سالانہ تبلیغی اجتماع ۲۰۰۴ء

   
تاریخ : 
۲۰ نومبر ۲۰۰۴ء

تبلیغی جماعت کا سالانہ عالمی اجتماع ۱۸ نومبر جمعرات سے رائے ونڈ میں شروع ہو گیا ہے۔ پروگرام کے مطابق جمعرات کو شام کے بعد اجتماع کا آغاز ہوا اور اتوار کو صبح دس گیارہ بجے کے لگ بھگ اختتامی دعا کے بعد اجتماع میں تشکیل پانے والی جماعتیں اپنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہو جائیں گی۔ اس دوران بیانات ہوں گے، وعظ و نصیحت ہو گی، دعوت و تبلیغ کی اہمیت بیان کی جائے گی، لوگوں کو اس عمل کے لیے تیار کیا جائے گا، دنیا کے مختلف حصوں کے لیے ان کی تشکیل کی جائے گی، امت مسلمہ کی بہتری اور فلاح و نجات کے لیے دعائیں ہوں گی، بہت سے حضرات اتنے عظیم اجتماع اور نیک لوگوں کے اکٹھ کی برکت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے بچوں اور بچیوں کے اس موقع پر نکاح کریں گے اور دنیا بھر سے آئے ہوئے ہزاروں علماء کرام، مبلغین اور صالحین کی باہمی ملاقاتیں اور رابطے ہوں گے۔ اس اجتماع میں دنیا کے مختلف ممالک سے دعوت و تبلیغ سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد شریک ہوتے ہیں اور پاکستان کے طول و عرض سے لاکھوں مسلمان قافلوں کی شکل میں شرکت کرتے ہیں۔ رائے ونڈ سے باہر کھلے میدان میں خیموں کی میلوں تک پھیلی ہوئی بستیاں منیٰ کے میدان کا منظر پیش کرتی ہیں اور شرکاء کی اس قدر کثیر تعداد دیکھ کر اسے عام طور پر حج بیت اللہ کے بعد دنیا میں مسلمانوں کا سب سے بڑا سالانہ اجتماع کہہ دیا جاتا ہے۔

دعوت و تبلیغ کے اس عمل کا آغاز آج سے پون صدی قبل دہلی کے ایک بزرگ عالم دین حضرت مولانا محمد الیاس رحمہ اللہ تعالیٰ نے کیا تھا۔ وہ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے تلامذہ میں سے تھے اور امت کی اصلاح و ترقی کے لیے دل دردمند رکھتے تھے، دین سے عام مسلمانوں کی عملی لاتعلقی اور دینی احکام اور تقاضوں سے ان کی بے خبری پر ان کا دل کڑھتا تھا اور وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اگر عام مسلمان دین کی بنیادی باتوں سے واقف ہو جائے اور اس کے احکام پر عمل کرنے لگ جائے تو امت مسلمہ کی زبوں حالی کا علاج آج کے دور میں بھی ممکن ہے اور مسلمانوں کی بہتری، نجات اور ترقی کا راستہ آج بھی صرف یہ ہے کہ وہ اپنے دین کی طرف واپس پلٹیں اور اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام سے آگاہی حاصل کر کے ان پر عمل پیرا ہو جائیں۔ اسی صورت میں وہ موجودہ ادبار اور زوال سے نجات حاصل کر سکتے ہیں اور آخرت کی نجات کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی اپنا کھویا ہوا مقام بحال کر سکتے ہیں۔ عام مسلمانوں کی یہ حالت دیکھ کر ان کا دل کڑھتا تھا کہ بہت سے مسلمان نماز روزہ تو کیا، کلمہ طیبہ سے بھی واقف نہیں ہیں، اس کو صحیح طور پر زبان سے ادا کرنا بھی ان کے بس میں نہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے خود کو اس کام کے لیے وقف کر دیا کہ عام مسلمانوں کو دین کی بنیادی باتوں سے واقف کرانے اور دینی فرائض و واجبات کی ادائیگی کی طرف واپس لانے کی جدوجہد کریں گے۔

انہوں نے اس کا آغاز میوات کے علاقے سے کیا، اس کے بنیادی نصاب اور اصولوں کا تعین کیا اور چند مخلص ساتھیوں کے ہمراہ اس راہ پر چل نکلے:

  • انہوں نے ایک اصول یہ طے کیا کہ دین کی بنیادی باتوں کی تعلیم اور پھر اس کی عملی تربیت کاروبار اور گھر کے جھمیلوں کے ساتھ نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے ایک مسلمان کا خود کو چند روز کے لیے فارغ کرنا اور گھر سے باہر نکلنا ضروری ہے۔ اس کے لیے تین دن سے لے کر ایک سال تک کے مختلف مراحل طے کیے گئے۔
  • دوسرا اصول انہوں نے یہ طے کیا کہ یہ کام چندے سے نہیں ہو گا، بلکہ اس میں شریک ہونے والا ہر شخص اپنے تمام اخراجات خود برداشت کرے گا۔
  • تیسرا اصول ان کے ہاں یہ طے پایا کہ اس راہ میں تمام تر گفتگو اور تگ و دو بنیادی چھ نمبروں تک محدود رہے گی اور ان سے ہٹ کر کوئی بات نہیں کی جائے گی۔ خاص طور پر فرقہ وارانہ اور گروہی اختلافات کسی سطح پر موضوع بحث نہیں بنیں گے اور سیاسی گروہ بندی اور تنازعات سے مکمل طور پر لاتعلقی قائم رکھی جائے گی۔
  • جبکہ کم و بیش ایک صدی کے عرصہ پر محیط اس جدوجہد کا چوتھا اصول یہ سامنے آیا کہ اس محنت کا بنیادی مرکز مسجد ہو گی اور مسجد کو ہی بنیاد بنا کر اس جدوجہد کو آگے بڑھایا جائے گا۔

یہ حضرت مولانا محمد الیاس دہلویؒ اور ان کے مخلص رفقاء کے خلوص اور محنت کا ثمر تھا کہ میوات کے دیہات سے شروع ہونے والی اس جدوجہد کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور آج دنیا کا کوئی حصہ ایسا نہیں نظر نہیں آتا جہاں دعوت و تبلیغ کا یہ عمل موجود نہ ہو یا کسی نہ کسی سطح پر اس کے اثرات نہ پائے جاتے ہوں۔ تبلیغی جماعت کی یہ محنت بنیادی طور پر عام مسلمانوں کی اصلاح و تربیت کی محنت ہے اور اس کا اساسی ہدف یہ ہے کہ دنیا بھر کے عام مسلمانوں کو دین کی طرف واپس لایا جائے، انہیں دین کی بنیادی باتوں مثلاً عقائد، فرائض و واجبات، حلال و حرام، معاملات، باہمی حقوق اور اخلاقی تقاضوں سے روشناس کرایا جائے اور صرف تعلیم اور آگاہی نہیں، بلکہ عملی تربیت کا بھی اہتمام کیا جائے۔ جس کے لیے ان پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ وقت نکالیں اور گھر اور کاروبار کے جھمیلوں سے چند روز کے لیے خود کو فارغ کر کے باہر نکلیں، جماعتوں کے ساتھ چلیں اور مشقت اور تکلیف کے ساتھ ساتھ اپنے اخراجات بھی خود برداشت کریں۔ اس کا

  1. ایک فائدہ تو یہ ہو گا کہ وہ ذہنی فراغت اور یکسوئی کے ساتھ اپنی دینی حالت کا جائزہ لے سکیں گے اور اپنے دینی نفع و نقصان پر غور کر سکیں گے۔
  2. دوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ اس دوران وہ نماز، روزہ اور دیگر ضروری احکام کے مسائل کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کا کچھ حصہ، ضروری دعائیں اور آداب سیکھ لیں گے۔
  3. تیسرا فائدہ یہ ہو گا کہ مختلف علاقوں میں مسلمانوں سے ملاقاتوں اور دینی امور پر گفتگو کے دوران انہیں عام مسلمانوں کی دینی حالت سے آگاہی حاصل ہو گی اور ان کے دل میں اصلاح احوال کے لیے کچھ کرنے کی تڑپ پیدا ہو گی۔
  4. چوتھا فائدہ یہ ہو گا کہ مسائل و احکام سیکھنے کے علاوہ ان پر عمل کی مشق ہو جائے گی اور دینی معمولات کی پابندی کے ساتھ چند روز گزارنے کے بعد گھر اور کاروبار کی مصروفیات کے ساتھ دینی معمولات کو ایڈجسٹ کرنا آسان ہو جائے گا۔
  5. پانچواں فائدہ یہ ہو گا کہ کم از کم اتنا عرصہ بہت سے گناہوں اور منکرات سے محفوظ رہیں گے۔
  6. جبکہ چھٹا اور سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ دین کے ساتھ تعلق میں استحکام پیدا ہو گا، عبادات، ذکر و اذکار اور دعاؤں کے ساتھ دلوں کا زنگ اترے گا اور اللہ تعالیٰ اور ان کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قلبی تعلق میں نکھار آئے گا۔

حضرت مولانا محمد الیاس دہلویؒ کی یہ جدوجہد اور تحریک بلاشبہ ان کا اجتہادی، تجدیدی بلکہ الہامی کارنامہ ہے، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں لاکھوں مسلمانوں کی زندگیوں کا رخ بدلا ہے، ہزاروں ویران مساجد آباد ہوئی ہیں، ہزاروں نوجوانوں نے اس جدوجہد سے تربیت حاصل کر کے مزید پیشرفت کی ہے اور مکمل دینی تعلیم سے بہرہ ور ہو کر علماء کرام کی صف میں شامل ہوئے ہیں، اس نرسری سے تربیت پانے والے ہزاروں نوجوانوں نے میدان جہاد میں قدم رکھا ہے اور اسلام کی سربلندی اور ملت اسلامیہ کی آزادی کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں اور ملی زندگی کے دیگر مختلف شعبوں میں تبلیغی جماعت کے ہزاروں تربیت یافتہ افراد اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ دینی روایات اور اعمال کے اَحیا کا ذریعہ بن رہے ہیں، تو ہم اس کے ساتھ یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ یہ جماعت فرشتوں کی نہیں انسانوں کی ہے، جس سے غلطیاں ہو سکتی ہیں اور ہوتی رہتی ہیں۔ خود ہمیں بھی اس کی بعض باتوں سے اختلاف ہوتا ہے، ہم اس اختلاف کا اظہار اس کے ذمہ دار حضرات سے بلا کم و کاست کر دیتے ہیں، لیکن اس بات میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ آج کے دور میں عام مسلمانوں کی اصلاح اور انہیں دین کی طرف راغب کر کے دین کے بنیادی اعمال پر لگا دینے کی یہ سب سے بڑی اور مؤثر تحریک ہے اور اس کے عالمگیر اثرات سب کے سامنے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنے مشن میں کامیابی اور ترقیات نصیب فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter