مسلمان ریڈ انڈین نہیں ہیں

   
تاریخ : 
۲۱ مارچ ۲۰۰۲ء

امریکہ اور عالم اسلام کے بارے میں ’’گیلپ انٹرنیشنل‘‘ کے ایک حالیہ سروے کی رپورٹ ان دنوں عام طور پر موضوع بحث ہے۔ سی این این کے مطابق اس سروے میں ایک طرف امریکی عوام سے یہ پوچھا گیا ہے کہ عالم اسلام میں امریکہ کے خلاف جذبات کیوں پائے جاتے ہیں؟ اور ان حالات میں مسلمان ممالک کو کیا کرنا چاہیے؟ اور دوسری طرف پاکستان، ایران، انڈونیشیا، ترکی، لبنان، مراکش، کویت اور سعودی عرب کے عوام سے امریکہ کے بارے میں سوالات کیے گئے ہیں۔

سی این این کے نشریہ کے مطابق امریکہ کے جن لوگوں سے سوالات کیے گئے ان میں سے بیاسی فیصد کا کہنا یہ ہے کہ مسلمان امریکہ کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے، جبکہ ان میں سے گیارہ فیصد کے خیال میں مسلمانوں کی یہ مخالفانہ رائے ہمارے برے اعمال کی وجہ سے ہے، اور اٹھتر فیصد یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو ہمارے بارے میں صحیح معلومات نہیں پہنچتیں۔ اسی طرح ان امریکی باشندوں کی اڑسٹھ فیصد تعداد نے اس صورتحال کا حل یہ بتایا ہے کہ مسلمانوں کو مغربی اقدار اپنا لینی چاہئیں۔

دوسری طرف مذکورہ مسلم ممالک کے جن باشندوں سے سوالات کیے گئے ان میں سے تریپن فیصد نے امریکہ کی مخالفت اور بائیس فیصد نے حمایت کی ہے۔ اور مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ امریکہ جارحیت پسند اور مسلمانوں کے معاملہ میں متعصب ہے، جس کے لیے اسرائیل اور فلسطین کے حوالہ سے امریکی رویہ کا بطور خاص تذکرہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مسلم ممالک میں امریکہ کی حمایت سب سے زیادہ لبنان میں پائی جاتی ہے جہاں کے اکتالیس فیصد افراد نے امریکہ کی حمایت کی ہے۔ دوسرے نمبر پر ترکی ہے جہاں یہ تناسب چالیس فیصد تک بیان کیا جاتا ہے۔ امریکہ کی حمایت سب سے کم پاکستان میں پائی جاتی ہے جہاں امریکہ کو مذکورہ سروے میں حمایت کے صرف پانچ فیصد ووٹ ملے ہیں۔ جبکہ دوسرے ممالک میں امریکی حمایت کا تناسب یہ ہے کہ کویت اٹھائیس فیصد، انڈونیشیا ستائیس فیصد، مراکش بائیس فیصد، سعودی عرب سولہ فیصد اور ایران چودہ فیصد۔

ہمارے خیال میں اس سروے کے دو پہلو بطور خاص قابل توجہ ہیں:

ایک یہ کہ خود امریکی عوام کے نزدیک بھی یہ کشمکش تہذیب و عقیدہ کی کشمکش ہے، اس لیے انہوں نے حالات کی اصلاح کے لیے مسلم ممالک اور عوام کو مغربی اقدار اپنا لینے کا مشورہ دیا ہے، اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک دنیا بھر کے مسلمان اپنی تہذیب و ثقافت اور اقدار و روایات سے دستبردار ہو کر مغربی تہذیب و اقدار کو اختیار نہیں کر لیتے، اس وقت تک حالات کی اصلاح ممکن نہیں ہے اور موجودہ کشمکش جاری رہے گی۔

امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک کے حکمران تو پہلے ہی متعدد مواقع پر یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ یہ جنگ تہذیب و تمدن کی حفاظت کے لیے لڑ رہے ہیں اور اپنی ثقافت کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اب عوامی سطح پر بھی یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ اس ساری تگ و دو کا اصل مقصد مغربی تہذیب و ثقافت کی بالادستی کو قوت کے زور پر قائم رکھنا اور اس کے مقابل ابھرنے والی کسی بھی تہذیب کو طاقت کے بل پر کچل دینا ہے۔ اس کے بعد بھی اگر ہمارے کچھ دانشور اسے ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف جنگ تصور کر رہے ہیں، اور اسلام کو اس جنگ میں امریکہ کا مخالف فریق سمجھنے کی بجائے اسے امریکہ کے ساتھ کھڑا کرنے یا کم از کم غیر جانبدار ظاہر کرنے کی سعی لاحاصل میں مصروف ہیں تو ان کی دماغی کیفیت پر صرف ہمدردی کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے۔

دوسری بات اس سروے میں قابلِ توجہ یہ ہے کہ پاکستان میں اس سروے کے دوران امریکہ کو صرف پانچ فیصد حمایت ملی ہے۔ اور ہمارے خیال میں وہ بھی اس لیے مل گئی ہے کہ ’’گیلپ انٹرنیشنل‘‘ کے کارکنوں کی رسائی جس دائرہ تک ہو سکتی ہے اس میں اتنی حمایت کا مل جانا خلافِ توقع نہیں ہے، ورنہ اگر وہ اس سے ذرا نیچے کی سطح تک اپنے دائرہ کو وسیع کر لیں تو یہ تناسب اور زیادہ جھکنے لگے گا۔

ہمارے وفاقی وزیر قانون جناب خالد رانجھا صاحب نے گزشتہ دنوں، جب کہ وہ صوبائی وزیر قانون تھے، لاہور کے خانہ فرہنگ ایران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ افغانستان کے خلاف جنگ میں امریکہ سے تعاون کے بارے میں ہماری حکومتی پالیسی عوامی جذبات کے برعکس تھی۔ گیلپ انٹرنیشنل کے مذکورہ سروے نے بھی خالد رانجھا صاحب کے اس اعتراف کی تصدیق کر دی ہے اور یہ بات مزید واضح ہو گئی ہے کہ جنرل پرویز مشرف کی حکومت اپنی امریکہ نواز پالیسی میں عوامی حمایت کے دعوے کے باوجود مولانا فضل الرحمان، مولانا عبد الغفور حیدری، قاضی حسین احمد اور دیگر مذہبی لیڈروں کو گرفتار کرنے پر کیوں مجبور ہوئی اور ان میں سے بعض کو ابھی تک زیر حراست رکھنے پر کیوں مصر ہے؟ سوال یہ ہے کہ مقدمات کی بھر مار کی کیا ضرورت پیش آ گئی تھی؟ اور عوامی سرگرمیوں سے حکومت اس قدر ہراساں کیوں ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے قتلِ عام کے خلاف بھی عوام کو سڑکوں پر آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی؟

گزشتہ جمعہ کو متحدہ مجلس عمل اور پاک افغان دفاع کونسل نے گوجرانوالہ میں بھارتی مسلمانوں کے وحشیانہ قتل عام کے خلاف احتجاجی ریلی نکالنے کا فیصلہ کیا اور اخبارات و اشتہارات کے ذریعے اس کا اعلان کر دیا، مگر عین وقت پر پولیس نے شیرانوالہ باغ کو گھیرے میں لے لیا اور متعلقہ حکام نے کہا کہ سڑک پر ریلی نکالنے کی کسی صورت میں اجازت نہیں دی جائے گی۔ چنانچہ ریلی کے قائدین نے مزاحمت سے گریز کرتے ہوئے شیرانوالہ باغ کے دروازے پر ہی مظاہرین سے خطاب کر کے ریلی کو منتشر کر دیا۔ راقم الحروف نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ اس ریلی کا اہتمام حکومت کو کرنا چاہیے تھا اور اس کی قیادت ناظم فیاض احمد چٹھہ اور ناظمِ شہر بابو جاوید احمد کو کرنی چاہیے تھی، لیکن حکومت خود رائے عامہ کی قیادت کرنے کی بجائے دینی جماعتوں کو بھی اس سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر حکومت کو اپنی پالیسیوں کے حوالے سے عوامی حمایت پر اعتماد ہے تو پھر عوامی سرگرمیوں پر اس قسم کی قدغنوں کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی، اور جبر کی یہ فضا صاف طور پر بتاتی ہے کہ اپنے عوامی حمایت کے دعووں پر خود پرویز حکومت کو بھی یقین نہیں ہے۔ الغرض ’’گیلپ انٹرنیشنل‘‘ کے اس سروے نے اور باتوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام کے جذبات کی بھی ترجمانی کر دی ہے اور بتا دیا ہے کہ پاکستان میں امریکی پالیسیوں کو کس تناسب کے ساتھ پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

جہاں تک امریکی عوام کے اس مشورہ کا تعلق ہے کہ اس بحران کو حل کرنے کے لیے مسلم ممالک اور عوام کو مغربی اقدار اپنا لینی چاہئیں، تو اس سلسلہ میں عرض ہے کہ امریکہ اس فریب سے جس قدر جلد نکل آئے بہتر ہو گا کہ یورپ کے چند ملکوں سے کچھ طالع آزما اور مہم جو اٹھے جنہوں نے براعظم امریکہ پر غاصبانہ قبضہ کر کے وہاں کے اصل باشندوں کو جنگلوں کی طرف دھکیل دیا اور انہیں بے دخل کر کے امریکہ کے مالک بن بیٹھے۔ یہ درست ہے کہ مہم جوئی، طالع آزمائی اور قبضہ گیری موجودہ امریکیوں کی پرانی عادت ہے اور ان کی پوری تاریخ اسی سے عبارت ہے، لیکن یہ بات بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت کے طور پر امریکیوں کو قبول کر لینی چاہیے کہ ’’مسلمان ریڈ انڈین نہیں ہیں‘‘ اور وحشت و بربریت، جبر و تشدد اور دھونس دھاندلی کا کوئی حربہ انہیں اپنے عقیدہ و ثقافت سے دستبردار ہونے پر مجبور نہیں کر سکتا۔

   
2016ء سے
Flag Counter