنماؤں کو مباہلہ کی دعوت دے دی، مگر جب بہت سے سرکردہ علماء کرام نے دعوت قبول کر لی تو مرزا طاہر احمد نے مقابلہ کے لیے سامنے آنے کی بجائے یہ موقف اختیار کر لیا کہ مباہلہ کے لیے اپنی جگہ بیٹھ کر دعا کر لینا ہی کافی ہے اور میدان میں آمنے سامنے ہونا ضروری نہیں ہے۔

حسن عودہ نے بتایا کہ اس دوران انہوں نے قادیانی عقائد کے بارے میں مسلم علماء کی تحریرات کا مطالعہ شروع کیا اور صورت حال کا ازسرنو جائزہ لیا تو یہ بات واضح ہو گئی کہ قادیانیت محض ایک مکر و فریب کا نام ہے اور جب انہوں نے اس سلسلہ میں اپنی اہلیہ سے بات کی اسے بھی ہم خیال پایا۔ چنانچہ انہوں نے سترہ جولائی ۱۹۸۹ء کو قادیانی مرکز میں اپنی رہائش ترک کر کے دوسری جگہ سکونت اختیار کر لی اور اکیس جولائی کو قریبی مسجد میں جمعہ کے روز مسلمانوں کے سامنے قبولِ اسلام کا اعلان کر دیا۔

حسن عودہ اس کے بعد سے سلاؤ میں مقیم ہیں۔ عربی میں ’’التقویٰ‘‘ کے نام سے ایک ماہنامہ نیوز لیٹر شائع کرتے ہیں جس میں قادیانی عقائد کی تردید اور قادیانیت کے حقیقی تعاقب کے ساتھ اسلامی عقائد و احکام کی وضاحت ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متعدد فلسطینی اور عرب نوجوان ان کی کوشش سے قادیانیت چھوڑ چکے ہیں اور قادیانیت کے دام ہمرنگ زمیں کا شکار ہونے والے غریب نوجوانوں اور خاندانوں میں ان کی جدوجہد مسلسل جاری ہے۔

مولانا منظور احمد چنیوٹی نے حسن عودہ کو ربوہ کے نام میں تبدیلی اور اس سلسلہ میں اپنی مساعی سے آگاہ کیا تو انہوں نے مسرت کا اظہار کیا۔ مولانا چنیوٹی نے انہیں چناب نگر کا (دورہ کرنے) کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی اور کہا کہ کسی پروگرام میں شرکت کے لیے وہ چناب نگر اور چنیوٹ آئیں گے۔ اس ملاقات میں مرزا طاہر احمد کے ان ۔۔۔۔۔۔ کا تذکرہ بھی ہوا جو وہ ہر سال سالانہ اجتماع کے موقع پر اپنے عقیدت مندوں کو نفسیاتی طور پر تسلی دینے کیلئے کرتے ہیں۔ ۔۔۔۔ میں لاکھوں افراد کی شمولیت کا اعلان کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس بار مرزا طاہر احمد نے سالانہ اجتماع میں ۔۔۔۔۔ افراد کی شمولیت کا اعلان کیا ہے حالانکہ جس مقام پر یہ اجتماع کیا ہے وہ میرا دیکھا بھالا ہے، وہاں چھ سات ۔۔۔۔۔ افراد سما ہی نہیں سکتے۔ مولانا چنیوٹی نے اس کا اظہار کیا کہ اجتماعات کے بارے میں عام طور پر مبالغہ آرائی کی جاتی ہیں۔ دو ہزار کا اجتماع ہو تو اخبارات میں اسے ۔۔۔۔ لکھا جاتا ہے۔ قادیانی مذہب کی بنیاد ہی چونکہ مبالغہ آرائی پر ہے اس لیے ان کے مبالغہ میں تناسب کو دوگنا بڑھا دیا جائے تو اصل عدد کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

مرزا طاہر احمد کے اسی نوعیت کے ایک دعوے کا ذکر کرتے ہوئے راقم الحروف نے ایک عام جلسے میں کہا تھا کہ دراصل ۔۔۔۔۔ میں حساب کتاب کا فلسفہ بھی الگ ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک ایسا اصول پیش کیا ہے جسے سامنے رکھیں تو جماعت کے دعووں، اور مرزا طاہر احمد کے ۔۔۔۔۔۔ اعداد و شمار کی حقانیت کے اظہار کے لیے ’’براہین احمدیہ‘‘ کے نام سے کتاب لکھنا شروع کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں اسلام کے خلاف کسی بھی مذہب کے لوگوں کی طرف سے کیے جانے والے تمام اعتراضات کا معقول جواب دیا جائے گا اور یہ کتاب پچاس جلدوں میں مکمل ہوگی۔ اس کتاب کی اشاعت میں تعاون کے لیے اشتہارات کے ذریعہ لوگوں سے چندہ اور کتاب کی پیشگی قیمت بھی مانگی گئی اور بہت سے عقیدت مندوں نے پچاس جلدوں کی پیشگی قیمت بھجوا دی، لیکن چار جلدوں کی اشاعت کے بعد مرزا صاحب نے خاموشی اختیار کر لی۔ کافی عرصہ کے بعد جب لوگوں کا تقاضہ بڑھا تو پانچویں جلد شائع کی اور اس میں یہ لکھا کہ پچاس جلدیں لکھنے کا اعلان کیا تھا جن میں سے پانچویں جلد آپ کے ہاتھوں میں ہے اور چونکہ پچاس اور پانچ میں صرف ایک صفر کا ہی فرق ہوتا ہے اور صفر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، اس لیے ان پانچ جلدوں کو ہی پچاس تصور کیا جائے، اس کے بعد اس کتاب کی اور کوئی جلد شائع نہیں ہوگی۔

براہین احمدیہ کی یہ پانچ جلدیں اس کے بعد سے مسلسل شائع ہو رہی ہیں اور پانچویں جلد میں یہ اعلان آج بھی موجود ہے جسے کوئی بھی صاحب مطالعہ کر سکتے ہیں۔ اس لیے قادیانی علم الحساب کی رو سے صفر کی کوئی حیثیت نہیں ہے، لہٰذا مرزا طاہر احمد اپنی جماعت کے اجتماعات اور قادیانیت میں لوگوں کی شمولیت کے بارے میں جو اعداد و شمار جاری کریں ان میں سے صفروں کو منہا کر لیا جائے اور جو باقی بچیں انہیں اصل سمجھا جائے۔

حسن عودہ سے اس سے قبل بھی متعدد ملاقاتیں ہوئی ہیں، ان کا عزم و حوصلہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے اور ان کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اسی عزم و استقامت کے ساتھ عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ کے محاذ پر تادیر سرگرم عمل رکھیں، آمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter