وفاقی وزیر تعلیم اسلامی جناب شفقت محمود کے نام مکتوب

   
حوالہ: 
تاریخ : 
۲۵ جولائی ۲۰۲۰ء

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

محترم و مکرم جناب شفقت محمود صاحب، وفاقی وزیر تعلیم اسلامی جمہوریہ پاکستان

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی؟

آپ کی والدہ محترمہ کی وفات پر صدمہ ہوا، انا للہ وانا الیہ راجعون، اللہ تعالٰی انہیں جوار رحمت میں جگہ دیں اور آپ سب اہل خاندان کو صبر جمیل کے ساتھ ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

موجودہ حالات کے تناظر میں پاکستان شریعت کونسل کی طرف سے چند گزارشات پیش کر رہا ہوں، امید ہے کہ آپ ذاتی توجہ فرما کر ان معروضات کو سنجیدہ غوروفکر کے دائرے میں لائیں گے، شکریہ۔

  1. تعلیمی سلسلہ کا مسلسل تعطل قومی نقصان میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے، اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ جس طرح معاشرتی زندگی کے دیگر شعبوں میں ضروری SOPs کے ساتھ کاروبار زندگی کو کسی حد تک معمول پر لانے کے لیے سمال لاک ڈاؤن کی پالیسی اختیار کی گئی ہے، ہماری گزارش ہے کہ تعلیمی شعبہ میں بھی مناسب ایس او پیز کا بروقت تعین کر کے عید الاضحٰی کے فورًا بعد تمام تعلیمی اداروں بالخصوص دینی مدارس کو تعلیمی سلسلہ شروع کرنے کی ہدایت کی جائے اور اس کا نوٹیفکیشن عید الاضحٰی کی تعطیلات سے قبل جاری کر دیا جائے۔
  2. ملک کے تمام شہریوں کے لیے یکساں تعلیمی نصاب بلاشبہ ہماری قومی ضرورت ہے مگر اس کے لیے حقیقی اور متوازن یکسانیت ضروری ہے۔ جو صرف اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ قومی ماحول میں تعلیم کے تینوں بڑے دائروں (۱) ریاستی تعلیمی ادارے (۲) دینی مدارس (۳) پرائیویٹ سسٹم کی درسگاہیں اس کی تشکیل میں عملاً شریک ہوں۔ ورنہ کسی ایک دائرے کی طرف سے طے کردہ تعلیمی نصاب وقتی طور پر قبول کیے جانے کے باوجود قابل عمل نہ ہونے کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکے گا، اور نتیجتاً تعلیمی خلفشار بدستور قائم رہے گا۔ اس لیے ہماری گزارش یہ ہے کہ تینوں بڑے تعلیمی اداروں کے ذمہ دار تعلیمی ماہرین مل بیٹھ کر باہمی اشتراک و مفاہمت کے ساتھ مشترکہ قومی تعلیمی نصاب تشکیل دیں اور اس سلسلہ میں عجلت سے کام لینے کی بجائے حقیقی اور عملی یکسانیت کے اہتمام کی طرف زیادہ توجہ دی جائے۔
  3. انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنانے کی تجویز قومی زبان اردو، دینی زبان عربی، اور علاقائی مادری زبانوں کی حق تلفی کے ساتھ ساتھ ہمارے ماحول میں ناقابل عمل بھی ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہو گا کہ نئی نسل کا غالب حصہ ایک اجنبی زبان میں مہارت کے چکر میں جو تھوڑی بہت تعلیم قومی اور علاقائی زبان میں حاصل کر رہا ہے اور حاصل کر سکتا ہے، اس سے بھی محروم ہو جائے گا۔ اور تعلیم سوسائٹی کے چند افراد و طبقات تک محدود ہو کر رہ جائے گی، جو کسی طرح بھی قومی مفاد میں نہیں ہے۔

آنجناب سے گزارش ہے کہ ان معروضات پر سنجیدگی کے ساتھ غوروخوض فرما کر ملک کے تعلیمی ماحول کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے کے لیے ضروری اقدامات کا اہتمام فرمائیں، بے حد شکریہ!

والسلام، ابوعمار زاہد الراشدی
خطیب مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ

نوٹ: اس عریضہ کی کاپیاں قومی پریس اور تعلیمی ماہرین سیکرٹری جنرل پاکستان شریعت کونسل کو بھی ارسال کی جا رہی ہیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter